#AzadKashmirBhuttoKa
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی صوبائی وزراء مخدوم محبوب الزمان، محمد علی ملکانی اور سردار محمد بخش خان مہر کے ہمراہ پریس کانفرنس۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسکردو سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوگئے
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ گلگت بلتستان کے پہلے گورنر قمر زمان کائرہ اور نومنتخب وزیراعلی امجد ایڈووکیٹ بھی موجود
@BBhuttoZardari
گلگت: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پی پی پی گلگت بلتستان کا وزیراعلی ہاؤس میں اہم اجلاس
گلگت: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ گلگت بلتستان کے پہلے گورنر قمر زمان کائرہ اور وزیراعلی امجد حسین ایڈووکیٹ موجود
گلگت: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی عہدیداران نے انتخابات سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی
گلگت: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی عہدیداران نے انتظامی امور میں بہتری کے لئے تجاویز دیں
گلگت: آپ بند کمروں میں نہیں بیٹھیں گے، آپ عوام کے ساتھ کھڑے ہوکر اپنی حکومت چلائیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی پارٹی رہنماؤں کو ہدایت
گلگت: گلگت بلتستان کی ترقی کے لئے 100 دن کا پلان بنایا جائے اور پھر مجھے پرفارمنس رپورٹ دی جائے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری
گلگت: حق ملکیت کی قانون سازی پر عملدرآمد کروائیں اور حق حاکمیت کے حوالے سے اسمبلی کے پہلے اجلاس میں قرارداد پیش کریں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت
گلگت: گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے گراؤنڈ ورک فی الفور مکمل کریں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت
@BBhuttoZardari
President @AAliZardari, during an official visit to the Kyrgyz Republic, paid tribute today to the nation's historical legacy and held a key meeting with Speaker of the Kyrgyz Parliament aimed at converting deep-rooted political goodwill into tangible economic and parliamentary cooperation.
Read More: https://t.co/ZPzLhLZBUD
پاکستان پیپلز پارٹی شعبۂ خواتین کی صدر محترمہ فریال تالپور نے آج بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر حکومتِ سندھ کی ترجمان محترمہ سعدیہ جاوید بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد اور سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے ان کا خیرمقدم کیا۔ سیکرٹری عامر علی احمد نے محترمہ فریال تالپور کو بی آئی ایس پی کی مجموعی پیش رفت، اہم اصلاحات، نئے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام اور پاکستان بھر میں سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں پروگرام کے کردار پر تفصیلی بریفنگ دی۔
انہیں بتایا گیا کہ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے بی آئی ایس پی کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ بینظیر کفالت پروگرام کے تحت ایک کروڑ تین لاکھ مستحق خاندانوں کو ہر سہ ماہی 14,500 روپے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 24 لاکھ بچوں کی تعلیم میں معاونت کی جا رہی ہے، جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت تقریباً 20 لاکھ خواتین اور بچوں کو غذائی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
انہیں مزید آگاہ کیا گیا کہ مستحقین کے لیے ادائیگیوں کے نظام میں شفافیت، سہولت اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے 97 لاکھ ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹس کھولے جا چکے ہیں، اور موجودہ قسط کی ادائیگیاں انہی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔
محترمہ فریال تالپور کو بینظیر ہنرمند پروگرام کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، جس کے تحت بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے خاندانوں اور ان کے اہلِ خانہ کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مفت فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
سیکرٹری بی آئی ایس پی نے ورلڈ بینک کی حالیہ تحقیق کے نتائج بھی پیش کیے، جن کے مطابق بی آئی ایس پی ایک کروڑ دو لاکھ سے زائد خاندانوں کی معاونت کر رہا ہے، جو ملک کے تقریباً 24 فیصد گھرانوں پر مشتمل ہیں۔ تحقیق کے مطابق بی آئی ایس پی کے ذریعے دیئے جانے والے ہر ایک روپے کے بدلے گھریلو آمدنی میں 2.34 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ بی آئی ایس پی کے باعث پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیاں 16 لاکھ 60 ہزار ملازمتوں کو سہارا دیتی ہیں اور قومی خزانے میں سالانہ تقریباً 174 ارب روپے کا معاشی فائدہ پہنچاتی ہیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محترمہ فریال تالپور نے بی آئی ایس پی کی شفافیت، خدمات کی فراہمی، مالی شمولیت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے کی جانے والی اصلاحات کو سراہا۔ انہوں نے غربت میں کمی، خواتین کو بااختیار بنانے اور انسانی وسائل کی ترقی میں بی آئی ایس پی کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شفافیت کو مزید مضبوط بنایا جائے، عوامی آگاہی میں اضافہ کیا جائے اور مستحقین کے لیے خدمات تک رسائی کو مزید آسان، مؤثر اور سہل بنایا جائے۔
قوی اسمبلی میں بے نظیر بھٹو نے وزیر اعظم کا الیکشن جیتا نواز شریف اٹھ کر مبارک دینے گئے ۔ بے نظیر نواز شریف کو آتا دیکھ کر اٹھ کر کھڑی ہںو گئیں۔ اور بولیں "یہ محض ایک الیکشن تھا جس میں ایک کو جیتنا تھا میں جیت گئی مگر میں آپ کے ساتھ ملکر پاکستان کیلئے کام کرنا چاہتی ہوں" ۔۔
کیا اب عمران خان نے جو کلچر دیا اس میں اس طرح کی اخلاقیات کی امید ہے ؟
قائم مقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی سے مختلف سیاسی، سماجی اور عوامی شخصیات کی ملاقات، ملکی امور، عوامی فلاح اور قومی ترقی سے متعلق اہم امور پر تبادلۂ خیال۔
اسلام آباد، 8 جولائی 2026: قائم مقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی سے آج ایوانِ صدر میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی، سماجی اور عوامی شخصیات نے ملاقات کی۔
