آج مستونگ میں ہونے والے مسلح حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ صاحب اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت کی خبر سن کر شدید دکھ ہوئی۔
مجھے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات، خصوصاً ان کی ضمانت کی درخواستوں میں، متعدد بار مستونگ میں حکیم صاحب کی عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا۔ ان کی زندگی میں بہت سی باتیں ایسی تھیں جو میں نہیں لکھ پائی لیکن آج مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دراصل کیسے انسان اور کیسے جج تھے۔
میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ عبدالحکیم کاکڑ ایک نہایت دیانت دار، اصول پسند اور باوقار جج تھے۔ وہ اکثر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات کی قانونی نوعیت پر مجھ سے کھل کر بات کیا کرتے تھے۔ کئی بار انہوں نے مجھ سے کہا کہ حالات چاہے جس نہج پر بھی ہوں، میرے فیصلوں میں آپ کو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے اعلیٰ تقاضوں کی پاسداری نظر آئے گی۔
ان کی یہ باتیں ان سیاسی گھٹن زدہ حالات میں میرے لیے ہمیشہ امید کی ایک کرن ہوا کرتی تھیں، اور بعد میں ان کے فیصلوں نے بھی ان کے ان الفاظ کو سچ ثابت کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور گلزادی بلوچ کو تین مقدمات میں ضمانت دی، جبکہ بیبرگ بلوچ کو ایک ایف آئی آر میں ضمانت کے مرحلے پر ہی مقدمے سے بری کر دیا۔ ان کے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
تربت میں اپنی تعیناتی کے دوران بھی انہوں نے اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں سبغت اللہ شاہ جی کی ضمانت منظور کی اور ایک بار پھر دباؤ کے بجائے قانون کی بالادستی کو ترجیح دی۔
مجھے آج بھی مستونگ کی ایک پیشی یاد ہے جب محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ایک کم عمر لڑکے کو مختلف الزامات کے تحت عدالت میں پیش کر رہا تھا۔ حکیم صاحب نے اس بچے سے پوچھا، “تمہیں کب گرفتار کیا گیا تھا؟” بچے نے جواب دیا، “کل۔” اس پر حکیم صاحب نے سی ٹی ڈی کے انچارج کی طرف دیکھ کر کہا، “اس بچے کے چہرے کو دیکھو، ایسا لگتا ہے جیسے اس نے برسوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔ اور تم لوگوں نے اسے اس قدر ڈرایا اور دھمکایا ہے کہ اب وہ تمہاری ہر بات میں ہاں ملا رہا ہے۔” پھر انہوں نے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں سے کہا، “اللہ سے ڈرو۔”
آج جب ان کی شہادت کی خبر دیکھی تو دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ صرف ایک انسان کو نہیں مارا گیا، بلکہ انصاف پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ حکیم صاحب قانون کی حکمرانی، انصاف، آئینی حقوق اور عوام کے وقار پر یقین رکھتے تھے
میں جج عبدالحکیم کاکڑ کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں اس غم کی گھڑی میں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔
معزز شہید عبدالحکیم کاکڑ صاحب، بلوچستان کے عوام آپ کو ہمیشہ آپ کی دیانت، اصول پسندی اور انصاف کے ساتھ مضبوط وابستگی کے لیے یاد رکھیں گے۔
آپ کے اصول اور آپ کی جرأت اُن لوگوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے جو انصاف اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔
The Global Silence Surrounding Imran Khan’s Detention Threatens Democratic Principles
A prominent regional leader with significant public support is facing severe isolation from the public sphere under extraordinary circumstances. This situation arises from his unwavering opposition to political injustice and his steadfast advocacy for the rule of law.
To uphold democratic principles, foreign correspondents, human rights observers, and international news organizations must be granted unrestricted access to Imran Khan’s detention. Additionally, they should be assured of a fair trial.
