Repercussions that are gripping Imran Khan and his party is the Karma or retribution: Altaf Hussain
#LiftBanOnAltafHussain
When Altaf Hussain spoke out against the harsh rule and wrongful actions of dishonest military leaders and wealthy landowners, the Lahore High Court issued a ban in September 2015 on Altaf Hussain’s writings, speeches, images, and even his name being mentioned in the media. At that time, @ImranKhanPTI was not in trouble and his political party was in charge of the Khyber Pakhtunkhwa province. During this period, Imran Khan and his party were echoing the establishment's story about Altaf Hussain and the MQM. They labeled the innocent, exiled Altaf Hussain, who has been living away from home for 34 years, as a terrorist. When PTI took the 2018 elections and Imran Khan became the head of the government, did he stand against the restriction placed on Altaf Hussain during the time of dishonest military leaders, officials, and politicians who stole from the country’s funds? Or did he keep on saying the untrue story of corrupt military leaders and wealthy landowners? Actually, as the Prime Minister, Imran Khan even warned in the National Assembly that he would arrange for Altaf Hussain to be killed using a drone attack. Now observe the consequences of nature: Imran Khan, trying to win over military leaders and gain their favor, used to label Altaf Hussain as anti-national and a terrorist. Ironically, those same claims are now directed at Imran Khan himself. Just yesterday, Altaf Hussain was banned, and even speaking his name was not allowed; now, Imran Khan faces a similar ban from the media, where mentioning his name has also become forbidden. If Mr. Imran Khan had truly recognized and spoken out against the wrongs done to MQM and Altaf Hussain, he would not find himself behind bars today. Imran Khan thought that by continuously making false accusations against Altaf Hussain to win the approval of corrupt generals, he could avoid facing consequences — but he has not escaped them. Sadly, the military didn't learn anything from its tough experiences before, and neither did PTI gain any insight from those events. The leaders of @PTIofficial used to claim that the supporters of MQM never protested for Altaf Hussain. If Imran Khan is really as well-liked as they say, then why aren't PTI leaders, officials, and members taking to the streets for him? If they call the government's harsh treatment of Imran Khan and PTI “oppression,” but won't recognize the oppression faced by MQM and Altaf Hussain, then I want to emphasize that as long as PTI leaders keep being dishonest like this, Pakistan will not have a real system of justice or authentic democracy.
Altaf Hussain.
London.
399th study circle via TikTok
on May 8 2026.
میں نثار احمد پہنور اور انور خان ترین کو گرفتار کرنے والے سیکیورٹی اداروں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ نثار احمد پہنور اور انور خان ترین کو رہا کردیں تاکہ وہ بھی آفتاب الدین بقائی مرحوم کی تدفین میں شرکت کرسکیں
#AftabBaqaiRIP#ReleaseMQMLeadersNOW
@mehdirhasan Former MNA Nisar Panhwar and Anwar Tareen abducted on 16 September still in illegal detention of Pakistani State Authorities.
