"اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنے لیے اور اپنے پاکستان کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ میں اعلان کرتی ہوں کہ اس تحاریک کا آغاز اب ہو چکا ہے اور یہ منزل کے حصول تک رکنی نہیں چاہیے۔
ہم گھروں سے یہی فیصلہ کر کے نکلے تھے—میری بہنیں اور میں—کہ اگر اس راہ میں موت بھی آ جائے تو یا اللہ ہماری شہادت قبول فرما۔ 2 دسمبر کو عمران خان نے میری بہن سے کہا تھا: 'اب وقت آ پہنچا ہے: زندگی، آزادی یا موت!' لیکن ہم کہتے ہیں: 'آزادی یا شہادت!'"
“The recent escalation between Pakistan and India has once again proven that Pakistanis are a brave, proud, and dignified nation.
I have always said, "Mulk bhi mera, Fauj bhi meri" (this country is mine, and so is the army). Just as our soldiers defeated Modi on both aerial and ground fronts, the people of Pakistan—especially on social media—exposed and dismantled Modi and the RSS’s narrative at a global level.
By targeting innocent civilians such as children, women, the elderly, and civilian infrastructure in Pakistan, Modi displayed cowardice. Our forces responded with strength and precision. We stand in full solidarity with the families of both civilians and military personnel who were martyred in these cowardly attacks.
I pay tribute to the Pakistan Air Force and all our military personnel for their professionalism and outstanding performance. Unlike Modi, who targets civilians and public infrastructure, our forces successfully hit only the aircraft and installations directly involved in the attacks.
Narendra Modi harbors deep hatred for Pakistan. The fearless attitude shown by Pakistanis during this conflict must have only fueled his anger. He is likely furious and may attempt another false-flag operation, similar to what he orchestrated in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir. We must stay alert and fully prepared. I had predicted this scenario back in 2019 as well. Modi will also try to inflict economic damage on Pakistan. In case of any new attack, the nation must remain united and ready.
During wartime, a swift response is absolutely vital. Wars are fought as much with nerves as with weapons—perhaps 60 percent of it depends on mental strength. That is why it is crucial to have leadership that enjoys the people’s trust and can make bold and timely decisions in the face of aggression.
In a state of war, the military needs public support more than ever. The morale of the nation becomes the strength of the armed forces. That is why I’ve consistently emphasized that we must not isolate our people, and we must breathe life back into our justice system”
Illegally incarcerated former Prime Minister Imran Khan’s conversation with his family at Adiala Jail today, in reference to India’s attack on Pakistan and the Pakistani nation’s resilient response (May 13, 2025)
1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو:
“اردلی حکومت خوف کا شکار ہے، ان کو مسلسل ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ ان کا پہلا ڈراؤنا خواب ان کے اعصاب پر سوار عمران خان اور اس کی رہائی کا خوف ہے۔ دوسرا ڈراؤنا خواب یہ ہے کہ فارم 47 کا کچا چٹھا نہ کھل جائے- ان خوابوں سے گھبرا کر بیدار ہوتے ہی یہ 9 مئی کی گردان کرنے لگتے ہیں۔ اس خوف کی بدولت انھوں نے مجھے ایک ایسے بے ضمیر جج سے سزا دلوائی جس کو خود سپریم کورٹ نے 2004 میں عدالتی خدمات کے لیے نا اہل قرار دیا تھا۔
القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ملک ریاض اور NCA کے معاہدے سے سال پہلے سے چل رہا تھا اور
