احساس ِ محرومی۔۔۔
ڈاکٹر صاحب کو اللہ غریق رحممت کرے۔ انھیں گذرے ۱۶ سال ہوگئے۔
یہ احساسِ محرومی ایک دو سال کا نہیں نصف صدی تک پھیل گیا۔۔ اس کا ازالہ ہونا چاہئے ۔ لوگوں کو حق ملنا چاہئے۔
کوئی حل نہیں سِوائے اسکے کے چھوٹے صوبے بنائیں جائیں اردو بولنے والے بانیان پاکستان کروڑوں کی تعداد میں آباد ہیں اُنھیں acknowledge کریں انھیں کچھ تو دیں۔
ممتاز عالم دین مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کا یادگار بیان
جوں جوں سندھ میں نئے صوبے بننے کی بحث میں تیزی آئے گی، اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ بڑھے گا سندھ سرکار کے کالے دھندوں کے ریکارڈ کے حامل سرکاری دفتروں میں آگ لگنے کے واقعات میں تیزی آئے گی۔
ابھی تو کے ایم سی، ایس بی سی، سندھ کے سرکاری دفاتر میں بھی آگ لگنی ہے تاکہ اٹھارہ سالوں کی کرپشن کا سارا ریکارڈ جلایا جاسکے۔
سرکاری ریکارڈ جلائے جانے کے واقعات اس بات کا اعتراف ہے کہ اب ریت بند مٹھی سے نکلتی جارہی ہے
شمع بجھنے سے پہلے آخری بار ضرور پھڑپھڑاتی ہے
یہ وہی پھڑپھڑاہٹ ہے
سندھ کی مظلوم عوام کو مبارک ہو
سورج طلوع ہونے کو ہے ✌🏻✌🏻✌🏻
زرداری خاندان کی منافقت کی انتہا دیکھیں
پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد موجودہ چیئرمین کے دادا حاکم علی زرداری ضیاءالحق کو سندھ کے دورے کے موقع پر سندھی اجرک پہنا رہے ہیں
آج زرداری خاندان شہید بھٹو کے نام کو کیش کررہا ہے
افسوس ہے سندھی قوم پر وہ اس عیاری پر خاموش ہے
کئئ ماہ سے صومالی قزاقوں کی قید میں کراچی کے لوگ ریاست پاکستان کی طرف دیکھ رھے ہیں
بدقسمتی سے اس شہر میں جہاں روز ایک کچی آبادی قایم ھوتی ھے جو بجلی پانی چوری کرتے ہیں اگر کنکشن کاٹیں تو سڑکیں بند کردیتے ہیں
وہاں پولیس کا رویہ دیکھیں
اور جن کے ٹیکسوں پر یہ پلتے ہیں وہاں دیکھیں
سندھ خطے اور تہذیب کا نام تھا اور ہے اور رہے گا۔
5 ہزار سال کی کہانی سنانے والے یہ نہیں بتاتے کہ قیام پاکستان کے وقت خیر پور الگ ریاست تھی۔
آدھا سچ جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
اور نسل پرستی ایک لعنت ہے۔
قومیں اس وقت برباد ہوتی ہیں جب اسکے استاد علم کے بجائے تعصب سکھانے لگ جائیں
یہ خاتون جامشورو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں
ایسے استاد ہونگے تو سندھ میں جسقم ہی پیدا ہوگی، کوئی اسٹیفن ہاکنگ نہیں۔
1949ء میں لیاقت علی خان نے مہاجرین کا الگ کوٹہ ختم کر کے اسے میرٹ اور علاقائی حصوں میں تبدیل کر دیا.
آپ ذرا تحقیق کرلیں خالد بھائی۔ جو بات آپ نے کہی ہے درست نہیں۔
سندھ کی تقسیم کی بنیاد اس دن رکھ دی گئی تھی جس دن کوٹہ سسٹم نافذ ہوا تھا۔
شہری اور دیہی سندھ کی تقسیم آپ نے کی ہے
ہم نےنہیں۔
کسی بھی طبقےکوپچاس برس تک کوٹےکےنام پرمحروم نہیں رکھاجاسکتا۔
اس کوٹہ سسٹم کے بینیفشریز /اس تقسیم کےمستفید
تقسیم نامنظور کا نعرہ لگائیں
تو ہنسی آتی ہے
سندھ کا ایک وزیر فوت ہوگیا
فرشتے نے آکر کہا “چل تو تو سیدھا جہنم میں چل تیرا کوئی حساب کتاب نہیں”
وزیر نے کہا
نہیں، میں نے کچھ نہیں کیا
فرشتہ: ابے سالے اسی لئے تو جہنم میں جا رہا ہے کہ “کچھ” بھی نہیں کیا۔
مجھے اعتراف ہیکہ میری تہذیب 80 سال پرانی ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ پانچ ہزار سال بعد میری تہذیب بھی 5080 سال پرانی ہوجائے گی۔
اگر کسی پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب کو ایک صرف 80 سالہ تہذیب سے خوف آرہا ہے تو پانچ ہزار سال والی تہذیب کو سوچنا چاہیئے کہ ان سے کہاں غلطی ہورہی ہے۔
پناہ گیر؟؟؟
موجودہ سندھ کی حدود پاکستان بننے سے صرف گیارہ سال پہلے بنیں۔ 1839 سے 1936 تک سندھ اور گجرات بمبے پریزیڈنسی Bombay Presidency کے حدود میں تھے۔ تقریبا سو سال تک گوروں کے دور میں سندھو دیش کیوں یاد نہی آیا۔ یا اس سے پہلے بلوچ تالپوروں کے دور میں جو اب سندھ میں زم کر گئیں ہیں۔ ڈی جی خان سے 1783 اے آئے تالپور بلوچ مہاجر سندھ کے حکمران رھے۔ میمن بھی زیادہ تر گجرات سے آئے جب انگریزوں نے کراچی بنایا۔ اب گھل مل گئے۔ایسے بنتی ہے تہزیب۔ سوال یہ مہاجر سے قومیت کی شہریت کب بنتی ہے۔ کون کب آیا یا تہزیب کے سمو جانا۔ کون سندھی ہے؟؟ انہتر سال پہلے آیا اردو مہاجر یا ڈیڑھ دو سو سال پہلے (شرجیل) میمن۔ یا کوئ تین سو پہلے بلوچ (تالپور، جتوئ، زرداری، چانڈیو ، بجارانی )۔ یا محمد قاسم کے ساتھ آیا مراد علی شاہ۔ کوئ ماما نہی ہے سندھ دھرتی کا۔ میں بھی سندھی ہوں اور آپ بھی۔ سو سیاسی مقاصد کے لیے تاریخ مسخ نہ کریں۔ تاریخ کا سبق ہے کہ قوم کا حصہ وہ بنتا ہے جو سمو جاتا ہے۔ اس کے لئے اپنی ثقافت چھوڑنا ضروری نہی۔
تحریر عامر متین
@AmirMateen2