میں کراچی میں رینجرز کے ہیڈ کوارٹرپر مسلح دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتاہوں اوراس حملے میں رینجرز اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں لیکن اس حملے کے جواب میں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکااورکنڑ میں سویلین کے گھروں پر فضائی حملوں کی بھی شدیدمذمت کرتاہوں اوران حملوں میں معصوم افغان عورتوں بچوں کی شہادت پر افسوس کااظہارکرتا ہوں۔ افغانستان میں شہری آبادی پر کئے جانے والے یہ حملے افغانستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف جوابی ردعمل کاجوازبنیں گے اوردونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی سخت کشیدگی میں مزید اضافے کاسبب بنیں گے جوصورتحال کوجنگ کی طرف لے جائیں گے۔
دہشت گردوں نےکراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹرپر جو حملہ کیا تھا میں اس کی شدید مذمت کرتاہوں ۔میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس حملے پر افغانستان سے سخت احتجاج کرنا چاہیے تھااوراس معاملے کواقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر اٹھانا چاہیے تھا۔اور اگرجوابی حملہ کرنا ہی تھا توافغانستان کے فوجی ٹھکانوں یا ان کی فوجی چوکیوں پرحملہ کرکے حساب برابر کرلینا چاہیے تھا تاکہ سویلین آبادی کاجانی نقصان نہ ہوتا، لیکن افسوس کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کےصوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں سویلین کے گھروں پر فضائی حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں درجنوں معصوم افغان عورتیں اوربچے شہیدو زخمی ہوئے۔یہ بات صرف افغان حکومت ہی نہیں بلکہ انٹرنیشنل میڈیا اور افغانستان میں متعین اقوام متحدہ کا مشن اوراقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی اپنی آفیشل رپورٹ میں یہی بیان کررہےہیں کہ پاکستان کےفضائی حملوں میں 28 سویلین عورتیں اوربچے جاں بحق اور 49زخمی ہوئے ہیں۔آخر ان سویلین معصوم عورتوں اوربچوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟
میں، میری ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی، سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کراچی میں رینجرز ہیڈکوارٹرپر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اس حملے میں رینجرزاہلکاروں کی شہادت پر دلی افسوس کااظہار کرتے ہیں اورشہید ہونے والے رینجرز اہلکاروں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہارکرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم افغانستان میں کئے جانے والے ان فضائی حملوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان حملوں میں معصوم عورتوں اوربچوں کی شہادت پردلی افسوس کااظہارکرتے ہیں اور افغان بھائیوں سے ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتے ہیں۔
افغانستان میں ہونے والےان فضائی حملوں کے جواب میں افغانستان کی جانب سے بھی حملے ہوسکتے ہیں اور ان جوابی حملوں میں سویلین شہری نشانہ بنتے ہیں توان کے ذمہ داروہی عسکری حکام اورموجودہ حکمراں ہوں گے جنہوں نے افغانستان میں سویلین آبادی پر فضائی حملوں کے احکامات دیے۔
