🚨 اطلاعِ گمشدگی
انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ سہیل خان ولد خیر الرحمن ساکن سمئ، روغانو درہ، واڑی مورخہ 21-06-2026 صبح واڑی سے تیمرگرہ فلائنگ کوچ میں سوار ہو کر روانہ ہوا تھا۔
اطلاعات کے مطابق وہ تیمرگرہ اڈہ پر اترا لیکن تاحال اپنے مدرسہ نہیں پہنچ سکا اور اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
📞 اگر کسی کو اس بچے کے بارے میں معلومات ہوں تو براہِ کرم فوری رابطہ کریں:
03465903714
03451084850
03459294515
🙏 اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ بچہ جلد از جلد خیریت کے ساتھ اپنے گھر پہنچ جائے۔ آمین۔
برائے مہربانی اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
ان کمیٹی والوں کی کشمیر کیلئے کیا قربانی ہے جبکہ قربانی تو پاکستانی دے رہے ہیں چوٹیوں پر بیٹھ کر انہی کی حفاظت کررہے ہیں اور اصل جدوجہد تو مقبوضہ کشمیر کے لوگ کررہے ہیں جو پاکستان کا پرچم ہاتھ میں پکڑ کر سینے پر گولی کھارہے ہیں
ناظرین خواجہ آصف نے پوری بےامن کمیٹی کو تہہ کردیا ہے
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس معاہدے میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تو پھر کردار کس کا ہے ؟؟؟
اس معاہدے کے تین ہی تو فریق ہیں اور تینوں کے سائن ہوئے اس پر
امریکی صدر نے جی سیون کے اجلاس (فرانس)میں سائن کیئے
ایرانی صدر نے تہران میں سائن کیئے
اور تیسرے فریق پاکستان ( ثالث) نے اسلام آباد میں سائن کیئے تینوں سائن آن لائن ہوئے یہ ساری دنیا نے دیکھا اور سنا
تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں گے تو پاکستان کا کردار ضرور نظر آنے لگے گا
میرا گھر ڈھونڈنے میں مدد کریں۔۔!!
اس نوجوان کا نام شان یا شانی ہے۔والد کا نام بشیر یاد ہے۔والدہ کا یاد نہیں ہے۔
شان کا کہنا ہے کہ میں ایک روز گھر سے باہر نکل کر ہوٹل پر بیٹھا تھا۔ گھر جانے کے لئے راستہ بھول گیا۔
ایک شخص مجھے اپنے گھر لےگیا وہاں تین دن تک مجھے رکھا۔
میری تصویریں بنائیں اور پھر مجھے تین روز بعد ملتان کے ایک شیلٹر میں جمع کرادیا۔
ملتان سے پھر مجھے کراچی لایا گیا۔
مجھے اپنا شہر تاندلےوال یا تاندلا یاد ہے (جب ہم نے سرچ کیا تو تاندلیانوالہ میپ پر ملا)۔
تین بھائی اور تین بہنیں تھیں انکے نام مجھے اب یاد نہیں ہیں۔
گھر کے پاس ایک طرف کھیت اور ایک طرف باڑا تھا۔
میں نے ہوش سنبھال کر اپنی فائل نکال کر چیک کی تو اسمیں میرے داخلے کا سال 2006 لکھا تھا۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے بھی بہن بھائی ہوں امی ابو ہو۔ میں بھی لاوارث نا کہلاؤں۔
خدارا مجھے میرے پیاروں سے ملائیں۔
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔آپ کا ایک شئیر کسی اداس ماں کو خوشحال بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
22 june 2026
#waliullahmaroof
اس بچے کے ورثاء کی تلاش کے لئے ہم نے چند روز قبل پوسٹ لگائی تھی لیکن تاحال ورثاء نہیں ملے۔
