The enforced disappearance of a woman should be condemned with the same zeal and enthusiasm as the killing of a woman in the name of honour. There should be no unequal treatment when a woman is mistreated, manhandled, or oppressed, whether by the state, its police, or by a tribal chieftain or private individual. To reduce all of Balochistan’s problems to honour killings and the tyranny of sardars is both misleading and unfair.
I want to remind you all: Mahjabeen, a disabled woman, was forcibly disappeared a month ago, yet there has been no outrage from these so-called feminists, simply because the state is involved. Where are they now, when the cowardly men who murdered Bano and Ehsan still dare to speak of “honour”?
Why is it forgotten that Dr. Mahrang, Bebow, and Gulzadi are also women currently imprisoned under false charges, and still, there is no outcry?
Why is there no same outrage when Islamabad police use force and violence against women?
I hope the woman killed in the name of honour receives justice, and that her killer is not a powerful sardar with government connections. However, the hypocrisy of these so-called feminists, media persons, and politicians is as loud as their silence when Islamabad police use force against women.
اس وقت میں اورمیری بہن ہدہ جیل میں بیٹھے احتجاج پر بیٹھے ہیں جہاں سپریڈنٹ ہم سے بے عزتی کرتے ہوئے ہمیں دھمکا رہی ہے اور وکالت نامہ پر دستخط نہیں کر رہی ہے۔ کل یہ وکالت نامے ہم نے جمع کیے تھے لیکن سپریڈنٹ اب تک انہیں دستخط کرنے پر راضی نہیں اور یہ تمام کارروئیاں آئی جی کے کہنے پر کی جا رہی ہیں جو انہیں ان غیر قانونی سرگرمیوں کیلئے کہہ رہا ہے۔ ہمارے قانونی حق کو ٹھکرا کر ہمیں دھمکایا جا رہا ہے کہ جو کرنا ہے کر لو میں ان دستخط نہیں کرونگا جو قانون اور آئین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
ہم صبح 10 بجے سے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور اب تک یہیں بیٹھے ہوئے ہیں اور اس غیر قانونی اقدام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، ہم جب تک یہاں سے نہیں اٹھیں گے جب تک سپریڈنٹ ان وکالت ناموں پر دستخط نہیں کرتا جو انہیں قانون کرنے کو کہتا ہے۔
پولیس ہمیں مسلسل ہراساں کر رہی ہے اور ہمارے اوپر پولیس کی نفری بیٹھا دی گئی ہے۔ ہم سے موبائل چھینے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔
تقریباً 24 گھنٹے کی خاموشی اور گمراہی کے بعد بالآخر پشین ڈسٹرکٹ جیل انتظامیہ نے تصدیق کر دی ہے کہ بیبو بلوچ وہاں قید ہیں۔ نہ ان کے اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دی گئی نہ وکلا کو رسائی دی گئی۔ اُنہیں پشین منتقل کرنے سے قبل جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ذہنی و نفسیاتی اذیتیں دی گئیں اور یہ سب کچھ ریاستی اداروں کے ہاتھوں ہوا۔
گزشتہ شب اور آج صبح تک جیل انتظامیہ بیبو کی موجودگی کو چھپاتی رہی، لیکن اب جب دباؤ بڑھا تو مجبوراً س�� سامنے لانا پڑا۔ یہ محض ایک قیدی کو الگ کرنا نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک جدوجہد، اور مزاحمت کی علامت کو توڑنے کی کوشش ہے۔
بیبو کو ماہ رنگ اور گلزادی سے الگ کرنا اس ریاستی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد انہیں تنہائی، تشدد اور خوف کے ذریعے جھکانا ہے تاکہ وہ ایک ظالمانہ، غیرقانونی اور بے بنیاد معاہدے پر دستخط کر دیں، جسے وہ پہلے ہی ٹھکرا چکی ہیں۔
