44 thousand Afghan boys have made it to the university after passing their entry exam this year, while the doors of universities and schools still remain closed to the faces of Afghan girls in Afghanistan.
Afghanistan under Mullahs
#LetAfghanGirlsLearn#LetHerLearn
باجوڑ میں جے یو آئی(ف) کے مشران و کارکُنان پر دھماکہ انتہائی دردناک ہے.
پختون بیلٹ میں جنگ دُنیا کے بڑے قوتوں کے درمیان پراکسی جنگ کا حصہ ہے جسکے لئے ریاستی پالیسیاں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔
سیاسی قوتوں سے درخواست کرتے ہیں کہ آئیں ہم سب مُتحد ہو کر اس جبر کا مقابلہ کریں۔
دھشتگردی، بھتہ خوری،وسائل پر قبضے، کوئلے کے کاروبار پر قبضے، خالق داد بابڑ سمیت سب شہیدوں کے واقعات اور ریاستی جبر کے خلاف ہرنائی میں پی ٹی ایم جلسہ۔
وطن کے ہر ایک گاؤں میں اپنے عوام کومنظم کر کے ہی ایک قوت بنا سکتے ہیں جس سے سارے مسائیل آسانی سے حل کئے جا سکتے ہیں۔
Please don't make this beautiful land a cradle of war.
Natural beauty of Pashtunkhwa parachinar.
Let we live, we want to live
💫🥀
🌾
#Bajaur#parachinar#Pashtun
زه دې غلط کړمه ثابت، صبر دې زړه کړ اخر
جذبه سړه، وعده دې هېره، عشق دې څه کړ اخر؟
تر غره هم دروند و، خو له تا نه چې نهيلی شومه
له مجبورۍ مې ژوند روان لکه اوبه کړ آخر
پوښتنه مه کوه چې څنګه دی او څنګه نه دی
دغه سړی خو دې نری تر خپل ویښته کړ اخر
حفیظ همیم
وزیرستان اور دیگر پشتون علاقوں میں بدامنی اسی معدنیات کے لوٹ مار کے لئے پیدا کی گئی ہے۔
پشتونوں کو ٹارگٹ کیلنگ،لاپتہ افراد،کرفیو، دھماکے، بڑے سیاسی پارٹیوں کے جھوٹے سیاست اور گوڈ بیڈ طالبان کے بحث میں پھنسا کر خود کاپر اور گولڈ اور دیگر معدنیات لوٹ کر اربوں روپے کما رہے ہیں۔
مقامی انجنیئر کے بقول 35 لاکھ ٹن کاپر پیدا کرنے والے علاقے محمد خیل کے 250 مزدور اس کان کنی میں کام کررہے ہے۔ اس کے علاوہ ہماری قسمت میں ٹارگٹ کیلنگ ،میسنگ پرسنز اور خود کُش دھماکے ہے۔ہمارے پشتو کے ایک شاعر رحمت شاہ سائل اس لوٹ مار کو کچھ یوں بیان کرتے ہے ۔
زما وطن د سرو او سپینو نه ډک
زه مزدورو پسې بهر ګرځمه.
زه په ګناه او ثواب څه پوهیږم
په جنتی خاوره نهر ګرځمه ۔
علی مسجد دھماکہ اُسی ہی ڈالری جنگ کا سلسلہ ہے جو جنرلی پالیسیوں اور کرنل امامی تربیتوں کے بنیاد پر شروع کی گئی تھی۔
بیرونی امدادیں اور پشتونوں کے وسائیل و کاروبار پر قبضے کےلئے پختونخوا میں دھشت و وہشت کا ماحول ضروری ہے۔
عوامی مزاحمت کے علاوہ کوئی ایک بھی فورم قابل اعتماد نہیں ہے