#LetTheWorldSeeImranKhan #FreeImranKhan
کسی کو اچھا لگے یا برا، ہم ہر قدم عمران خان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ تپش بڑھنے والی ہے اور اب یہ صرف باتوں سے روکی نہیں جا سکتی۔ اس بار آزادی یا شہادت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں گے، باقی اللّٰہ خیر کرے گا۔
علیمہ خان نے اگر مراد سعید کو نکلنے کا کہا ہے تو اسکا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مراد اب تم ہی آؤ یہ سب عمران خان بیچ چکے ہیں۔
لہذا اپنے اپنے گروپس پر فاتحہ پڑھ لیں۔
جرنیلوں تم آؤ گے
اپنی گودڑی اٹھاؤ گے اور چلے جاؤ گے۔ تمہاری نظر اسلام آباد کے ایک ایک سیکٹر پر ہے، تم مونال پر قبضہ چاہتے ہو، تم پورے پاکستان پر قابض ہو۔ مگر یاد رکھو، اقتدار ہمیشہ کے لیے کسی کے پاس نہیں رہتا۔ اس ملک کا اصل مالک عوام ہے، نہ کہ بندوق کے زور پر فیصلے کرنے والے جرنیل۔
تمہاری حکومت اتنی کمزور ہے کہ تم مولانا فضل الرحمٰن کو گرفتار نہیں کر سکتے، اور نہ اکیلے جاوید ہاشمی کو خاموش کرا سکتے ہو۔ مولانا کے لاکھوں پیروکار ہیں، مگر اصل طاقت عوام کی ہے۔
آج میں آپ کو دو کہانیاں سناتا ہوں، جو ہمارے جرنیلوں اور آج کے ملکی حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔
پہلی کہانی
آپ کو محمد شاہ رنگیلا اور سائرہ تو یاد ہوگی
ایک وقت تھا جب محمد شاہ رنگیلا دہلی پر حکومت کرتا تھا۔ اسے شراب و شباب سے فرصت نہ تھی۔ نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا، قتلِ عام کیا، شہر اجاڑ دیا۔ جب محمد شاہ کو بتایا جاتا کہ نادر شاہ دہلی میں داخل ہو چکا ہے تو وہ بے پروائی سے کہتا: “کوئی ایک آدھا شہر لے جائے گا تو کیا ہو جائے گا؟” اور پھر اپنی طوائف سائرہ کی طرف اشارہ کر کے کہتا: “سائراں دے، جھوٹا!” مطلب سائرہ جھولاجھلاتی رہو!
آخرکار نادر شاہ اس تک پہنچ گیا، مگر کہا: “میں تمہیں اپنا بھائی بناتا ہوں، حکومت نہیں لوں گا۔” محمد شاہ کوہِ نور اپنی پگڑی میں چھپا چکا تھا۔ نادر شاہ نے کہا: “ہمارا دستور ہے کہ بھائی بنتے وقت پگڑی بدلی جاتی ہے۔” پگڑی بدلی گئی، اور کوہِ نور بھی چلا گیا۔
دوسری کہانی
ایک ملک میں نیا بادشاہ بنانا تھا۔ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ صبح جو پہلا آدمی سامنے آئے گا، اسے بادشاہ بنا دیں گے۔ ایک شخص گودڑی اٹھائے آ رہا تھا، اسے بادشاہ بنا دیا گیا۔
وہ ہر مسئلے کا ایک ہی جواب دیتا: “پکاؤ حلوہ!”
ملک پر حملہ ہوا، تب بھی اس نے کہا: “پکاؤ حلوہ!” وہ کہتا تھا: “تم نہیں جانتے میری گودڑی میں کیا ہے۔” جب دشمن اس تک پہنچ گیا تو اس نے کہا: “میں تو حلوہ کھانے آیا تھا، لوگوں نے مجھے بادشاہ بنا دیا۔” اس نے حلوہ کھایا، اپنی گودڑی اٹھائی اور چلتا بنا۔
جب مشرقی پاکستان میں جنگ چھڑی تو یحییٰ خان کا طرزِ عمل بھی کچھ ایسا ہی تھا۔
آج بھی ہمارے جرنیل اسی ذہنیت کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔ اقتدار آتا ہے، وسائل پر قبضہ ہوتا ہے، حلوہ تقسیم ہوتا ہے، اور پھر گودڑی اٹھا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ نقصان مگر پاکستان کا ہوتا ہے، قیمت عوام ادا کرتے ہیں، اور تاریخ نئے ناموں کے ساتھ پرانی غلطیاں دہراتی رہتی ہے۔ اپنا حلوہ کھاؤ گے اور بھاگ جاؤگے!
