سال 1958 میں بحرالکاہل کے انیویٹاک ایٹول میں امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے "واہو بلاسٹ" (Wahoo Blast) نامی زیرِ سمندر جوہری دھماکے کی نایاب ویڈیو آج بھی دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے۔
آپریشن ہارڈ ٹیک ون کے تحت سمندر کی سطح سے تقریباً 150 میٹر (500 فٹ) کی گہرائی میں 9 کلوٹن کا ایٹم بم پھوڑا گیا تھا، جس کا مقصد آبدوزوں اور بحری بیڑوں پر جوہری طاقت کے اثرات کا مطالعہ کرنا تھا۔
دھماکے کے چند ہی لمحوں میں سمندری پانی کے شدید دباؤ اور تپش کی وجہ سے سمندر کی تہہ سے پانی کا ایک دیوہیکل اور تابکار ستون آسمان کی طرف بلند ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
یہ خوفناک منظر جوہری ہتھیاروں کی بے پناہ طاقت، سمندری ماحول پر اس کے دیرپا تباہ کن اثرات اور سرد جنگ کے دور کی ہولناک فوجی حکمتِ عملی کی ایک واضح جھلک پیش کرتا ہے۔
شاید موجودہ دور اس قدر دلکش گائیکی اور شاعری سے قدرے محروم ہے ۔
نئی نسل سے بھی گزارش ہے کہ ذرا سا وقت نکال کر اس غزل کو ضرور سنئیے 👇
"حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں"
جہاں انسانوں کی ہر ٹیکنالوجی ختم ہو جاتی ہے، ٹھیک وہیں سے اللہ کی ٹیکنالوجی شروع ہوتی ہے..
اس ویڈیو کو غور سے دیکھیے. یہ میرے اللہ کی ٹیکنالوجی ہے ، نہ کوئی پائلٹ نہ راڈار سسٹم..... ہزاروں کی تعداد میں یہ لینڈنگ بھی کرتے ہیں اور ٹیک آف بھی۔ مگر کبھی کوئی کریش نہیں ہوا۔
لینڈنگ اور ٹیک آف کے مناظر دیکھیں اور اس رب عظیم کی شان کی ثناء کیجیے جس کی ہر تخلیق بے عیب، مکمل اور لازوال ہے..
انسان اور گدھا یہ فلم 1973 میں ریلیز ہوئی تھی۔جس کو اس وقت کے وزیراعظم بھٹو نے بین کر دیا تھا۔ یہ سین حقیقتاً ہم پاکستانی قوم کی کھلی عکاسی کرتا ہے کہ نہ تو ہم اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں، نہ اظہار کرتے ہیں، نہ اپنا موقف پیش کر سکتے ہیں۔ بس گدھوں جیسے زندگی گزار رہے ہیں۔