قطرہ قطرہ
موت کے دریا میں
گرتی ہوئی زندگی
ذرہ ذرہ فنا کے دشت میں
ملتی ہوئی بقا
لمحہ لمحہ اختتام کے کاسے میں
گم ہوتے ہوئے عمر کے سکے،
گھڑی گھڑی برزخ کے گھر میں لگتی ہوئی
دنیا کی مٹی
اور اسکے بعد بھی
وہ دل کہ ہنستا زیادہ ہے
اور روتا کم ہے
#ایک_کپ_چائے
Your presence inspires hearts, your words heal spirits, and your character reflects a rare depth that this generation seldom witnesses. May your life continue to shine as a source of light, compassion, and inspiration for everyone around you.
Happiest birthday Khan jee 🎂🎉
Happy birthday to the most honourable personality of X — a soul who seems to belong to another era, yet lives among us to remind humanity how to spread love, preserve respect, cherish laughter, and truly live life with grace, wisdom, and dignity.
@AbbasKhan251
ریپ۔۔۔۔!
اس نے خود کو ایک موٹی اور لمبی چادر میں ڈھانپ رکھا تھا ایک کالی چادر جس پر سفید پھول کِھل رہے تھے بظاہر دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بیڈ شیٹ ہو اور یہ ہی سچ تھا اب جسم ڈھانپنے کیلئے بھی تو کچھ چاہیے تھا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر رات کے تین بجے مقامی پولیس اسٹیشن کی طرف بڑھ رہی تھی جیسے ہی اسٹیشن کے حدود میں قدم رکھا تو سگریٹ کی عجیب مکروہ بدبو اس کی سونگھنے کی حس کو ختم کر رہی تھی حالانکہ اسکا مرحوم باپ پوری زندگی ہی سگریٹ پیتا رہا تھا لیکن تب تو اسے اس بدبو سے بھی پیار تھا لیکن آج کیوں ۔۔۔کیونکہ یہاں سگریٹ پینے والا نہ اسکا باپ تھا نہ محافظ یہ تو درندے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
سامنے دفتر نما جگہ کے پاس جا کر رکی اور رک رک کر ہچکا ہچکا کر بولی ۔۔"صاااااب جی؛!(زبان لڑکھڑا گئی آنسو جاری ہوگئے ) پھر ہمت جوڑ کر بولی ۔۔"صاااااب جی !(ہمت نے پھر بےوفائی کر دی آخر ہمت لاتی کہاں سے اسکے ساتھ تو اسکی زندگی بےوفائی کر گئی تھی )۔۔۔
آدھی نیند میں ڈوبا پولیس آفیسر لال آنکھوں سے کالی چادر میں اسکا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر بولا ۔۔۔ بول بھی لے اب کب سے صاااب جی صااااب جی لگائی رکھی ہے ۔۔۔(اب بھی وہ آدھی نیند اور آدھی انسانیت خود میں سمائے اس کے چہرے کو مکروہ نظروں سے دیکھ رہا تھا )
"صااااااب جی !مجُ۔۔۔مجھُ۔۔مجھےےےےُ (آنسو جاری تھے )مجھے ایف آئی آر دررررج کروااااااانی ہےےےےے "
اچھاااااااااا!ایف آئی آر؟؟؟(ایک مکروہ قہقہ اور ساتھ ہی ادھر موجود کلرک سپاہی سب نے اس،قہقہے میں حصہ لیا وہ ایک وقت کیلئے مکمل گھبرا گئی تھی جیسے دنیا میں ہی جہنم دیکھ لی ہو) ہاں تو لڑکی یہاں ایف آئی آر ہی درج کرتے ہیں ۔۔ بول کس چیز کی ایف آئی آرررر؟
صااااب جی !میراااااا ریپ ہوااا ہےےےے ۔۔۔(آنسو اب کی بار شاید خشک ہوگئے تھے یا پھر شاید نکل رہے تھے )