میں حکومت پاکستان اورعسکری حکام سے کہنا چاہوں گا کہ اگرکوئی آپ کے فوجی ٹھکانوں یا دفاعی تنصیبات پر حملے کرے توآپ کا پوراحق ہےکہ آپ اپنا دفاع کریں اور ان حملوں کاجواب بھی دیں لیکن خداراجوابی حملوں میں سویلین آبادیوں، رہائشی عمارتوں اور معصوم عورتوں بچوں کونشانہ نہ بنائیں۔
میں افغانستان کی حکومت سے بھی یہ کہوں گاکہ وہ ایسے دہشت گرد عناصر جو افغانستان سے آکر پاکستان پر حملے کرتے ہیں، ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں یاانہیں اپنےہاں سے نکالیں۔
پاکستان کے سویلین اورعسکری حکام کو آج یہ سوچنا چاہیے کہ وہ افغانی جوکل تک آپ کے انتہائی قریبی دوست تھے وہ آپ کے لئے دشمن کیسے ہوگئے؟ آپ نے توامریکی مفادات کی خاطر روس کو افغانستان سے نکالنے کے لئے افغانی باشندوں کوروس کے خلاف جنگ میں ملوث کیا، انہیں عسکری تربیت دی، انہیں پیسہ، اسلحہ اورہرطرح اشیا فراہم کیں، جہاد کے نام پر عسکری تنظیمیں بنائیں اورپورے پاکستان سے لوگوں کی بھرتیاں کیں اورانہیں روس کے خلاف جنگ کے لئے افغانستان بھیجا، روس کے چلے جانے کے بعد افغانستان میں توآپ کے مجاہدین کی حکومت قائم ہوگئی تھی، پھرآپ نے طالبان بنائے اوران کی مالی، عسکری ہرطرح سے سپورٹ کی، وہاں طالبان کی حکومت قائم ہوگئی،اس قدرسپورٹ کے بعد تو آپ کی افغان بھائیوں سے بہت اچھی دوستی ہونی چاہیے تھی لیکن افغان طالبان سے آپ کی دوستی کے بجائے دشمنی کیوں ہوگئی؟ آج آپ کہتے ہیں کہ ہم نے افغانوں پر بہت احسانات کئے ہیں اوران کی مدد کی تھی، اس پر افغان یہ کہتے ہیں کہ کیاانہوں نےپاکستان کےحکمرانوں کودعوت تھی کہ وہ افغانستان آکر ان کی مدد کریں؟
افغانستان کے ساتھ جنگ وجدل کی پالیسی بنانے والے عسکری حکام کو یہ بات ضرور سامنے رکھنا چاہیے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے روس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرلیا ہے، اگرچہ اس دفاعی معاہدے پر اچانک اورپلک جھپکتے ہی عمل نہیں ہوجاتا لیکن مستقبل قریب میں افغانستان اس دفاعی معاہدے سے فائدہ ضروراٹھائے گا اوراس بات کونظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
1/2
1/2
میں ارباب اختیار کومخاطب کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ آپ بلوچوں کوملک دشمن قراردیکرکئی دہائیوں سے ماررہے ہیں، آپ نے مہاجروں کومارا جنہوں نے پاکستان بنانے کے لئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا، آپ نے انہیں انڈین ایجنٹ کہا، آپ نے پشتونوں کومارا، انہیں غدارکہا، وہ پنجابی جوعمران خان کوسپورٹ کرتے ہیں، ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، انہیں بھی ملک دشمن قراردیا، اب کشمیری رہ گئے تھے،جب انہوں نے اپنا حق مانگا تو اب وہ بھی آپ کی نظرمیں غداراورملک دشمن ہوگئے اور آپ انہیں بھی انڈین ایجنٹ اورغدار قراردیکرماررہے ہیں۔