ہمارے دور کی کابینہ کا القادر ٹرسٹ معاملے میں کوئی کردار نہیں نہ ہی یہ رقم ہم نے سپریم کورٹ منتقل کروائی۔ کابینہ نے صرف Non Disclosure Agreement کی Confidentiality / رازداری کی منظوری دی تاکہ اتنی بڑی رقم / فارن ایکسچینج ایک ساتھ پاکستان آ جائے- نام نہاد “بند لفافے” کو حکومت اور تحقیقاتی ادارے کھول سکتے ہیں اسے کھولیں اس میں کیا لکھا ہے عوام کو بتائیں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ۔
ذلفی بخاری نے اس کیس میں وڈیو لنک یا سفارت خانے کے ذریعے پیش ہونے کی درخواست کی تھی کیونکہ اگر وہ پاکستان آتے تو ان کو عدالت تحفظ نہ دیتی اور باقیوں کی طرح انھیں بھی گرفتار یا اغوا کر کے تشدد کیا جاتا۔ ذلفی بخاری کے گھر پر غیر قانونی چھاپہ مار کر توڑ پھوڑ کی گئی، خاندان کو ہراس کیا گیا اور ڈیلیں آفر کی گئیں- شہزاد اکبر نے بھی کئی مرتبہ گواہ بننے کی پیشکش کی ، مگر چونکہ جعلی حکومت اس مقدمے میں مجھے سزا دینے کا فیصلہ کر چکی تھی اس لیے ان کو وڈیو لنک یا سفارت خانے کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت نہیں دی گئی- شہزاد اکبر کے بھائی کو بھی اغوا کیا گیا-
القادر ٹرسٹ ایک فلاحی ادارہ ہے جس کے ذریعے غریب طلباء کو سیرت النبی ﷺسے روشناس کروایا جا رہا ہے- اس سے مجھے کوئی ذاتی فائدہ ہے نہ ہی میری اہلیہ کو۔ پہلے بھی ساڑھے نو ماہ بشرٰی بیگم کو قید میں رکھا گیا اور میرا ساتھ دینے کی سزا دی گئی۔ گھریلو خواتین کو سیاست میں گھسیٹنا شرمناک ہے اور ہماری روایات کے منافی ہے۔ بشرٰی بیگم مضبوط اعصاب کی حامل خاتون ہیں ، وہ میری کمزوری نہیں طاقت ہیں۔
یہ مجھ پر جتنے مرضی مقدمات بنائیں میں نواز شریف یا زرداری کی طرح ڈیل کے ذریعے نہیں بلکہ عدالتوں کا سامنا کر کے انصاف کی طاقت سے جیل سے باہر آؤں گا۔ ان سے ڈیل پر میں جیل میں رہنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ میرے مقدمات یا رہائی کا حکومت یا کسی سے بھی ہونے والے مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مذاکرات کا عمل اگر سبوتاژ ہوا تو اس کی وجہ حکومت کی غیر سنجیدگی اور جوڈیشل کمیشن کا قیام نہ کرنا ہو گا۔ ہمارے جو لوگ شہید ہوئے ہیں ان کی طرف سے ہم پر دباؤ ہے وہ انصاف کے متلاشی ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بغیر مذاکرات کرنے کا کوئی مقصد ہی نہیں-
سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر کو ہدایت کرتا ہوں کہ چیف جسٹس اور آئینی بینچ کے سربراہ امین الدین خان کو انسانی حقوق سے متعلق ہمارے مقدمات ترجیحی بنیادوں پر سننے کے لیے خط لکھیں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اس متعلق خط تحریر کریں۔ علی امین گنڈا پور ایپکس کمیٹی کو خط لکھ کر شہباز شریف کے لگائے بھونڈے الزامات کا جواب دے۔
ہم کسی سے کوئی رعایت نہیں مانگ رہے صرف قانون کے مطابق انصاف مانگ رہے ہیں ۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا جو حال ہو چکا ہے وہ قابل افسوس ہے۔ سپریم کورٹ میں آج جو ہوا وہ اسی ترمیم کا نتیجہ ہے ۔ نامکمل اسمبلیوں سے ہونے والی قانون سازی بنیادی حقوق سے متصادم ہے ۔ہم عدلیہ پر دباؤ اور ان کے احکامات ہوا میں اڑانے کی مذمت کرتے ہیں ۔ جس ملک میں نظام انصاف ہی زنجیروں میں جکڑا ہو گا وہاں کسی اور کو کیا ہی آزادی ملے گی-“
کمشنر راولپنڈی کا اعترافی بیان جس میں انہوں نے یہ تسلیم کرتےہوئے مستعفٰی ہونے کا اعلان کیا کہ انہوں نے انتخابی نتائج سےچھیڑ چھاڑ کی،جس کے نتیجےمیں محض راولپنڈی ڈویژن میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی کم ازکم 13 نشستوں سے محروم کیا گیا۔
ان کا یہ بیان ملک بھر میں انتخابی نظام کے ساتھ کئے جانے والی نہایت منظّم چھیڑ چھاڑ کی ایک ہوشربا روداد ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی کی ایسی نشستیں جہاں تحریک انصاف کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل تھی، کو جعلی سازی اور دھوکے دہی سے ہروایا گیا اور عوام کو ان کے جائز مینڈیٹ سے محروم کیا گیا۔
