داڑھی والا فراڈیا۔۔
یہ عمران نیازی کا بہنوئی احد خان ہے۔۔ڈاکٹر عظمی نیازی کا شوہر
"ان سائیڈر ٹریڈنگ"کرتے
عثمان بزدار کے زریعے دباو ڈلوا کر 600 کروڑ کی زرعی زمین 13 کروڑ میں خریدی
اور میڈیا میں آ کر آخرت کی باتیں بتاتا۔۔عمران خان بارے
صفائیاں پیش کرتا ہے۔
مکمل کیس👇
عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے شوہر احد مجید خان کے خلاف پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کی جانب سے درج کیا گیا مقدمہ محض زمین کا سودا نہیں بلکہ اختیارات کے ناجائز استعمال، جعل سازی اور اربوں روپے کے مبینہ فراڈ کا ایک انتہائی سنگین کیس ہے۔ FIR کی تفصیلی دستاویزات کے مطابق اس مقدمے کا مرکز ضلع لیہ کی تحصیل چوبارہ میں واقع 5,261 کنال (تقریباً 657 ایکڑ) اراضی ہے، جسے سال 2021-2022 کے دوران صرف 13 کروڑ روپے کے عوض خریدا گیا، جبکہ گریٹر تھل کینال کے میگا پراجیکٹ کی وجہ سے اس رقبے کی اصل مارکیٹ ویلیو 6 ارب روپے سے بھی زیادہ بنتی تھی۔
اس کیس میں ملزمان پر سب سے بڑا اور سنگین الزام 'ان سائیڈر ٹریڈنگ' اور حکومتی معلومات کے پہلے سے حصول کا ہے۔ اینٹی کرپشن حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کو ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی معاونت سے شروع ہونے والے گریٹر تھل کینال منصوبے کی اندرونی تفصیلات کا پہلے سے علم تھا، جس کے تحت اس بنجر زمین کو سیراب کر کے اس کی قیمتوں کو راتوں رات آسمان پر پہنچایا جانا تھا۔ اس خفیہ معلومات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور ضلعی انتظامیہ کے مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کیا گیا۔ تفتیش کے مطابق غریب کسانوں اور مقامی مالکان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ کوڑیوں کے دام اپنی زمینیں بیچیں، یہاں تک کہ مبینہ طور پر 500 کنال سے زائد کا رقبہ زبردستی ہتھیا لیا گیا اور پٹواریوں کے ساتھ مل کر رجسٹریوں اور انتقالِ اراضی میں بڑے پیمانے پر جعل سازی کی گئی۔
جون 2023 میں درج ہونے والی اس FIR کے بعد یہ کیس عدالتوں میں پہنچا۔ انسدادِ کرپشن عدالت نے ڈاکٹر عظمیٰ خان کی عبوری ضمانت تو منظور کی، لیکن احد مجید خان کی ضمانت خارج کر دی گئی تھی۔
ہر کیس میں ایسا ہونا چائیے جو تشدد کرے اُس پر تشدد کروا کر ویڈیو بنوائیں اُس کے خاندان تک گلی محلے سوسائٹی تک پیغام پہنچے گا
راہ چلتے بچیوں کو ہراساں کرنے والے کو اُسی کے محلے کے کھمبے کے ساتھ 48 گھنٹے تک باندھ دیں اس کے بعد نیفے والا کام ہونا چائیے
تاحیات عبرت والی سزا ہے
🚨🚨
’آگے موت ہے، اپنی مرضی سے جو آنا چاہتا ہے آ جائے۔ واپسی نہیں، وعدہ کرو کہ آخری دم تک لڑیں گے۔ کوئی ساتھیوں کو چھوڑ کر واپس نہیں آئے گا۔‘
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ڈی ایس پی عمران الدین اپنے پولیس اہلکاروں سے یہ الفاظ کہتے سنائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں کو آپریشن کے خطرات سے آگاہ کرتے ہیں، ان سے آخری دم تک ساتھ رہنے کا وعدہ لیتے ہیں اور پھر اپنی ٹیم کے ہمراہ روانہ ہو جاتے ہیں۔
ان کے بھتیجے محمد عمیر نے بتایا کہ خاندان اس وقت شدید غم میں ہے اور وہ عمران الدین کے بچوں کو گھر سے باہر لے آئے ہیں کیونکہ گھر میں موجود افراد مسلسل رو رہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ عمران الدین کا کم عمر بیٹا گردوں کے عارضے میں مبتلا ہے اور ان دنوں اس کے ڈائلیسز جاری ہیں۔ بیٹے کی عمر 13 سے 14 سال تک بتائی گئی ہے۔
