Pakistan’s establishment has become deeply entrenched in politics, causing immense damage to the rule of law and the justice system. Laws and constitutional principles are being manipulated to silence political opponents rather than challenge them through democratic means.
Many political leaders remain behind bars for holding views that do not align with the establishment. This pattern of intimidation, political persecution, and misuse of the legal system has caused Pakistan to suffer greatly.
We demand the immediate release of Imran Khan, his wife, and all detained PTI leaders. The cases against them are politically motivated, the convictions lack credibility, and the entire process has become a sham.
Release them all immediately.
#whereisImrankhan
@hrw@amnesty@HRCP87@EUCouncilPress@IHRF_English
Where is Imran Khan?
The silence is deafening!
For months, concerns have continued to grow regarding his prolonged isolation, limited access to family, and reports surrounding his health and well-being. This is causing increased anxiety and stress for the family friends and to millions of Pakistani who look up to him.
The people of Pakistan deserve clear answers. His family should be allowed regular access, and any concerns regarding his health should be addressed openly and independently.
@hrw@amnesty
#whereisImrankhan
Chairman Imran Khan stands vindicated yet again as the Supreme Court has put a halt to NRO 2 by declaring NAB Amendments illegal, and reopening the corruption cases against the cabal of crooks
#PTISMT
#OnThisDay
Speech of Former Prime Minister Imran Khan at #UNGA on September 27, 2019. He made a compelling case for Kashmir and all the Muslim Ummah.
#PTISMT
🧵Part 1/n
“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا۔
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔”
- عمران خان
#FreeImranKhan
#FreePoliticalPrisoners
Where is Imran Khan?
This is a question the current authorities should answer with transparency and clarity. Concerns continue to grow over his prolonged solitary confinement, with limited information available about his whereabouts, health, and well-being. The lack of transparency has fueled uncertainty and anxiety among his family, supporters, and many observers. Accountability and openness are essential to address these concerns and uphold public trust.
@Kasim_Khan_1999@EUPakistan@POTUS@CanadaFP@MichaelKramSK@StateDept@RichardGrenell@UNHumanRights@FCDOHumanRights@GAC_Corporate
#WhereIsImranKhan
جون ہی وہ واحد موقع ہے جس میں پاکستان تحریکِ انصاف اتنا مؤثر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ عمران خان کی تنہائی ختم ہو، اور انہیں ان کے اہلِ خانہ اور ذاتی ڈاکٹروں کی موجودگی میں مناسب علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جا سکے۔
علیمہ خان
#WhereIsImranKhan
“میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن فرعونیت اور یزیدیت کے سامنے نہیں جھکوں گا!!
قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے-
جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا-
پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔ مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔
نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔
پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اس سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آیا ہے یا 45 سے۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں- مجھے جیل کے جس سیل میں 22 ماہ سے قید کیا ہوا ہے وہ ایک “چکی” ہے۔ اسی ملک میں چوروں کو وی وی آئی پی سیل میں رکھا گیا جو کسی “سویٹ”سے کم نہیں تھے۔
یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور ایک کرنل کے کہنے پر تمام عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں- میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ میری کتابوں سے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ڈھائی ماہ سے مجھ تک کوئی کتاب نہیں پہنچنے دی گئی، صرف وہی کتابیں دی جاتی ہیں جو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں- میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں لیکن میری جماعت کے لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ ان کے پاس عدالتی احکامات موجود ہوتے ہیں-
صرف مجھے اذیت دینے کے لیے میری اہلیہ کو سزائیں سنائی گئیں اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے میں میری اہل خانہ یا وکلاء سے صرف 30 منٹ کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ میری اہلیہ پر صرف سہولت کاری کا جھوٹا الزام تھا جو ثابت بھی نہیں ہو سکا۔
کل ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں تمام اپوزیشن اراکین لازمی شرکت کریں۔چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہا-
سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے-
بھارت کے جواب میں ہماری فورسز خصوصاً پاک فضائیہ نے زبردست جواب دیا ہے اور پوری قوم نے بھی ساتھ دیا۔ میں جیل میں مقید ہوں مگر یہاں بھی لوگوں نے پاکستان کے جواب پر خوشی منائی۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی دوران ٹرائل کارکنان، وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو اور سوالات کے جوابات
“انسانی معاشرے دو چیزوں پر چلتے ہیں انصاف اور اخلاقی قوت پر۔ جانوروں کا معاشرہ طاقت کی حکمرانی پر چلتا ہے۔ جس میں طاقتور قانون سے بالاتر ہوتا ہے جبکہ انسانوں کے معاشرے میں جب طاقت کے زور پر حکمرانی کی جاتی ہے تو وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔
اس حوالے سے میں تواتر سے مولانا رومی کے قول کا حوالہ دیتا ہوں: “جب اللہ نے تمہیں پر دیے ہیں تو چیونٹیوں کی طرح زمین پر رینگ کیوں رہے ہو”-
آج پاکستان میں جنگل کا قانون ہے جس نے انصاف اور جمہوریت کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ اس ملک کے آزاد ججز کو پیچھے کر دیا گیا ہے اور سرکاری ججز کو آگے کر دیا گیا ہے۔ آج پاکستان میں کمزور کے پاس کہیں بھی جانے کا راستہ نہیں ہے۔
ایٹم بم سے قومیں تباہ نہیں ہوتیں بلکہ اخلاقیات کی گراوٹ قوموں کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ یہ انتہائی بےشرمی سے اخلاقیات اور جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں۔
مجھے زیر کرنے کیلئے جو ناروا سلوک میری اہلیہ کے ساتھ روا رکھا گیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں گراوٹ کی اپنی مثال ہے۔ انتقام کے طور پر شیخ مجیب، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کی بیگمات کو بھی کبھی جیل کی کال کوٹھڑی میں نہیں دھکیلا گیا جیسے مجھ سے انتقام لینے کیلئے میری اہلیہ کیساتھ کیا گیا۔ بشریٰ بی بی کو 14 ماہ سے قید تنہائی میں انتہائی برے حالات میں رکھنے کے پیچھے صرف مجھے سزا دینا مقصود ہے۔ القادر جیسے بے بنیاد کیس میں سزا سنا کے بشریٰ بی بی کو ناحق جیل میں رکھا ہوا ہے جس میں ان پر اعانت کا الزام لگایا گیا ہے جبکہ القادر کیس ٹرائل میں پراسیکیوٹرز نے اعانت کا کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا-
جنگل کے بادشاہ نے عہدے سے برطرفی کے بعد زلفی بخاری کے ذریعے بشریٰ بی بی کو پیغام پہنچایا کہ “آپا میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں”۔ مگر بشریٰ بی بی نے صاف انکار کر دیا کہ میرا سیاسی اور حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں لہذا میں ملاقات نہیں کرونگی۔ جس کا عاصم منیر یہاں اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کے ذریعے انتقام لے رہا ہے۔ غیر قانونی طور پر تعینات اس کرنل کے نزدیک عدالتی احکامات کی قطعاً کوئی حیثیت نہیں۔ عاصم منیر اب ذاتیات پر اتر آیا ہے، اسی کی ایماء پر میری اور بشریٰ بی بی کی چار ہفتوں سے شیڈول ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی اور قیدیوں کو میسر دیگر بنیادی انسانی حقوق بھی مکمل معطل ہیں۔
تحریک انصاف واحد وفاقی سیاسی جماعت ہے۔ ہم ملک کو جوڑنے والے ہیں، ہم بحیثیت ملک کی سب سے بڑی وفاقی سیاسی قوت کے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، آزادی اظہار رائے، اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے سب کو ساتھ لے کر چلیں گے-
