ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین بھائی کی 73 ویں سالگرہ
#17SepBirthdayOfAltafHussain
ایم کیو ایم ساوتھ افریقہ جہانسںبرگ یونٹ کے زیر اہتمام شاندار پروقار تقریب اور پرجوش ریلی!!
🇿🇦🇿🇦🇿🇦🇿🇦🇿🇦🇿🇦🇿🇦
مورخہ 19 ستمبر 2026 ایم کیو ایم ساوتھ افریقہ جہانسںبرگ یونٹ کے زیر اہتمام اہم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف بھائی کی 73 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک شاندار اور پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
اس تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔
تقریب میں موجود شرکاء کا جوش قابل دید تھا۔
اس تقریب جہانسںبرگ میں مقیم ہر طبقہ فکر کے افراد نے اپنی فیملیز کے ساتھ شرکت کی اور کئی موقعوں پر جناب الطاف حسین بھائی کے حق میں پرجوش نعرے بازی بھی کی۔
بانی و قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی سالگرہ کا خوبصورت کیک بھی کاٹا گیا۔
تقریب میں ایم کیو ایم کے شہید آرگنائزر یوسف بھائی کی صاحبزادی امیرہ یوسف اور سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن زکی دین محمد نے شرکاء محفل سے خطاب کیا ۔۔
جوہانسبرگ یونٹ کی جانب سے ایک شاندار ریلی بھی نکالی گئی جس میں وفا پرست کارکنان کے ساتھ ساتھ وفا پرست ہمدردوں نے بھی شرکت کی۔
یہ ریلی جوہانسبرگ کے مختلف علاقوں میں گشت کرتی رہی جس کو دیکھ کر عوام نے جوش و مسرت کا اظہار کیا
شعبہ نشرو اشاعت
ایم کیو ایم ساوتھ افریقہ
مورخہ 20 ستمبر 2026
دو نقاب پوش افراد کود کر گھر کے اندر داخل ہوئے، بڑے گملے سے دروازے کاشیشہ توڑا ۔
ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے گھر پر حملے کے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا
@metpoliceuk@10DowningStreet
I do not oppose the military; I oppose a system that is unfair and harsh. Altaf Hussain
#17SepBirthdayOfAltafHussain
I have never been opposed to individuals. My opposition is directed towards a system that is unfair and suppressive. I do not have a problem with the military. I think all nations require a military for protection, and Pakistan is no exception. However, the military is acting outside of its legal boundaries, with military personnel placed in different roles that should be occupied by civilians. The whole framework of the nation is being controlled by army leaders.
There is no true democracy in Pakistan; instead, it is controlled by the military, which holds significant power. In the UK, regular people are often unaware of who the army leader is, but here, even kids are familiar with the names and backgrounds of the army leader and other important military figures.
Army leaders take part in political matters as well. I do not oppose the military itself; I oppose their involvement in political activities. I stand against dishonest politicians, wealthy landowners, and untrustworthy army leaders. When I criticized the military and government agencies meddling in politics, people labeled me as someone against the army and a traitor to the nation. I faced backlash from Punjab, Kashmir, and the whole country.
In 1992, the Army Chief at that time, General Asif Nawaz, organized a military action aimed at the MQM.
To mislead the country, a list of 72 important targets was created. This list did not include Altaf Hussain, his siblings, or any leaders from his party, MQM. Instead, it featured Asif Zardari, close friends of Benazir Bhutto, the deceased Ghulam Mustafa Jatoi, the late Pir Pagara, and other well-known landowners. The public was informed that a military action would take place in Sindh to target serious criminals, kidnappers demanding money, and the powerful people who supported them.
I had clearly communicated my worry that the mission would truly target the MQM. My worry turned out to be accurate, and on June 19, 1992, the military action aimed at the MQM began.
Throughout the mission, it was reported that thousands of MQM members were reportedly killed without legal process, and many others were said to have vanished. Numerous missing individuals have not been found in many years and continue to be unlocated today.
The remark made by ex-Federal Interior Minister Chaudhry Shujaat Hussain is documented, indicating that MQM members were murdered and laid to rest in the Margalla Hills of Islamabad.