صاب جی یہ سنتے ساتھ ہی اپنی جگہ سے کھڑا ہوکر میز کی دوسری طرف پہنچا اور کرسی آگے کر کے اسکو بیٹھنے کا کہا اور خود اس کے بالکل سامنے کرسی لگا کر بیٹھ گیا فاصلہ بس اتنا تھا جتنا زندگی اور موت میں ہوتا ہے )اور بولا ۔۔ "کیسے ہوا کس نے کیا کہاں سے آئی ہو سب بتاؤ ۔"اور پیچھے کسی کو آوز لگاتے ہوئے بولا کہ او چھوٹےےےے ایف آئی آر لکھ بیان ریکارڈ کر آج ایک ریپ کیس آیا ہے ۔۔۔(لفظ ریپ پر زور دیتے ہوئے بولا)
"جہاں میں کام کرتی ہوں وہاں کے مالک نے ۔۔۔۔۔(آنسو اب سمندر کی طرح تھے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئی )
کہاں کام کرتی ہو رونا بند کرو اور بتاؤ (صااااب جی بیزاریت سے بولے )
میں کیئر ٹیکر ہوں جس کے بچوں کو دیکھ بھال کرتی ہوں ان کے باپ نے میرا ریپ کیا (اس بار وہ بولتے ہوئے بہت مضبوط لگ رہی تھی سمجھنا مشکل تھا کہ وہ کمزور ہے یا بہادر ۔۔۔۔ یہ بھی سمجھنا مشکل تھا کہ وہ ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے یا پھر کوئی ان پڑھ ،وہ وقت بس یہ جانتا تھا کہ فلحال وہ اس دنیا کی سب سے مظلوم عورت ہے )
اچھااااااا (وہ چسکے لیتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی طنزیہ مسکراہٹ ۔۔مصنوعی ہمدردی کا ڈھونک رچاتے ہوئے بہت پیار سے اس کے گھٹنے پر مضبوط ہاتھ رکھتے ہوئے بولا )" سب بتاؤ نا کیسے ہوا تاکہ تمہارا کیس حل کرنے میں آسانی ہو" ۔۔۔
وہ ایک پل کیلئے گھبرا گئی لیکن پھر ہمت جمع کر کے بولی کہ میں جب ان کے گھر گئی تو وہاں کوئی نہ تھا صرف ان بچوں کا باپ تھا باقی ساری فیملی کسی پکنک پر گئی ہوئی تھی جس سے مجھے آگاہ نہ کیا گیا تھا ۔۔۔اس شخص نے مجھے بیٹھنے کا کہا اور یہ بولا کہ کچھ دیر میں بچے آجائیں گے لیکن ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد بھی کوئی نہ آیا۔۔۔ آیا تو بس وہ شخص جس نے پھر میرا ریپ کیا ..(بول کے وہ چپ کر گئی وہ واقعی اس وقت مضبوط لگ رہی تھی )
اووووہ !پولیس آفیسر نے سرد آہ بھری ۔۔۔۔۔
پھر ایک مکروہ سوچ جمع کر کے بولا کہ زرا اور تفصیل سے بتاؤ کہ کیا کیا ہوا کیسے ریپ ہوا کیسے اس نے تمہارا ڈوپٹہ اتارا کیسے اس نے تمہیں ہاتھ لگایا وہ بولتا جا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کے چہرے کو قریب سے دیکھا جا رہا تھا پھر ہاتھ آگے کرتے ہوئے اس کے چہرے کی طرف بڑھایا اور بولا کیا حال کر دیا تمہارے چہرے کا اور یہ ۔۔۔۔بات بیچ میں رہ گئی اس لڑکی نے بڑھتا ہاتھ ایک دم روکا اور اٹھ کھڑی ہوئی اور ساتھ ہی پوری قوت سے دھکا دے کر اسکو کرسی سمیت گرا کر باہر کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔۔۔۔اس نے آفیسر کی آنکھ میں وہ ہی ارادے دیکھ لیے تھے جو کچھ دیر پہلے بچوں کے باپ کی آنکھ میں دیکھے تھے تب وہ سمجھ نہ پائی تھی لیکن اب سمجھ گئی تھی اس نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور بھاگتی چلی گئی ....!