عمران الدین کے بڑے بھائی عرفان الدین نے مقامی صحافیوں سے بات چیت کی ہے اور کہا ہے کہ عمران الدین اپنے چھوٹے بیٹے کی بیماری کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ آنکھوں میں آنسو لیے اور غم سے بھری ہوئی آواز میں انھوں نے بتایا کہ عمران الدین اکثر مجھ سے کہتا تھا کہ ’گل لالا اللہ میرے بیٹے کو صحت دے دے، یہی فکر کھائے جا رہی ہے۔‘
https://t.co/1Rm33vMstx
مراد سعید عرف وارشیل کے بھائی سے جو گھر خالی کروایا گیا ہے وہ زیاتی نہیں بلکے زیاتی کا ازالہ ہے جب مراد سعید طاقت کے نشے میں تھا تو اس وقت 2020 میں اس نے اپنے بھائی کو 11 گریڈ میں بھرتی کروایا اور چند ماہ کے اندر اندر 17 گریڈ میں ترقی دے کر اسسینٹ کمشنر کا سرکار گھر دے دیا
گوادر میں بی ایل ایف نے ایف ڈبلیو او کے ایک ایسے کیمپ پر خود کش حملہ کیا جو عرصہ ہوا خالی کیا جا چکا تھا اور وہاں صرف سکریپ پڑا تھا۔ جب یہ اطلاع ذرائع سے موصول ہوئی تو میں نے سوچا کیوں نہ پہلے تھوڑی تحقیق کر لیں پھر یقین کریں۔ سو گوگل ارتھ سے اس جگہ کی تصاویر کی تاریخ نکالی۔ بائیں طرف 2023 کی تصویر ہے جس میں واضح ہے کہ اس کیمپ میں جگہ جگہ گاڑیاں کھڑی ہیں اور واضح رونق نظر آ رہی ہے۔ دائیں طرف والی تصویر 2025 کی ہے جس میں واضح ہے کہ یہ کیمپ خالی پڑا ہوا تھا اور جگہ جگہ سکریپ پڑا ملے گا۔ بی ایل ایف سے بلوچوں کو سوال تو پوچھنا چاہییے کہ دس بلوچ لڑکے مروا کر ایک پنجابی ڈرائیور گبد میں قتل کیا‘ چند پٹھان ڈرائیور زخمی کیے۔ چند گاڑیوں کو آگ لگائی اور اتنے سے کام کے لیے ایک لڑکی سمیت دس جنگجو قربان کر دیئے؟ کیا بی ایل ایف میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی زندگیاں ٹک ٹاک کے لیے رہ گئی ہیں کہ بی ایل ایف کی ویڈیوز کے لیے پوز کریں اور پھر لاشیں جگہ جگہ پڑی ہوں؟
اسد قیصر 2013 سے پہلے تک صوابی میں ایک پرائیویٹ سکول قائداعظم پبلک سکول کے ٹیچر تھے 2018 میں وفاقی حکومت میں آکر بطور کے پی اسمبلی سپیکر من پسند سرکاری بھرتیاں کروائیں
دس سال میں اسد قیصر کے اثاثوں میں چار سو گنا اضافہ ہوا سیاسی مخالفین کی طرف سے الزام لگایا جاتا ہے کہ اسد قیصر علت مشائخ کے عادی تھے وقار علی شاہ جو پی آئی اے میں ایک فلائٹ سٹیورٹ تھے اسد قیصر کی بدولت 22 گریڈ کے افسر اور کے پی اسمبلی کے سیکرٹری بن گئے کیونکہ وہ مبینہ طور پر وہ اسد قیصر کے فاعل تھے ( اب کوئی یہ نہ پوچھے کہ فاعل کون ہوتا🤫)
اسد قیصر جس نے 2010 میں سکول بیچ کر الیکشن لڑا اس دور میں صوابی میں جس کمپیوٹر کمپوزنگ سے انکا سکول فوٹو سٹیٹ کرواتا تھا اسد قیصر آج تک اسکے چار ہزار روپے کے قرضدار ہیں اسی اسد قیصر نے اسلام آباد میں مبینہ اطلاعات کے مطابق 40 کروڑ کا ایک پلاٹ سکول کالج کیلئے خریدا ترقیاتی فنڈز کے ٹھیکوں میں کک بیکس لیتے رہے
اسد قیصر کیلئے انکا بھائی اور خاندان کے لوگ بجری کی غیر قانونی مائننگ کے دھندے میں ملوث تھے اسد قیصر کے بھائی عدنان پر نصراللہ جیسے صوابی کے ایماندار ڈی سی نے ہاتھ ڈالا تو اسد قیصر نے سہیل آفریدی پر دباؤ ڈال کر اسلئے ڈی سی کا تبادلہ کرادیا کیونکہ اس نے اسد قیصر کے غیر قانونی ٹرک پکڑے اور مائننگ سے روکا اور من پسند ڈی دی لگوا لیا
انگلینڈ میں اسد قیصر کے کزن عامر کو کارخانو مارکیٹ کی ہنڈی کے ذریعے پیسہ بھجوایا اور عمران خان کے دوست انیل مسرت کے ذریعے لندن میں جائیدادیں خریدی ایک پرائیویٹ سکول ٹیچر کا آج کل پورا خاندان انگلینڈ میں عیش کر رہا اسد قیصر نے مانچسٹر میں لاکھوں پاؤنڈ مالیت کا نیا گھر خرید لیا 6 مرلے کے گھر سے انگلینڈ میں فلیٹس اور پھر فاسٹ فوڈ برانڈ برگر باکس کی پانچ برانچز کھول لی ( سوچو یہ بھی پاپا جونز کے نعرے لگانے والوں میں شامل تھے😂 )