شفیع جان جو وزیرِ اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب نے یہ کہا ہے کہ احتجاج کا فیصلہ صرف اور صرف اچکزئی صاحب نے کرنا ہے۔ باقی بلیو پاسپورٹ ہیں، باقی جو بھی ٹھیکے شیکے ہیں، 100 صحافیوں کو بلانا ہے، اپنی مراعات ہیں، اپنی تنخواہیں ہیں، وہ سارے فیصلے یہ خود کر سکتے ہیں۔ایک سو پچھتر ارب روپیہ جو ہے، جنرلوں کو دینا ہے، سرپلس بجٹ پاس کرنا ہے، پورے سال کا بجٹ پاس کرنا ہے، عمران خان سے ملے بغیر بجٹ پاس کرنا ہے، وہ سارے فیصلے یہ خود کریں گے۔ صرف احتجاج کا فیصلہ جو ہے، وہ اچکزئی صاحب جب تک نہیں کہیں گے، تب تک احتجاج نہیں ہوگا۔ شہباز گل
@SHABAZGIL #pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
@Khan3dj@ImranKhanPTI is indomitable. He never give up. He rendered his best services in the nation building. After assuming the office of PM he made Qur'an education as a compulsory subject for schools and established institutions related to the education about Prophet (P.B.U.H.).
عمران خان ساڑھے تین سال وزیراعظم رہے۔ کبھی ان کی بہنیں وزیراعظم ہاؤس نہیں آئیں۔ لاہور آتے تھے مگر بہنوں کو کبھی وزیراعلیٰ ہاؤس نہیں دیکھا گیا۔ فیملی کے کسی فرد کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں۔ باوجود اس کے ایک منگل کا دن بھی ایسا نہیں جب وہ عمران خان کے لیے آواز اٹھانے اڈیالہ جیل کے باہر نہ گئی ہوں۔ آواز اٹھانے کے جرم میں انہیں مختلف فسطائی حربوں کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ ڈٹ کر کھڑی ہیں۔
بیرسٹر شہزاد اکبر
تحریک انصاف کی لیڈرشپ دو کنٹینر لگا کر عوام سے کہیں کہ ایک کنٹینر پر علیمہ خان خطاب کریں گے، دوسرے کنٹینر پر پی ٹی آئی لیڈرشپ خطاب کرے گی۔ عوام ساری علیمہ خان کا خطاب سنے گی، یہاں تک کہ لیڈرشپ میں سے بھی بہت سارے لوگ علیمہ خان کی طرف چلے جائیں گے۔ اطہر کاظمی
@2Kazmi#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
على محمد خان کی پارٹی رکنیت معطل کی جائے پی ٹی آئی کے کارکنون کی جانب سے کوئی بھی افسوس کا اظہار نہیں کرے گا۔
عمران خان ساڑھے 3 سال وزیر اعظم رہے کبھی عمران خان کی بہنیں وزیر اعظم ہاوُس نھیں آئیں، عمران خان لاہور آتے تھے مگر بہنیں کو کبھی وزیر اعلی ہاوُس نھیں دیکھا گیا، عمران خان کی فیملی کے کسی فرد کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ موجود نھیں ہے۔
گرفتاری سے قبل عمران خان کا قوم کے نام وہ تاریخی پیغام جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے!🚨
حقیقی آزادی: آزادی کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی، زنجیریں خود نہیں گرتیں بلکہ انہیں توڑنا پڑتا ہے!
جدوجہد کا مقصد: یہ جنگ میری ذات کی نہیں، آپ کے بچوں کے مستقبل اور نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔
لا الہ الا اللہ کا نظریہ: کلمہ حق ہمیں انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر صرف ایک خدا کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔
آخری حد تک پرامن جدوجہد: جب تک ووٹ کے ذریعے اپنی حکومت منتخب کرنے کا بنیادی حق نہیں مل جاتا، پرامن احتجاج جاری رکھیں۔
ملک کو کسی "قبضہ گروپ" کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب نہیں تو کب؟