میں پاکستان کے حکمرانوں اورعسکری قیادت سے کہتا ہوں، خدارااپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، عوام کو دیوارسے نہ لگائیں اورایسی پالیسیوں سے گریز کریں جن سے عوام آپ سے اوردورہوجائیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر ہنگامی 425 ویں فکری نشست سے خطاب
30جون 2026ء
(مکمل فکری نشست سنئیے 👇)
https://t.co/SrLDG3CyHW
پنجاب کے ڈسٹرکٹ کاہنہ میں بچوں کے ٹیوشن سینٹرکی چھت منہدم ہونے کے نتیجے میں 14بچوں کے جاں بحق اوردرجنوں بچوں اور ٹیچرز کے زخمی ہونے کاواقعہ ایک المناک سانحہ ہے، میں اس سانحے پر دلی افسوس اورگہرے رنج وغم کااظہارکرتاہوں۔
اس سانحے کے بارے میں پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق کاہنہ میں ٹیوشن سینٹرکی چھت پر تعمیراتی کام ہورہا تھا جبکہ گراؤنڈ فلورپر بچے ٹیوشن پڑھ رہے تھے۔ تعمیراتی کام کے دوران چھت منہدم ہوگئی جس کے نتیجے میں درجنوں بچے اور ٹیچرز دب گئے جن میں 14 بچے معصوم جاں بحق ہوگئے اور کئی بچے زخمی ہوگئے۔ ان بچوں کی عمریں چھ سال سے 12سال کے درمیان تھیں۔
اس سانحہ میں معصوم بچوں کی شہادت پرمیرادل خون کے آنسو رورہاہے، میں اس سانحے پر ان بچوں کے اہل خانہ کے غم میں برابرکاشریک ہوں اوردعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ شہیدبچوں کوجنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اورتمام سوگواروں کوصبرجمیل عطا فرمائے اورزخمی ہونے والے بچوں کوصحت عطاکرے۔
میں حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتاہوں کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرائی جائے اوراس کے ذمہ داروں کوسخت سے سخت سزادی جائے۔
الطاف حسین
وفا پرست عوام وکارکنان لیاری سیکٹر کے وفا پرست کارکنان نفیس الغنی کی جلد اور مکمل صحتیابی کیلئے اللہّ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعا کریں ، جناب الطاف حسین کی اپیل
1992 سے آج تک پیپلز پارٹی، ن لیگ اور پاکستانی اسٹبلشمنٹ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں یا کروا رہے ہیں۔
آج 44 برس بعد بھی سوشل میڈیا پر آپ کسی پیپلز پارٹی کے بھولڑے کے اکاؤنٹ پر جائیں تو الطافی ہونے کا الزام وہ ہر کراچی اور سندھ کے شہری علاقے والوں پر لگاتا نظر آئیگا۔
یہ ہوتی ہی نظرئیے کی جیت۔
@AltafHussain_90
سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پیپلزپارٹی کے وزرا اور ارکان اسمبلی کی اشتعال انگیز تقاریر انکی روایتی نفرت و تعصب اور نسل پرستانہ پالیسی کی عکاس ہیں۔
تقاریرمیں قائد تحریک الطاف حسین پر بلاجواز تنقید کرنےوالےبتائیں کہ محترمہ بینظیربھٹو سےلیکر آصف زرداری تک نائن زیرو کیالینے آتے تھے؟
بلوچستان کے علاقے دشت میں مسلح افراد کی فائرنگ سے کراچی کے تاجر علی مرتضیٰ کی شہادت کا واقعہ انتہائی دلخراش اور المناک ہے۔ اس معصوم و بے گناہ فیملی پر حملے کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔
علی مرتضیٰ شہید کے والد جمیل نے میڈیا کو بتایا کہ میری بہو اس واقعے کے بعد پانچ گھنٹے تک بچوں اور شوہر کی لاش کے ساتھ اکیلی رہی اور کوئی انہیں بچانے نہیں آیا۔