وقت آ گیا ہے کہ ملک کی ساکھ، اس کی بہتری اور سیاسی و معاشی استحکام کیلئے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے اور اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے فارم 45 کی روشنی میں نتائج جاری کرتے ہوئے عوام کی منشا کا احترام کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف شفاف تحقیقات اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے ڈاکے میں ملوث افراد کیخلاف مؤثر اور بامعنی عدالتی کارروائی کابھی مطالبہ کرتی ہے۔
🚨 اصل مقصد سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوششیں: عمران خان کی رہائی اور علاج ہی واحد ہدف ہے! 🚨
جب حق کی آواز مضبوط ہوتی ہے، تو باطل ہمیشہ سازشوں کا سہارا لیتا ہے۔ آج کل کچھ مخصوص لوگوں سے من گھڑت اور گمراہ کن بیانات دلوا کر ہماری اسٹریٹ موومنٹ (Street Movement) سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں۔
لیکن یاد رکھیں، یہ سستے حربے اب کام نہیں آئیں گے۔ عوام اچھی طرح جانتی ہے کہ کون سچا ہے اور کون منافقت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔
🎯 ہمارا واحد اور واضح ہدف:
عمران خان کا فوری اور بہترین علاج: لیڈر کی صحت اور زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
عمران خان کی فوری رہائی: یہ تحریک تب تک نہیں رکے گی جب تک کپتان باوقار طریقے سے ہمارے درمیان واپس نہیں آ جاتے۔
⚠️ منافقوں کے بیانات سے گریز کریں!
توجہ نہ بھٹکائیں: ان کرائے کے ترجمانوں اور منافقوں کا مقصد صرف عوام میں کنفیوژن پیدا کرنا ہے تاکہ تحریک کمزور پڑے۔ ان کی باتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کریں۔
اپنی طاقت کو متحد رکھیں: ہماری طاقت ہمارا اتحاد اور سڑکوں پر پرامن احتجاج ہے۔ کسی بھی منفی پراپیگنڈے کا شکار ہوئے بغیر اپنے مقصد پر فوکس رکھیں۔
لاپرواہی سب سے بڑا جواب ہے: جب ہم ان کے بیانات کو اہمیت دینا بند کر دیں گے، تو ان کی یہ سازش خود بخود دم توڑ دے گی۔
عزمِ مصمم:
ہماری اسٹریٹ موومنٹ صرف اور صرف عمران خان کے علاج اور ان کی آزادی کے لیے ہے۔ منافقوں کو اپنا ایجنڈا پورا کرنے کا موقع نہ دیں، متحد رہیں اور کپتان کی رہائی تک اپنی آواز بلند رکھیں۔ 🇵🇰💪🔥
Founding Chairman Imran Khan writes to the Chief Justice of Pakistan, highlighting the grave state of affairs in the country, and reminds him of his responsibility to stay true to his oath and declared belief in the principles and values espoused by Pakistan's founding fathers & his proclamation of Supremacy of the constitution.
عمران خان ساڑھے تین سال وزیراعظم رہے۔ کبھی ان کی بہنیں وزیراعظم ہاؤس نہیں آئیں۔ لاہور آتے تھے مگر بہنوں کو کبھی وزیراعلیٰ ہاؤس نہیں دیکھا گیا۔ فیملی کے کسی فرد کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں۔ باوجود اس کے ایک منگل کا دن بھی ایسا نہیں جب وہ عمران خان کے لیے آواز اٹھانے اڈیالہ جیل کے باہر نہ گئی ہوں۔ آواز اٹھانے کے جرم میں انہیں مختلف فسطائی حربوں کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ ڈٹ کر کھڑی ہیں۔
بیرسٹر شہزاد اکبر
The assault on my house today was first of all a contempt of court. We had agreed that an SP with one of our people would implement a search warrant bec we knew otherwise they would plant stuff on their own, which they did. Under what law did they break the gate, pull down trees
The way Pakistani women stood up for Haqeeqi Azadi, they will be remembered and become part of our democratic history.
Also what will never be forgotten is the brutality of our security forces and the shameless way they went out of their way to abuse, hurt and humiliate our women.
Hundreds are languishing in jail in terrible conditions. This too won’t be forgotten.