یہ صرف غیر آئینی اقدام نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ہمیں شدید خدشہ ہے کہ اب ماہ رنگ اور گلزادی کو بھی اسی منصوبے کے تحت الگ کیا جائے گا اور تینوں کو انفرادی سیلز میں ڈال کر مکمل تنہائی میں رکھا جائے گا۔
یہ ��ہ لمحہ ہے جب خاموشی جرم بن جاتی ہے اور بولنا مزاحمت۔ جیلوں کو اذیت گاہوں میں تبدیل کرنا نہ قانون ہے، نہ انصاف۔ یہ ظلم ہے، اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر باشعور فرد کا فرض ہے۔
#savebycleaders
میری بہن ڈاکٹر ماہ رنگ، بیبو بلوچ اور گلزادی کو تھوڑی دیر پہلے ہُڈا ڈسٹرکٹ جیل سے CTD اہلکاروں نے زبردستی اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کرنے پر CTD نے ان پر تشدد کیا، بالخصوص ماہ رنگ اور بیبو کو بری طرح مارا پیٹا گیا۔ اس کے بعد وہ بیبو، کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ ہم اپنی وکلاء ٹیم کے ساتھ ہدہ جیل میں موجود ہیں۔ براہِ کرم اپنی آواز اٹھائیں
I am very distressed to inform you that the Counter Terrorism Department forcibly attempted to abduct Mahrang, Beebow, and Gulzadi a short while ago. They have reportedly taken Beebow with them, while Mahrang and others resisted. I am on my way to the jail with the lawyers.
I am very distressed to inform you that the Counter Terrorism Department forcibly attempted to abduct Mahrang, Beebow, and Gulzadi a short while ago from Hudda district jail. They all resisted. CTD assaulted and physically tortured Mahrang, Beebow and others. They have reportedly taken Beebow with them, while Mahrang and others resisted. We are on our way to the jail with the lawyers.
آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی غیرقانونی قید میں 3MPO کے تحت تیس دن کی مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے جہاں پُرامن شہریوں کو بغیر جرم قید کیا جاتا ہے اور حقیقی مجرم آزاد گھومتے ہیں یہ کیسا آئین ہے جو سچ بولنے والوں کو سزا دیتا ہے، اور ظلم کرنے والوں کو تحفظ؟
یہ ایک مہینہ گزر چکا ہے تکلیف دہ، اذیت ناک تیس دن جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو غیرقانونی طور پر 3MPO کے تحت قید کیا گیا۔ اس پورے م��ینے میں ہم نے ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، ہر آئینی راستہ اپنایا، جو اس ملک کے قانون میں ہمیں حاصل تھا۔ لیکن ہر موڑ پر ہمیں انصاف نہیں، تذلیل ملی۔ عدالتوں نے ہمیں مایوس کیا۔ انصاف کے نظام نے ہمیں ٹھکرا دیا۔ ہر سرکاری دفتر نے نہ صرف بے حسی کا مظاہرہ کیا بلکہ ہمیں طنز و تمسخر کا نشانہ بنایا جیسے روز ہمیں یاد دلایا جا رہا ہو کہ ہم اس ملک کے شہری نہیں بلکہ دشمن ہیں۔
جب لوگوں نے پُرامن احتجاج کیا تو اُن پر ��لم ڈھایا گیا۔ اُن کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، خاندان کے افراد کو ہراساں کیا گیا، گرفتار کیا گیا۔ ریاست نے صرف ہماری آواز کو دبانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ میڈیا اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ ہمیں بدنام کرنے کی مہم شروع کی۔ ہمیں پُرامن مظاہرین کی بجائے ایک خطرہ، مسلح گروہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ اُس وقت بھی یہ جھوٹ تھا، آج بھی جھوٹ ہے۔ ہم کل بھی پُرامن تھے، آج بھی ہیں۔ لیکن آخر کب تک ہم برداشت کریں گے جب ہر طرف سے صرف جبر، تحقیر اور زیادتی ہی ہمارا مقدر بنا دی جائے؟
