میرے بھائی کو قید تنہائی میں رکھ کر غیر انسانی رویہ روا رکھا جا رہا ہے، قید تنہائی سخت ترین سزا ہے، عمران خان نے وکیل کے ساتھ میٹنگ میں بتایا تھا کہ اُن کی آنکھ 85 فیصد متاثر ہوئی، قید تنہائی میں رکھنا غیر قانونی قرار دیا جائے، علیمہ خان کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع۔۔!!
On Tuesday, 16 June, we will gather outside Adiala Jail from 3:00 PM to 7:00 PM.
This is a humanitarian and legal demand. The basic rights of a former Prime Minister and political prisoner must be respected.
بشکریہ: کوٹلی کی آواز (فیس بک پیج)
پاکستان سے آنے والا آٹا روک دیا گیا ہے اور مبینہ طور پر ٹرک واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کشمیر میں راشن کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ آٹے کی قیمت، جو پہلے تقریباً 1100 روپے تھی، اب 3000 روپے تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ اس کی دستیابی بھی محدود بتائی جا رہی ہے۔
راولاکوٹ کے بازار سے متعلق بھی مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اور عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ بعض حلقے موجودہ صورتحال کا موازنہ غزہ کے محاصرے سے کرتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا میڈیا پر کنٹرول کے ذریعے کشمیر کی اصل صورتحال دنیا سے چھپائی جا رہی ہے۔
مصنف کا مؤقف ہے کہ طاقت اور اقتدار کے تحفظ کے لیے عام کشمیریوں، خصوصاً نوجوانوں، کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق جو رہنما عوامی مسائل اور حقوق کی بات کر رہے ہیں، انہیں دباؤ اور مختلف پابندیوں کا سامنا ہے۔
مصنف مزید لکھتا ہے کہ کشمیری عوام میں شدید مایوسی اور غم پایا جاتا ہے۔ وہ ان واقعات کو اپنے مستقبل، امن اور اجتماعی خوابوں کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جن اداروں اور شخصیات سے تحفظ اور تعاون کی امید تھی، انہی کے بارے میں آج شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
آخر میں مصنف اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ کشمیری عوام اپنے حقوق اور وقار کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے اور کسی بھی ایسی کارروائی کو قبول نہیں کریں گے جسے وہ اپنے بنیادی حقوق کے خلاف سمجھتے ہ
ایک ہی کہانی آخر بدل بدل کر کتنی ہی بار کی جاسکتی ہے؟ فوج کو عمران خان سے جس تابعداری کی امید ہے وہ انہیں شریف و زرداری خاندان سے مل رہی ہے۔ فوج کو آج بھی لگتا ہے معاشی تباہی ایک دو وزیر بدلنے سے رک جائے گی اور داخلی بدامنی کو رینجرز کی کچھ مزید گاڑیاں روک سکتی ہیں۔ عمران خان کیساتھ نا تو فوج مذاکرات کررہی ہے نا کرے گی ، نا ہی عمران خان رہا ہونے والا ہے۔ جس دن عوامی ، معاشی ، عالمی یا سیاسی دباؤ میں سے ایک فوج پر حاوی ہوا اس روز عمران خان رہا ہوجائے گا۔
آزاد کشمیر سے رپورٹرز کے مطابق ایک ہفتے سے تمام اضلاع میں کاروبار زندگی منجمند، انٹرنیٹ معطل، ٹرانسپورٹ بند ہے، راولاکوٹ میں دھرنے پر کریک ڈاون میں شہادتوں پر دیگر اضلاع میں کشیدگی کا خطرہ ہے!
دوسری جانب سرکاری ٹی وی without attribution ٹکرز چلا رہا ہے کہ آزاد کشمیر کی غیور عوام نے "کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں "مسترد کر دیا، آزاد کشمیر میں حالات معمول پر آ چکے! دوہرا معیار یہ ہے کہ ہیڈلائنز میں شہریوں کے پیغامات چلائے جا رہے ہیں کہ آٹا چینی سب کچھ احتجاج کی وجہ سے ناپید ہو چکا ہے، احتجاج مشکلات کم کرنے کے بجائے بڑھا رہا ہے، کون لوگ ہیں یہ؟ عاصمہ جہانگیر صاحبہ کی کہی بات ہر دن سچ ثابت ہوتی ہے!