شہید تاجر علی مرتضیٰ کے بھائی نے کہا کہ رات ایک بجے سے صبح پانچ بجے تک میری بھابھی اور بچیاں اکیلے تھے۔ پولیس سمیت دیگر سیکیورٹی اداروں نے کہا کہ جب تک سورج نہیں نکل جاتا ہم اس مقام پر نہیں جا سکتے۔
پیپلزپارٹی کی حکومت نہ سندھ میں عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرسکی ہے اور نہ بلوچستان میں تحفظ فراہم کررہی ہے۔
قائد تحریک الطاف حسین اور رابطہ کمیٹی اس المناک سانحے پر علی مرتضیٰ شہید کے غمزدہ لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں
https://t.co/NSY2oUpoMU
#ReleaseNidarAndMohsinPanhwar
والد کے ساتھ ساتھ بھائی کو بھی اس ظلم کا شکار بنا دیا۔ طاقت کے زور پر کسی کے گھر کے سربراہ کو لاپتہ کردینا انسانیت کی توہین ہے۔ نثار پنہوار اور محسن پنہوار کو رہا کریں۔ ہم تب تک خاموش نہیں ہونگے جب تک ہمارے والد اور بھائی خیریت سے واپس نہیں آتے۔
3/3
پاکستان میں ملاؤں کی جانب سے غریبوں سے کہاجاتا ہے کہ اگر انہیں ایک وقت کی روٹی مل رہی ہے انہیں اس پر اللہ کا شکرادا کرنا چاہیے لیکن جب کوئی غریب کہتا ہے کہ آپ کے گھر پر دعوت میں ہرقسم کے پکوان پک رہے ہیں اور بچا ہوا کھانا پھینکا جارہاہے تو مولوی کہتا ہے کہ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ جسے چاہے نوازے اور جسے چاہے فقیربنادے، یہ ملا حضرات جہاد کے نام پر غریبوں کے بچوں کو افغانستان اور کشمیرمیں مرواتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو امریکہ، برطانیہ اورمغربی ممالک میں تعلیم کیلئے بھیجتے ہیں۔ہرانسانیت پسند فرد کافرض ہے کہ وہ ایسے ملاؤں سے نجات حاصل کرے۔
وقت بدلتا ہے تو تاریخ، ادوار، رسومات اورروایات بھی بدلتی ہیں، فرسودہ روایات ترک ہوتی ہیں اور اچھی روایات اپنائی جاتی ہیں۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جیسے جیسے تاریخ آگے بڑھتی ہے انسان کی فطرت بدلتی رہتی ہے۔
آئندہ فکری نشست میں بھی انسانی فطرت اور تاریخ کے گہرے تعلق کو بیان کیاجائے گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 423 ویں فکری نشست سے خطاب
27، جون 2026ء
2/3
قول وفعل کایہ تضاد الطاف حسین کی پیش کردہ فلاسفی ”حقیقت پسندی اورعملیت پسندی“ (Realism and Practicalism)کے پیمانے پرپورا نہیں اترتا۔
جب سے انسانی تاریخ لکھی گئی اوروہ آج تک محفوظ ہے تو لوگ اسے پڑھ کرآج سے ایک ہزار سال قبل کے واقعات کو جان بھی سکتے ہیں اورسمجھ بھی سکتے ہیں۔ انسانی جبلت اورانسانی فطرت میں یہ بات موجود ہے کہ انسان اپنی شرم گاہ چھپاتا ہے، جب کپڑا ایجاد نہیں ہوا تھا اس وقت بھی انسان درختوں کے پتوں اور جانوروں کی کھالوں سے اپنی شرم گاہ چھپاتا تھا۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ جہاں انسانی فطرت ہوگی وہ انسانی تاریخ سے جڑی ہوگی یعنی انسانی فطرت اورتاریخ کا ہمیشہ سے گہرا تعلق رہا ہے۔
