شیٹیکا یا کمر درد کیلئے یہ ایکسرسائز آسان ہیں ۔ مجھے خود بھی یہی پرابلم ہے ۔ اور اس میں احتیاط ہی سب سے اہم ہوتی ہے ۔ لیکن جو لوگ دفاتر میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں ان کیلئے یہ مفید ثابت ہوسکتی ہیں
خیبرپختونخواہ میں 2013 سے لے کر اب تک جتنے بھی وزرائے اعلیٰ (پرویز خٹک، محمود خان، علی امین گنڈاپور اور اب سہیل آفریدی) منتخب ہوئے، ان میں سے کسی کا بھی عمران خان کے خاندان سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ سندھ اور پنجاب اسمبلی میں والد چاچا ماما بھتیجا ایک ایک خاندان سے کئی افراد اسمبلی کے ارکان ہیں ۔ ایک صوبے میں تو خاندان سے باہر کوئی وزیراعلیٰ تک نہیں بن سکتا ۔
فرق تو بہرحال ہے ۔
🍌 آم نے کیلے کی مارکیٹ ہلا کر رکھ دی😱
چند دن پہلے 1500–1600 روپے میں بکنے والی کیلے کی پیٹی آج صرف 900–1000 روپے تک آ گئی۔
منڈی والوں کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ آم کی بھرمار ہے۔ خریدار زیادہ آم خرید رہے ہیں، جس سے کیلے کی مانگ کم ہو گئی۔
آپ کے خیال میں کیلے کا ریٹ مزید گرے گا یا اب سنبھل جائے گا؟
20 سال پہلے ایک زلزلے نے ہزاروں گھر اُجاڑ دیے… مگر ایک باپ کی امید آج بھی زندہ ہے۔
8 اکتوبر 2005 کی صبح، مظفرآباد کی 10 سالہ معصوم بچی ارفع طارق بھی ہر روز کی طرح اپنا اسکول بیگ اٹھا کر گھر سے نکلی تھی۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ اس کی اپنے گھر والوں سے آخری ملاقات ثابت ہوگی۔
چند ہی لمحوں بعد زمین لرز اٹھی۔ عمارتیں گرنے لگیں، ہر طرف چیخ و پکار، گرد و غبار اور قیامت کا منظر تھا۔
ارفع گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول مظفرآباد کی پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی۔
اس کی چند کلاس فیلوز، جو اس سانحے میں زندہ بچ گئیں، آج بھی یہ گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے ارفع کو اسکول کے باہر زخمی حالت میں دیکھا تھا۔ یعنی ارفع ملبے سے زندہ نکل آئی تھی…
لیکن اس کے بعد وہ کہاں گئی؟
یہ سوال آج بھی اس کے والد طارق محمود کی آنکھوں میں آنسو بن کر زندہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ انہیں آج بھی اپنی بیٹی کے زندہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ ایک باپ کا دل اب بھی اسی امید کے ساتھ دھڑکتا ہے کہ شاید ایک دن دروازہ کھلے گا، اور برسوں پہلے بچھڑ جانے والی اس کی بیٹی اسے آواز دے گی۔
ارفع کی والدہ منور سلطانہ (بےبی) نے بھی بیٹی کی جدائی کا ہر دن ایک صدی کی طرح گزارا ہے۔ اس کی بہنیں گل افشاں (افشی) اور زنیرہ طارق بھی آج تک اپنی بہن کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
اگر ارفع زندہ ہے تو آج اس کی عمر تقریباً 31 سال ہوگی۔ ممکن ہے اسے اپنا بچپن یاد نہ ہو، اپنا نام بھی یاد نہ ہو، مگر شاید کوئی چہرہ، کوئی یاد، کوئی نشان اسے اس کے اپنے خاندان تک واپس لے آئے۔
میں آپ سب سے ایک درخواست کرتا ہوں۔
اس پوسٹ کو صرف پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
براہِ کرم اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
کون جانتا ہے کہ یہ پوسٹ کس کی ٹائم لائن پر پہنچے، کون اسے پہچان لے، یا شاید ارفع خود ہی اسے دیکھ لے۔
ہم نے اللہ کے فضل سے برسوں بعد سینکڑوں بچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کے خاندانوں سے ملتے دیکھا ہے۔ اسی لیے میں آج بھی مایوس نہیں ہیں۔
