سارے سرکاری اور درباری مولوی، اکبر کے دائیں بائیں بیٹھے تھے اور اکبر نے دین سے مذاق بنایا۔ اور وہ علماء، وہ سرکاری اور درباری مولوی اکبر کے ترانے گاتے تھے، اکبر کے ترجمان بنے ہوئے تھے اس ظالم اور اس جابر کا۔ #معافی_مائی_فٹ#مولانا_کی_للکار#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
پارلیمنٹ اسٹیبلشمنٹ کے گھر کی لونڈی ہے جس کی اہمیت ختم ہوچکی ہے،ایوان نہیں اب اس میدان کی حیثیت ہے، اس لئے ایوان میں ہماری پانچ سیٹیں ہوں یا دس اس کی پرواہ کئے بغیر جعلی پارلیمنٹ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔
ہم جس جمہوریت کے علمبردار ہیں وہ آئین و اسلام کی علمبردار اور عوام کی نمائندہ جمہوریت ہے، ہم قرآن و سنت اور اسلام کی سربلندی کے قائل ہیں،اگر وہاں اعلاء کلمۃ اللہ نہیں ہے تو پھر وہاں غلامی ہے، ٹرمپ اور امریکہ کی غلامی ہے،ایسے نظام پر لعنت بھیجتے ہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ڈیرہ اسماعیل خان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب
#معافی_مائی_فٹ
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#لشکر_نہیں_خود_لڑو
#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
سوشل میڈیا نے ویسے بھی ان کھٹپلیوں چینلز کی کی اہمیت ختم کردی
تاہم یہ بات درست نکلی کہ اس ملک کے ساتھ آپ مخلص نہیں
بلوچستان کے ساتھ مخلص نہیں
آپ کسی اور ایجنڈے پر کا کام کر رہے ہیں
#تحفظ_مدارس_حقوق_بلوچستان
مین سٹریم میڈیا پر مولانا فضل الرحمان کا جلسہ روکنے والے یا رکوانے والے اتنی عقل نہیں رکھتے کہ جتنے افراد اس جلسے میں موجود ہیں وہ بذات خود اپنے موبائل فون کے ذریعے ایک چینل بن چکے ہیں ۔ اتنا بڑا جلسہ تھا ۔جے یو آئی فے کی اہمیت برقرار ہے پارلمینٹ میں ایم کیو ایم کیطرح ۔ کیا فرق پڑتا اگر ٹی وی چینلز اس جلسے کی کچھ کوریج کر لیتے ۔
اسلام آباد:قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے اہم خطاب
نوٹ: قومی اسمبلی کی میڈیا مینجمنٹ نے مولانا صاحب کے خطاب کے دوران متعدد مقامات پر آواز غائب کرکے اسے سینسر کرنے کی مذموم کوشش کی ۔
بےشرم_میلہ لگانے والی فاروقی سن رہی ہوکیا؟
ہم یہ پیغام دیناچاہتےہےکہ اگر تم قرآن و سنت کےخلاف قانون سازی کروگےتو ہم اسےنہیں مانیںگے۔جیل ہمارےلیےکوئی بڑی چیزنہیں ہے۔
جتنی تمہاری برائی ہوگی،اتنا ہی ہمارا ردِعمل ہوگا۔
#مولانا_عوام_کی_پکار@sharmilafaruqi
https://t.co/uO88pcmMjA
نا صرف دل کے امراض کا بڑا ہسپتال بلکہ خیبرپختونخوا کے واحد بڑے کڈنی ہسپتال "حیات آباد کڈنی ہسپتال" کی تعمیر اور تکمیل بھی جمعیت علمائے اسلام کے سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے کروائی تھی۔ انہی کی بدولت یہ اہم منصوبہ ممکن ہوا اور ان کے دورِ حکومت میں یہاں صرف 5 روپے کی پرچی پر گردوں کا ٹرانسپلانٹ تک کیا جاتا تھا۔
دنیا میں اگر کوئی ناقابل اعتبار اسٹیبلشمنٹ اور بیروکریسی رہ گئی ہے تو ہماری اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی ،
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن
#LiyariWithMaulana