موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: جب تو ناراض ہوتا ہے تو ہمیں کیسے پتہ چلے کہ تو ناراض ہے؟
اللہ تعالٰی نے فرمایا جب میں ناراض ہوتا ہوں تو
⬅️ حکومت نکموں کو دے دیتا ہوں
⬅️ پیسا بخیلوں کو دے دیتا ہوں
⬅️ بارشیں بے وقت کرتا ہوں
اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے. آمین
@MirAhmadSaeedK1@FaizullahSwati قومی اسمبلی سے یہ بل پاس ہو چکا ہے اور اس سے پہلے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی ہے. اور حیرانی ہے کہ میڈیا سمیت تمام جماعتیں خاموش رہیں. اب پیپلزپارٹی حسب معمول منافقت کرتے ہوئے اس بل کو ن لیگ کے کھاتے میں ڈال رہی ہے.
📖 اور جو کوئی بھلائی کمائے گا تو ہم اس کے لیے اس میں بھلائی کا اضافہ کرتے رہیں گے۔ یقینا الله بہت بخشنے والا بہت قدردان ہے۔
اور الله باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کا حق ہونا ثابت کردیتا ہے اپنے کلمات سے۔
یقینا وہ واقف ہے اس سے بھی جو کچھ سینوں کے اندر پوشیدہ ہے۔
سورۃ الشوریٰ
@GovernorSialkot ایسا ہی ہے بلکہ آپ نے کوئی سمپل امپورٹ کرنا ہے تو اگر اس کی اماؤنٹ 500 ڈالر سے کم ہے تو سٹیٹ بینک پیمنٹ اسے اپروو نہیں کرتا. یہ ایک علیحدہ مصیبت بنی ہوتی ہے.
اعرابیوں (بدوؤں) نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ:
الله کے رسول! بندے کو جو چیزیں الله تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان میں سب بہتر چیز کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "اچھے اخلاق"
ماجہ 3436
(ابی شیبہ 25823؛ بیہقی 19559؛ مشکوٰۃ 5078
@shaulh7 اگر 6 لاکھ سالانہ یعنی 50 ہزار ماہانہ کی بچت نہیں کر سکتا تو بہتر ہے کہ دوکان بند کر کے کہیں نوکری کر لے کم از کم دوکان کے کرائے اور بلوں کی بچت تو ہو گی.
25000 سالانہ کا مطلب ہے تقریباً 2080 روپے ماہانہ. اس سے زیادہ خرچہ تو دوکان پر چھاپہ مارنے والی FBR کی ٹیم کے چائے پانی پر آ جاتا ہے.
اب تاجر حضرات کو چاہیے کہ اس سہولت کا فائدہ اٹھائیں اور FBR کے چھاپے کے ڈر سے نجات پائیں.
ہر سال BISP کے بجٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود غربت میں اضافہ ہو رہا ہے. حکومت کو چاہیے کہ ہر سال BISP کے بجٹ میں سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پورے پاکستان میں صنعتوں کو فروغ دے. اس سے ناصرف عوام کو مستقل روزگار ملے گا بلکہ غربت میں بھی کمی آئی گی.
قالَ النبی ﷺ:
بیشک میں اپنی امت پر گمراہ کرنے والے اماموں (پیشواؤں، رہنماؤں، حاکموں) سے ڈرتا ہوں.
(یعنی مجھے اپنی امت کے بارے میں بڑا خوف اُن اماموں، علماء یا رہنماؤں سے ہے جو خود بھی گمراہی کو اختیار کئے ہوئے ہوں گے اور لوگوں کو بھی غلط راستے ہی کے فتوے دیں گے.)
ترمذی 2229
چیف سیکرٹری پنجاب بارے جھوٹی خبر چلانے پر پبلک نیوز اور ارشاد بھٹی سمیت صحافیوں نے معافی مانگ لی.
حکومت پنجاب کو چاہیے کہ اس معافی نامہ کو رد کرتے ہوئے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے تاکہ مستقبل میں کوئی صحافی جھوٹی خبر چلانے سے پہلے سو بار سوچے.