کیڈٹ کالجز بھی ایک کینسر ہے!!
یہاں پر بس بچوں کو ڈیسپلن کے نام پر غلام بنائے جاتے ہیں, ایک مخصوص ذہن کے ساتھ انکو رکھا جاتا ہے!!
پوری دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے بڑی بڑی یونیورسٹیز بنائی جاتی ہے, جبکہ پاکستان میں؟
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے 100 سے زائد گریجویٹس نے اُس وقت واک آؤٹ ��ر دیا جب گوگل CEO سندر پنچائی بطور کانووکیشن مقرر اسٹیج پر آئے۔ طلبہ نے گوگل کی طرف سے عزارئیل کی نسل کشی میں مدد پر واک آؤٹ کرتے ہوئے Free Pales کےنعرے لگائے۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے، اُس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے گئے.
بخاری 38
(مسلم 1781؛ ترمذی 683؛ ابوداؤد 1272؛ نسائی 2205 - 2207؛ ماجہ 1641)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے گھر میں امن و امان سے ہے، جسمانی طور پر تندرست ہے اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک ہے، تو گویا اس کے لیے پوری دنیا جمع کر دی گئی۔”
حوالہ: جامع ترمذی ، حدیث نمبر: 2346
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے زندگی کی تین عظیم نعمتوں کی قدر و قیمت بیان فرمائی ہے، یعنی اگر انسان کو گھر میں امن میسر ہو، صحت نصیب ہو اور ایک دن کا کھانا موجود ہو تو حقیقت میں اس کے پاس دنیا کی بڑی دولت موجود ہے، کیونکہ اکثر لوگ انہی بنیادی نعمتوں سے محروم ہوتے ہیں، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو بڑی بڑی چیزوں کی طلب میں ناشکری نہیں کرنی چاہیے بلکہ اللہ کی دی ہوئی چھوٹی نعمتوں پر بھی شکر ادا کرنا چاہیے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص صبح اٹھ کر یہ دیکھے کہ وہ محفوظ ہے، بیمار نہیں اور اس کے پاس کھانے کو موجود ہے تو اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ یہی نعمتیں انسان کی زندگی کو سکون اور اطمینان دیتی ہیں، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اصل خوشحالی مال کی زیادتی نہیں بلکہ امن، صحت اور بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ہے، اور ان نعمتوں پر شکر کرنا مومن کی پہچان ہے۔
کَلاّ لَئِنْ لَمْ یَنْتَهِ لَنَسْفَعاً بِالنّاصِیَةِ°ناصیة کاذبة خاطئة
"دیکھو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے،وہ پیشانی جو خطاکار ہے،جھوٹی ہے"
جھوٹ بولنے والے نوجوان کی پیشانی پر dishonest لکھا نظر آگیا،سائنس نے وہی اب پایا جو 1400 سال پہلے قرآن بتا چکاہےکہ جھوٹ بولنے والے کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جائے گا
یہ رجیم اب ہر عام آدمی کے مقابل بطور دشمن کھڑا ہو گیا ہے، ایئر پورٹس پر طالب علموں، زائرین اور مسافروں کو بلا وجہ آف لوڈ کرنا نارمل ہو چکا ہے، یہ جانتے ہیں عدالت جا کر بھی کوئی ہمارا کیا بگاڑ لے گا، عوام کو احتجاج پر اکسا رہے ہیں۔
#FascismUnderAsimLaw