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
جاری ہے
اور پھر ایک سنسان پارک میں آکر رک گئی جو مکمل طور پر خالی تھا اور ایک بینچ پر بیٹھ گئی وہ رو رہی تھی واپسی کا کوئی رستہ نہ تھا نہ اس کی ماں تھی نہ باپ اپنے چچا کے گھر دب دب کر رہنے والی ایک مظلوم مخلوق جس کا آج ریپ ہوا تھا ۔۔۔۔ (کہانی سناتا چاند نما شخص ایک دم خاموش ہوگیا اور زخمی نگاہوں سے چاند کو دیکھنے لگا )
کیا کہانی ختم ہوئی ۔۔۔(اس کے ساتھ بیٹھی اسکی پگلی انتہائی سرگوشی والے انداز میں بولی )
نہیں کہانی کہاں ختم ہوئی کہانی تو مر گئی خودکشی کر لی کردار نے ۔۔۔(وہ اب بھی پلک جھپکے بغیر چاند کو دیکھ رہا تھا )
مطلب (وہ اس وقت واقعی معصوم لگ رہی تھی )
مطلب یہ کہ اس پارک سے اسکی لاش ملی تھی اور یہ ضروری بھی تھا ورنہ شاید اس کے زندہ رہتے اس پر کوئی یقین نہ کرتا (وہ چاند سے نظر ہٹا کر اس کے کانپتے ہاتھ دیکھ کر بولا جس پر اس کے آنسو گر رہے تھے )
دیکھو کتنا چھوٹا لفظ ہے ریپ اور ایک پوری جیتی جاگتی عورت کو نگل گیا سمجھ نہیں آتا یہ سماج زیادہ ظالم ہے یا پھر یہ اردو ادب کے الفاظ ۔۔۔۔۔۔(وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ اب بھی اس کہانی کے حصار میں ہے )۔۔۔ چلو اب رات بہت ہوچکی ہے۔۔۔۔
"عورت کو آخر کیوں خود کی حفاظت کرنا نہیں آتی "اس نے روتے ہوئے چاند نما شخص کے چاند کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
سوال پر بس وہ مسکراتا رہ گیا ۔۔۔۔۔
عباس
میں وہ آدم ہوں
جسے
شجرِ ممنوعہ سے محبت ہو گئی ہے
حالانکہ
میں جانتا ہوں
کہ ہر لقمے کے بعد
ایک نئی جلاوطنی میری منتظر ہے
اور شاید
میری سب سے بڑی تھکن یہی ہے
کہ میں اب بھی
خوشی کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہوں
انسان کی سب سے بڑی تھکن
جسم کی نہیں،
اُن خیالوں کی ہوتی ہے
جو رات بھر
اُسے سونے نہیں دیتے
بلاشبہ
اس جہانِ خراب میں
نیند باعثِ سکون ہے
مگر ہائے
وہ لوگ
جنہیں سکون کا یہ مختصر صدقہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔
سپیس ایک کپ چاۓ میں کل مورخہ 21 مئی رات 10:00 بجے سجنے جا رہی ہے ایک ادبی محفل جناب “آرب ہاشمی “کے ساتھ
جہاں کریں گے ہم ان سے سوال اور سنیں کے کلام بازبان شاعر
تمام ادب سے لگاؤ رکھنے ولوں کو دل سے شرکت کی دعوت ہے
#ایک_کپ_چاۓ
ملتے ہیں کل رات دس بجے ایک کپ چاۓ میں جہاں پر ہوں گے جناب آرب ہاشمی اور ان کے بہت سے چاہنے والے
ہو گی شاعری جناب آرب صاحب کی اور ساتھ میں ہو گی آپ کی داد کے ساتھ ساتھ ہلکا پھلکا مزاح
آنا نہیں بھولیے گا
ٹھیک کل رات دس بجے
ایک کپ چاۓ میں
سب کو شرکت کی دعوت عام ہے
آج ایک محفل ہے چلو گے
کہاں ؟
ایک کپ چاے میں
کس طرح کی محفل ہے ؟
سنا ہے نوجوان شاعر آرب ۂاشمی آ رہے ہیں
اوہ سچ ؟
کتنے بجے ؟
رات دس بجے اور ایک کپ چاۓ والوں نے دعوت بھی سب کو دی ہے
پھر تو ضرور چلیں گے مزہ آے گا