بچہ کراچی ملیر پولیس کو ملا تھا ،اس وقت سندھ چائلڈ پروٹیکشن کی حفاظت میں ہے۔
بچہ جب ملا تھا تو کانوں سے سنتا نہیں تھا۔
چائلڈپروٹیکشن کی انتظامیہ نے ڈاؤ اسپتال سے ٹیسٹ کروائے تو پتہ چلا بچے کو آلہ لگایا جائے تو سننے کے قابل ہوسکتا ہے۔
پہلے ڈیوائس کی قیمت پچاس ہزار بتائی گئی تھی۔ لیکن پھر معلوم ہوا وہ سب سے ہلکی کوالٹی ہے جسمیں شور ہوتا ہے آواز صاف نہیں رہتی۔
گزشتہ کل ہم چائلڈ پروٹیکشن عملے کے ساتھ کلینک گئے وہاں اچھی ڈیوائس کا انتخاب کیا جسکی قیمت ایک لاکھ ستر ہزار روپے بعد از ڈسکاؤنٹ طے ہوا۔
الحمدللہ دوستوں کی مدد سے پیسے مکمل ہو گئے۔ کل بچے کی ناپ لی گئی ان شاءاللہ ایک ہفتے بعد تیار ہوکر لگے گی۔
بچے کو جب آزمائش کے لئے آلہ لگا تو چہرے کے تاثر سے پتہ چلا کہ پہلی بار کچھ سننے کو ملا ہے۔
ڈاکٹر کے بقول ڈیوائس لگنے کے چند ماہ بعد بچہ رسپانس کرےگا جب وہ سن کر کچھ الفاظ سیکھےگا۔ اس پر خصوصی محنت کی ضرورت ہے کوئی ٹیچر اسکے ساتھ باتوں میں مصروف رہے گا تو یہ بات کرنا سیکھےگا ورنہ نہیں۔
اس بچے کی پوسٹس ہر جگہ چلی ہیں لیکن ورثاء نہیں مل رہے۔
بچہ ماشاءاللہ بہت پیارا اور معصوم ہے۔
اگر بالفرض ورثاء نے بوجھ سمجھ کر اس پھول جیسے بچے کو چھوڑا ہو اور ہمارا یہ پیغام ان تک پہنچ رہا ہو تو وہ یاد رکھیں کہ کل قیامت کے روز یہ تم سب کو گریبان سے پکڑ کر سوال کرےگا کہ اتنی ننھی عمر میں مجھے کیوں دربدر کیا؟
خدارا اب بھی وقت ہے اپنی آخرت بچائیں آکر بچہ لیکر جائیں
#waliullahmaroof
یہ بچہ دسمبر 2025 کو کراچی میں لاوارث ملا تھا۔ اپنا نام یا دیگر معلومات بتانے سے قاصر ہے۔
بچہ اس وقت سندھ چائلڈ پروٹیکشن کی حفاظتی تحویل میں ہے۔ بہت کوشش کی گئی لیکن ورثاء نہیں ملے۔ برائے مہربانی بچے کو ماں کے آغوش تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔اس عمر میں ماں باپ سے دور ہونا بہت ہی اذیت ناک ہوتا ہے۔ ایک لمحے کے لئے آنکھیں بند کرکے تصور کریں شاید آپ برداشت نا کرسکیں۔ زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ نیچے درج نمبر پر اطلاع دیں۔
03162529829
نوٹ: برائے مہربانی گود لینے کے
خواہشمند بالکل بھی رابطہ نا کریں۔
2 jun 2026
#waliullahmaroof
یہ بچہ اپنا نام عجب اور والد کا نام باہو بخش بتاتا ہے۔
عجب چند سال قبل گھر سے بھٹک کر ایک شیلٹر میں پہنچا تھا۔
اپنی والدہ کا نام یاد نہیں ہے۔بھائی اور دونوں بہنوں کے نام بھی یاد نہیں ہیں۔
عجب اپنا شہر ملتان بتاتا ہے۔ملتان کے شیلٹر سے کراچی منتقل ہوا تھا۔ ہوسکتا ہے ملتان کے کسی قریبی شہر کا ہو۔ یا ملتان ہی کا ہو۔
عجب ابھی بڑا ہوچکا ہے۔تصویر پرانی دی گئی ہے تاکہ گھر والے دیکھ کر پہچان سکیں۔
شیلٹر میں بند عجب کی نگاہیں اپنوں کے لئے ترس رہی ہیں۔
لیکن ورثاء کو کیا معلوم انکا شہزادہ کس دور دراز چار دیواری میں موجود ہے۔
