11 known abductions of social media & pti media cell activists - request to judiciary to not let Pakistan be a lawless land & take #SuoMotoAgainstAbductions
All SC judges are blessed to make a difference; this is the time to step up for human rights! #PakistanUnderFascism
کہتے ہیں کچے کے ڈاکوؤں کے پاس جدید ترین امریکی اسلحہ ہے مگر یہ کراچی کے اسٹریٹ کرملنز کے پاس آخر کون سے ہتھیار ہیں کہ سندھ حکومت ، رینجرز اور پولیس سب مل کر بھی اس نیٹ ورک کو توڑ نہیں پا رہے ۔ گلی محلوں میں دندناتے یہ دہشتگرد جب جسے چاہتے ہیں موبائل فون کے بدلے موت کی نیند سلادیتے ہیں۔ آخرکراچی کے سوا دنیاکے کس شہرمیں شہریوں کو ایسی سفاکیت کا سامناہے۔ کیاسندھ حکومت اوروفاق میں بیٹھاحکمراں اتحاد جواب دے گا؟
سرسید احمد خان اور اعظمی بخاری :
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ سرسید احمد خان جیسے خوش گفتار اور علمی شخص کا عظمی بخاری صاحبہ سے کیا تعلق ہوسکتا ہے ؟ چلیں میں سمجھاتا ہوں -
بارہویں جماعت میں اردو کی کتاب میں ہم نے سرسید احمد خان کا ایک مضمون پڑھا تھا جس کا نام تھا " بحث و تکرار " - اس میں انہوں نے بتایا تھا کہ کبھی کبھی انسان مکالمہ کرتے ہویے جب دلیل سے خالی ہوتا ہے تو بدتہذیبی کے اس درجے تک گرجاتا ہے کہ اس کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ وہ اب انسان نہیں رہا' اور اس وقت اس کے چہرے اور حلیے کی جو حالت ہو رہی ہوتی وہ سرسید نے ان الفاظ میں بیان کی تھی :
" تیوری چڑھ جاتی ہے۔
رخ بدل جاتا ہے۔
آنکھیں ڈراؤنی ہو جاتی ہیں۔
باچھیں چر جاتی ہیں۔
دانت نکل پڑتے ہیں۔
تھوک اڑنے لگتا ہے۔
باچھوں تک کف بھر آتے ہیں۔
سانس جلدی چلتا ہے۔
رگیں تن جاتی ہیں۔
آنکھ، ناک، بھوں، ہاتھ عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگتے ہیں
اور عنیف عنیف آوازیں نکلنے لگتی ہیں۔"
آج منصور علی @_Mansoor_Ali کے پروگرام میں ثمینہ پاشا @pasha_samina کے ایک سادہ سے سوال پر عظمیٰ بخاری صاحبہ کا ایسا لب و لہجہ دیکھ کر مجھے سرسید احمد خان یاد آگیے- مجھے نہیں پتا تھا کہ سرسید احمد خان انیسوی صدی میں کس عظمی بخاری @AzmaBokhariPMLN سے مل آیے تھے جو ایسا صحیح نقشہ کھینچا -شاید وہ کہنا یہی چاہتے تھے کہ اعظمی صاحبہ ! خوش گفتاری اپنائیں کیوں کہ یہی سب سے عمدہ دلیل اور طریقہ دلیل ہے ورنہ انسان اور حیوان میں فرق بس "زبان" کا ہی ہے جو ختم ہوجاتا ہے -
------------------------------------------------------------
@ImranRiazKhan@ImranARaja1@MoeedNj@Ahmad_Noorani@noshigilani@agentjay2009@FarooquiJameel @drfaranahmad @RealWaqarMaliks@fawadchaudhry@FaisalJavedKhan@falakjavaidkhan
۔
ایک منٹ لگتا ہے
کسی کو پسند کرنے میں
ایک دن لگتا ہے
کسی سے پیار کرنے میں
اور پھر
اسی پیار کو بھلانے کےلئے
انسان کی پوری زندگی نکل جاتی ہے
۔
Bcoz ,
Memories Can't Die .. 💔
@7n_Star_@NMK155@Aqrs_10_
ضمنی انتخابات؛ 13شہروں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند رہے گی
ضمنی الیکشن کے دوران لاہور، شیخوپورہ، قصور، ڈی جی خان، تلہ گنگ، گجرات میں سروس بند رہے گی
