آج تک عمران خان نے کبھی کسی اینکر کو یہ نہیں کہا کہ اس کلپ کو کاٹیں۔ یہ کلپ پروگرام میں نہیں چلنا چاہئے۔
نہ کبھی عمران خان نے کسی اینکر کو پروگرام سے پہلے سوال پوچھے
ان لوگوں کو توشہ خانہ کے اصول توڑ کر گاڑياں لینے کا پتا ہے لیکن غلط الزام عمران خان پر۔
May Allah have mercy on the Palestinians.
The videos coming out of there are absolutely terrifying and heart wrenching.💔
Can't imagine living the horror, every single minute of every single day. 💔
The muslim world should be truly ashamed.
*خوشخبری ایسی کہ مار ڈالے گی*😀
1۔۔۔ پنجاب حکومت نے موٹر سائیکل رجسٹریشن فیس 1500 روپے سے کم کر کے صرف 7400 روپے کر دی
2۔۔ پنجاب حکومت نے الیکٹرک بائیک کی رجسٹریشن فیس 50 روپے سے کم کر کے صرف 2865 روپے کر دی
3۔۔۔ پنجاب حکومت نے اسلحہ لائسنس کی فیس 4000 روپے سے کم کر کے صرف 48000 روپے کر دی
4۔۔۔۔پنجاب حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے نئے کنکشن کے لیے فیس 7600 روپے سے کم کر کے صرف 24000 روپے کر دی
5۔۔۔پنجاب حکومت نے کاشت کاروں کے لیے نہری پانی کا سالانہ آبیانہ 600 روپے فی ایکڑ سالانہ سے کم کر کے 2200 روپے سالانہ فی ایکڑ کردی
جولائی میں زرعی ٹیکس آنے والا ہے
🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🙏
عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا ٹیم اور وکلاء سے گفتگو!!!
اردلی حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام سے مسلسل اس لیے بھاگ رہی ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ نو مئی کا واقعہ خود اسٹیبلشمنٹ نے کروایا تھا، اسٹیبلشمنٹ نے خود آگ لگا کر سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی۔ میرا عدالت سے اغواء کیا ہی اس لیے گیا تھا کیونکہ ان کو ردعمل کا اندازہ تھا اور عوام کے جذبات سے کھیل کر انہوں نے اپنا مقصد پورا کرنا تھا۔ ایک پرامن احتجاج کو اپنے بندے شامل کروا کے فالس فلیگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ نو مئی کی آڑ میں ہماری لیڈر شپ اور کارکنان سمیت ہزاروں لوگوں کو اغواء کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اغواء برائے بیان کی روایت ڈال کر لوگوں سے زبردستی تحریک انصاف چھڑوائی گئی۔ ہمارے 16 افراد شہید اور 4 افراد کو معذور کر دیا گیا۔ سب ظلم ہمارے ساتھ کر کے ہم پر ہی مقدمات بنا دئیے گئے۔نو مئی کا سارا ڈرامہ تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے رچایا گیا تاکہ لوگ ڈر کر تحریک انصاف کو چھوڑ جائیں۔ نو مئی کے بیانیے کا دھڑن تختہ تو 8 فروری کے انتخابات میں ہو گیا تھا جب تمام تر پابندیوں کے باوجود تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا۔ انتخابات ملتوی کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ جھوٹا پروپگینڈا کر کے عوام کو تحریک انصاف سے بد ظن کیا جائے مگر یہ اس میں ناکام رہے۔ 26 نومبر بھی اسی مقصد کے تحت کیا گیا تاکہ نہتے پرامن مظاہرین کو گولیاں مار کر خوف و ہراس پیدا کیا جاسکے اور عوام کو ان کی آواز بلند کرنے سے روکا جا سکے۔ 26 نومبر کو ہماری کال ملک میں جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے تھی مگر اس پر سیدھے فائر کھول کر عوامی خون سے اس حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھ رنگ لیے۔ 26 نومبر تحریک انصاف کو کچلنے کی دوسری کوشش تھی۔