نوٹ = پڑھ لیا اب آپ بھی آ جائیے گا یاد سے
ایک کپ چائے" کے زیرِ اہتمام نوجوان اور باصلاحیت ادیب جناب آرب ہاشمی کی تصنیف "اعتکاف" کے اعزاز میں
ایک خصوصی ادبی نشست منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ محفل صرف گفتگو نہیں،
لفظوں، احساسوں اور فکر کی ایک ایسی بیٹھک ہوگی جہاں ادب سانس لے گا،
اورخیالات مہکیں گے۔
@AbbasKhan251
ایک کپ چائے کی طرف سے نوجوان اور ابھرتے ہوئے ادیب جناب آرب ہاشمی کی تصنیف "اعتکاف" اعزاز میں 21 مئی کو رات دس بجے عباس خان ہوسٹ، فائزہ صاحبہ اور منال صاحبہ کو ہوسٹ محفل سجے گی۔ تمام اہل ذوق سے شرکت کی اپیل ہے
لنگھ آسو تے ساڈی محفل کوں رونق بخشیسو
@AbbasKhan251#ایک_کپ_چائے
اے میرے سیدا اے میرے ڈھولنا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤
37 منٹ تک طویل نعت کا نذرانہ پیش کرنا میرے پیارے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں اور اتنی ہیبت اور عقیدت بھرے لہجے میں
ہائےےےےےے ❤❤
اے میرے سوہنیا اے عربیا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم❤😭
@AbbasKhan251
السلام و علیکم
الحمداللہ ہماری ایک کپ چائے سیماب اور فائزہ کے ساتھ بہت خوبصورت ماحول میں چلی اور بہت محبت اور خوشی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی لیکن اس محفل نے اور محفل میں موجود ہر انسان نے بہت خوش اسلوبی کا مظاہرہ کیا
ہماری مہمان فائزہ اور سیماب کا تہہ دل سے شکریہ کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت سے وقت نکال کر ہمیں دیا ہماری ایک کپ چائے میں آئے اور نہایت اپنائیت کا مظاہرہ کیا بلاشبہ ہم سب ایک ہی ہیں ۔۔۔ اتنی عزت مان اور محبت کا بہت ممنون ہوں کہ ہمارے ساتھ بہترین اور پرمسرت وقت گزارا یقیناً یہ محفل ہمیشہ یادگار رہے گی تمام محبتیں قبول کرنے کا شکریہ ۔۔
ہمشہ خوش رہیں جیتی رہیں خدا نیک نصیب اور کامیابیاں دے اور عزت اور محبت میں مزید اضافہ کرے
جزاک الله خیر @seemi_f@Faiza_Ali_Hasan
رجوع !
مجھے کبھی برابری کرنا نہیں آئی
چیزوں کو اعتدال میں رکھنا نہیں آیا
دو چیزوں کو بروقت کیسے برابر لے کر چلنا ہے مجھے نہیں آیا
میں ایک شرمندگی کا شکار رہا
ایک گہری شرمندگی
جرم کا احساس جو اب مجھے کھائے جا رہا ہے
خدا نے مجھے پیغام بھیجا
اور کہا کہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے
اور محبت کے تمام ثبوت بھیجے
میرا ہونا میرے اردگرد سب کچھ خدا کی محبت کا ثبوت ہے
میں نے اس محبت کو اپنا حق سمجھا
کہ وہ تخلیق کار ہے وہ تو اپنی مخلوق سے محبت کرے گا نا
اور محبت کیوں نہ کرے کہ میں اسکی اشرف المخلوقات میں سے ہوں
خدا نے بس مجھے یہ کہا کہ تم بس دنیا کو اور مجھے یعنی خدا کے دین کو ایک ساتھ لے کر چلنا
اعتدال قائم رکھنا
برابری کرنا دونوں میں
دن میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں
میں نے چوبیس میں سے آٹھ گھنٹے اپنے آرام کیلئے رکھ لیے