علی پور، ظفر وال، بھکر، چکوال، صادق آباد، علی پور چٹھہ اور کوٹ چٹھہ میں بھی موبائل فون سروس بند رہے گی
#Release_My_Khan
یہ دونوں 9 مئی کے مرکزی کردار ہیں، انہوں نے 9 مئ کو کور کمانڈر سمیت بہت سے مقامات پر آگ لگائی تھی۔ ہم ریاست سے سوال پوچھتے ہیں ان دونوں کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا۔
یہ غزہ کے رہنے والے احمد حماد اور اُن کے چاروں بچے ہیں۔
اسرائیل نے ان سب کا آج شہید کردیا۔ یہ ہے اسرائیل کو اصل چہرہ۔
شئیر کریں تاکہ تمام دُنیا صیہونیت کا اصلی چہرہ دیکھ سکے۔
یہ ٹینک ہندوستان سے لڑنے کے لئے سڑکو ں پر نہیں تھا بلکہ نو مئی سے اگلے دن صبح پاکستانیوں کو کُچلنے کے لئے نکلا تھا
دس مئی کی صبح تک 18 پاکستانیوں کو شہید کر دیا گیا تھا
چمن دھرنے میں نہتے شہریوں پر فائرنگ کے نتیجے میں شہید شہری کی لاش کے پاس اسکا معصوم بچہ حیران پریشان کھڑا ہے۔ اس بچے کو ہم ایک لاکھ مطالعہ پاکستان کی کتابوں سے بھی واپس قومی دائرے میں نہیں لاسکتے۔
یہ ملتان کا واقعہ ہے۔۔۔
کون ہے یہ اور کہاں ہیں ادارے۔۔؟؟ سب طاقت کے نشے میں جانور بن گئے ہیں۔۔پولیس اس پر فوری ایکشن لے اور زمہ داران کو ہر صورت سزا دلوائے۔۔سب آواز اٹھائیں تاکہ ان درندوں کو سزا مل سکے
ایجنسی کے کہنے پر سیاسی کیس میں مرضی کا فیصلہ نہ دینے پر دہشتگرد بیرون ملک سے دھمکی دے رہے ہیں۔ پشاور ججز
کچھ سمجھ نہیں آئی مجھے۔ ہماری ایجنسی کے مطلب کا فیصلہ جج نہیں دے رہے تو دہشتگردوں کو دھمکی دینے کیا پڑی؟
ایجنسی اور دہشت گرد ایک پیج پر وہ کیسے ؟
مریم چھ ماہ کی تھی، والد فوت ہوئے، دس سال کی تھی، گردے فیل ہوئے، والدہ نے دوسری شادی کر لی، نئے ابو نے بچی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، پھپھو کے پاس رہتی ہے جو خود بیوہ ہے
شناختی کارڈ چاچے نہیں بننے دیتے، صحت کارڈ بند ہو گیا اور پُھپھی بھی ہمت ہار گئی
25 ہزار ایک ماہ کی فیس دی
آپ کے سامنے زندہ کھڑی ہوں اندر سے مر چکی ہوں۔۔۔ملٹری کسٹڈی میں موجود ایک بیٹے کی بے بس ماں۔۔۔صرف میرا نہیں سب کے بیٹے واپس آئیں۔۔۔
ظالموں نے نا جانے کتنے گھر ویران کر دیے
#وہ_کون_ہے
رجیم چینج آپریشن کے بعد ایک افغان شہری کو عمران خان کو رستے سے ہٹانے کا ٹاسک دیا گیا۔ پختونخواہ پولیس اور سی ٹی ڈی نے کاروائی کرکے گرفتار کیا۔ موصوف کے پاس سرحد کے دونوں اطراف جو اہم ذمہ داریاں تھیں اور عوام میں جو ان کا پروفائل تھا وہ تو تشویش ناک تھا ہی، ان کی گرفتاری کا مقام اور ان کو چھڑوانے کے لیے جس سطح پر کوششیں کی گئیں وہ تفصیلات اور بھی ہولناک تھیں۔
عمران خان پورے پاکستان میں جلسے کر رہے تھے، اسی سلسلے کا ایک جلسہ صوابی میں بھی تھا، اطلاع موصول ہوئی کہ عمران خان کے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ بروقت اطلاع ملنے پر پلان ناکام ہوا۔ جس شخص کو یہ ٹاسک سونپا گیا تھا، موصوف ڈبل ایجنٹ تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ کچھ ہی عرصہ بعد ایک پڑوسی ملک میں ایک ایسے حملے میں ان کی ہلاکت ہوگئی جس کی ذمہ داری دونوں جانب سے قبول کی گئی۔