ذرا سوچئے کاواساکی موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے پی ٹی آئی کے ایک ادنی سے ٹیچر نے ایسا کیا کیا کہ 35 کروڑ کا بنگلا بھی لیا اربوں کی اراضی بھی لندن میں جائیدادوں کیساتھ اتنا بڑا بزنس بھی بنا لیا
یہ تو ڈاکو پارٹی کا ایک مسکین سا دانہ ھے سوچو بانی پی ٹی آئی لنگڑیالوی صاحب کیا کیا کر گئے ہوں گے
بریکنگ نیوز
فتنۃ الخوارج طالبان کے خلاف کرک میں آپریشن،
خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر جوانوں نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں متعدد افغان دہشت گردوں کو ایک کمپاؤنڈ کے اندر گھیرے میں لے کر ہلاک کر دیا۔
اگر مریں گے تو مردوں کی طرح مریں گے۔ صرف وہ لوگ میرے ساتھ آئیں جو والنٹیئرز ہیں۔ آگے موت ہے، والنٹیئرز آئیں۔ پیچھے نہیں ہٹیں گے ساتھی کو نہیں چھوڑیں گے۔ وعدہ ہے اس بات پر؟ چلو!"
طالبان کیخلاف ایک آپریشن سے پہلے شہید ڈی ایس پی عمران الدین کے الفاظ
مراد سعید کے بھائی سے جو گھر خالی کروایا گیا وہ زیادتی نہیں بلکہ زیادتی کا ازالہ ہے جب مراد سعید طاقت میں تھا تو اس وقت 2020 میں اس نے اپنے بھائی کو 11 گریڈ میں بھرتی کروایا اور پھر چند ماہ کے اندر اندر 17 گریڈ میں ترقی دے کر اسسٹنٹ کمشنر کا سرکاری گھر اس کے حوالے کیا گیا اور وہ گھر اب خالی کروایا گیا یہ کون سی زیادتی ہے یہ تو زیادتی کا ازالہ ہے بغیر میرٹ کے 11 گریڈ میں بھرتی پھر چند ماہ کے اندر اندر 17 گریڈ میں ترقی اور پھر سرکاری گھر کی الاٹمنٹ یہ زیادتی تھی حماد حسن
ثمر ہارون بلور جب لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچیں تو ان کو پتا لگا کہ ڈائریکٹر خود ڈاکٹر نہیں ہے اور اس عہدے کیلیے جو اسناد اور تجربہ چاہیے وہ بھی ڈائریکٹر محمد طارق کے پاس نہیں ہے۔ 2017 میں ان کی تعیناتی ہوئی اور کروڑوں روپے تنخواہ کی مد میں لے چکے ہیں۔ ان کے سرٹیفیکیٹ میں تضادات تھے تجربے کیلیے سہارا اور شوکت خانم کے سرٹیفیکیٹ لگائے ہوئے تھے جن میں تاریخوں میں تضاد تھا۔ بتایا جاتا ہے یہ محمد طارق، عمران خان کے کزن ڈاکٹر برکی کے قریبی شخص ہیں جس وجہ سے ان کو نوازہ گیا۔
یوکرائن کے محاذ پہ روسی فوجیوں کی لاشیں کتے بلیوں کی طرح بجھتی پڑی ہیں۔ ویڈیو
ان ظالم روسیوں نے ایرانی مجوسیوں کے ساتھ مل کر شام میں نہتے مسلمانوں پہ مظالم کے پہاڑ توڑے تھے۔۔
21 اکتوبر 2026 | مچھ، بلوچستان:
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مچھ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کواڈ کاپٹر کے ذریعے درست اسٹرائیک کرتے ہوئے فتنۃ الہندوستان کے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
مکہ مکرمہ میں سزائے موت پانے والے بنگلہ دیشی نوجوان اور لڑکی کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
طائف میں قائم اسلامک دعوہ سینٹر کے معروف مبلغ عبدالرزاق مدنی صاحب نے یہ تفصیلات شئیر کی ہیں۔
اس کیس کے سلسلے میں سعودی عدالت سے ایک بڑی غلطی بھی ہوئی ہے جسکا تذکرہ ہم جاوید چوہدری کی طرح تحریر کی دم کے ساتھ لٹکا دیں گے ۔
نذر الاسلام 13 نومبر 2022 کو ورک ویزے پر سعودی عرب آیا تھا۔ بنگلہ دیشی شہری نذر الاسلام اور سیتھی اختر دونوں خانہ کعبہ میں صفائی کے کارکن اور بن لادن گروپ کے ملازم تھے۔ مکہ مکرمہ میں لڑکے کی رہائش حی الاسکان جبکہ لڑکی کی رہائش بطحا قریش میں تھی۔
