میری بہن ڈاکٹر م��ہ رنگ بلوچ نے کبھی بھی امن، مذاکرات یا بات چیت کے عمل سے انکار نہیں کیا۔ وہ امن پر پختہ یقین رکھتی ہیں اور ہر ایسی سنجیدہ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار رہی ہیں جو امن اور ہم آہنگی کی طرف لے جائے۔
جس کسی نے بھی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے رابطہ کیا، چاہے وہ جیل میں تھیں یا اس سے پہلے، وہ ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار رہی ہیں۔ بلکہ ماہ رنگ بلوچ خود بھی لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ہمیشہ مذاکرات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ان کا ماضی بھی اس بات کا گواہ ہے کہ انہوں نے مختلف مواقع پر مذاکرات کیے ہیں، چاہے وہ ستمبر 2022 میں وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ کے ساتھ مذاکرات ہوں، 2023 میں اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت ہو، جو اگرچہ کامیاب نہیں ہوئی، یا اگست 2024 میں گوادر میں راجی مچی کے دوران اور اس کے بعد بلوچستان حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوں۔
وہ پہلے ��ھی مذاکرات کے لیے تیار تھیں، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی بات چیت کے لیے تیار رہیں گی۔ البتہ کچھ ایسے عناصر ہیں جو اس جنگ اور قتل و غارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ماہ رنگ بلوچ اپنی سیاسی سوچ ا��ر پُرامن جدوجہد سے دستبردار ہو کر ان کے لیے ایک کٹھ پتلی یا پروکسی بن جائیں۔ ماہ رنگ بلوچ نے ایسے مطالبات کو کئی مرتبہ مسترد کیا ہے۔
میں ان من گھڑت اور گمراہ کن میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتی ہوں جن میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن اس عمل میں لاپتہ افراد کے لواحقین، جن کے بچوں کو قتل کر کے پھینک دیا گیا اور وہ خاندان بھی شامل ہونے چاہییں جن کے پیارے برسوں سے لاپتہ ہیں۔
یہ صرف ماہ رنگ بلوچ کی اپنی بات نہیں ہوگی۔ وہ اس مذاکراتی عمل میں ان خاندانوں کے نمائندے کے طور پر بھی شریک ہوں گی اور ان کے مطالبات کو م��اکرات کا لازمی حصہ بنایا جائے گا۔ ان لوگوں کو انصاف ملنا چاہیے، ان کے پیاروں کے بارے میں سچ سامنے آنا چاہیے اور جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔
امن اور مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ متاثرین کے درد، ان کے مطالبات اور ان کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ایک بامعنی اور پائیدار مذاکراتی عمل وہی ہوگا جس میں ��تاثرہ خاندانوں کی آواز سنی جائے اور ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔
#ReleaseBYCLeaders
*پریس ریلیز*
��ج یونیورسٹی آف بلوچستان میں آل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت بی ایس او کے زونل صدر کبیر بلوچ نے کی۔
اجلاس میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او)، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار (بی ایس او پجار)، پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس
جامعہ بلوچستان میں بلوچ طلبہ دشمن پالیسیوں کا تسلسل فیسوں میں اضافہ، فیل و سپلیوں کا انبار، مبینہ تعصب اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے کھیل ناقابلِ قبول، بی ایس او شال زون
For the last 22 years, we have witnessed promotions, upgradations, revised salaries and packages announced in the name of new courses—but admissions have still not been granted. How long will these promises continue without any actual admissions? After 22 years.
