عمران خان سے زیادہ غریب نواز، دردمند اور خدا خوف شخص میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ اور شاید قسمت کی ایسی مہربانی بھی کسی اور کے حصے میں کم ہی آئی ہو، جیسی عمران خان کو ملی۔
آج کے یہ نامساعد حالات، یہ آزمائشیں اور یہ مشکلات نہ جانے کی��ں مجھے یوں محسوس ہوتی ہیں جیسے قدرت عمران خان کو آنے والے وقت کے لیے تیار کر رہی ہے۔ شاید یہ وقت اسے مزید مضبوط، مزید ثابت قدم اور اس ذمہ داری کے لیے تیار کر رہا ہے جو آنے والے کل میں اس کے منت��ر ہے۔
ان شاء اللہ، جیل کے دروازے بھی کھلیں گے، حالات کی بیڑیاں بھی ٹوٹیں گی، اور خان ایک بار پھر اپنی 24 کروڑ عوام کے درمیان ہوگا۔ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا؛ ظلم کی رات کتنی ہی طویل ہو، صبح کا اجالا اپنا راستہ بنا ہی لیتا ہے۔
گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں
وزیردفاع خواجہ اۤصف کے مطابق میچ کے دوران میڈیا کوریج اۤسان نہیں ہوتی مگر وہ تھوڑا پیچھے جائیں یا پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز سے رابطہ کر کے معلومات لیں تو انہیں علم ہوگا کہ انگلینڈ میں ہی ایک میچ کے دوران تماشائیوں پر "جسٹس فار بلوچستان" کے بینر کے ساتھ جہاز نے اڑان بھری تھی اور مریم نواز نے اسے 30 اکتوبر 2021 کو ٹویٹ کرکے شیئر بھی کیا تھا اور ساتھ کیپشن بھی دیا تھا۔۔"Justice for Balochistan pls۔۔۔"۔۔۔
اب عمران خان تو ایک تاریخ ساز کرکٹر ہیں جنہیں کرکٹ کی دنیا میں اۤج بھی جانا اور مانا جاتا ہے اور سپورٹس چینل اور کھلاڑیوں کی جانب سے ان کی جیل میں صورتحال پر گفتگو/کوریج ایک نارمل چیز ہے بلکہ ایک عظیم کھلاڑی کے ساتھ جیل میں جاری سلوک پر ایک ضروری چیز ہے مگر خواجہ صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ میچ کے دوران" جسٹس فار بلوچستان" کا کرکٹ میچ سے کیا تعلق تھا؟ اس مہم کے سپانسرز کون ہوتے ہیں؟ کیا اسکا بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریک سے کوئی لینا دینا تھا؟ وہ وزیردفاع بھی ہیں اور کیا بتا سکتے ہیں کہ انگلینڈ میں اس "جسٹس فار بلوچستان" کی مہم کیوں اور کس کی جانب سے چلائی جا رہی تھی؟ ایک کرکٹ میچ کا بلوچستان کیلئے انصاف سے کیا لینا تھا؟
یہ پاکستان کا کریڈٹ ہے اور بدترین مخالف بھی یہ کریڈٹ فخر سے اس کے حقدار کو دے رہے ہیں کیونکہ کام ہی اتنا بڑا کیا ہے
لیکن افسوس کسی پاکستانی سپورٹس جرنلسٹس میں اتنی جرت نہیں ہے کہ وہ ہمت کرے اور فخر سے یہ باتیں بتا سکے
عمران اور ہم لوگ کیونکہ کاؤنٹی بھی ساتھ کھیلتے تھے، ہمارا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا چھ مہینے وہاں پر ہوتا تھا ساتھ اور اس کے بعد پاکستان ٹیم میں میں نے کپتانی انہیں دی۔
افسوس ہے، عمران کا اللہ کرے ساری چیزیں سولو ہو جائیں۔
Unnecessarily وہ بھی کسی کا بیٹا ہے، میرے تو ذہن میں بہت جلتا ہے کہ وہ بیچارہ بہت کام کر رہا تھا۔
ہم بہت کلوز رہے ہیں۔ کاؤنٹی ساتھ کھیلتے تھے، ہمارا اٹھنا بیٹھنا ساتھ تھا اور ایک دوسرے کو بہت سمجھتے تھے۔
وہ پاکستان کو کہاں سے کہاں لے کے گیا ہے، پھر بھی اس کے ساتھ یہ کرنا
میرے اندر بہت جذبات ہیں، کیونکہ جو غلط ہے وہ غلط ہے!
