آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی ��ھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، ن�� آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ��ریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریان�� یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پ��دا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
یہ اچھا بزنس آئیڈیا ہے ۔ ان کے زریعے کوئی پیر گدی نشین بھی بنا جاسکتا ہے مریدوں کی لائنیں لگی ہوں گی ۔ جبکہ سوشل میڈیا کانٹینٹ بنایا جاسکتا جو بہت زیادہ وائرل ہوگا ۔
تاریخ میں لکھا جائے گا کہ کرسٹیانو رونالڈو فٹبال کی تاریخ میں 970 گولز کرنے والا واحد کھلاڑی تھا لیکن وہ ہارے ہوئے لشکر کا بہادر انسان تھا، جو فٹبال میں اکیسویں صدی کا لیجنڈری فٹبالر تو بن گیا لیکن وہ سچن ٹنڈولکر کی طرح ورلڈکپ نہیں جیت سکا اور ریکارڈز کے انبار لگا گیا۔
ریال میدرد میں رہتے ہوئے رونالڈو نے 471 گولز سکور کئے جو آج بھی کسی کلب لیگ میں ورلڈ ریکارڈ ہیں اور اسی رونالڈو نے انٹرنیشنل فٹبال میں 146 گولز سکور کئے جوکہ مستقبل قریب میں توڑنا نہایت کھٹن ہوگا۔
رونالڈو واحد کھلاڑی ہے جس نے چھ فیفا ورلڈ کپ کھیلے اور ہر ورلڈ کپ میں گولز سکور کئے اور یہ کارنامہ لیونل میسی بھی انجام نہ دے سکا۔
2026 فیفا ورلڈ کپ میں بھی رونالڈو گول سکور کرنے والے طویل عمر کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کیا۔
رونالڈو اپنی نیک دلی اور سوشل میڈیا مقبولیت میں دنیا کا سب سے عظیم ترین انسان ہے اور کوئی شخص چاہے فٹبال نہ دیکھتا ہو لیکن وہ رونالڈو کا نام لازمی جانتا ہوگا۔
فٹبال کی تاریخ رونالڈو کے بغیر مکمل نہیں ہوگی لیکن پرتگال کی فٹبال ٹیم ارجنٹائن کی طرح اپنے میسی کو جتانے کی ہمت نہیں جٹا سکی جو لیونل میسی کو میسر تھا یا جو 20 سال کی مسلسل جدو جہد کے بعد 2011 میں ٹیم انڈیا نے کرکٹ میں دکھائی اور جی جان سے زور لگایا، تاکہ سچن ٹنڈولکر کو ورلڈکپ ٹرافی کے ساتھ رخصت کیا جاسکے۔
اب رونالڈو فیفا ورلڈ کپ میں نظر نہیں آئے گا اور وہ حاصل کئے بنا جارہا ہے جو اس لیجنڈری کھلاڑی کا حق بنتا تھا۔
پرتگالی کی ٹیم دیکھا جائے اور پھر رونالڈو کو تو لگتا ہے جیسے یہ کھلاڑی بنا ہی برازیل اور ارجنٹائن کے تھا بس پیدا غلط ملک ہوگیا 😀😀
قاسم سلیم
#FIFAWorldCup2026 #CristianoRonaldoCR7 #foryou #messi #FIFAWorldCup #ronaldo
عمران سیریز ایک ایسی سیریز جو ابتدائی طور پر ابن صفی مرحوم نے شروع کی اور اس میں ایک ایسی خیالی ریاست "پاکیشیا" کا ذکر ہے جس کی ایک سیکرٹ سروس ہے۔ عمران سیریز اسی سیکرٹ سروس کے کارناموں پر مشتمل ہے۔ اس کے سات سے آٹھ مستقل ممبران ہیں۔ ان کا سربراہ ایکس ٹو ایک ایسا خفیہ شخص ہے جس کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔ جو ہمیشہ نقاب میں رہتا ہے۔