علی محمد خان ہر روز شیروانی استری کروا کے، بالوں کو جیل لگا کے، تسبیح ہاتھ میں پکڑ کے ایم این اے کی سیٹ پہ بیٹھ جاتے ہیں۔
جو کام علی محمد خان جیسے لوگوں کو کرنا چاہئیے تھا وہ علیمہ خان اکیلی کر رہی ہیں
مطیع اللہ جان کی گفتگو 🔥
🚨 ہار ماننا تاریخ نہیں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور بنیادی حقوق کی بحالی تک مزاحمت ہمارا حق ہے! 🚨
جب ظلم حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے... لیکن جب غیرت مند قومیں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہیں، تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے!
بانی پی ٹی آئی صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں، بلکہ اس ملک کی خودداری، حقیقی آزادی اور قانون کی بالادستی کی علامت ہیں۔ انہیں دیوار سے لگانے اور قید میں رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، کیونکہ سچائی اور عوام کی طاقت کو کبھی مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔
🔥 ہماری جدوجہد کے بنیادی مطالبات اور مزاحمت کے مقاصد:
فوری اور باعزت رہائی: تمام سیاسی اور بے بنیاد مقدمات کو ختم کر کے بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
طبی حقوق اور ذاتی معالجین تک رسائی: بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین (Personal Doctors) کو ان سے ملنے اور مکمل معائنے کی اجازت دینی چاہیے۔
آنکھوں کے علاج کی فوری فراہمی: بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے لاپرواہی برتنا سراسر ناانصافی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے ان کی آنکھ کا فوری اور تسلی بخش علاج کروایا جائے، یہ ان کا بنیادی قانونی اور انسانی حق ہے۔
اصولوں کی بقا کے لیے: مفاہمت کا مطلب اپنے بنیادی بیانیے کا سودا کرنا ہے، اور بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ سکھایا ہے کہ مصلحت کے آگے سر نہیں جھکانا۔
آئین کی بالادستی کے لیے: یہ جدوجہد پاکستان میں قانون کے احترام، ووٹ کی عزت اور آئین کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہے۔
عوامی مینڈیٹ کا دفاع: عوام کے فیصلے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف مستقل، پرامن اور بے خوف آواز اٹھانا ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔
"حقیقی آزادی نہ تو مانگنے سے ملتی ہے اور نہ ہی مصلحتوں کی پلیٹ میں رکھ کر دی جاتی ہے۔ یہ چھیننی پڑتی ہے، اور اس کا واحد راستہ آئینی حدوں میں رہتے ہوئے پرامن اور بے خوف مزاحمت ہے۔"
📢 ہمارا عہد:
جب تک بانی پی ٹی آئی کو باعزت رہا نہیں کیا جاتا، ان کے علاج معالجے کے بنیادی انسانی حقوق بحال نہیں ہوتے، اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ہمارا آئینی اور سیاسی احتجاج جاری رہے گا۔ ہم قانون کی بالادستی کی اس جنگ میں نہ جھکنے والے ہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹنے والے ہیں!
Remembering Madr-e Millat Fatima Jinnah: A woman of strength & iron Will, she was a source of strength for her brother Quaid e Azam, till he breathed his last. She valiantly fought for Jinnah's vision of Pak even when she was old & at a time when dictatorship had taken over.
علی محمد خان جیسے لوگوں کو "پیرا سائیٹس" کہا جاتا ہے۔ یہ ژندہ رہنے کے لیے دوسرے جانداروں پر انحصار کرتے ہیں، ان کا خون چوستے ہیں اور زندہ رہتے ہیں۔
سیاسی پہچان کے لیے عمران خان پر انحصار کیا، عمران خان کی بدولت یہ جونک اسمبلی اور سینیٹ پہنچا۔ عمران خان کا جب مشکل وقت شروع ہوا تو اس طفیلیے نے بھی زندہ رہنے کے لیے پارٹی بدل لی۔
سیاست کی یہ جونک آج عمران خان کے حق میں بولتے کبھی نظر نہیں آئے گی لیکن ہر وہ اقدام جس سے عمران خان کی رہائی کی امید ہو، یہ اس کی مخالفت میں پہلی صف میں ہو گا۔
مورل آف دا سٹوری: پیرا سائیٹس یعنی خون چوسنے والی جونکوں کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ ان کو صرف اور صرف اپنے سروائیول کی پرواہ ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان کی پارٹی میں ایسے پیرا سائیٹس کی بہتات ہے جنہیں وقت نے بے نقاب کیا ہے