truth seeker, Pakistan lover ,hate absconders.
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا
میں نے "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کی جو سب سے بہترین اور شاندار تفسیر سنی، وہ یہ ہے:
اللہ تعالیٰ نے صرف لفظ "الرحمٰن" پر ہی اکتفا کیوں نہیں فرمایا اور اس کے بعد "الرحیم" کو کیوں شامل کیا؟
ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ایک لبنانی ماہرِ لسانیات (لغوی) نے بتایا کہ مغربی ممالک کے ایک مستشرق نے ان سے سوال کیا:
"کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تلاوت کے آغاز میں 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' پڑھنا کیوں لازم قرار دیا ہے؟
اور اس نے صرف لفظ 'الرحمٰن' پر ہی اکتفا کیوں نہیں کیا؟"
ماہرِ لسانیات کہتے ہیں کہ میں اس کا جواب نہ دے سکا۔
اس پر اس مستشرق نے خود جواب دیتے ہوئے کہا:
"عربی زبان میں لفظ 'الرحمٰن'، 'فَعْلَان' کے وزن پر ہے۔
اور عربی کا قاعدہ ہے کہ اس وزن پر آنے والا ہر لفظ اپنے اسباب کے ختم ہونے سے زائل (ختم) ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر:
جوعان (بھوکا): کھانا کھانے سے بھوک ختم ہو جاتی ہے۔
تعبان (تھکا ہوا): آرام کرنے سے تھکن دور ہو جاتی ہے۔
عطشان (پیاسا): پانی پینے سے پیاس بجھ جاتی ہے۔
اسی طرح نعسان (اُونگھتا ہوا) اور زعلان (ناراض) وغیرہ۔
اسی لیے، اگر ایک عرب دان صرف 'الرحمٰن' پڑھتا تو وہ خوفزدہ ہو سکتا تھا کہ شاید یہ رحمت بھی اسباب ختم ہونے پر ختم ہو جائے۔
چنانچہ اللہ عزوجل نے فوراً اپنے مومن بندوں کے دلوں میں اطمینان و سکون پیدا کرنے کے لیے لفظ 'الرحيم' کا اضافہ فرمایا، جو رحمت کے مسلسل اور دائمی ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
یوں مومن کا دل خوف کی حالت سے نکل کر امن، سکون اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت پر کامل اعتماد اور بھروسے کی کیفیت میں منتقل ہو جاتا ہے۔"
حقیقت میں یہ اس جملے کی بہترین اور خوبصورت ترین تفسیر ہے جسے ہم کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے دہراتے ہیں:
"بسم اللہ الرحمن الرحیم"
اللہ تعالی، جو "الرحمن" (تمام مخلوقات پر بے انتہا رحم کرنے والا) اور "الرحیم" (اپنے مومن بندوں پر خاص اور دائمی رحم فرمانے والا) ہے، ہمیں بھی اپنی وسیع رحمت میں شامل فرمائے اور ہمیں اپنے باایمان بندوں میں شمار کرے۔ آمین!
قرآنِ مجید میں یہ بابرکت کلمات سورۃ الفاتحہ کے آغاز میں اس طرح وارد ہوئے ہیں:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
"شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے "
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
(سب تعریفیں جو اللہ تعالیٰ کے لائق ہیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے)
(سورۃ الفاتحہ: 1-3)
نیز سورۃ النمل میں بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے خط کے حوالے سے یہ مکمل آیت درج ہے:
إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
"بیشک یہ (خط) سلیمان کی طرف سے ہے اور یہ کہ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے "
(سورۃ النمل: 30)
طالب دعا: ثناءاللہ حسین
منقول
دمِ اولیں سے یہ کھوج تھی کہ کہاں ہوں میں
یہ پتہ چلا دمِ آخریں میں کہیں نہیں
یہ ہوائے کن میں فنا کی دھن اسے تو بھی سن
مِرے ساتھ گا، میں کہیں نہیں، میں کہیں نہیں
عمیر نجمی
آنے والی رُتوں کے آنچل میں
کوئی ساعتِ سعید کیا ہو گی
رات کے وقت رَنگ کیا پہنوں
روشنی کی کَلید کیا ہو گی
جب کہ بادل کی اوٹ لازم ہو
جانتا ہوں ، کہ دِید کیا ہو گی
چاند کے پاس بھی سُنانے کو
اب کے کوئی نوید کیا ہو گی
گُل نہ ہوگا توجشنِ خوشبو کیا
تم نہ ہو گے تو عید کیا ہو گی !!
پروین شاکر
تیرے بخشے ہوئے اِک غم کا کرشمہ ہے کہ اب
جو بھی غم ہو _____ مرے معیار سے کم ہوتا ہے
یہ بھی اِک رنگ ہے شاید مری محرومی کا
کوئی ہنس دے _____ تو محبت کا گماں ہوتا ہے
غلام محمد قاصر
“ اس جنگ میں مسلم ممالک کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مسلمان آپس میں لڑیں۔ ایران کو خامنہ ای کی صورت میں ایک شہید مل گیا ہے جو کئی صدیوں تک امریکا کے خلاف نفرت کی علامت بنا رہیگا۔ قرآن نے مسلمانوں کو تفرقہ بازی سے روکا اور کہا کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ لیکن کچھ مسلم ممالک نے تو اپنا دفاع بھی کافروں کے سپرد کر دیا” حامد میر کا کالم
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
پٹڑیاں بعد میں وحشت کی علامت بنی ہیں
خودکشی کرنے کو گاؤں میں کنواں تھا پہلے
دل میں رہنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
تجھ کو معلوم نہیں کون یہاں تھا پہلے
لامکاں لا کے اضافے سے بنایا گیا ہے
اک مکیں اور فقط ایک مکاں تھا پہلے
فیضان ہاشمی