شاید اگلی خوشخبری ارفع طارق کی ہو۔
اگر آپ کے پاس ارفع طارق کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہوں، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ لگیں، براہِ کرم فوراً رابطہ کریں۔
+923162529829
9 july 2026
#waliullahmaroof #MissingChild #Earthquake2005 #MissingSince2005 #Muzaffarabad
ایک طرف لگژری پرائیویٹ جہاز کا دفاع کیا گیا بلکہ کہا گیا کہ ہاں لیا ہے بھئی ۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا خصوصی مراعات پر اپنی ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے
اور پریشر اتنا زیادہ ہے کہ حکومت کو شاید اب یہ مراعات ختم کرنی پڑیں گی ۔
چین میں ایک خاندان اس وقت حیران رہ گیا جب ان کے ہاں پیدا ہونے والی بچی کے سنہری بال اور نیلی آنکھیں تھیں، حالانکہ والدین کی ظاہری شکل و صورت سے ایسی خصوصیات کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ بعد ازاں ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی کہ دونوں ہی اس کے حقیقی والدین ہیں۔ مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ بچی کے والد کو کئی نسلیں پہلے ایک روسی آباؤ اجداد سے کچھ جینیاتی خصوصیات ورثے میں ملی تھیں۔ اگرچہ یہ خصوصیات کئی دہائیوں تک ظاہر نہیں ہوئیں، لیکن جینز کے ایک نایاب امتزاج کی وجہ سے وہ اس بچی میں دوبارہ نمایاں ہو گئیں۔ یہ واقعہ اس بات کی دلچسپ مثال ہے کہ موروثی جینیاتی خصوصیات بعض اوقات کئی نسلوں تک پوشیدہ رہنے کے بعد اچانک دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہیں۔
نوٹ: یہ مواد صرف معلوماتی اور آگاہی کے مقاصد کے لیے عوامی طور پر دستیاب رپورٹس اور میڈیا ذرائع کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے۔#Genetics #DidYouKnow #ScienceFacts #FamilyHistory #AmazingFacts
اگر میں غلط نہی تو سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کو سال کی بہترین ویڈیو کہا جاے گا ۔۔۔
علی رضا اک ایرانی بچہ جو پیدائشی نابینا پیدا ہوا تھا ۔ مگر وہ فٹ بال کا شوقین تھا ۔۔
اسے فیفا فٹ بال ورلڈ کپ دیکھنا تھا ۔۔ اس کے والد نے اک ایسا طریقہ ایجاد کیا جس سے پوری دنیا میں اس باپ بیٹے کی تعریف ہو رہی ہے ۔
اس نے پلاسٹک کی نلکیوں کی مدد سے کارڈ بورڈ پر اک فٹ بال کا میدان سجا لیا ۔۔ بال کی جگہ اک بنٹا رکھ دیا ۔۔
بچے کی انگلی پکڑ کر جہاں جہاں بال جارہی تھی وہ بنٹے کو گھومتا رہتا جب بال گول میں گی بچہ خوشی سے جھومنے لگے اور تالیاں بجانے لگا ۔۔۔
یہ لمحہ نہ صرف اک باپ کیلے بلکہ ہر دیکھنے والے کیلے خوبصورت لمحہ بن گیا ۔۔
ویڈیو بی بی سی اردو کے پیج پر مل جاے نہی تو اپ سرچ کر لیں ۔۔
جس جلاتی ہوٸی دھوپ میں ہم اور آپ پانج منٹ کھڑے نہیں رہ سکتے ہیں اُس جلاتی ہوٸی دھوپ سے ہمیں یہ درخت بچاتے ہیں ٹھنڈا سایہ فراہم کر کے خود تپتی دھوپ جھیل کر!!! مگر پھر بھی ہم اور آپ درخت نا لگاٸیں تو اس میں جلاتی ہوٸی دھوپ کا کوٸی قصور نہیں بلکہ قصور ہمارا ہی ہے کیوں کہ ہم درخت نہیں لگا رہے ہیں جگہ جگہ درخت ہونگے تو ہمیں ان کا ٹھنڈا سایہ میسر ہوگا ورنہ جلاتی ہوٸی میں جلنا ہی ہمارا مقدر ہوگا۔۔۔ فیصلا آپ کو کرنا ہوگا تپتی دھوپ میں جلنا ہے یا درختوں کا ٹھنڈا سایہ چاہیٸے؟؟
اگر آپ کو لگتا ہے کہ رضا ڈار کیس میں انصاف ہوگا تو تین امکانات ہیں
پہلا یہ کہ آپ پاکستان میں نئے آئے ہیں،
دوسرا یہ کہ آپ بہت معصوم ہیں
تیسرا یہ کہ آپ بالکل پاگل ہیں،
زورین نظامانی