وہ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا چار دن بھی جیل نہیں کاٹ سکتا، اسکے آج جیل میں ایک ہزار دن مکمل ہوگئے ہیں۔
ہمیشہ لوگوں کے اندازے غلط ثابت کرنے والے عمران خان نے ایک اور اندازہ غلط ثابت کردیا۔
اطلاعات کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی سے قبل جسٹس بابر ستار کو Approach کیا گیااس وقت کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے کہا کہ نواز شریف کی اپیلیں زیرِ التوا ہیں، ان پر کچھ کرنا ہوگا کیونکہ وہ واپس آ رہے ہیں
جواب ملا کہ "اگر وہ واپس آتے ہیں تو فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا ( جیل)
اس کے بعد انہیں اس بینچ کا حصہ نہیں بنایا گیا..!!
پچھلے چار مہینے سے محمود اچکزئی صاحب کا انحصار رانا ثنا اللہ پہ تھی، رانا ثنا اللہ نے اپنی بے بسی ظاہر کر دی، وزیر اعظم نے بھی کال کا کوئی جواب نہ دیا، تو سوال یہ ہے کہ اب محمود اچکزئی صاحب کی حکمت عملی کیا ہے؟؟
عوام کو اور آدھے صفحے کے سرکاری اشتہار کو چھوڑیں،
آج کے جنگ کے پہلے صفحے پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی خبر تلاش کرنے والے کو 21 توپوں کی سلامی دی جائے گی
پنجاب کی سیاست میں علی ڈار کی اینٹری ہو چکی، نواز شریف فیملی اور شہباز شریف فیملی اب الگ الگ دھڑے کی صورت میں صاف نظر آنے لگے ہیں۔ حمزہ شہباز کا راستہ واضح طور پہ روکا جا رہا ہے، نوقز شریف خاموش پارٹی دکھائی دیتے ہیں
حمزہ شہباز کا راستہ روکنے کے لیے مریم نواز نے پنجاب میں علی ڈار کو اختیار دینے شروع کر دیے ہیں تاکہ جب وہ وفاق جائیں تو پنجاب کا کنٹرول ان کی اپنی فیملی کے پاس رہے، اسد اللہ خان
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر اعلی سطح کمیٹی تشکیل دے دی
وزیرِ قانون و وانصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری کابینہ اور کامرس سیکریٹری اس کمیٹی کے ارکان ہونگے.
کمیٹی آئندہ ایک ہفتے میں پورے معاملے کا جائزہ لے کرے ایک جامع رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی.
اس دوران اس معاملے میں کوئی بھی متاثرہ شخص اپنی معروضات کمیٹی کو پیش کر سکے گا اور کمیٹی بلا کسی تفریق کے فریقین اور متاثرین کو سنے گی.
وزیراعظم کے اس معاملے پر حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی طرف سے کسی بھی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی.
وزیرِ اعظم نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کی ہدایات جاری کی ہیں.
عمران خان دور حکومت میں داتا دربار لاہور کے سامنے بنائی گئی پناہ گاہ کو مسمار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ 2019 میں 40 کروڑ روپے لاگت سے تعمیر شدہ پناہ گاہ میں 170 مسافر اور نادار لوگوں کو قیام کی سہولت اور 700 افراد کو کھانا مہیا کیا جاتا تھا۔ داتا دربار یا بھاٹی گیٹ ری ویمپنگ منصوبے کی وجہ سے پناہ گاہ کو گرانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
روزنامہ دنیا میں زین العابدین کی خبر
ڈاکٹر اسرار احمد کی آج سولہویں برسی ہے، ایک ایسی شخصیت جنہیں اپنے نظریے سے بے پناہ لگاؤ تھا۔ انہوں نے آنے والے وقتوں کے بارے میں کئی پیش گوئیاں کیں، اور موجودہ حالات کو دیکھ کر لوگ حیران ہوتے ہیں کہ وہ پیش گوئیاں کس قدر درست ثابت ہو رہی ہیں۔ ہمارے ملک کی اس عظیم شخصیت پر رفتار ایک ڈاکیومنٹری بھی بنا چکا ہے، لازمی دیکھیں، لنک کمنٹس میں موجود https://t.co/pd73YPLWPu
بورےوالا میں سرکاری ہسپتال کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا، جہاں شناختی کارڈ نہ ہونے پر مریض کو داخل کرنے سے انکار کیا گیا، اور بدقسمتی سے مریض موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ 😔مقامی ذرائع کے مطابق لواحقین کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کو جواز بنا کر علاج سے انکار انسانی جان کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔یہ پنجاب کی وہ گوڈ گورننس ہے جسکی تعریفیں لائیو پریس کانفرنس میں ہوتی تھی
اے آر وائے انتظامیہ نے کاشف عباسی کا پروگرام کامران خان کو دے دیا۔ اے آر وائے نے پہلے ارشد شریف کا “پاورپلے” ختم کیا، اب کاشف عباسی کا “آف دی ریکارڈ” بھی ختم کردیا۔