علی عمران ایک کردار جو بظاہر مسخرہ اور غیر سنجیدہ شخص ہے اور یہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جس کی وجہ سے کوئی اس کو سیریس نہیں لیتا۔ وہ ساری معلومات جو اس کے خطرناک ہونے سے متعلق ہوتی ہیں وہ کسی سے بھی اس کی پہلی ملاقات کے بعد مشکوک ہو جاتی ہیں اور اسی وجہ سے دشمن دھوکہ کھا جاتا ہے۔
عمران کو ختم کرنے کیلئے بہت مشنز بھیجے گئے لیکن سب کے سب ناکام ہوئے۔ عمران کے ساتھیوں میں نمای��ں سیکرٹ ایجنٹ صفدر سعید، تنویر، شکیل اور اس کی سیکنڈ ان کمانڈ مس جولیانا فٹرواٹر ہیں۔ایک فری لانسر ہے جس کا نام ٹائیگر ہے۔ اور علی عمران ایم ایس سی ڈی ایس (آکسن) کے دو ذاتی محافظ اور وفادار ملازم جوزف اور دوسرا شائد جوانا تھا۔ درست کر دیں اگر میں غلط ہوں۔
ابن صفی کی وفات کے بعد بہت سارے ادباء اور لکھاریوں نے یہ کوشش کی کہ وہ بھی عمران سیریز کو لکھ کر ویسا ہی مقام و مرتبہ پائیں جیسا ان کرداروں کے خالق کو تھا لیکن جو مقام قارئین نے جناب مظہر کلیم کو دیا وہ کسی اور کو نہیں ملا۔ انہوں نے اس سیریز کو اپنی کردار نگاری سے چار چاند لگا دئیے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں سائنس فکشن اور فضائی اور بحری مہمات بھی شامل ہیں جنہوں نے قاری کے ذہن کو کھولا اور حالات و واقعات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی نظر دی۔
ان کرداروں کی نوک جھونک بے مثال تھی۔ لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ ہم جولیا کے عاشق تھے اور تنویر ہمیں زہر لگتا تھا کیونکہ وہ (ہمارے)رقیب کا عہدہ سنبھالے ہوئے تھا۔ عمران سیریز ہمارے بچپن کی یادوں میں سے ایک یاد ہے اور ہماری نسل میں اگر حب الوطنی اور قومی جذبہ نظر آتا ہے تو اس کا سارا کریڈٹ ہمارے ان بے لوث مصنفین کو جاتا ہے جنہوں نے شعوری کوشش کی کہ قوم میں یہ تمام اوصاف پیدا ہوں جو ایک محب وطن فرد کا خاصہ ہوتی ہیں۔
آپ کیا کہتے ہیں۔کچھ یاد آیا
الحمدللہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کواللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اسکی وجہ سے دنیا بھر میں ملک کا وقار غیر معمولی طورپر بلند ھوا اور کل جو مذاکرات ھونے والے ھیں انکی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے وزیر اعظم نے اس موقع پر عوام سے دعا کی جو اپیل کی ہے وہ بروقت ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے ھاتھ میں ہے اس لئے ھم سب کو دعا میں مصروف رھنا چاھئے خاص طورپر جو حضرات كرسکیں وہ اس دع��ئے مسنون کااھتمام فرمائیں:
اللهم انصرنا ولا تنصر علینا وامکر لنا ولا تمکر علینا واھدنا ویسر الھدی لنا واحسن عاقبتنا فی الامور کلھا واجرنا من خزی الدنیا وعذاب الآخرة آمین