While the operation was happening, the army would surround whole neighborhoods, force the young and old out of their houses, take off their shirts, and gather them in large open areas like groups of livestock. Throughout this time, it was claimed that women faced mistreatment inside their homes, similar to what occurred in East Pakistan.
When the campaign against the MQM was taking place and our members were being killed, people in Punjab and Khyber Pakhtunkhwa celebrated and shouted praises for the Pakistan Army. After the events of May 9, when PTI supporters in Punjab began to be arrested, they claimed that their party was facing harsh treatment.
I believe that even a small fraction of what the MQM and the Muhajirs went through has not happened to PTI workers in Punjab. How many PTI leaders, party officials, and workers lost their lives? How many people went missing?
I aimed to transform the dishonest political system in Pakistan, and I still wish for improvements in the current way of governing. I want to free Pakistan from the powerful landowners and local rulers. I desire a system where every person has the same rights, no matter their faith or beliefs.
Altaf Hussain.
London. UK.
Public address on his 73rd birthday in London via TikTok on September 19, 2026.
جوکبھی سندھ اسمبلی میں اپنےمہاجر ہونے سےانکاری تھا
آج کہتا ہے "کراچی مہاجروں کا شہر نہیں ہے"
جبکہ
مہاجر شناخت پر اسکے چچا اسلم سبزواری نے شہادت پائی
اورمہاجر ووٹوں کی بنیاد پر اس کوایوانوں کی نمائندگی ملی تھی
ایسے احسان فراموش اور منافق کولعنت نہ دی جائے تو پھر کیا دیاجائے؟؟
ایم کیوایم نواب شاہ زون کے کارکن شاہ محمد خوجہ کی ہمشیرہ صباحمیدکے انتقال پر بانی وقائد الطاف حسین کا اظہار افسوس
دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام کارکنان، سوگاران کے غم میں برا بر کے شریک ہیں،قائد تحریک الطاف حسین
صومالی قزاقوں کے ہاتھوں مغوی پاکستانیوں کے مظلوم اہلِ خانہ پر پولیس تشدد قابل مذمت ہے، ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی
_____________________
کراچی ۔۔۔7ستمبر2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ساڑھے چار ماہ سے یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کے لیے پُرامن احتجاج کرنے والے اہلِ خانہ کی گرفتاری اور پرامن مظاہرین پولیس تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔
ایک بیان میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے کہا کہ یرغمال ہونے والے پاکستانیوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے پر امن مظاہرہ کررہے تھے اور حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کررہے تھے لیکن پیپلزپارٹی کی نسل پرست حکومت کی ایماء پر سفاک پولیس اہلکاروں نےمظلوم خواتین، بچوں اور بزرگوں کو تشدد کانشانہ بنایا، ان کے کیمپ اکھاڑ دیئے اور مظاہرین کو گرفتاری کرکے یزیدیت کی انتہا کردی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے
پر تشدد ریاستی بے حسی کی انتہا ہے۔ اپنے پیاروں کی رہائی کا مطالبہ کرنا جرم نہیں۔
سی ای سی نے وفاقی حکومت اور وزارتِ خارجہ سے مطالبہ کیا کہ مغوی پاکستانیوں کی فوری رہائی کے لیے مؤثر سفارتی اقدامات کیے جائیں اور تمام گرفتار شدگان کوفوری رہا کیا جائے۔
——-
کراچی کے عوام کوالطاف حسین کا پیغام
میرے پیارے اہلیان کراچی!