کچھ عرصہ پہلے پاک فوج کے افسران تعلیمی اداروں میں بیانیہ سازی کرنے جایا کرتے تھے۔ ایک نشست کا احوال ایک دوست نے بھیجا۔ ایک یونیورسٹی میں ایک میجر جنرل صاحب کو چند طلباء نے کشمیر پر زچ کیا تو فرمایا کشمیر کی آزادی کی جنگ کشمیریوں نے خود لڑنی ہے۔ کاش اب دوبارہ بیانیہ سازی کا سلسلہ شروع ہوجائے تو جنرل صاحب کسی یونیورسٹی میں جاکر بتا سکیں کہ کشمیریوں کی آزادی کی جنگ تو وہ خود لڑیں گے لیکن انکی بارہ نشستوں پر لڑنے اور مارنے کے لیے ہم تیار ہیں ۔
PTI leadership has requested opposition leader Mehmood Khan Achakzai that, if there is a time frame on the gathering outside Adiala Jail on Tuesday, they can mobilize 10,000 people. We welcome this proposal and have accepted their request.
On Tuesday, 16 June, we will gather outside Adiala Jail from 3:00 PM to 7:00 PM.
A strong gathering of 10,000 people outside Adiala should create the necessary pressure to end Imran Khan’s prolonged isolation and ensure that his eye condition is properly examined and treated at Shifa International Hospital, Islamabad, in the presence of his family and personal physician.
This is a humanitarian and legal demand. The basic rights of a former Prime Minister and political prisoner must be respected.
اڑھائی منٹ کی اس ویڈیو میں عمر نزیر کشمیری نے ایجنسیوں کے کالے چینل کا نفرت انگیز پراپیگنڈا تباہ کر دیا۔ غور سے سنیے ہمارے کشمیری بھائی کیا کہہ رہے ہیں۔ باقی ظلم کے شکار ناراض لوگ پاکستان میں بھی سخت شکوے کرتے رہتے ہیں۔
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
مہاجرین کی 12 نشستوں کو تشکیل دیتے وقت کوئی بدنیتی شامل نہ تھی۔ یہ کشمیر کی حق خود ارادیت کے راستے کا ایک قدم تھا۔ مگر بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ نے کشمیر کی سرکار اور وسائل پر کنٹرول کرنے کے لیے جس انداز میں ان 12 نشستوں کو لگاتار استعمال کیا یہ نشستیں کشمیری عوام کے لیے ناقابل قبول بن گئیں۔
دراصل حق لینے کے لیے اٹھایا قدم حق مارنے لگا۔ جیسا کہ کوئی دشمن کے لیے خریدی بندوق اپنوں پر ہی تان دے۔
آزاد کشمیر کے علاقے راولا کوٹ میں ہونے والے احتجاج میں صرف مرد ہی نہیں، عورتیں اور بچے بھی شریک ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں جمع ہونے والے لوگ نہ دہشت گرد ہیں، نہ کسی کے ایجنٹ۔ یہ اپنے سیاسی اور آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے والے پرامن، محب وطن شہری ہیں۔
ان کی آواز سنیں، ان کے مطالبات پر توجہ دیں۔ ان پر لاٹھیاں اور گولیاں برسانے کے بجائے ان سے بات کریں۔ اختلاف رائے کو بغاوت اور احتجاج کو دشمنی نہ سمجھیں۔
انہیں دہشت گرد اور ایجنٹ قرار دینے کے بجائے یاد رکھیں، یہ بھی اسی وطن کے بیٹے، بیٹیاں اور آپ کے اپنے بھائی بہن ہیں۔۔۔۔
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
کہاں ہیں عمران خان؟
کیوں انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے؟ کیوں ان سے ہماری ملاقات نہیں کرائی جا رہی؟ اگر سب کچھ قانون اور انصاف کے مطابق ہے تو پھر عوام سے حقیقت کیوں چھپائی جا رہی ہے؟
قوم اپنے قائد کی خیریت اور اس کے بنیادی حقوق کے بارے میں جواب مانگتی ہے، کیونکہ خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
#imrankhan
#whereisimrankhan
ہیلی کاپٹر حادثے والے “ شہداء” کے پیٹی بھائی کشمیر میں کریک ڈاؤن کے اعلانات کررہے ہیں۔ ان کا ماضی بتاتا ہے کہ یہ کسی بھی قسم کی وحشت سے باز نہیں آئیں گے۔