#ReleaseNisarPanhwar
مہاجروں کو اپنے جائز حقوق کے حصول اور��پنے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں اور حق تلفیوں سے نجات کے لئے کٹّر قوم پر ست بنناہوگا
ہمیں تمام قوم پرست منظور ہیں لہٰذا کسی کو مہاجروں کے قوم پر ست ہونے پر بھی اعتراض نہیں کرنا چاہیے
#ہمارا_مقدر_17ستمبر
مہاجروں کے ساتھ آج پاکستان میں دوسرے اورتیسرے درجے کاجوامتیازی سلوک کیا جارہا ہے وہ افسوسناک ہے ۔مہاجروں کوآج اپنےساتھ ہونےوالے سلوک کوتاریخی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ہمارے آباؤاجداد ہزاروں سال سے غیرمنقسم ہندوستان میں نسل درنسل رہتےتھے، یہ ایک تلخ تاریخی حقیقت ہے کہ انگریزوں نےاپنےمفادات کے تحت ہندوستان کو تقسیم کرنےکامنصوبہ بنایااور مسلمانوں میں یہ سوچ پیدا کی کہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں اورانگریزوں کے چلےجانے کے بعد مسلمان متحدہ ہندوستان میں ہندوؤں کے زیراثر رہیں گے لہٰذا مسلمانوں کو اپنا علیحدہ وطن حاصل کرنا چاہیےجہاں وہ اپنے مذہب کے مطابق آزادی کے ساتھ رہ سکیں۔ ہمارے آباؤ اجداد انگریزوں کی اس سازش سے ناواقف تھے، انہوں نے اللہ ، رسولۖ اور اسلام کی خاطر ایمانداری سے تحریک پاکستان چلائی اور 20لاکھ جانوں کے نذرانے پیش کیے، پاکستان کی خاطر اپنے گھربار، اجداد کی قبریں، بزرگوں کی یادگاریں اوربچپن کی یادیں چھوڑدیں اور پاکستان کو مسلمانوں کا وطن سمجھ کر اپنے آبائی وطن ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ پاکستان برصغیرکے ان علاقوں میں نہیں بناجہاں پاکستان کی تحریک چلائی گئی بلکہ ان علاقوں میں بنا جہاں سرے سے پاکستان کی تحریک ہی نہیں چلی تھی ۔
آج پاکستان کےقیام کو 78برس بیت چکے ہیں لیکن آج تک بانیان پاکستان کی اولادوں یعنی مہاجروں کو فرزند زمین تسلیم نہیں کیاجاتا اور اہم قومی ایام میں مہاجروں کی تہذیب وثقافت کا کوئی تذکرہ نہیں کیاجاتا۔
قیام پاکستان کےبعد بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، پاکستان کے پہلےوزیراعظم خان لیاقت علی خان اور محترمہ فاطمہ جناح کےقتل کے بعد مختلف حکومتوں کے ادورار میں مہاجر بیوروکریٹس کو چن چن کر نکالاجاتارہا ، نیشنلائزیشن پالیسی کی آڑ میں مہاجروں کے بنکوں، صنعتوں، تعلیمی اداروں اور انشورنس کمپنیوں کو قومیالیاگیا، اس کے بعد سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں کےدروازے مہاجروں پر بند کردیئے گئے۔ ہردورمیں مہاجروں کے ساتھ یہی امتیازی سلوک کیاجاتارہااور آج صورتحال یہ ہے کہ کراچی میں ایک بھی مہاجر کمشنر یا ڈپٹی کمشنر نظرنہیں آتا۔ ہمارے بزرگوں نےخلوص نیت کے ساتھ قیام پاکستان کیلئے قربانیاں دیں لیکن پاکستان میں بانیان پاکستان کی اولادوں کےساتھ غیروں سے بدتر سلوک روا رکھا جارہا ہے ۔