ہرتعلیمی ادارے میں کوئی ایک بدمعاش گروپ ہوتا ہے اور پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تھنڈراسکواڈ کے نام سے اسلامی جمعیت طلباء کا بدمعاش گروپ ہوتا تھا جوآج تک موجود ہے۔ تعلیمی اداروں میں جمعیت کے لوگ ایک طرف توقرآن واحادیث کادرس دیاکرتے تھے لیکن تعلیمی اداروں کے اساتذہ اورطلباوطالبات اچھی طرح واقف ہیں کہ جمعیت کے تھنڈراسکواڈ کے لوگ اسلامی تعلیمات کے برعکس طلباوطالبات سے کیسا رویہ اختیار کرتے رہے ہیں، کیا کسی یونیورسٹی کے چانسلر اسلامی جمعیت طلباء کے تھنڈراسکواڈ کی غنڈہ گردی اوربدمعاشی رکوانے میں کامیاب ہوئے؟ قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے ساتھ جمعیت کے غنڈوں نے بدتمیزی اوربیہودگی کی انتہاء کردی تھی لیکن یونیورسٹی کے اساتذہ اور ہزاروں طلباء نے پرویز ہود بھائی کاتحفظ نہیں کیا، وہ سب کے سب اس لئے خاموش ہوگئے کہ اگر وہ پرویز ہود بھائی کو بچانے کی کوشش کریں گے تو تھنڈراسکواڈ کے غنڈے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنائیں گے لہٰذا کسی نے ڈاکٹرپرویز ہودبھائی کو بچانے کا رسک نہیں لیا۔
تعلیمی اداروں کے وائس چانسلرز اور اساتذہ کے اختیارات محدود ہوتے ہیں لیکن وزارت تعلیم کا محکمہ موجود ہے جوریاست کاحصہ ہے، اس کاوفاقی وزیرہوتا ہے جس کے پاس ریاست کی طاقت ہوتی ہے۔ جب ڈاکٹرپرویز ہودبھائی کے خلاف بیہودگی اورغنڈہ گردی کا واقعہ رپورٹ ہوگیااورمیڈیا میں اس واقعہ کی خبرنشروشائع ہوگئی تووفاقی وزیرتعلیم کااصولی طورپر فرض تھا کہ اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے اور تعلیمی اداروں میں غنڈہ گردی کرنے والوں کو سزا دلواتے لیکن ہوا یہ کہ ریاست حکم جاری کیا کہ جمعیت کے غنڈہ عناصر کو گرفتارکیاجائے لیکن ریاستی ادارے جمعیت کے تھنڈراسکواڈ کے غنڈہ عناصر کو پکڑنے کے بجائے ان کے ظلم کا نشانہ بننے والے طلباء کو
پکڑنا شروع کردیا۔ریاست ایک یونیورسٹی کے سینئر ترین پروفیسر ڈاکٹرپرویز ہود بھائی جیسی معزز ومحترم شخصیت کو تحفظ نہ سکے تو عام طلباوطالبات کو کیاتحفظ حاصل ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تعلیمی ادارے میں اسلامی جمعیت طلباء کے تھنڈراسکواڈ کی غنڈہ گردی کا سلسلہ جاری ہے اس میں ریاست بلاواسطہ یا بلواسطہ اس بدمعاش گروپ کی حمایت کررہی ہے۔
غلامی کاتصور:
انسانی فطرت کا تاریخ سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے، ایک زمانہ تھاکہ انسانی فطرت غلام بن کرکام کرنے کو تیار رہا کرتی تھی اورآج کی تاریخ میں انسان غلامی کی زندگی گزارنے کیلئے تیار نہیں ہیں، پہلے امریکہ، برطانیہ اورپورے مغرب میں غلام ہواکرتے تھے آج پوری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں غلامی کاتصورنہیں ہے۔اسی طرح دنیا کے تمام مذاہب میں غلامی کاتصور نہیں ہے سوائے مذہب اسلام کے، کیا دین اسلام نے غلام بنانے کے عمل کوحرام قراردیا ہے؟