باقی سولہ گھنٹے بچ گئے
جس میں سے میں نے چودہ گھنٹے دنیا کو دئیے کہ دنیا میں رہنے کیلئے محنت جو کرنی ہے
باقی دو گھنٹے خدا کے نام کیے
دو گھنٹے بھی ایسے جو خدا کو کم ہی میسر ہوئے
اکثر خدا میرا انتظار کرتا رہ جاتا
اور دو گھنٹوں میں سے بیس منٹ بھی میں اسکو نہیں دے پایا
لیکن ایک لمبے عرصے تک میں مطمئن رہا کہ
میں دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چل رہا ہوں
ایک بےسکونی میرے دل میں کینسر بن کر آئی
مجھے بےسکونی کا کینسر ہوگیا
میرے دماغ نے مجھ سے ناراضگی اختیار کر لی
میں بےبس ہوگیا
دو گھنٹوں سے بات بڑھنا شروع ہوئی تو چودہ گھنٹوں میں کمی آنا شروع ہوئی
اندازہ ہوا کہ میرے بغیر بھی دنیا چلتی رہے گی
کہیں پر کچھ بھی نہیں رکے گا
جو نہیں چل پائے گا وہ میں ہوں
اور میں خدا کے بغیر نہیں چل پاؤں گا
ایک لمبا عرصہ میں اکیلے پن کے احساس میں روتا رہا اور آٹھ گھنٹے کی نیند کو آٹھ منٹ تک لے آیا
ایک ندامت جنم لے چکی ہے
میں نے خدا سے بات کرنے کی ٹھانی
اور خدا کو کہا کہ آج میں اپنا دل اس کے سامنے کھول کر رکھوں گا
میں نے خدا کو سارا حساب دیا
اور حساب میں موجود سارے کھوٹ بتائے
سچ تو یہ ہے کہ
چوبیس میں سے بارہ گھنٹوں پر خالص خدا کا حق ہے
میں نے فقط بارہ نہیں بلکہ پورے کے پورے چوبیس گھنٹے خدا کو دے دئیے
اور کہا کہ مجھے دنیا نہیں چاہیے
مجھے فقط خدا سے خدا چاہیے
میں نے خود کو خدا کے حوالے کر دیا
اب کی بار میں سونے کو لیٹا تو اپنی بےسکونی تکیے کے پاس رکھ کر سویا
سو کر اٹھا تو کوئی بےسکونی موجود نہیں تھی
خدا میرے پاس آیا اور میری ساری بےسکونی ختم کر گیا
مجھے خدا نے اس کے چوبیس گھنٹوں میں سے سکون کی نیند عطا کی خوشیاں عطا کی
کاش ایک دن میں چالیس گھنٹے ہوتے
یہ چوبیس مجھے بہت کم لگ رہے ہیں
اب دنیا والے مجھے اکثر ڈھونڈتے ہیں
میں نے انکو کہا بھی ہے کہ میں خدا کے پاس بیٹھا ہوتا ہوں
اس سے باتیں کرتا ہوں
اب تو میرے سارے دن سارے مہینے خدا سے بات کرتے گزر رہے ہیں
مجھے اب ڈر نہیں لگتا کہ میں اکیلا ہوں
کیونکہ میں اب اکیلا نہیں رہا ہوں
خدا میرے ساتھ ہوتا ہے میرے پاس ہوتا ہے !
میں نے ایک بار پھر خدا سے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ
اس نے مجھے معاف کیوں کردیا
تو جانتے ہو خدا نے کیا کہا
خدا نے کہا کہ وہ مجھ سے ناراض تھا ہی نہیں
اور اس نے مجھے پیار سے گلے لگا لیا
میں خدا کے گلے لگ کر خوب رویا
اتنا رویا کہ
میرا چہرہ لال سرخ ہوگیا
اور سانس بند ہونے لگی
لیکن مجھے سکون مل رہا تھا !
خدا نے مجھے تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ
تم نے اعتدال قائم کرنا سیکھ لیا ہے
میں نے پوچھا کیا میں محبت کرنا جان گیا ؟
تو خدا نے کہا کہ تم محبت کو پہچان گئے ہو !
جانتے ہو سچ کیا ہے ؟
سچ یہ کہ خدا محبت ہے
محبت خدا ہے
محبت خدا کی دین ہے
میں نے خدا سے دوستی کر لی
میرا دوست خدا بن گیا !
عباس