ان دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے اور انہوں نے مئی 2023 میں اس قبیح فعل کا ارتکاب کیا۔
مسجد الحرام میں صفائی کے فرائض انجام دینے کی وجہ سے وہ وہاں کے چپے چپے سے واقف تھے۔ انہوں نے موقع پا کر گیٹ نمبر 85 (باب سعید بن زید) اور گیٹ نمبر 87 (باب أم ہانی) کے درمیان اوپر جانے والی سیڑھیوں کے قریب واقع صفائی عملے کے عارضی دفاتر کو استعمال کیا، جو مسجد الحرام کے اندر خانہ کعبہ سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔
یہ مسجد الحرام کا حصہ ہے ۔
یہ دونوں افراد 2023 سے 2026 تک جیل میں رہے مختلف عدالتوں میں انہیں پیش کیا گیا ان کا ٹرائل ہوا اور انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا۔ سعودی عدالتوں نے اس مقدس مقام کے تقدس اور حرمت کو پامال کرنے پر تعزیری سزا کے طور پر دونوں کو سزائے موت دے دی۔
البتہ اس کیس میں سعودی عدالت اور حکومت سے ایک ناقابل تلافی غلطی ہوئی انہوں نے بروقت پاکستانی سوشل میڈیا پر بیٹھے مومنین اور مجاہدین کو اطلاع نہیں دی ۔
اس غفلت کے باعث ہمارے مومنین اور مجاہدین نے لڑکا لڑکی کا نکاح پڑھا کر ڈھاکہ سے مکہ ہنی مون پر بھیجا ۔
جب کہ مبلغ ایک عدد بوسے پر سزائے موت کی مکمل الف لیلیٰ داستان گھڑ کر سعودیہ کو گالیاں دینے لگے ۔
سعودیہ سے بہرحال غلطی ہوئی ہے ۔۔
یہ شرمناک واقعہ کسی عام جگہ نہیں حرم پاک کے اندر خانہ کعبہ میں پیش آیا ہے ۔
بقلم فردوس جمال !!!
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی سے ملاقات، پاک ایران تعلقات، علاقائی امن اور سلامتی کے امور پر تبادلۂ خیال اہمیت کا حامل ہے۔
تحریک انصاف نے 14 سال پراپیگینڈا کیا کہ پنجاب خیبر پختونخواہ کو کم گندم دیتا ہے۔
حکومت گئی تو آج نوشہرہ اضاخیل میں گندم کے گوداموں کے دورے میں انکشاف ہوا کہ سرکاری ریکارڈ میں موجود گندم کی بوریوں میں ریت بھری ہوئی ہے
سرکاری گندم افغانستان سمگل ہوتی تھی
خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کی حقیقت (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق):
قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس/ٹائٹلز جاری ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی۔ 2020 تک 1,762، فروری 2024 تک 3,962، اور موجودہ وقت میں کل 4,917 مائننگ لائسنسز جاری ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 4,133 آباد اضلاع میں اور 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں
اس پورے عرصے میں عسکری ادارے FWO کو صرف ایک لائسنس ملا، جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں دیا گیا تھا، جہاں FWO تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا
اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں، جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے
مختصر یہ کہ معدنیات کے لائسنسز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی دورِ حکومت میں جاری ہوئی، جبکہ عسکری اداروں کا اس شعبے میں براہِ راست حصہ سرے سے تھا ہی نہیں.
شکریہ جنرل عاصم منیر ! کوئی ہمیں مارنے آئے اور چائے پی کے چلا جائے، اب ایسا نہیں ہوتا۔ اب ہندوستان ہی نہیں ایران سے افغانستان تک ہر کسی کو سود سمیت بدلہ چکاتے ہیں۔
یہ تازہ ترین مناظر آج طالبان کی حماقت کے بعد ان کی ذلالت کے ہیں
#Afghanistan#Pakistan#PakistanArmy 👇