جیسا کہ میں کہاکہ انسانی فطرت اور تاریخ کا ایک بہت گہرا تعلق رہا ہے، اگرامریکہ،برطانیہ اورمغربی ممالک کی تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوگا کہ پہلے وہاں غلاموں سے 16،16 گھنٹے محنت ومشقت کاکام لیاجاتا تھا۔ آج امریکہ میں بظاہر غلامی کادور ختم ہوچکا ہے۔ غلامی کے خلاف جدوجہد کرنے پر مارٹرلوتھر کنگ کوقتل کردیا گیا لیکن انہوں نے غلامی سے آزادی کا جوچراغ روشن کیاتھا وہ بالآخرکامیاب ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانی فطرت غلامی کے عمل کو پسند نہیں کرتی، انسان کی فطرت ہے کہ وہ غلامی برداشت نہیں کرتا، اپنے ساتھ امتیازی سلوک قبول نہیں کرتا اورغلامی، انسانی فطرت کے خلاف ہے۔
انسانی فطرت میرٹ کے قتل کو بھی پسند نہیں کرتی،صوبہ پنجاب کے طلباوطالبات غورکریں کہ اگر وہ انٹرمیں 70 فیصد نمبرحاصل کرنے کے بعد میڈیکل یا انجینئرنگ میں داخلے کیلئے میرٹ پرپورے اترتے ہوں لیکن میرٹ کا قتل کرکے کسی تھرڈ کلاس نمبرلینے والے پنجابی لڑکے یالڑکی کو داخلہ دے دیا جائے تو ان کے دل پر کیاگزرے گی؟
مکمل فکری نشست
https://t.co/JknOK0k9n2
انسانی فطرت اورتاریخ کا تعلق
(حصہ اوّل)
………………………………
انسانی فطرت (Human Nature) کیا ہوتی ہے؟
انسانی فطرت کا اظہار سوچ سمجھ کر بھی کیاجاتا ہے اوربغیرسوچے سمجھے بھی کیاجاتاہے۔مثال کے طورپر اگر آپ کسی ریسٹورنٹ میں نہاری کھانے کے ارادے سے جاتے ہیں اورریسٹورنٹ میں مینوکارڈ دیکھ کر آپ کاارادہ تبدیل ہوجاتا ہے اور آپ نہاری کے بجائے کسی اورڈش کا آرڈردے دیتے ہیں۔ اسی طرح والدین اپنے بچوں کو یہی تربیت دیتے ہیں کہ وہ گھرسے باہر کھیلنے کودنے جائیں، اسکول کالج جائیں اور کوئی آپ سے بدتمیزی کرے، گالم گفتارکرے تو آپ جواب میں گالم گلوچ سے گریز کریں، کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کریں کیونکہ گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑا کرنا شریفوں کا کام نہیں ہوتا۔سعادت مند بچے اپنی گھریلوتربیت اور والدین کی تعلیمات کی روشنی میں پوری کوشش کرتے ہیں کہ محلے یا تعلیمی اداروں میں کسی سے لڑائی جھگڑا اور گالم گلوچ نہ کریں۔ ہرمحلے، اسکول، کالج اوریونیورسٹی میں کچھ شرارتی لڑکوں کا ایسا ٹولہ ہوتا ہے جنہیں شریف طلباء سے بلاوجہ چھیڑخانی کرنے اورانہیں تنگ کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے، وہ شریف بچوں پر اپنا دھونس جمانے کیلئے کسی کے سر سے ٹوپی چھین لیتے ہیں یا کوئی اورچیز چھین لیتے ہیں، ان کے پاس چاقو چھری اور دیگر ہتھیار بھی ہوتے ہیں توگھریلو تعلیم وتربیت کے باعث سعادت مند بچے کوشش کرتے ہیں کہ پیار محبت سے اپنی چیز واپس لے لیں مگر شرارتی لڑکے ان کے ساتھ غنڈہ گردی کرتے، انہیں مغلظات بکتے اوردھمکیاں دیتے ہیں۔ایسی صورت میں انسانی فطرت مختلف طریقے سے ردعمل کرتی ہے، کچھ بچے غنڈہ گردی سے بچنے کیلئے خاموشی سے اپنا راستہ لیتے ہیں،صبرکرلیتے ہیں اور کچھ بچے بحث ومباحثے پر اترآتے ہیں۔