پھر وہ دن بھی سب کو یاد ہی ہوگا کہ جب خان صاحب کے ہیلی کاپٹر کی کریش لینڈنگ ہوئی تھی۔ معلوم ہوا ہیلی کاپٹر میں غلط فیول ڈلوایا گیا تھا۔ بتایا گیا تحقیقات میں کچھ نہیں نکلنا کیونکہ فیول ڈلوانا جن کی ذمہ داری ہے رپورٹ بھی انہی نے مرتب کرنی تھی۔
پنجاب میں ایک جلسے سے واپسی پر اس بات پر اصرار کیا گیا کہ خان صاحب ایک مخصوص گاڑی میں سفر کریں۔ اور سفر کے آغاز کے کچھ ہی دیر بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ دلچسپ بات کہ اس واقعہ کی تحقیقات میں بھی کچھ خاص نہیں نکلا۔
وزیر آباد حملے کے محرکات اور اس سے پہلے کے واقعات تو سب کے سامنے ہی ہیں، کیسے توہین مذہب کا بیانیہ بنایا گیا، جسے ٹاؤٹ صحافیوں کے علاوہ نیشنل ٹی وی پر بھی چلایا گیا اور پھر ایک “مذہبی جنونی” نے عمران خان پر قاتلانہ حملہ کردیا۔ پھر کیسے ملزم کے بیانات پولیس ریکارڈ کرکے میڈیا سے چلواتی رہی، کہاں سے اس کا مقدمہ لڑا جارہا ہے اور کیسے اپنی حکومت ہوتے ہوئے بھی عمران خان کی ایف آئ آر تک نہ درج ہوسکی۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد بنی گالہ کے باہر لگے کارکنان کے کیمپ زمان پارک منتقل ہوگئے۔ بنی گالہ میں بھی متعدد بار مشکوک لوگوں کی جانب سے کیمپس میں تعلقات بنانے اور انٹر ہونے کی کوششیں ہوتی رہی تھیں۔ زمان پارک سے چار دفعہ مشکوک افراد پکڑے گئے، جنوبی پنجاب کے کیمپ سے ایک بندہ پکڑا گیا کارکن اس کو سائیڈ پر لے جا کر پوچھ تاچھ کر ہی رہے تھے کہ پولیس اس کو آکر لے گئی، بعد میں کوئی جواب نہیں کہ کون تھا، کہاں سے آیا تھا، کس نے بھیجا تھا۔ جب خطرہ ہی تحفظ دینے والوں سے ہو تو بندہ شکایت کہاں لے کر جائے؟
زمان پارک کی رہائش گاہ پر خودکش حملے کی اطلاعات تھیں۔ ہم نے بلٹ پروف گیٹ اور چاردیواری کے ساتھ ریت کی بوریاں رکھوانے کا انتظام کیا تو مزدوروں کو کام کرنے سے منع کردیا گیا۔ ریاست مذاق اور بیانیے بناتی رہی کارکن اپنے لیڈر کی حفاظت کے لیے خود بوریاں لگاتے رہے۔
۱۴ مارچ کو پولیس زمان پارک پہنچی، ۱۸ مارچ کو عمران خان نے عدالت پیش ہونا ہی تھا، اس سے پہلے بھی پیش ہوتے رہے تھے۔ پھر بھی ایسا آپریشن شروع ہوا جیسے کسی دہشت گرد کو گرفتار کرنے آئے تھے۔ عوام نے تو واٹر کینن اور شیلز دیکھے، چھتیس خول گولیوں کے میں نے خان صاحب کے گھر کے باہر سے اٹھا کر دیے۔ آئی جی پلاسٹک کی بوتلوں کے پٹرول بم پر پریس کانفرنس کرتے رہے ان کی فورس سابقہ وزیر اعظم کے گھر پر فائرنگ کرتی رہی۔
ایک طرف یہ رویہ تھا ریاست کا دوسری جانب بیانیہ بنایا جارہا تھا کہ زمان پارک میں دہشتگرد موجود ہیں۔ ہمیں خدشہ ہوا کہ یہ کسی فالس فلیگ آپریشن کا ارادہ رکھتے ہیں سو کیمپس میں سیکیوریٹی بڑھا دی گئی۔ اسی دوران کارکنان نے کیمپ سے ایک ادارے کا اہلکار پکڑا، انہی اہلکاروں کے ذریعے کیمپوں میں اسلحہ رکھوانے کا پلان تھا، اس اہلکار کو پرویز خٹک صاحب کارکنان سے چھڑا کر لے گئے۔۔ ۱۸ مارچ کا ڈیتھ ٹریپ بھی لمحہ بہ لمحہ کیمروں میں محفوظ ہے۔
