لوگ ملتے گئے، قافلہ بنتا گیا۔۔۔
کل برطانیہ اکیلی آئی تھی، پریشان اور دکھی بھی ہوتی تھی، پاکستان یاد آتا تھا، دل واپس جانے کا بھی کرتا تھا۔۔۔ پہلے دن یونیورسٹی گئی تو اپنے دو سوپروائزر سے میٹنگ تھی، انہوں نے کچھ چیزیں سمجھائی جس میں یہ تھی پہلی بات کہ تمہیں اس سفر میں کبھی کبھی بہت ڈیپریشن ہوگا، یہ آسان کھیل نہیں اور یہ میراتھان ہے۔ کئی ایسے دن بھی آئے کہ جب میں ہفتہ ہفتہ اپنے اپارٹمنٹ سے باہر ہی نہیں نکلی۔ کیا کرتی نکل کے؟ کس سے ملنا تھا؟
پھر آہستہ آہستہ لوگ ملتے گئے، کچھ لڑکیاں ملیں، دو اسلام آباد کی، ایک اردن کی اور ایک مصر کی۔ تینوں سے اچھی سلام دعا ہو گئی۔ پھر کچھ پروفیسرز بھی یونیورسٹی میں آ کر بتانے لگ گئے کہ آپکا فلاں پروگرام دیکھا وغیرہ۔۔۔ تھوڑا بہت دل لگنے لگا۔۔۔ ملک سے جدائی کا دکھ رہتا ہے لیکن کچھ دکھوں کے ساتھ جینے کی عادت ڈل جاتی ہے۔
آج ہماری یونیورسٹی کے ایک اور پاکستانی پروفیسر اور ڈین اے آئی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عاشق انجم نے دعوت پر بلایا جہاں دیگر پاکستانی پی ایچ ڈی سکالرز سے ملاقات ہوئی اور یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ صرف یونیورسٹی آف لیسٹر میں ہی تقریبا پچاس سے زائد تعداد ہے پاکستانی پی ایچ ڈیز کی ۔۔۔ اس ضیافت کے بعد یہ تصویر لی گئی اور اب جب وٹس ایپ پر یہ تصویر آئی تو وہ مشہور شعر یاد مقولہ یاد آیا۔۔۔
لوگ ملتے گئے، قافلہ بنتا گیا!