کراچی کی ماؤں، بہنوں، بزرگوں، نوجوانوں خصوصاً جین زی کی خدمت میں الطاف حسین کا سلام وآداب۔
میں اپنے تمام چاہنےوالے وفاپرست ساتھیوں سے درخواست کرتا ہوں، ساتھ ساتھ اہلیانِ کراچی سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی کراچی میں ریلی ہو یاجلسہ عام ہو، اس میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں۔
میں اپنے وفاپرست ساتھیوں اورہمدردوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ کوسہیل آفرید ی کی ریلی یاجلسہ عام میں ایم کیوایم کا جھنڈا یا بینر لے جانے کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنے کام سے بتانا ہے کہ ہم ہر اس فرد کے ساتھ ہیں جو حق اورسچ کے لئے لڑرہا ہے۔
میں اہلیان کراچی، تمام جین زی، نوجوانوں، طلبہ وطالبات سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سہیل آفریدی کی ریلی یاجلسہ میں بڑی تعداد میں شرکت کرکے بتادیں کہ اہلیانِ کراچی حق اور سچ کاساتھ دینے والے ہیں۔
بہت بہت شکریہ
والسلام
آپ کا اپنا
الطاف حسین
6 ستمبر 2026ء
2/2
میرے علاوہ عمران خان تحریک انصاف کے سربراہ ہیں، جوکہ ایک بڑی عوامی پارٹی ہے۔ لہٰذامیں سمجھتا ہوں کہ موجودہ صورتحال میں فوج کو عمران خان سے بات کرنا چاہیے، عمران خان کو جیل سے رہا کرنا چاہیے، وہ ملک کو موجودہ نازک اورسورش زدہ صورتحال سے نکالنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ عوام جن جن رہنماؤں کوسپورٹ کرتے ہیں انہیں عوام میں جانے دیا جائے، وہ شہرشہرجائیں اور رائے عامہ کودرست سمت کی طرف لے جائیں اوراس کے لئے عوامی حمایت عمران خان کےپاس ہے اور الطاف حسین کے پاس ہے۔لہٰذا فوری طور پرعمران خان کوجیل سے نکالاجائے، مجھ پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی ختم کریں اور میری ایم کیوایم کو سیاسی سرگرمیوں کی کھلی اجازت دی جائے۔
مقتدرحلقوں کوسوچنا چاہیے، ملک کے ہرعلاقے میں جوتنازعات چل رہے ہیں وہاں عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں عوامی سطح پر پڑھے لکھےنوجوان آگے آئے تھے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے دیگر بلوچ نوجوان خواتین کے ساتھ ملکر بلوچ یکجہتی کمیٹی بنائی تھی جن میں کوئی سردار نہیں تھا اور وہ عوامی ایشوز کو اٹھارہی تھیں لیکن ان کوقید کردیا گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان میں جو جنگی صورتحال چل رہی ہے اس کاحل گولی نہیں ہے کیونکہ ہر عمل کاردعمل ہوتا ہے، جب آپ کسی گیند کو جتنی شدت سے دیوار پرماریں گے تو نیوٹن کے سائنسی قانون کے مطابق وہ اتنی ہی شدت سے پلٹ کر آئےگی۔ لہٰذا بلوچستان میں فوج کشی کا عمل بندکریں۔ میں کئی بارجرنیلوں کو کہہ چکاہوں کہ میرے پاس صورتحال کاحل موجود ہے۔ ریاست کو اپنی پالیسی کوری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح جہاں جہاں فوجی آپریشن جاری ہیں انہیں فوری روک دیا جائے اور عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جماعتوں اوران کے لیڈروں کے کردار کو تسلیم کیا جائے اورانہیں اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ مصنوعی لوگوں سے حالات میں بہتری کبھی نہیں آسکے گی۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 465 ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
5، ستمبر2026ء
وزیراعلیٰ پنجاب مریم صفدرکایہ بیان کہ پنجاب کو پڑوسی ممالک سے خطرہ نہیں ہے بلکہ پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے، نفرت انگیز ہے
