انڈیا میں جمہوریت کی مضبوطی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہاں نگران حکومت ہی نہیں ہوتی ۔ الیکشن کیمشن اتنا مضبوط ادادہ ہے کہ سیٹنگ گورنمنٹ کی موجودگی میں ہی وہ الیکش کروادیتی ہے !
پشاور ہائیکورٹ کے احاطے میں عمل اور ردعمل کے نتیجے میں جو واقعہ پیش آیا، اس پر عدالت کے پورے نظام سے معذرت کرتے ہیں
تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان سے کہتے ہیں کہ جمہوریت کو جمہوریت رہنے دیں
باچاخان نے عدم تشدد کے ذریعے اپنے حقوق کی جنگ شروع کی اور آج 100 سال بعد چوتھی نسل اسی را��تے پر گامزن ہے
ہم نے ہمیشہ عدلیہ سمیت تمام اداروں کا احترام کیا ہے اور آئین، عدلیہ یا ججز کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتے
ہم نے عدلیہ کی آزادی کیلئے جانوں کی قربانیاں دی اور ایک آمر کے خلاف کھڑے رہے ہیں
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے کوئی ذاتی تنازعہ نہیں
جو باتیں میں نے کی ہیں، یہ باتیں پنجاب، اسلام آباد میں سیاسی ��ہنماؤں اور میڈیا پر دیگر لوگ کرچکے ہیں
ماحول کو درست کرنے اور اس معاملے کو ختم کرنے کیلئے چیف جسٹس صاحب کی اگر دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت کرتے ہیں کیونکہ یہ پختون روایات ہیں
ایمل ولی خان
صدر عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا
#AimalWaliKhan
سپریم کورٹ کی 76 سالہ عدالتی تاریخ کا اب تک کا سب ستے بڑا فیصلہ
سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی کا فیصلہ کلعدم قرار دیتے ہوئے جسٹس وقار سیٹھ کی جامب سے سنائے گئے مشرف کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھی۔ جسٹس قاضی کی سربراہی میں 4 رکنی بنچ نے فیصلہ سنا دیا
محترم صوبائی قاضی القضاء صاحب!
دہشت گردوں کی دوبارہ آباد کاری کے حوالے سے ایمل ولی خان کے پٹیشن کا کیا بنا؟
پورے پاکستان کے سیاست دشمن آپکی معزز عدالت سے ہی کیوں بری ہوجاتے ہیں؟
یہی سوال پوچھے تھے نا اے این پی کے صوبائی صدر @AimalWali نے۔ جواب کی ��جائے “توہین عدالت”؟ واہ!
قائد مسلم لیگ ن و سابق وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف سے جاتی اُمراء میں مُلاقات بھی ہوئ اور سیاسی و معاشی صورتحال اور دیگر اُمور پر بھی بات چیت ہوئ ہے۔
مُجھے مُٹھی بھر اُن ذہنی بیمار لوگوں پر افسوس ہے کہ جو ایک پُرانی وڈیو کو جواز بناکر جھوٹا پراپگینڈا پھیلا رہے ہیں۔