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو ایک ایسے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جس کی قانونی بنیاد خود اپنے ہی بوجھ تلے دب کر گر جاتی ہے۔
جس کیس کو انصاف کا نام دیا جا رہا ہے، اس میں ایک ہی واقعے پر دو الگ الگ ایف آئی آرز موجود ہیں، اور دونوں ایک دوسرے کی نفی کرتی ہیں۔ ایک ایف آئی آر کے مطابق ایف سی اہلکار 27 جولائی کو ہلاک ہوا، جبکہ دوسری کے مطابق وہی اہلکار 29 جولائی کو بھی ہلاک ہوا۔ شاید اب ریاستی انصاف کے نئے اصولوں کے مطابق ایک انسان دو بار مر سکتا ہے، اور اگر کاغذ پر دو بار مر سکتا ہے تو پھر کسی کو بغیر ثبوت دو بار سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
اس مقدمے کی بنیاد ہی تضادات، ابہام اور سوالات و کنفیوژن سے بھری ہے، اور اسی کیس کا ٹرائل ویڈیو لنک کے ذریعے ہوتی ہے، اور بغیر کسی جرح، بغیر شواہد انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے عمر قید سنا دی ہے وہ بھی دو بار۔
اور یہ ہے یہاں کا انصاف۔۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج جسٹس مبین نے آج میری بہن، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، اور ایک اور رہنما صبغت اللہ شاہ جی کو گوادر میں احتجاج کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت سے متعلق ایک نہایت متنازع اور سوالات سے بھرپور مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
یہ مقدمہ خود اپنے بنیادی حقائق کے اعتبار سے مشکوک ہے۔ ایک ہی سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے واقعے پر دو مختلف تاریخوں میں دو الگ الگ ایف آئی آرز درج کی گئیں جو پورے کیس کو سوالیہ نشان بناتی ہیں۔ یہ انصاف نہیں بلکہ قانون کو سیاسی انتقام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ایک واضح مثال ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو پہلے 3MP کے تحت حراست میں لیا گیا، پھر ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے اور بعد ازاں ایک ایسا ٹرائل چلایا گیا جس پر ابتدا ہی سے جانبداری اور تنازع کے سائے منڈلاتے رہے۔ یہ بات ہم پر روزِ اول سے واضح تھی کہ ریاست کا مقصد انصاف فراہم کرنا نہیں بلکہ ماہ رنگ بلوچ کو ہر قیمت پر سزا دینا ہے۔
ماہ رنگ کا جرم کیا ہے؟ نہ ان��وں نے تشدد کیا، نہ کسی جرم کا ارتکاب کیا۔ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے لوگوں کی آواز بلند کی، جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد کی اور بلوچ عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے کھڑی ہوئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ریاست ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بڑھتی ہوئی قومی اور بین الاقوامی پذیرائی سے خوفزدہ ہو چکی تھی۔ گزشتہ دو برسوں میں انہوں نے بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد ہوئیں، بی بی سی کی 100 بااثر خواتین میں شامل کی گئیں اور ٹائم میگزین سمیت دنیا کے معتبر اداروں کی توجہ حاصل کی۔ ایک ایسی آواز جو عالمی سطح پر سنی جانے لگی، ریاست کے ��یے ناقابلِ برداشت بنتی گئی۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ گرفتاریاں، نظر بندیاں اور سزائیں ماہ رنگ بلوچ کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ وہ پہلے سے زیادہ ثابت قدم، باحوصلہ اور اپنے مقصد کے ساتھ کھڑی ہیں۔ جب ہم نے اس جدوجہد کا راستہ چنا تھا تو ہمیں اس کی قیمت کا بخوبی اندازہ تھا۔ ہم جانتے تھے کہ ہم ایک طاقتور نظام کے سامنے کھڑے ہیں، جو سزا دے سکتا ہے، قید کر سکتا ہے، مار سکتا ہے، اغوا کرسکتا ہے مگر ہمارے نظریے، ہمارے حوصلے اور ہمارے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔
میں بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ثابت قدم رہے، منظم رہے اور مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دے۔ یہ وقت گھبرانے کا نہیں بلکہ مزید استقامت، اتحاد اور مزاحمت کا ہے۔ اگر ریاست سمجھتی ہے کہ سزاؤں اور جبر کے ذریعے ایک تحریک کو خاموش کیا جا سکتا ہے تو وہ تاریخ کے سبق کو فراموش کر رہی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اُن خواتین اور رہنماؤں کی روایت کا تسلسل ہیں جنہوں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ قید ان کے جسم کو محدود کر سکتی ہے لیکن ان کے نظریے اور آواز کو نہیں۔
کل بروز بدھ، 24 جون، بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔ اس ہڑتال کی حمایت مختلف سیاسی جماعتوں، وکلاء تنظیموں اور جمہوری قوتوں کی جانب سے کی گئی ہے۔