تمام دوست اس پوسٹ کو پنجاب بھر بلکہ ملک بھر میں اتنا عام کریں کہ انکے خاندان تک یہ پوسٹ پہنچ جائے اور ایک پیارے انسان کی زندگی مزید برباد ہونے سے بچ جائے۔
آپ کا ایک شئیر کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس پوسٹ کو عام کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
29 may 2026
#waliullahmaroof
اس بچے کا نام ذبیح اللہ اور والد کا نام حمیداللہ ہے۔
ذبیح اللہ 4 جون 2024 کو تلہ گنگ کے جہاز چوک سے لاپتہ ہوا تھا آج تک نہیں ملا۔
اس وقت 16 سال عمر تھی اپنےوالد کے ساتھ ریڑھی پر کام کرتا تھا۔
والد کسی کام سے گیا واپس آیا تو موجود نہیں تھا۔
جگہ جگہ ڈھونڈا پولیس عدالت ہر در پر دستک دی لیکن ذبیح اللہ نہیں ملا۔
ذبیح اللہ کے جانے کے بعد والدین کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اپنے سہارے کی تلاش میں دن رات سکون سے محروم ہیں۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ ذبیح اللہ کی تلاش میں مددکریں۔
بچہ کہیں بھی موجود ہو برائےکرم نیچے درج نمبر پر اطلاع دیں۔
تمام شیلٹرز خاص طور پر نوٹ فرمائیں اگر یہ بچہ کسی شیلٹر میں موجود ہو تو برائے کرم اسے آزاد کریں۔
+923162529829
22 may 2026
#waliullahmaroof
محمد سلیم چار سے پانچ سال کا تھا، سال 2004 میں گجرات کے ایک شیلٹر سے اسلام آباد منتقل ہوا،پھر لاہور منتقل ہوکر کراچی کے شیلٹر پہنچا۔ یہاں جوان ہوا۔
محمد سلیم کو اپنوں کی تلاش ہے۔ سابقہ بیان میں لکھا ہے کہ وہ دو بھائی اور دو بہن ہیں۔ماں باپ زندہ تھے۔ محمد سلیم کا کہنا ہے کہ میں بہت چھوٹا تھا جب ادارے میں آیا تھا۔ مجھے اپنا کچھ بھی یاد نہیں ہے۔ یادوں کا دریچہ بالکل سیاہ اور خالی ہے۔
تمام دوست اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اور ایک مایوس چہرے پر خوشیاں لوٹائیں۔ کسی ماں کو لخت جگر سے ملائیں۔۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
17 may 2026
#waliullahmaroof #gujrat #punjab #miaaingchilde
اپنا بچہ سمجھ کر ایک بار ضرور شئیر کریں۔۔۔!!
یہ معصوم بچہ نومبر 2025 میں فیصل آباد کے ڈی ٹائپ پولیس اسٹیشن کی حدود سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔
یہ صرف اپنا نام “موسیٰ” بتاتا ہے، اس کے علاوہ اسے اپنے والدین، گھر، خاندان یا پتے کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔
نہ ماں کا نام معلوم ہے، نہ باپ کا… نہ یہ جانتا ہے کہ اسکا گھر کہاں ہے۔
آج یہ بچہ ایک ادارے کی تحویل میں ہے، اسکی آنکھیں آج بھی اپنے ماں باپ کو ڈھونڈتی ہیں۔
ماں دن رات اپنے بچے کی جدائی میں تڑپ رہی ہوگی…
خدارا… اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
ہوسکتا ہے آپ کا ایک شئیر موسیٰ کو اسکے گھر والوں تک پہنچا دے اور ایک بچھڑا ہوا لخت جگر خاندان کو دوبارہ مل جائے۔
کسی بھی اطلاع کی صورت میں نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں
03162529829
7 May 2026
#waliullahmaroof #Faisalabad #MissingChild
ایک ماں کی فریاد۔۔۔!!