مہاجروں کے آئینی اورقانونی حقوق کیلئے میں نےمہاجر تحریک کی بنیاد رکھی، بکھرے ہوئےمہاجروں کو ایک پلیٹ فارم پرمتحد کرنےکیلئے APMSO سے مہاجر قومی موومنٹ اورپھر مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ کے سفر کےدوران آگ اور خون کے انگنت دریا عبور کیے، مجھے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران تین مرتبہ گرفتارکیا گیا، 9، ماہ قید اور 5 کوڑوں کی سزا سنائی گئی اور حق پرستانہ جدوجہد سے باز رہنے کیلئے طرح طرح کی پیشکشیں بھی کی گئیں لیکن مجھے اصولی جدوجہد سے باز نہیں رکھا جاسکا۔ جب استحصالی قوتیں مجھے خوفزدہ نہ کرسکیں اورخرید نہ سکیں مجھ پر ہینڈ گرینیڈ سے قاتلانہ حملہ کرایا گیا جس کے بعد ساتھیوں نے بے حد اصرار کرکے مجھےلندن بھیج دیا اور میں گزشتہ 33 برسوں سےلندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہوں لیکن میں نےایک دن کیلئے بھی تحریکی مشن ترک نہیں کیا اور ہر قسم کے نشیب وفراز کے باوجود ثابت قدم رہا۔ میں نے ایم کیوایم کے پلیٹ فارم پر متحدکرکے مہاجروں کوایسی طاقت بنادیا تھااور ایساماحول بنادیا تھا کہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں کوئی اوباش کسی خاتون پر حملہ کرناتودورکی بات ہے ،ان پرجملہ کسنے کی جرات نہیں کرسکتاتھا لیکن ایم کیوایم کےخلاف باربار کے فوجی آپریشن اورتحریک کے لوگوں کی غداریوں کے نتیجے میں یہ صورتحال ہوگئی ہے کہ آج کراچی میں دن دیہاڑے خواتین کو لوٹا جارہا ہے، ان کی چادروں پر ہاتھ ڈالا جارہاہے اور ان ڈاکوؤں کو روکنے والا کوئی نہیں ہے ۔
میں نے اپنے ساتھیوں کوشروع سے یہ آگاہ کیا تھا کہ حق پرستی کی تحریک پھولوں کی سیج نہیں ہوتی بلکہ کانٹوں کی باڑ ہوتی ہے جس پر چلنے والوں کے پیر زخمی ہوجاتے ہیں لیکن جو لوگ تمام ترمصائب ومشکلات کے باوجود اپنا تحریکی سفر جاری رکھتے ہیں، کامیابی کی منزل ان کا مقدر بن جایاکرتی ہے ۔
ایم کیوایم کے رہنماؤں نثار احمد پنہور اور انور خان ترین کی پراسرار گمشدگی انتہائی قابل تشویش ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایم کیوایم کے رہنما نثار احمد پنہور اور انور خان ترین کی پراسرار گمشدگی انتہائی قابل تشویش ہے۔ اطلاعات کے مطابق آج مورخہ 16ستمبر 2025ء کو انور خان ترین تقریباً دوپہر ڈھائی بجے نثار احمد پنہور کے گھر پہنچےتھےجہاں سے انہوں نے نثار پنہو�� کو اپنے ہمراہ لیا اور دونوں کسی تنظیمی پروگرام میں شرکت کیلئے روانہ ہوئے لیکن اس کے بعد سے دونوں لاپتہ ہوگئے، دونوں رہنماؤں کے اہل خانہ اور ایم کیوایم سیکریٹریٹ لندن کی جانب سے نثار احمد پنہور اور انور خان ترین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کے فون مسلسل بند تھےجس کے باعث ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔
اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی میں نے نثار پنہور اور انور ترین کے اہل خانہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں ہدایت دی کہ فوری طور پر 15پر دونوں رہنماؤں کی گمشدگی کی رپورٹ کریں جس کے بعد ان کے اہل خانہ نے 15پر نثار پنہور اور انور ترین کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرادی ہے۔
علاوہ ا��یں میں نےایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے وکلاء کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ نثار احمد پنہور اور انور خان ترین کی بازیابی کیلئے قانونی اقدامات شروع کردیں۔
الطاف حسین
یہ گلشن اقبال کا علاقہ ہے، موچی موڑ، گلشن اقبال ایک زمانے تک کراچی کے بہترین رہائشی علاقوں میں سے ایک ہوتا تھا، یہاں آج بھی گھروں کی قیمت کروڑوں میں ہے----
کیا کہوں اور کہنے کو، کیا رہ گیا!!