چیزوں کوپسندکرنے میں بھی انسانی فطرت کادخل ہوتاہے۔ مثال کے طورپرباغیچے میں طرح طرح کے پھول ہوتے ہیں،جب کوئی فرد باغیچے میں جاتاہے تو انسانی فطرت کے مطابق ہرفرد اپنی اپنی پسند کے مطابق پھول کو پسند کرتا ہے، کسی کو گلاب کے پھول پسند ہوتے ہیں اورکوئی چنبیلی کے پھول پسند کرتا ہے۔ اسی طرح ہرانسان کی پسند الگ الگ ہوتی ہے،اسی طرح رنگوں کامعاملہ ہے، کسی کوسیاہ رنگ پسند ہوتا ہے اور کسی کوسفید رنگ اچھا لگتا ہے، کسی کوکوئی اوررنگ پسند ہوتاہے لیکن اگر آپ کسی سے دریافت کریں کہ اسے فلاں رنگ کیوں پسند ہے تو شایدکوئی بھی اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ کسی شاپنگ سینٹر میں چند افراد شرٹ خریدنے جائیں توکوئی سیاہ رنگ کی شرٹ، کوئی سفید رنگ کی شرٹ، کوئی بلیواورکوئی ڈارک بلیو کلر کی شرٹ پسند کرتا ہے لیکن جب ان سے یہ سوال کیاجائے کہ آپ نے فلاں رنگ کی شرٹ کیوں پسند کی ہے تو وہ اس کا جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں کیونکہ انسان اپنی فطرت کے مطابق رنگ (Clour) پسند کرتا ہے۔ انسانی فطرت ایک جیسی نہیں ہوتی اوراگرانسان کو اپنی پسند ناپسند کااختیار دیاجائے توہرانسان کی فطرت ایک دوسرے سے مختلف ہوگی لیکن اس کے باوجود کچھ فطری چیزیں جیسے پیاس لگنے، بھوک لگنے یانیند آنے کا تعلق انسان کی فزیالوجی، بائیولوجی اورانسانی جسم کے سیل کی طلب سے ہوتا ہے۔لہٰذا یہ طے شدہ بات ہے کہ انسان کی فطرت ہوتی ہے اورہرانسان میں انسانی جبلت(Human Instinct)، خواہش اورپسند ناپسند ہوتی ہے۔ انسانی فطرت کے مطابق کوئی فرد لڑائی جھگڑا پسند نہیں کرتا اور دوسرا فرد لڑائی جھگڑا پسند کرتا ہے، بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک وہ کسی سے لڑائی نہ کریں ان کا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں تشدد کا نشانہ بنایاجائے یا ان کے ساتھ ناانصافی کی جائے تو وہ خاموش ہوجاتے ہیں، اندرہی اندر کڑھتے رہتے ہیں لیکن لڑائی جھگڑے کی طرف نہیں جاتے جبکہ بہت سے لوگوں کو لچھے دار باتیں پسند ہوتی ہیں جبکہ بہت سے لوگ لچھے دار گفتگو اورخوشامدی رویہ پسند نہیں کرتے۔
میرا اکثر سوشل میڈیاپر مختلف براڈ پر جانے کااتفاق ہوتا رہتا ہے وہاں فوجی جرنیلوں کے نام لیکر فحش مغلظات دی جاتی ہیں اور بلند وبانگ دعوے کیے جاتے ہیں کہ میں فلاں جرنیل کا ایسا کردوں گا ویسا کردوں گا جبکہ وہ پاکستان سے ہزاروں میل دور بیٹھے ہوتے ہیں۔ میراسوال یہ ہے کہ جنہیں آپ صبح شام گالیاں دیتے ہیں اور مرنے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں تو اس قسم کے کھوکھلے دعوے، دھونس دھمکیوں اور گالم گلوچ سے اُن فوجی جرنیلوں کی صحت پر کیااثرپڑتا ہے؟جولوگ ٹک ٹاک پر فخریہ دعوے کرتے ہیں کہ میں نے فلاں فلاں جرنیل کے پرخچے اُڑادیئے جب ان سے کہاجائے کہ ہم آپ کو ٹکٹ دیتے ہیں آپ پاکستان جاکر جوکہہ رہے ہیں وہ کرکے دکھائیں تو وہ پاکستان نہ جانے کیلئے نہ صرف حیلے بہانے بنائے گا بلکہ ایسی آفر کرنے والوں کو ہی برابھلا کہنا شروع کردے گا۔ایسی گالم گلوچ اور کھوکھلے دعوے ان کے قول وفعل کاتضاد ظاہر کرتے ہیں۔
1/3
روایات کےمطابق شمرنےسولہ حج کئےتھے،ابنِ سعدبہترین مؤذن تھا،ابنِ ملجم کی آوازاتنی اچھی تھی کہ جب قرآن پڑھتاتولوگ جمع ہوجاتےتھےلیکن یہ سب کےسب جہنم واصل ہوئےکہ یہ صرف ذکرکرناجانتےتھے،فکر نہیں تھی اِن میں۔
پس ثابت ہواکہ حافظ قرآن ہوناکوئی سند نہیں اگرآپ کا ہرعمل قرآن کےخلاف ہو۔!!