یہ صرف بنیادی حقوق کی لڑائی نہیں، یہ ایک ذاتی زخم ہے۔ ایک خاندان کی، ایک بہن کی، ایک ایسی عورت کی جو پہلے ہی اپنے والد کا سایہ کھو چکی ہے۔ میں وہ درد جانتی ہوں جو دل میں ایک خالی پن چھوڑ جاتا ہے۔ اور اب، میری بہن میری روشنی، میری طاقت، میری صبر اور ہمدردی کی استاد زندان میں ہے۔ میں یہ تکلیف اس وقار کے ساتھ سہہ رہی ہوں جو اُس نے مجھے سکھایا لیکن ہر کوئی اتنا مضبوط نہیں ہو��ا۔ اگر ریاست کا یہی رویہ رہا تو کتنے اور لوگ صبر کی اس آخری لکیر سے آگے نہ نکل جائیں گے؟
بس بہت ہو چکا۔ ہم کوئی مجرم نہیں ہم پُرامن لوگ ہیں جو باوقار زندگی کے حق کے لیے کھڑے ہیں۔ چاہے آپ جتنے چاہیں ہمیں قید کریں، ہم خاموش نہیں ہوں گے۔
#ReleaseMahrangBaloch
#ReleaseBYCLeaders
My young cousin Salal, just 17 years old barely on the edge of life, still untouched by its joys or meaning has been forcefully disappeared. In our society, the birth of a boy is often celebrated as a blessing, a sign of fortune. But for our family, boys��� birth becomes an unfortune we never imagined. This is not just our tragedy; this is the story of every household in Balochistan. Salal is innocent. He has nothing to do with politics, with conflict, with anything. His only crime is that he is a Baloch boy, born into our family. Bring back Salal. He is just a child. He deserves life, not torture cells.
#ReleaseSalalBaloch
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف عدالتی فیصلے کا اعلان جو جمعے کو متوقع تھا آج ایک بار پھر مؤخر کر دیا گیا۔ اس ملک میں عدالتیں، ججز اور قانون طاقتور حلقوں کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ انصاف کا نظام مکمل طور پر یرغمال بن چکا ہے۔ میری بہن جو ایک پرامن مزاحمت کی علامت ہیں، جن کی جدوجہد کو عالمی سطح پر سراہا جا چکا ہے، کو پہلے غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا پھر تھری ایم پی او جیسے کالے قانون کے تحت نظربند کر دیا گیا۔
ہم نے اس سب کے با��جود عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، قانون پر یقین رکھا۔ مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ اس نظام سے امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔ بطور وکیل، جب میں اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہوں کہ قانون کس بے بسی سے طاقتوروں کی خدمت کر رہا ہے تو اندر ہی اندر ایک گہری اذیت محسوس ہوتی ہے۔
ماہ رنگ کے فیصلے میں اس لیے تاخیر کی جارہی کیونکہ ماہ رنگ سے انٹیلی جنس ادارے کچھ انتہائی غیر آئینی، غیر انسانی اور توہین آمیز شرائط پر دستخط کروانا چاہتے ہیں جنہیں وہ سختی سے مسترد کر چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں مسلسل جیل میں قید رکھا جا رہا ہے تاکہ دباؤ ڈال کر اُنہیں ان شرائط کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
لیکن ماہ رنگ کمزور نہیں اور نہ ہی ہم اتنے کمزور ہیں۔ انہوں نے ہمیں جھکنا نہیں سکھایا۔ ہم نے ہار نہیں مانی، نہ ہم اس پرامن اور قانونی جدوجہد سے پیچھے ہٹیں گے۔ ریاست ہمیں اشتعال دلانا چاہتی ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہماری لڑائی صرف سڑکوں یا عدالتوں میں نہیں بلکہ ہر اُس جگہ پر ہے جہاں ناانصافی، جبر اور طاقت کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔
آج بلوچ قوم کو باشعور، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد کی ہر شعبے میں اشد ضرورت ہے۔ خواہ وہ سیاست ہو، قانون ہو، تعلیم، صحافت یا طب۔ یہ جدوجہد صرف سیاسی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی فکری بیداری کی جدوجہد ہے، جو ہمیں ہر محاذ پر لڑنی ہے۔ پُرامن طور پر، مگر غیرمتزلزل عزم کے ساتھ۔
#ReleaseMahrangBaloch
#ReleaseBYCLeaders