کٹھ پتلی حکومت نے جمہوریت پر کاری ضربیں لگا کر عوام سے بنیادی انسانی حقوق مکمل طور پر چھین لیے ہیں۔ پیکا ترمیمی ایکٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پہلے آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ارشد شریف کا قتل کیا گیا، صحافیوں کو اغواء کیا گیا انکو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ اب فارم 47 اسمبلی نے آزادی اظہارِ رائے پر قدغن کے لیے کالا قانون منظور کر لیا ہے۔ سیاسی اختلافات کو دبانے کے لیے پیکا قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔ آزاد عدلیہ، قانون کی حکمرانی اور آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت پنپ نہیں سکتی۔ اس جعلی اسمبلی نے سوائے جمہوریت پر حملے کے قوانین منظور کرنے کے کچھ نہیں کیا پھر چاہے وہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری ہو یا پیکا ترمیمی ایکٹ۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد چیف آف آرمی سٹاف کی ایکسٹینشن تھا اور ان کو یہ خوف تھا کہ عدلیہ آزاد ہوئی تو الیکشن فراڈ سامنے آ جائے گا۔ اپنے ذاتی فوائد کے لیے عدلیہ کی خودمختاری کو سلب کر دیا گیا ہے۔
آٹھ فروری کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کی تیاری کی جائے۔ اس دن عوامی مینڈیٹ چھین کر 1971 کی یاد تازہ کی گئی۔ صوابی میں خیبرپختونخوا اور شمالی پنجاب کے لوگ اکٹھے ہو کر احتجاج کریں۔ دیگر علاقوں کے افراد اپنے اپنے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کریں۔ پوری دنیا میں اوورسیز پاکستانی بھی اس دن اپنی آواز بلند کریں۔ اوورسیز پاکستانیوں سے ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ ترسیلات زر کا بائیکاٹ جاری رکھیں۔ اس حکومت نے سوائے جمہوری اقدار کی پامالی کے کچھ نہیں کیا ان کو ترسیلات زر بھیجنا ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے جو آپ کی ہی گردن دبوچ رہے ہیں۔
ہم جمہوریت کی بحالی کے لیے پاکستان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں گے۔ اپنی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ دیگر جماعتوں سے اس مقصد کے تحت روابط کو تیز کریں تاکہ جلد از جلد عوام کو جمہوریت کی آڑ میں نافذ اس ڈکٹیٹر شپ سے نجات مل سکے۔
علی امین گنڈاپور پر بطور وزیراعلٰی گورننس کا بہت دباؤ ہے لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جنید اکبر خان جو ہمارے دیرینہ ساتھی اور کارکن ہیں انکو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر منتخب کر دیا جائے اور تنظیمی امور انکے حوالے کر دئیے جائیں
سانحہ ای پی ایس کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنا، آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا اور دہشتگردوں کو سزائیں دینے کے نام پر فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی گئی۔ ضربِ عضب کے بعد آپریشن رد الفساد کی آڑ میں پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں انتظامیہ کی جانب سے پختون دکانداروں اور مزدوروں کے لیے متعلقہ تھانوں میں اپنی رجسٹریشن کا حکم نامہ جاری ہوا، جو کہ ایک خطرناک کھیل کا آغاز تھا۔ انہی دنوں وزیر داخلہ پنجاب رانا ثناءاللہ نے یہ بیان بھی داغ دیا کہ پنجاب میں موجود پختون پاکٹس میں آپریشن کیا جائیگا۔ تب وفاق میں بھی ن لیگ کی حکومت ہونا اس بیان کو اور بھی خطرناک بناتا تھا۔ (ن لیگ کے سربراہ نواز شریف ان دنوں ڈان لیکس کی تحقیقات کی وجہ سے بھی زیر بحث تھے۔)
اسی اثناء میں راولپنڈی میں پولیس نے گھر میں گھس کر ایک بچے کو ماں کے سامنے تشدد کرکے ماردیا جب کہ لاہور میں دو پختون مزدوروں کو پولیس نے گولیاں مار کر قتل کردیا۔
بطور ممبر قومی اسمبلی میں نے وفاقی حکومت کو خط لکھ کر اپیل کی کہ ایسے بیانات اور اقدامات سے گریز کریں کہ جن سے ملک میں لسانیت کی آگ بھڑک اٹھے اور قومی اتحاد تقسیم کی شعلوں کے نذر ہوجائے، مجھ سمیت اپوزیشن کے دیگر ارکان نے قومی اسمبلی میں بھی اس موضوع پر بات کی مگر بجائے مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرنے کے وفاقی حکومت کےنمائندگان نے ہم سب کو دہشت گردوں کا سہولتکار قرار دے دیا اور ملٹری کورٹس میں لے جانے کے دبنگ بیانات دیے۔ اجلاس میں شامل پختون ممبران اسمبلی نے ان تقاریر پر احتجاج کیا اور اجلاس ملتوی ہوگیا۔
(قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور وفاقی حکومت کے پختونوں کےحوالے سے عزائم کے اظہار اور ان کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ملٹری کورٹس میں لے کر جانے کے بیانات کے متعلق مجھ سے سوال ہوا تو میں نے صحافی سے کہا کہ اپنے ملک کے شہریوں کے لیے آواز اٹھانے پر فوجی عدالتوں کی دھمکیاں دینے والو نے اگر فوجی عدالتوں میں کسی کے کیسز چلانے ہیں تو ڈان لیکس والوں کے چلائیں۔ کچھ عرصہ سے سیاق و سباق سے ہٹا کر وہی کلپ فوجی عدالتوں کا جواز دینے کے لئے چلائی جارہی ہے)۔
کچھ عرصہ بعد ہی آصف زرداری کے بغل بچے راؤ انوار کے ہاتھوں نقیب اللہ محسود کی شہادت نے ان تمام اندیشوں کو درست ثابت کیا جو اپنے خط میں بیان کیے تھے۔ آپ نے غور کیا کہ صفحۂ قرطاس پر کردار آج بھی وہی ہیں۔ اور چونکہ ملک پر مسلط مافیہ کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ انہوں نے نہتے شہریوں پر #گولی_کیوں_چلائ تو دوبارہ وہی کھیل گرم کیا جارہا ہے کیونکہ ہمیشہ سے ان کی طاقت کا جواز تقسیم میں پنہاں ہے۔ چاہے وہ سیاسی حکومت ہو یا ان کے غیر سیاسی ہینڈلرز۔ ہمارے سامنے ہمارے اجڑے گھروں کی راکھ پر بیٹھ کر یہ نئی چنگاری بھڑکائی جارہی ہے۔ مگر جو بات یہ بھول رہے ہیں وہ یہ کہ یہ بنگال نہیں ہے کہ جہاں کل اِدھر تم اُدھر ہم کا نعرہ لگا کر راہِ فرار نکالا جاسکے گا۔
آج ڈی جی خان سے جنازہ اٹھا ہے تو اسلام آباد سے بھی۔ پشین میں بھی قبر پر انصاف کا پرچم پڑا ہے تو پختونخواہ میں بھی۔وہ جس کے آزاد ہونے کا زعم تھا اس مظفر آباد میں بھی۔ جہاں سے جنازہ نہیں اٹھا وہاں کا مکین لاپتہ ہے، جہاں لوٹ آیا اتنا ٹوٹا بکھرا اجڑا آیا کہ وہاں بھی سوگ کا سماں ہے، ملک بھر میں غم و غصہ پھیلا ہے اور ایسے میں ظلم کا یہ نیا بازار جو پختونوں کی اتھنک پروفائلنگ کی بنیاد پر گرم کیا جارہا ہے اس کا مقصد تحریک انصاف کو کچلنے سے کہیں بڑا ہے۔ مگر اس کی وجہ ایک ہی ہے،یہ کانپ گئے ہیں آپ کو پاکستانی بنتا دیکھ کر۔ انہیں خوف ہے اس بات کا کہ اگر آپ ایسے ہی متحد رہے تو ان کی سیاستوں کی دکانیں تو بند ہونی ہی ہیں ان کے سہولتکاروں کے خونی کاروبار جو ملک میں مستقل سیکیوریٹی صورتحال سرگرم کرکے ہی ڈھکے رہتے ہیں ان کا مستقبل بھی تاریک ہوجانا ہے۔
میرے پاکستانیو!
آپ نے بہرطور صرف پاکستانی رہنا ہے۔ یہ آپ کو آپ کے مسلک اور فرقے یاد دلائیں گے۔ نسل اور اصل میں الجھائیں گے۔ لہجے اور زبان کو بنیاد بنائیں گے مگر جب تک آپ ایک جھنڈے تلے متحد رہیں گے یہ اپنے ناجائز قبضے کے لیے بھونڈی دلیلیں ہی گڑ سکیں گے اور بہت جلد اپنے گناہوں کے بوجھ سے غرقاب ہوجائیں گے کیونکہ جو ایک بات یہ بھول رہے ہیں وہ یہ کہ یہ بنگال نہیں ہے ادھر سے راہِ فرار ممکن نہیں ہے اور یہ کہ اس بار ان کا تسلط بچانے کے لیے ملک نہیں ٹوٹے گا، ان خون آشام دردندوں کا غرور خاکستر ہوگا۔
جب آپ ڈی چوک جاتے ہیں تو بائیں جانب پلازے اور دائیں جانب ہوٹل ہیں
تین میٹرو سٹیشن ہیں راستے میں جہاں سارا شیشہ لگا ہوا ہے
ایک شیشہ نہیں ٹوٹا
ایک عمارت کو نقصان نہیں پہنچا
دو پیٹرول پمپ تھے جس پر کپڑا لگا تھا اسے بھی نقصان نہیں پہنچا
ہوٹل تھے انہیں نقصان نہیں پہنچا
مظاہرین کے پاس چنے اور چاول تھے اور مقامی لوگوں کا دیا ہوا کھانا تھا
لیکن انہوں نے ہوٹلوں پر حملہ نہیں کیا اور پی ٹی آئی کارکنوں نے کوئی نقصان نہیں کیا
سنائیپر سے ہمیں دو بجے کے قریب ٹارگٹ کرنا شروع ہوا اور آنکھ مچولی شروع ہوگئی
ان کا خیال تھا کہ ڈر کہ بھاگ جائیں گے اور احتجاج ختم ہوجائیگا
ڈاکٹر امجد جامع نماز پڑھا رہے تھے اس وقت براہ راست گولیاں چلنا شروع ہوئی
کئی لوگ شہید ہوئے اور کئی زخمی ہیں
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج وہ ہمیں میت بھی نہیں دے رہے ان سے حلف نامہ سٹامپ پر لیا جاتا ہے
سلام ہے انہیں کہ وہ لواحقین پھر بھی سچ بولتے ہیں
سمیع اللہ