بھولا ہوا قرآن 9 مہینوں میں دوبارہ یاد کر سکتے ہیں، روزانہ صرف ایک گھنٹہ پڑھائ کے ساتھ۔
چند روز قبل حفاظ کرام کے لیے ایک پوسٹ کی تھی جس پر بعض احباب نے یہ سوال کیا ہے کہ وہ قرآن حفظ کرنے کے بعد بھول گئے ہیں اب وہ دبارہ یاد کرنا چاہتے ہیں اور تراویح میں سنانا چاہتے ہیں، مگر کس طریقہ سے دوبارہ یاد کیا جائے ؟
ایسے احباب کی خدمت میں عرض ہے دوبارہ قرآن یاد کرنا بلکل آسان ہے، آپ اپنے کام کاج کے ساتھ ساتھ ان شاء اللہ نو مہینوں کے اندر دوبارہ بہترین حافظ بن سکتے ہیں
سولہ لائن والے قرآن کریم میں تقریباً 550 صفحات ہیں جو 275 اوراق بنتے ہیں اور ایک سال میں 365 دن ہوتے ہیں اس حساب روزانہ اگر ایک ورق قرآن کا یاد کیا جائے تو دو سو پچھتر دنوں میں یعنی تقریباً نو مہینوں میں قرآن یاد ہو جائے گا۔
آپ کو کرنا یہ ہے کہ روزانہ فجر کی نماز کے بعد آدھا گھنٹہ فارغ کریں جس میں قرآن کے دو صفحے یعنی ایک ورق یاد کیجیے، آدھے گھنٹہ میں آپ کے لیے ایک ورق یاد کرنا بلکل مشکل نہیں ہوگا، اسکے بعد دن بھر اس ایک ورق کو پڑھتے رہیے اور رات کو کام سے فارغ ہونے کے بعد کسی قاری صاحب یا مسجد کے امام صاحب کو سنا دیجیے، اسی طرح دوسرے دن ایک ورق یاد کرنے کے بعد قاری صاحب کو آج کا سبق اور گذشتہ دن کا سبق ملا کر سنائیے، جب آپ کا ایک سپارہ مکمل ہو جائے تو روزانہ نئے سبق کے ساتھ یہ سپارہ مکمل سنائیے، چند سپارے یاد کرنے کے بعد منزل بڑھا دیجیے ایک کے بجائے دو سپارے سنائیے، سبقی سپارہ اور گذشتہ سپارے سنانے کا ناغہ بلکل نہیں کرنا ہے۔
اگر آپ روزانہ آدھا گھنٹہ صبح یاد کرنے اور آدھا گھنٹہ رات کو سنانے کے لیے فارغ کرلیں تو میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں آپ آئندہ رمضان تراویح میں قرآن سنائیں گے ان شاء اللہ۔
تو ابھی سے نیت کر لیں اور کل فجر کے بعد سے آغاز کیجیے۔
امام عطاء اللہ خان۔
تنہائی کے گناہ سے بچنے کے 8 طریقے
1 سونے سے پہلے موبائل کمرے سے باہر رکھ دیں
2- اکیلے ہوں تو دروازہ کھلا رکھیں
3۔ وضو کی حالت میں رہنے کی کوشش کرے
4۔ جب دل گناہ کی طرف جائے فوراً جگہ بدل لیں
5- قرآن کی تلاوت لگا دیں (چاہے آڈیو ہی ہو )
6۔ خود سے سوال کریں: " اگر ابھی موت آگئی 1/1
یہ ایک جاہل انسان ہے کل اس کی جہالت پر پی ٹی آئی اور کچھ بے غیرت لوگوں نے اندھوں کی طرح علماء کا تمسخر اڑایا جب اسے معلوم ہوا کہ یہ تو خود جاہل ہے تو معذرت کی ویڈیو اپلوڈ کر دی
بریکنگ: پشاور کی مسجد قاسم علی خان کمیٹی کا اعلان
عید الفطر بروز ہفتہ کو ہوگی۔اب تو سب مان جاو بھائی عید ایک ساتھ منانی ہے۔
مفتی شہاب الدین پوپلزئی طویل عرصے سے بیمار ہے، بستر پر ہے، ان کی جگہ مولانا خیرالبشر صدارت کر رہے تھے۔