ملاقات کرنے والوں میں میاں علمدار قریشی رکن صوبائی اسمبلی، عثمان بھٹی سابق رکن صوبائی اسمبلی، قیصر احمد گجر سابق رکن صوبائی اسمبلی، علی سید چئیرمین نیشنل انشورنس کمپنی، عثمان چوہدری (ملیشیا) چئیرمین گلوبل مسلم بزنس فورم، چوہدری عمر نثار، محمد عمران علی چئیرمین ریوائو پاکستان، سردار احمد رضا ماہر تعلیم ،کرنل (ر) نیئر عباس، ملک منک راں، معظم علی، بیرسٹر مدثر حسین شاہ، حیدر علی، ڈاکٹر عباس نقوی، ڈاکٹر سیدین نقوی اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔
ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال، عوامی فلاح و بہبود، قومی ترقی، عوام کو درپیش مسائل اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر شرکاء نے قائم مقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی کی قومی، سیاسی، سماجی اور عوامی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ملکی ترقی، قومی یکجہتی، جمہوری اقدار کے فروغ اور عوامی بہبود کے لیے ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے ملک کے استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنی مکمل حمایت اور مشترکہ کاوشوں کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
قائم مقام صدر مملکت نے ملاقات کرنے والے وفود اور شخصیات کے مسائل اور تجاویز کو سنا اور متعلقہ امور کے مؤثر اور بروقت حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر قائم مقام صدر نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی، قومی استحکام اور عوام کی خوشحالی کے لیے قومی یکجہتی، مؤثر طرزِ حکمرانی اور تمام طبقات کی مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔
@YRGillani
مزارِ قائد کے انتظامی، ترقیاتی اور سیکیورٹی مسائل کے حل کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس، متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز کنوینر سینیٹر وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مزارِ قائد اور اس کے اطراف کے علاقوں کو درپیش انتظامی، ترقیاتی اور سیکیورٹی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، سینیٹر سید مسرور احسن جبکہ سینیٹر سرمد علی نے آن لائن شرکت کی۔ اجلاس میں کمشنر کراچی سید حسن نقوی، ریزیڈنٹ انجینئر قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ (QMMB)، ایڈیشنل آئی جی کراچی، میونسپل کمشنر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC)، منیجنگ ڈائریکٹر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KW&SC) سمیت متعلقہ اداروں کے افسران بھی شریک ہوئے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ مزارِ قائد کے اطراف کے مسائل سینیٹ کی مرکزی قائمہ کمیٹی میں اٹھائے گئے تھے، جس کے بعد ان کے حل کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے اس معاملے کو ایک خصوصی منصوبے کے طور پر لیا ہے تاکہ مزارِ قائد کی تاریخی اہمیت، وقار اور خوبصورتی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ مزار کے اطراف صفائی ستھرائی کے لیے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ جبکہ خوبصورتی کے منصوبے کی تیاری کے لیے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ مزار کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال تشویشناک ہے، جس کے پیش نظر ایڈیشنل آئی جی کراچی سے درخواست کی گئی ہے کہ اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (SSU) کے کمانڈوز تعینات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مزارِ قائد گزشتہ کئی برسوں سے سیکیورٹی خدشات کے باعث عوام کے لیے بند ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ذیلی کمیٹی 15 روز بعد دوبارہ اجلاس منعقد کرے گی تاکہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ کمیٹی نے قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کو مزار پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے واجبات کے حوالے سے صورت حال واضح نہیں، لہٰذا ادارے سے درخواست کی گئی ہے کہ آئندہ کے لیے مزارِ قائد کو پانی کے بلوں سے استثنیٰ دیا جائے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مزارِ قائد کو جلد عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران ریزیڈنٹ انجینئر قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نشے کے عادی افراد نے مزار کے اطراف پارکوں کی گرِلیں چوری کر لی تھیں، جس پر چار ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔ کمیٹی نے اس حوالے سے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ اور مؤثر کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کی آڈٹ رپورٹس بھی طلب کرتے ہوئے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی سفارش کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ میں 113 منظور شدہ آسامیوں میں سے 53 خالی ہیں جبکہ 59 ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
کمیٹی نے قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کو اپنی ویجی لینس ٹیموں کو فعال بنانے کی بھی سفارش کی تاکہ مزار اور اس کے اطراف کی نگرانی اور تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
@WaqarMehdiPPP1
Delivering on promises! 🇵🇰 Under the leadership of Chairman @BBhuttoZardari, the Sindh Government is driving holistic progress in Karachi—from mega infrastructure and transit to empowering women with pink scooters. This is the real story of Karachi!
#PPP#Karachi
پاکستان میں دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرونز، اسلحہ اور دیگر جدید دفاعی مصنوعات کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ترقی دی جائے گی تاکہ ملکی ضروریات بھی پوری ہوں اور برآمدات میں اضافہ بھی ہو۔
عالمی سطح پر دفاعی مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان اس شعبے میں اپنی برآمدی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے، جس سے معیشت کو استحکام اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا۔
@BBhuttoZardari
#ShahrahEBhuttoByPPP
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قیوم آباد سے ایم نائن موٹروے تک 39 کلومیٹر طویل سگنل فری شاہراہ بھٹو کا افتتاح اور کراچی بندرگاہ سے قیوم آباد کوریڈور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔
@BBhuttoZardari#ShahrahEBhuttoByPPP