حمایت کرنے والی جماعتوں اور تنظیموں میں بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP)، مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (NDP)، انصاف لائرز فورم بلوچستان، پشتونخو�� نیشنل عوامی پارٹی (PkMAP)، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (NDM)، عوامی نیشنل پارٹی (ANP)، پشتون تحفظ مومنٹ (PTM) اور پاکستان تحریک انصاف بلوچستان (PTI) شامل ہیں۔
تمام عوام، تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز، طلبہ اور سیاسی کارکنوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنا کر انصاف، جمہوری حقوق اور عوامی آواز کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں۔
#IStandWithBYCLeaders
#ReleaseBYCLeaders
نے سما ءِ ادی نی شیزال ئسے اوس ،ننا یقن او گمان آن زیات شیرزال ئسے اوس۔
ننے یقین ءِ نی اندون محکم مسونوس اندون محکم سلوس آک،
دارو نا ءِ ہرکس فون کننگ ءِ ارفیننگ ءِ نُم امرور ءِ لمہ امر ءِ ای کل آتے پاننگوٹ نن جوان اُن کنا لمہ ماہرنگ نا لمہ ءِ گڑا ماہ رنگ نا وڑا مضبوط ءِ ۔
مننگ کیک اینو دژمن خواشی کننگ ءِ کہ نن دا جنگ ءِ کٹان آک ولے ای پاوہ نا دا جنگ ءِ کنا ایڑ کٹا ماہ رنگ کٹا تا انتئہ کہ او ماہرنگ آن اندون خولیس نا آماچ ئسورہ کہ ہمو جج کہ سودا مسوس ہمو جج اندا فیصلہ تننگ نا ٹائم نا خن تے تون خن شاغیننگ کتوکا اندا وجغان او بند کمرہ ٹی دوز آتے امبار نا کیس ءِ چلیفے او فیصلہ ءِ تیس آک،
نے سما ءِ ادی کورٹ ئنا سٹاف نا کاٹم دارو کنا مونا شیف ئسکا انتئہ کہ اوفتے کُل ءِ سما ئسکا کہ ہمرو نا انصافی ئس مسونے ،
نن ایڑ آک ایلم وخت ئس دم دارینگان ءِ نے آ بسون ءِ گڑا نی ننے پاریس ءِ نُما ایڑ دا گل زمین کہ دریا ٹی پوڑی نا کچ ام قربانی تننگ اف دا گل زمین دا نا باتی آک باز کرزیرہ ءِ ای اوفتے کن ہچ ئس ام کننگ افیٹ ،نا دا ہیت آک ننے ہمت تیسونو نا تربیٹ ننے ہمت تیسونے نا سیاسی تربیت ننا کسر شونی ءِ کرین ءِ او اندون کرو ءِ۔
ننے سما ءِ دژمن بسک نی جیل ئنا تہٹی باز پیرغننگ نا کوشست کرءِ ولے نی
ماہ ران نا مش امبار تینا اصول آتے ٹی سلوک ئسوسا تینا ڈغار نا باتی تا حق آتے کن سالوک ئسوسا اوفتا حق آتا سودہ ءِ ک��وس آک تینا شہید آتا دیتر تا سودا ءِ کتوس آک او دژمن حبکہ مسک کہ داخا مراحات تننگ آن پد بی نن ماہ رنگ ءِ پیرغننگ کتون آک اندا وجغان او دونو فیصلہ ئس تینا دلار آ ضمیر فروش عدالت آتا زریعہ آن تیرفے کہ نے پیرغننگ کرور آک ،
ولے ای اوفتے اندا پاننگ خواہ ن��ما مون آ ماہ رنگ ءِ غفار جان نا مسیڑ ءِ ہمو غفار جان نا کہ ہرا تینا ساہ ءِ ندر کرءِ دا گلزمین کہ ولے تینا مقصد آن پد سلتو ۔۔۔
مھکم سلیس کنا دلیر آ باوہ نا شیزال مسیڑ۔۔۔۔!🌹
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہیں کہ ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ، اور دیگر کے خلاف عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سُنانا ایک شرمناک فیصلہ ہیں، اس فیصلے سے پیغام دیا گیا ہیں کہ جو ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گا وس کو سزا دی جائے گی
بلوچ یکجہتی کمیٹی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی بلوچ کے خلاف سنائے گئے غیر منصفانہ فیصلوں کے خلاف بدھ کے روز بلوچستان بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتی ہے۔
تمام تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز، طلبہ، سیاسی کارکنوں اور بلوچ قوم سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس احتجاجی ہڑتال میں بھرپور شرکت کرکے ناانصافی کے خلاف اپنی اجتماعی آواز بلند کریں۔
تاریخ: 24 جون 2026
مارا چہ اے گپ ءَ آشنا بوهگی اِنت
کہ
همُک جنگ ءَ مردُم با�� نہ بارت
ءُ
همُک جنگ ءَ شکست هم نہ وارت،
جنگ
مارا بس اے گپ ءَ سوج دئینت
کہ
تو تُری سَتر نزور ئے
بلے
پدا هم زندگ ئے.
During a raid on the home of Sardar Naseer Ahmed Moosani in Bulbul Zehri, the sanctity of the home was violated and his sons and close relatives were detained and taken to an undisclosed location. Among them was Sardarzada Khalil Ahmed Moosani, Senior Vice President of BNP Khuzdar and son of former District Chairman and Central Committee member Sardar Naseer Ahmed Moosani. Despite being injured, Khalil Ahmed Moosani was taken away by security forces, and his family was later informed to collect his body.