@RanaAamirilyas رانا صاحب آپ درست فرما رھے ہیں۔ مندرجہ ذیل سوالات کے جواب درکار ہیں۔
ا۔ پہلے کچھ وقت قیمتیں نہیں بڑہائیں کیوں؟
ب۔ پھر اچانک بہت زیادہ قیمتیں بڑھا کر دی گئی رعائت بھی وصول کر لی۔
باقی ملکوں نے اتنی قیمتیں کیوں نہیں بڑھائی؟
حکومت ایک ھاتھ سے دے کر فورا کیوں چھین لیتی ھے۔
@realrazidada محترم وزیراعظم کو تو کپڑے بیچنے کی ضرورت نہیں پڑی مگر عوام اپنے کپڑے نہ خرید کر پیٹرول ڈلواتے رھے ہیں۔
پہلے قیمتیں نہ بڑھانا اور پھر قیمتیں اکٹھی بڑہانا اور ساری کمیاں پوری کرنا ہی حکومتی چال ھے۔
اگلے جمعہ کے انتظار کے ساتھ اللہ ہی حافظ۔
@KlasraRauf خواجہ آصف صاحب کا بلاول زرداری کو جواب نہ دینا انکی حکمت عملی ہو سکتی ھے کیوںکہ جواب نہ دینا خواجہ صاحب کے مزاج کا حصہ نہیں ھے۔ ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ھے کہ بلاول صاحب کی تقریر سن کر ہنسی ہی نکل جاتی ھے کیوںکہ انکی باڈی لینگوج انکی تقریر سے میچ نہیں کرتی۔
@KhawajaMAsif
@KlasraRauf نواز لیگ والے عام طور پر اچھا بچہ بننے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ لیکن ان کے پاس خاجہ آصف صاحب بھی ہیں جو وقت آنے پر کسی کو بھی معاف نہیں کرتے۔ اب انکی طرف سے جواب تو آنا چاہیے۔
@KhawajaMAsif
@KlasraRauf یم ہر ضرورت کی چیز وں کو اشرافیہ کی ضرورت قرار دیتے ہیں۔ ہائی آکٹین پیٹرول ہو یا سمارٹ فون ان انتیائی ضرورت کی اشیاء کو بھی ہم لگزی آئیٹم سمجھتے ہیں۔ سیل فون اب بنیادی ضرورت بن گیا ھے۔ اس لیے حکومت بڑا دل کرے اور عوام پر یہ ٹیکس ختم کرے یا معمولی ٹیکس لگاے۔
@Eman_Ansar___ حزب اختلاف میں بیٹھنا ایک بہتریں فیصلہ ھے مگر ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ لینا بلکل بھی درست نہیں۔ گورنر تو ویسے بھی مرکز نے لگانا ہوتاھے۔ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ پی پی کے تعاون سے بلکل قبول نہ کریں۔
@chsandhilaa میان نواز شریف صاحب کے وعدے درست مگر مرکزی حکومت کی مصلحت پسندی نے مسلم لیگ کو کارنر کر دیا ھے۔ انکے حمائت سے جیتنے والے ممبران بھی کہیں اور جا بیٹھے۔ اب یہ ترقیاتی کام بھی بلاول کی مرضی سے ہی ہو سکیں گے۔ مرکزی حکومت کی سہولت کے لیے کب تک بلیک میل ہوں گے؟ کچھ خیال کریں جناب۔
@nausheenyusuf ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ لینے کے بعد قائد حزب اختلاف ہونا درست نییں لگتا۔ مسلم لیگ کو ڈپٹی اسپیکر بلکل نہیں بننا چاہیے۔ گونر تو لگانا یی مرکز نے ھے اس میں پیپلزپارٹی کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
مکمل حزب اختلاف نہ کی پیپلزپارٹی کی کی طرح دورنگی۔
@fawadchaudhry آپ کی بات مکمل۔طور پر درست اس پر عمل ہو جاے تو کمانے والے پوت اور سب کو پالنے والے بیانات سے جان تو چھوٹ جاے گی۔
پنجاب کی گندم اور kpk کی بجلی پر بھی اپنی رایے دیں۔ بجلی بناے کے لیے اربوں ڈالرز مرکز نے kpk میں لگاے ہیں جبکہ گندم کی پیداوار پر کسان ہرسال خرچ کرتے ہیں۔
@arifhameed15 ہمارے صحافی اور دانشور بھی خاص قسم کا دماغ رکھتے ہیں۔ انکے خیال میں ہائی اوکٹین کو اشرافیہ کا ضرورت قرار دے رھے ہیں۔ یہ دنیا سے بےزار صحافی یقینن جانتے ہوں گے کہ وہ بہتر کوالٹی کا تیل ھے جس سے گاڑی کا انجن بہتر کام کرتا ھے۔
Be positive Bhatti Sahib
@Asadrchaudhry اگر یہ بات درست ھے اور یقینن آپ درست ہی فرما رھے ہوں گے تو پھر اس حکومت کو اس منہ پھٹ شخص کی حقیقت اور سچائی عوام کے سامنے رکھنی چاھیے۔ اور ووڈا صاحب کو بھی ارشاد بھٹی کی طرح قانون کے سامنے پیش کریں۔
پنجاب کی گندم اور kpk کی بجلی کا ہر پختون مقابلہ کرتا ھے۔ kpk میں بجلی پیدا کی جاتی ہے جس پر مرکز نے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں لیکن پنجاب کی گندم میں حکومت کچھ خرچ نہیں کرتی بلکہ زمیدار خود خرچ کرکے گندم اگاتا ھے۔
ان دونوں کا کیا مقابلہ مزید وضاحت فرماییں۔
@realrazidada
@realrazidada یہ حکومت عوام کی نمائندہ حکومت ھے لیکن شائد کچھ حکمران اسے کمپنی کی حکومت سمجھتے ہیں اس لیے نچوڑ پروگرام کے تحت عوام کا مکمل خون نچوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بجٹ وہ لوگ بناتے ہیں جنہیں اپنے ذاتی اخراجات کا بھی علم نہیں ھے۔
80 فی صد لوگوں کی زندگی بوجھ ھے 20 فی صد کی گلزار۔
میڈم سی ایم
پولیس کو پورے صوبے میں کباڑئیے چیک کرنے کا حکم دیں، جس کی دکان سے گٹر کا پرانا ڈھکن برآمد ہو جائے اس کو پولیس پانجا لگاتی جائے۔ جب گٹر ڈھکن چوروں کو خریدار نہیں ملیں گے تو یہ ڈھکن چوری ہونا بند ہو جائیں گے۔
العارض
@realrazidada@UllahBhu4 جمہوریت بہترین کاروبار ھے . لیکن کاروبار کی کامیابی کے لیے میاں شہباز شریف جیسے شبانہ روز محنتی وزیراعظم ہوں جو عوام کے لیے اپنے کپڑے بھی بیچ دینے کا نعرہ لگاتے ہوں اور وقت آنے پر GB کے ممبران کو قربانی کابکرہ بنا کے پیش کر دیا۔ مسلم لیگ کے پاس کام کرنے کا بہترین وقت تھا