تمھاری تیارکردہ AI ویڈیوز سے ایک بات تو ثابت ھورھی ھے کہ مولانا صاحب کے بیانیے اور انکے کارکنوں کے اس بیانیے کے پھیلاؤ نے تمھیں حواس باختہ کردیا ھے اور ایسی بےوقوفانہ اور احمقانہ حرکتوں پر اتر آئے ھو۔
جمعیت کے کارکنوں کا آج بھی ابھی بھی وھی جواب ھے اپنے قائد کی طرف سے بھی اور اپنی طرف سے بھی کہ معافی مائی فٹ۔
#مرد_میدان_مولانا
#اصطبل_کے_پٹواری
#زرداری_کا_ٹھگ_راج
#معدنیات_فروش_برگیڈ
#کالے_ٹاوٹس_چینلز
پیپلز پارٹی کی میڈیا ٹیم اتنی گئی گزری ھوچکی ھے کہ بلاول صاحب کو اس تقریر سے پہلے مولانا صاحب کی دارالعلوم حقانیہ کی تقریر اور مولانا ادریس شہید کی تعزیت کی تقریر نہیں سنوائی، پھر ان کو باجوڑ سے وزیرستان تک، چمن سے تربت اور لاڑکانہ تک کے جمعیت شہیدوں کا ریکارڈ تک بھی نہیں دے سکے🤔
@BBhuttoZardari ایسی تھرڈ کلاس ٹیم تو فارغ کردیجئے پلیز۔
#وطن_فروش_چوکیدار
امریکہ کی اس ناجائز اولاد جنکی ھوس ملک کا اکثریتی ریونیو کھا کر ختم نہیں ھوئی اب KP فاٹا اور بولچستان کے وسائل پر بھی قبضہ کرنا چاھتے ھیں۔ چوری بھی کررھے ھیں اور سینہ زوری بھی۔یاد رکھو تم جو کرلو جمعیت تمھارا کچا چٹھا قوم کے سامنے لاتی رھے گی ان شاءاللہ
#ہم_مولانا_کے_سنگ
#حکومت_یا_ربڑسٹمپ
#وسائل_چور_مافیا
#ضمیر_فروش_چوکیدار
#معدنی_راج_نامنظور
حکمرانوں کا گورنر راج اور ایمرجنسی کے جواز کے لیے بیانیہ عوام کے اعتماد کے لئے کافی نہیں ہے2001ء سے 2010ء تک اور 2010ء سے 2026ء تک دہشت گردی کے خلاف مکمل سرکاری اور ریاستی وسائل کے استعمال کے باوجود دہشت گردی میں اضافہ حکومتی فیصلوں کو صرف غلط نہیں بلکہ موجودہ اقدامات کو مشکوک اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتا ہے۔
جمعیۃ علماء اسلام کی مجلس شوری نے ان اقدامات کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ مسلم لیگ (ن) ہی کی حکومت نے 2017ء میں فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا اور آج مسلم لیگ (ن) ہی کی حکومت میں فاٹا کو صوبے کے نظام سے نکال کر دوبارہ مرکز کے کنٹرول میں دے دیا ہے۔ عوام کے دل و دماغ میں شکوک پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے کہ دہشت گردی ان اقدامات کے لیے جواز ہے اور صوبے کے معدنی ذخائر پر قبضہ کرنا ان کا اصل مقصد ہے۔ اس طرح صوبے اور صوبے کے عوام کو محروم کرکے معدنی ذخائر کو اپنے مفادات تک محدود کر دیا گیا ہے اور عالمی قوتوں کی ہمارے وسائل تک رسائی سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے۔
چنانچہ جمعیۃ علماء اسلام اپنی اس تجویز کا اعادہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس طلب کرکے نمائندگانِ قوم کو اپنے اقدامات سے آگاہ کرے۔ ان اقدامات کے پیچھے حکومت کی حکمتِ عملی سے پارلیمنٹ کو آگاہ کرے اور اراکین کو تجاویز دینے کا موقع دیا جائے۔
جمعیۃ علماء اسلام جس طرح گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدام کو ملک کا سیاسی نقصان اور اسے بلاجواز سمجھتی ہے، اسی طرح اس حوالے سے جو کونسل تشکیل دی جا رہی ہے، جمعیۃ علماء اسلام کا کوئی رکن اس میں شامل نہیں ہوگا۔
حکومت ہٹانا، نیا نظام بنانا اور انتقالِ اقتدار طاقت کے ذریعے یا عوام کے ذریعے ہوگا اس بات کو واضح ہونا چاہیے۔ آئین کو یا قانون کو غلط طور پر استعمال کرنا اور یہ کہنا کہ ہم نے آئینی پروسیجر کو مکمل کیا ہے، تو جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے زمانے میں بھی اور بعد میں آصف علی زرداری صاحب کے زمانے میں بھی جب ایسے اقدامات ہوئے جہاں وفاق نے مخالف حکومتوں کو برطرف کرنے کے لیے یہ اقدام کیا، اس وقت بھی تو آئین ہی کا سہارا لیا گیا تھا اور کیا اس وقت مسلم لیگ یا ان کے کچھ اور اتحادی اس کے حق میں تھے؟
اس وقت طاقتور قوتوں کے فیصلے کے تحت طاقت کا استعمال ہو رہا ہے اور صدرِ مملکت نے نہ تو قانونی طریقۂ کار کی پیروی کی اور نہ ہی اپنے اطمینان کا اظہار کیا، بس دستخط کر دیے، جو آئینی تقاضوں کی نفی کرتے ہیں۔
جو حکومت عوام کے سامنے جواب دہ نہ ہو اور جو فیصلے عوامی مفاد کے بجائے دوسروں کی مرضی سے کرے، اس پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ جمہوری حقوق کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
#ہم_مولانا_کے_سنگ#حکومت_یا_ربڑسٹمپ #وسائل_چور_مافیا #ضمیر_فروش_چوکیدار #معدنی_راج_نامنظور