اس ملک کو غداری کے الزامات سے بہت نقصان اٹھانا پڑا- ماضی میں شیخ مجیب اور اکبر بگٹی کو غدار قرار دے کر ملک کا بہت نقصان کیا گیا۔ ماہ رنگ بلوچ اور ہم سب سیاسی لوگ ہیں، غداری کے لیبل لگانے سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
پیکا قانون کے ذریعے زبردستی اور اشتہارات کی ذریعے رشوت دے کر میڈیا کا منہ بند کر دیا گیا ہے۔ ناجائز 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اب 27ویں آئینی ترمیم اسی مقصد کیلیے لائی جارہی ہے کہ “بادشاہ سلامت” کے سامنے کوئی آواز اٹھانے کی جرآت نہ کرے۔ جو بھی بادشاہ کے سامنے جھکے گا اسکے سارے کیسز معاف کر دیے جائیں گے اور جو بھی بادشاہ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا اسکا مقدر جیل کی کال کوٹھڑی ہوگی۔ پاکستان میں جو بھی آزاد صحافی تھا بزور جبر یا تو اسے ملک بدری پر مجبور کر دیا گیا، چپ کرا دیا گیا یا اسے اٹھا لیا گیا۔ آزاد صحافیوں کیلئے جیسے زمین تنگ کر دی گئی انکی فیملیز کو جیسے ہراساں کیا گیا ملکی تاریخ میں اسکی نظیر ملنا بھی مشکل ہے۔
بے ضمیر، بے شرم چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجہ نے بادشاہ سلامت کی بادشاہی کے قیام کیلئے بھرپور سہولت کاری کی۔
مفرور سزایافتہ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کے جعلی اکاؤنٹس سمیت کرپشن کے تمام کیسز معاف کر دئیے گئے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی اور میرے دیگر پارٹی لیڈرز کا ایک ہی جرم ہے کہ وہ تحریکِ انصاف کا ساتھ نہیں چھوڑ رہے۔ اگر آج وہ پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرلیں یا مطلوبہ بیان دے دیں تو آج ہی انہیں ناجائز قید سے رہا کر دیا جائے گا۔
آج تک قوم کسی ناانصافی کو نہیں بھولی۔ جسٹس منیر کا ناجائز فیصلہ بھی قوم کی یادداشت میں تازہ ہے اور یہ قوم کبھی بھی قاضی فائز عیسیٰ کے انصاف کے منصب پر بدترین کردار کو فراموش نہیں کرے گی۔ قوم سب ججز کو دیکھ رہی ہے کہ کون تاریخ کی درست سمت میں آئین و قانون کے ساتھ کھڑا ہے اور کون جسٹس منیر اور قاضی فائز عیسیٰ کی طرح بادشاہ سلامت کے حکم کی بجا آوری میں قوم کے حقوق غصب کرنے کے درپے ہے۔
1/2
I have never asked our workers to indulge in violence in my 27 years of politics. Therefore, the events of 9th may first took me by surprise and then it did not take long for me to discover that the whole charade from my violent arrest to the arson to the nazi era type crackdown, was pre planned
The video of this journalist confirms it all
This is why from day one I have called for an independent investigation of the incident
Speak up for Imran Khan🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨🚨
Many who regularly champion human rights, democracy, and freedom of speech remain silent when it comes to Imran Khan. Why? Standing for truth is never easy, it comes with a cost. It requires courage, conviction, and the willingness to face consequences. Few have demonstrated that courage more consistently than Imran Khan.
Silence in the face of injustice only emboldens those who seek to suppress fundamental rights. We call upon world leaders, human rights organizations, and advocates of democracy to raise their voices and demand transparency, justice, and respect for basic human rights.
Keep asking the question: Where is Imran Khan, and why is he being denied the rights afforded to every citizen?
#whereisImrankhan
#PAKWatch🇵🇰: Aleema Khan on the ILLEGAL TREATMENT of her brother, IMRAN KHAN:
"We are now absolutely certain that they [the Pak. gov't] are hiding something. Our demand is that Imran Khan's treatment be conducted... at Shifa International Hospital."
FREE CAPTAIN PAKISTAN.
Last contact of Imran Khan with the outside world
March 21 2026 Eid ul-Fitr phone call, approximately 25 minutes with both sons
No one knows anything about him since that day