مارچ کے آخری ہفتے میں عمران خان کو قتل کرنے کے ایک اور منصوبے کی اطلاع ملی۔ مبینہ طور پر یہ والا منصوبہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔ دی رپورٹرز پروگرام میں اس منصوبے کا تذکرہ ہوا اور سو منصوبہ لیک ہونے کے سبب کٹائی میں پڑ گیا۔ لاہور کے چند افسران کی جانب سے قیادت کو متنبع کیا گیا کہ اس معاملے پر زیادہ بات نہ کریں۔ چونکہ یہ منصوبہ سیاسی پارٹی کا تھا، اداروں نے تصدیق کی کہ اطلاع مصدقہ تھی لیکن تحقیقات کی پیشرفت سے آگاہ نہیں کیا۔
عمران خان کی عدالتی پیشیوں اور ریلیوں کے دوران جیسا رویہ ریاستی اداروں کی جانب سے رکھا گیا، جیسے ان کی سیکیوریٹی واپس لی گئی اور ہماری ذاتی سیکیوریٹی کے نظام کو بھی بار بار مفلوج کیا گیا۔ جیسے ہمارے سیکیوریٹی پر معمور لوگوں کو بار بار اٹھایا جاتا رہا۔ یہ سب واقعات ایک ہی کہانی سناتے ہیں۔ اگست ۲۰۲۳ سے عمران خان ریاستی تحویل میں ہیں اور اب جب کہ بشری بی بی کے ٹیسٹس میں اتنی تاخیر کے باوجود یہ واضح ہے کہ ان کے کھانے میں کوئی ایسی شے ملائی گئی ہے جس سے ان کی صحت پر برا اثر پڑا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ اثرات آنے والے دنوں میں ان کی زندگی کے لیے مضر ثابت ہوں، عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں رہ جانی چاہئے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسے روازنہ کچھ ٹاؤٹس کے ذریعے لپیٹ لپاٹ کر دھمکیاں دی جاتی ہیں تو کیسے ہی انہی اور انہی جیسے دیگر ٹاؤٹس کی جانب سے ان کے اور بشری بی بی کی زندگی کو لاحق خطرات کے حوالے سے بھی بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ مقصد ایک ہے عوام کو کنفیوژن میں رکھ کر اپنا مقصد پورا کرنا۔(میں اپنے دوستوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں ان کے بیانیوں اور ان کی تشریحات میں الجھنے اور اپنے آج کی فکر میں رہنے کے بجائے براڈر پکچر پر نظر رکھیں۔ عوام کا مفاد، وطن کے ساتھ وفاداری اگر کسی کی سیاست کی ترجیح نہیں بھی ہے تو یاد رکھیں ان فیملی انٹرپرائزز میں آپ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہم اور آپ آج جو ہیں اور کل اگر کسی مقام تک پہنچ سکتے ہیں تو اس کا دارومدار صرف عمران خان کے نظریے پر ہے۔ خان صاحب کے ناحق قید، ان کی زندگی کو لاحق خطرات کا ذکر کریں۔ ان کے تحفظ کا سوال اٹھائیں۔ عمران خان اور بشری بی بی ریاستی تحویل میں ہیں، بنی گالہ سے لے کر اڈیالہ تک کا کنٹرول آئی ایس آئی کے پاس ہے۔ میں صاف اور واضح الفاظ میں ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں جنگل کا بادشاہ عمران خان کو ختم کرنے کا اعادہ کرچکا ہے۔ عوامی ریکشن کے پیش نظر یہ منصوبہ سلو پوائزننگ کے ذریعے بھی عمل میں لایا جاسکتا ہے، جس سے ان کی طبیعت بتدریج بگڑنا شروع ہوگی۔ تاثر یہ دیا جائیگا کہ عمران خان ڈپریشن کا شکار تھے اور اس سبب (خدانخواستہ) حرکتِ قلب بند ہونے سے ہلاک ہوئے یا خودکشی کرنے پر مجبور ہوئے۔ بہرطور اس منصوبے پر عملدرآمد متعدد مرتبہ کرنے کی کوشش کی جاچکی ہے اور کسی کو اس معاملے میں کوئی گمان نہیں رہنا چاہئے یہ کوشش جاری رہے گی۔ وللہ خیر الماکرین۔
حسان نیازی اور میاں عباد فاروق کو سامنے لایا جائے۔۔
وہ دونوں بھوک ہڑتال تھے،ہمیں خدشہ ہے کہ انہیں قتل نا کر دیا گیا ہو۔۔
میاں شہزاد فاروق۔۔
آپ بھی آواز اٹھائیں