وزیر اعظم نےآج FBR کی کارکردگی کاجائزہ اجلاس چیئر کیا۔
ا��ف بی آر کی کارکردگی یہ ہےکہ انکی نااہلی اورٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا نہیں۔
اور غریب عوام کو نچوڑ کر لیوی کے نام پر بھتہ لے کر ہدف پورا کیا جارہا ہے۔
116اور139روپے کا بھتہ وزرات خزانہ، وزارت پیٹرولیم کیخلاف بھی چارج شیٹ ہے
یہ ہے منافقوں کا سردار فضل الرحمان
جب خیر پختونخوا اسمبلی اراکین کی تازندگی کڑوروں اربوں کی سہولیات مراعات بل پیش کیا گیا تو موصوف کو سانپ سونگھ گیا،،
لیکن جیسے فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو شھیدوں کی چند ٹکے کی تنخواہوں پر واویلا شروع کر دیا،،
#ڈیزل_معافی_مانگو
موت کے خوف سے درجنوں گارڈز اور بم پروف گاڑیوں میں گھومنے والا بزدل ڈیزل ۔۔۔
بارڈر پر بہادری سے لڑتے ہوئے سینے پر گولی کھانے والے شہداء کا مذاق اڑا رہا ھے۔۔
#ڈیزل_معافی_مانگو
صدارت کا خواب ٹوٹا، کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ بھی نہ ملی تو زبان زہر اگلنے لگی۔ مفادات کی جنگ میں شہداء کی قربانیوں پر سیاست کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔
#ڈیزل_معافی_مانگو
ہم نے ہمیشہ مولانا کو سپورٹ کیا لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ مولانا کچی پی کر بھڑکیں مارنا شروع کر دے
اب ہم واپس آئے ہیں تو پاک فوج کے شہیدوں کی بے حرمتی کرنے والوں کو بھی وآپس واڑ کے رکھ دیں گے💪
#ڈیزل_معافی_مانگو
مولانا فضل الرحمان صاحب
"شہید کی قیمت تنخواہ نہیں ہوتی!"
جب کوئی یہ کہتا ہے کہ "فوجی تنخواہ لیتا ہے، اس لیے جان دینا اس کا کام ہے" تو وہ شاید یہ بھول جاتا ہے کہ تنخواہ کسی انسان کی جان، اس کے بچوں کی مسکراہٹ، بوڑھے والدین کے سہارے اور ایک ماں کی دعاؤں کی قیمت کبھی نہیں ہو سکتی۔
اگر واقعی تنخواہ ہی جان کی قیمت ہے، تو پھر کوئی بھی شخص اپنے بیٹے کو صرف تنخواہ کے بدلے دہشت گردوں کی گولیوں، بارودی سرنگوں اور دشمن کی آگ کے سامنے بھیجنے پر آمادہ کیوں نہیں ہوتا؟
سپاہی صرف نوکری نہیں کرتا، وہ ایک عہد نبھاتا ہے۔ وہ ہر لمحہ اس لیے تیار رہتا ہے کہ اگر وطن پکارے تو اپنی جان بھی قربان کر دے۔ اس کی تنخواہ اس کی شہادت کی قیمت نہیں، بلکہ اس کی ذمہ داری، مسلسل تربیت، سخت حالات میں خدمت اور ہر وقت تیار رہنے کا معاوضہ ہے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر شہداء کی قربانیوں کو صرف تنخواہ تک محدود کر دینا ان خاندانوں کے دکھ کو کم نہیں کرتا بلکہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
یاد رکھیں!
وطن صرف نعروں سے محفوظ نہیں رہتے، بلکہ اُن لوگوں کی قربانیوں سے محفوظ رہتے ہیں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سرحدوں اور عوام کی حفاظت کرتے ہیں۔
سلام ہے پاکستان کے ہر شہید کو۔ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ 🇵🇰
سالانہ صرف 50 ہزار روپے ٹیکس دینے والے فضل الرحمان نے اُن ہزاروں ماؤں کی دل آزاری کی ہے جنہوں نے اپنے جوان بیٹوں کو اس ملک و قوم کی حفاظت کے لیے قربان کیا
انہوں نے اُن لاکھوں غازیوں کی بھی توہین کی ہے جو اپنی قیمتی جانوں کی پروا کیے بغیر دن رات سردی و گرمی پہاڑوں صحراؤں سمندروں اور بیابانوں میں اس ملک و قوم کی حفاظت کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں ،،
مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق شہید کمانڈو تحسین کا والد اپنے بیٹے کی شہادت پر اس لئے خوش ہے کہ اس کے بیٹے نے پیٹی اس لئے باندھی ت��ی کہ وہ 40 ہزار لیکر اپنی جان دے گا۔
تو کیوں نا مولانا یہ سعادت آپ بھی کمائیں، آپ کا بیٹا اسعد الرحمٰن جید عالم، جذبہ جہاد سے سرشار 40 ہزار کی جگہ 40 کروڑ لیکر پیٹی باندھے اور آپ کے پالے فتنہ الخوارج سے دو چار گولیاں کھائے تاکہ آپکو بھی تحسین کے والد کی طرح بیٹے کی شہادت پر خوش ہونے کا موقع ملے۔
مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔
ایسے وقت میں، جب دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور ماؤں کے جوان بیٹے (بشمول افواج پاکستان، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سب سے بڑھ کر ہمارے سویلینز) روز قومی پرچم میں لپٹ کر واپس آ رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔ مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہداء، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور سوگوار والدین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