پاکستان میں انصاف، قانون کی حکمرانی نام کی کوئی چیزنہیں بلکہ ڈنڈے کاقانون چل رہاہے، جوبھی ظلم اور ناانصافیوں کوچیلنج کرتاہے وہی سب سے بڑامجرم ہے۔
ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین ۔
#RightsMovementAJK
https://t.co/Y3wHQ34pmO
@SaeedGhani1 صاحب آسان لفظوں میں سمجھادیتےہیں۔ہر وہ شخص غیرمقامی ہےجو کراچی شہرکو بربادکررہاہے۔نیلے پیلے ناڑے پہن کر ڈکیتیاں کررہاہے، بےنظیر انکم سپورٹ کی حرام کمائی سے دبئی میں جائیدادیں بنارہاہے لیکن عید بقراعید اپنےگاؤں میں کرتا ہےاوراپنے مردےگڑھی خدا بخش میں دفناتا ہے۔۔!!
کراچی بار ایسوسی ایشن کے عامر وڑائچ سینٹرل جیل کے باہر سے رہائی کے بعد گرفتار ہونے والے ایم کیو ایم کے مقامی رہنما شیخ ادریس ایڈوکیٹ، سلمان ایڈوکیٹ کے وکیل بن کر پیش ہوئے اور پولیس کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت میں دلائل دیے، جج نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر دے دیا
#ZarayeNews#MQM
میں کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، صبغت اللہ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر اسیر رہنماؤں کی غیر منصفانہ سزاؤں کے خلاف اسیر رہنماؤں کے اہلِ خانہ کو پولیس اور سیکوریٹی فورسز کی جانب سے پریس کانفرنس کی اجازت نہ دینے اور بےگناہوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ بڑا ظلم ہے کہ اسیروں کے اہل خانہ کو پریس کانفرنس کرنے تک کی اجازت نہیں دی گئی اور ان پر کوئٹہ پریس کلب کے دروازے بند کردیئے، جب انہوں نے مجبوراً وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں جاکر پریس کانفرنس کی تو سیکوریٹی فورسز نے اس کیمپ پر بھی چھاپے مارکر گرفتاریاں کیں، وہاں یکجہتی کے لئے موجود پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما زبیر شاہ آغا کو بھی زبردستی لے گئے۔ دو مقامی دکاندار، جنہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شرکاء کو پانی پلایا تھا، انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا۔
میں ان گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتا ہوں اور حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ زبیر شاہ اور تمام گرفتار شدگان کو غیر مشروط طور پر فی الفور رہا کیا جائے
#ReleaseAllMQMWorkers
Recent events have exposed a harsh reality: in Pakistan, the powerful and corrupt often behave as though they are above the law. Silence only strengthens injustice. Have courage to question those in power and demand accountability before we reach the lowest stage of slavery.
@OfficialMQM@AltafHussain_90
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
نثار پنہوار اورمحسن پنہوار کی غیر قانونی حراست کو 189 دن یعنی 6 ماہ گزر گئے۔ میرے والد اور بھائی کو ہم سے دور قید خانوں میں بند رکھنے سے کیا حاصل ہوجائیگا؟ رحم کریں ان پر اور انہیں رہا کریں۔میرے والد کی عمر کا لحاظ کریں ان کا بس ایک قصور ہے سچائی۔🙏🏻
الطاف بھائی آج بھی ریاستی جبر کے سامنے مظلوموں کی سب سے بلند اور بے خوف آواز ہیں۔ اگر قوم نے ابھی اپنی آواز نہ ملائی تو ظالم اپنی جیت لکھ دے گا۔ یہ فیصلہ کن گھڑی ہے—اب کھڑے ہونا ہے، ورنہ تاریخ ہماری خاموشی کو کبھی معاف نہیں کرے گی