کیا فرق پڑ جائے گا؟ اگر انہیں باہر نکالیں گے تو، مجھے یہی سمجھا دیں۔
پاکستان کھا جائے گا کیا؟؟
دیکھنا چاہیے، سب کو سمجھنا چاہیے، ہم سب پاکستانی ہیں۔
پاکستانی ہونے کے ساتھ آگے جا کے پتہ نہیں کیا ہوگا پھر۔
اللہ کرے مسئلہ حل ہو جائے، ہمارے پاکستان گورنمنٹ کو بھی میں کہ ہی سکتا ہوں، ان کے ساتھی کے طور پر۔ ہم نے ساتھ کھیلا ہے، مجھے پتا ہے عمران کے بارے میں کہ وہ honest آدمی ہے۔
وہ کھانے پینے والا نہیں تھا، ورنہ وہ بہت کچھ کر سکتا تھا۔
اللہ سے بھی دعا یہی ہے کہ یا اللہ جو صحیح ہے وہ صحیح ہے۔
میرے لئے کوئی کام ہو میں کروں گا، بس یہ مسئلہ سولو ہو جائے۔
مجھے رولا دیا آپ نے لیکن یہ باتیں میرے دل سے نکلی ہیں۔
جاوید میانداد کا ا��تہائی جذباتی انٹرویو
وہ بنی گالہ میں تھا تو بنی گالہ خبروں میں تھا،وہ زمان پارک میں تھا تو زمان پارک ٹرینڈ کرتا رہا،وہ اڈیالہ جیل میں تھا تو چاروں طرف اڈیالہ جیل کےچرچےتھےاور آج دیکھ لیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کو،پوری دنیا میں شفاء ہسپتال کی گونج۔۔
خیراتی حکومت والے کل بھی کسی گنتی میں نہ تھے اور خیراتی حکومت والے آج بھی کسی گنتی میں نہیں۔۔
الحمدللہ! تمام پاکستانیوں کی خوشی دیکھ کر جو خوشی دل میں ہے اس وقت، پتہ نہیں کیسے اس کو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
آپ سب کو دل سے سلام! سب اتنے بڑے ہیروز ہو آپ، شاید اس کا اندازہ آنے والے کچھ سالوں میں ہو۔
اللہ الحق ہے!
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام
پیپلز پارٹی آئینی پوزیشنز سمیت اس نظام سے تمام فوائد حاصل کررہی ہے اور صرف الیکشن کی حد تک حکومت کیخلاف تقریریں جھاڑ رہی ہے، کیا یہ سمجھتے ہیں کہ عوام آپ کے طرز عمل میں جھانک کر نہیں دیکھ سکتے، یہ لوگوں کے سیاسی شعور کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر
رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ڈھائی تین ہزار ارب کی چوری ہوئی ہے اور پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ لے کر گئی ہے ! محمد مالک
یہ بات آپ کتنی دفعہ کہیں گے رانا ثناءاللہ نے تو ایک بار کہا آپ اپنے پروگرام میں چار دفعہ کہہ چکے ہیں اب کیا چودہ بار کہیں گے ؟ کائرہ صاحب تپ گئے ۔۔
طالب علموں کو ایک لاکھ electric bike مفت ہم دینے جا رہے ہیں بس انہوں نے پندرہ ہزار ایڈوانس دینا ہے اور پھر دو ہزار مہینے کی قسط۔
اخے مفت:)
کہاں سے اتے ہیں یہ لوگ:))