#کراچی
آج تمام تحریکی کارکنوں کو تحریک اورمجھ سےوفاداری کے حلف سے آزاد کرتاہوں
……………………………………………
آج دنیا بھر بشمول پاکستان کے تحریکی کارکنوں کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نےکہاکہ میں گزشتہ 47 برسوں سے پاکستان کے تمام محروم ومظلوم عوام خصوصاًمہاجرعوام کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کرتارہاہوں، اس حقوق کی جدوجہد میں ، میں نے دن رات کسی چھٹی کے بغیر تحریکی کام کوجاری رکھا۔ اس جدوجہد میں جہاں ایک طرف ہزاروں ساتھیوں کی شہادت، جبری گمشدگیوں کا دکھ ہے، ان کی دربدری اور بسے بسائے گھروں کے لٹ جانے اوران پر جبری قبضوں کے دردناک واقعات اوردیگرقربانیاں شامل ہیں وہاں الطاف حسین کاخاندان بھی جان ومال کی قربانیاں دینے میں کسی طرح پیچھے نہیں رہا۔سب جانتے ہیں کہ میرے 77سالہ بزرگ بھائی ناصر حسین اورجواں سال بھتیجے عارف حسین کودسمبر 1995میں گھرسے اغواکرکے تین روز تک تشدد کانشانہ بنانے کےبعد کراچی کے نواحی علاقےگڈاپ میں لیجاکرگولیاں مارکر بیدردی سے شہید کردیاگیا۔ میرے 28سالہ بھتیجے عارف حسین کے سرپر کلہاڑی کےوار کرکے دو ٹکڑےکردیے گئے۔ میرے 70سالہ بہنوئی اسلم ابراہانی کو کراچی سےگرفتارکرکے چھ ماہ تک اڈیالہ جیل میں بہیمانہ تشددکانشانہ بنایاگیااورنیم مردہ حالت میں جیل سے باہر پھینک دیاگیا اوروہ بالآخر زخموں کی تاب نہ ��اکرشہید ہوگئے۔میرے باقی بہن بھائیوں میں بھی کوئی ایسا باقی نہ بچاتھا کہ جسے گھروں پرمسلسل چھاپے پڑنے کے بعد دیار غیر میں پناہ نہ لینی پڑی ہو۔
اپنے ہزاروں ساتھیوں کی شہادت، ہزاروں گمشدہ ساتھیوں کادکھ، ہزاروں ساتھیوں کی جیلوں کی اسیری، جن میں بہت سے آج بھی جیلوں میں اسیر ہیں، ان تمام قربانیوں کے باوجود آج میں اس نتیجہ میں پر پہنچاہوں کہ میں پاکستان کےگلے سڑے فرسودہ نظام کوتبدیل کرنا توکجا، میں اپنی مہاجرقوم کو اس کےحقوق دلانے میں ناکام رہا۔ لہٰذا میں آج مورخہ 10 اگست 2025ء کو تمام تحریکی ساتھیوں بشمول سابقہ رابطہ کمیٹی، کنوینر،ڈپٹی کنوینر، تمام تحریکی کارکنوں ��و اس حلف سے جو انہوں نے تحریک اورمجھ سے وفاداری کا اٹھایاتھا، ان کےاس اٹھائے ہوئےحلف سے آزاد کرتا ہوں۔ اب وہ اپنے حلف سے آزاد ہیں، وہ جہاں چاہیں، جس جگہ چاہیں، جس کسی بھی سیاسی پارٹی کوجوائن کرناچاہیں اسے جوائن کرنے میں آزاد ہیں۔
میں جب تک زندہ ہوں، حقوق کے حصول کے لئےچلائی جانے والی تحریکی جدوجہد کو سوشل میڈیا کے توسط سے جاری رکھوں گا، کامیابی یاناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
الطاف حسین
10 اگست 2025ء
( جنرل ورکرزاجلا س سے خطاب )
خدا کے فضل و کرم سے الطاف بھائی خیریت سے ہیں اور ان سے متعل�� اڑائی جانے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ۔۔۔۔۔
برائے مہربانی افواہوں پر کان نہ دھریں اور بھائی کو اپنی دعاوں میں شامل رکھیں 🙏🏻♥️
MQM کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کو شدید علالت کےباعث لندن میں اسپتال میں داخل کیاگیا ہے،جہاں انکےمختلف ٹیس�� کئےگئےہیں۔
تحریک کےتمام کارکنوں، ہمدردوں اور مہاجروں سمیت پوری قوم سےہماری اپیل ہےکہ وہ الطاف بھائی کی صحتیابی اور درازی عمرکےلئےخصوصی دعا کریں۔
Long live Altaf Hussain
@BHAINO11 اس ملک کی تاریخ میں جتنے جھوٹے الزام لگا کر الطاف بھائی کی mqm کو بندنام کرکے ان پر مظالم ڈھایۓ گیۓ اس کی مثال نہیں ملتی، 92 آپریشن پابندی
2008 سے دوبارہ آپریشن
2016 سے پابندی
اس پر بھی یہ الزام کے اسے پھوج نے بنایا ہے
کعنت اس ملک کی اسٹبلشمنٹ پر