میرا بیٹا فیصل ولد محمد فضل…
جب وہ صرف 15 سال کا تھا، 13 جون 1996 کو اپنے والد کی سختی سے دل برداشتہ ہوکر گھر سے نکلا…
اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
ہم اس وقت کراچی، سول اسپتال کے قریب رینبو سینٹر کے پاس رہتے تھے۔
بیٹا…
تمہارے جانے کے بعد میری زندگی وہیں رک گئی…
میں نے 1996 سے آج تک ایک بھی رات سکون سے نہیں سوئی۔
ہر دن، ہر رات، ہر دعا میں صرف تمہارا نام ہوتا ہے۔
آج بھی…
جب کسی انجان نمبر سے کال آتی ہے…
یا دروازے پر ہلکی سی دستک ہوتی ہے…
میرا دل دھڑک اٹھتا ہے…
کہ شاید میرا فیصل واپس آگیا ہے…
بیٹا…
اگر یہ پیغام تم تک پہنچ جائے تو بس ایک بار لوٹ آؤ…
میں تم سے کوئی سوال نہیں کروں گی…
کوئی شکوہ نہیں ہوگا…
بس تمہیں گلے لگا کر اپنی باقی زندگی گزار لوں گی۔
تمہارے بغیر میری دنیا ویران ہوچکی ہے…
دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل ہے
ایک ماں کے درد کو سمجھیں…
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں…
شاید کسی ایک شیئر سے یہ آواز فیصل تک پہنچ جائے…
کسی بھی اطلاع کے لیے واٹس ایپ کریں:
03162529829
تاریخ: 7 مئی 2026
#WaliullahMaroof
اس لڑکے کا نام شان ہے اور والد کا نام عامر یاد ہے
والدہ دو بھائی اور ایک بہن گود میں تھی انکے نام یاد نہیں ہیں۔
سال 2012 میں شان کو ایک پڑوسن اپنے ساتھ بازار لائی تھی اور چھوڑ کر چلی گئی تھی۔
شان کو ایک شیلٹر کے حوالے کیا گیا۔پہلے شان ملتان لایا گیا اور پھر کراچی کے شیلٹر منتقل ہوا۔
سال دو ہزار بارہ سے اب تک شان لاوارث ہے۔
انکا گھر خانیوال کے ایک علاقے میں تھی،انکو دس نمبر گلی،مچھلی مارکیٹ سے ذرا آگے اپنے گھر کا نقشہ یاد ہے۔
والد ویلڈنگ کا کام کرتا تھا۔
خانیوال کے دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ شان کے خاندان تک رسائی حاصل ہو۔
یہ تصویر پرانی ہے اب شان بڑا ہوچکا ہے اور اپنوں کی یاد میں دن بدن مایوسی کے دلدل میں دھنستا جارہا ہے۔
آپکا ایک شئیر شان کو والد کا سایہ دلا سکتاہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں
03162529829
3 may 2026
#waliullahmaroof
چند روز قبل بلال سابقہ نام راشد کی پوسٹ لگائی تھی
راشد نے بتایا تھا چھ سال کی عمر میں رحیم یار خان یا فیصل آباد سےغفاربھٹی نامی شخص کے ہاتھوں سندھ کے شہر دوڑ پہنچا تھا اور اپنے خاندان سے بچھڑ گیا تھا۔
پھر کراچی کے ایک شیلٹر میں پہنچا اور وہاں بڑا ہوا جوان ہوا۔
انکی ویڈیو بہت زیادہ لوگوں نے شئیر کی اور رحیم یار خان سے کافی دوستوں نے دن رات محنت کی لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوپارہی تھی۔
الحمدللہ تین چار روز قبل بالآخر یہ الجھی گتھی سلجھنے کی امید جاگ اٹھی ۔
کوئٹہ کے ایک صاحب جو رحیم یار خان میں رہتے ہیں نے رابطہ کیا اور بتایا کہ انکے ساتھ ایک بندہ کام کرتا ہے راشد انکا بچہ ہے۔
نام میچ ہوا ہے۔فیملی نے بتایا کہ سر پر آپریشن کا نشان ہوگا وہ راشد سے پوچھا تو تصدیق ہوگئی ہے۔اور بچپن میں راشد کو گھر والوں نے پھوپھی کے پاس کڑہائی کا کام سیکھنے کے لئے بھیجا تھا اسکی بھی دھندلی یادیں راشد کے ذہن میں ہیں۔
راشد نے کہا تھا کہ والدہ فوت ہوچکی ہے،گھر والوں کا کہنا ہے کہ والدہ حیات ہے والد فوت ہوچکے۔
چہروں کے خدوخال بھی ایک جیسے لگ رہے۔
لیکن پھر بھی ان شاء اللہ راشد اور اسکی والدہ کا ڈی این اے میچ کرکے تصدیق کریں گے پھر انکی ملاقات کرائیں گے۔
اس فیملی تک دیر سے رسائی اس لئے ملی ہے کیونکہ یہ بہت ہی غریب ہیں اور انڈرائیڈ موبائل سے دور ہیں۔
دعا کریں اللہ خیر والا معاملہ فرمائے
#waliullahmaroof