وزیراعلیٰ پنجاب کے اس بیان سے پشتونوں، بلوچوں اورسندھیوں کا کتنا دل دُکھا ہوگا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہل پنجاب سے میرا سوال ہے کہ کیا آپ لوگ بلوچوں، سندھیوں، پختونوں، ہزاروال، کشمیریوں، سرائیکیوں، گلگتیوں، بلتستانیوں اور وزیرستان کے عوام سے نفرت کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ محترمہ مریم صفدر نے یہ بیان کیوں دیا کہ پنجاب کو پڑوسی ممالک یعنی افغانستان، انڈیا اورایران سے خطرہ نہیں ہے بلکہ پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے؟ یہ بیان انتہائی افسوسناک ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب بی بی مریم صفدر کے اس بیان سے پشتونوں، بلوچوں اورسندھیوں کا کتنا دل دُکھا ہوگا؟ جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے تو صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی نہیں بلکہ مزاحمت ہورہی ہے۔گزشتہ دنوں بلوچستان میں فوج کے اہلکاروں کو قتل کرکے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی جو افسوسناک ہے۔ غلط عمل کسی بھی جانب سے ہو وہ غلط ہی قرار دیا جائے گا۔ اسی طرح بلوچوں کا ماورائے عدالت قتل کرنا،انہیں ہیلی کاپٹر سے پھینکنا، بلوچوں کی لاشوں کو ویگو ڈالے سے باندھ کرسڑک پرگھسیٹنے کا عمل بھی سراسر غلط ہے۔ یہ عمل اس لئے کیا گیا تاکہ بلوچوں میں خوف پھیلے لیکن ایسے عمل سے خوف نہیں بلکہ ردعمل کاجواز پیدا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچ سرمچار پنجابیوں کو ماررہے ہیں، جبکہ ایسی وڈیوزآتی ہیں کہ بلوچ سرمچار گاڑیوں میں لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں اورسویلین کوجانے دیتے ہیں۔
کشمیر میں حالیہ انتخابات کے سلسلے میں وزیراعلیٰ مریم صفدر صاحبہ کشمیر گئی تھیں اور انہوں نے انتخابی مہم چلائی تھی تو وزیراعلیٰ پنجاب کے مذکورہ بیان سے کیا کشمیریوں کے دل نہیں دُکھیں گے؟ بی بی مریم صفدر کا بیان پاکستان کے عوام میں نفرت، تعصب اورشاؤنزم اورملک میں تقسیم درتقسیم پھیلانے کے مترادف ہے۔ آئین پاکستان کی رو سے یہ عمل سنگین غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ وزارت اعلیٰ پنجاب کے منصب پر براجمان مریم صفدر کو ایسی زبان استعمال کرنے سے قبل اپنے منصب کا خیال رکھنا چاہیے، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر پاکستان کے عوام کے درمیان نفرتیں، تعصب اورعصبیتیں نہیں پھیلانا چاہیے کیونکہ اگر کسی اور صوبے کاوزیراعلیٰ،پنجاب کی وزیراعلیٰ کے خلاف ایسی ہی زبان استعمال کرنے لگے تو یقینا انہیں بھی اچھا نہیں لگے گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 466 ویں فکری نشست سے خطاب
6، ستمبر2026
پیپلزپارٹی کی رہنما اورصدرمملکت آصف زرداری کی ہمشیرہ محترمہ فریال تالپور نے سندھ اسمبلی سے اپنے خطاب میں پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ” آپ قیامت کے دن بینظیربھٹو کو کیا جواب دوگے کہ تم نے سندھ کوبیچ دیا “۔ یہ بیان افسوسناک ہی نہیں بلکہ گناہ کے زمرے میں آتا ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ”روزمحشرکا مالک اللہ تعالیٰ ہے“۔ اس روز تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ ہی کو اپنے اعمال کاحساب دینا ہے، اس روز قیامت نہ بیٹا باپ کاہوگا، نہ بھائی بہن کا ہوگا، اس روزکوئی کسی اورکوجوابدہ نہیں ہوگا سوائے اللہ کے۔ میں سمجھتا ہوں کہ محترمہ فریال تالپورکا بیان قرآن اور اسلامی تعلیمات کی روسے غلط ہے اورحکومت اور علمائے کرام کواس کانوٹس لینا چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر466 ویں فکری نشست سے خطاب
6ستمبر2026ء
صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا کیے جانے والوں کی بازیابی کے لئے کوشش کرنے اور ان کے مظلوم خاندانوں سے اظہار ہمدردی کے بجائے ان کے ساتھ یہ ظالمانہ سلوک اور گرفتاریاں انتہائی قابل مذمت ہیں ۔
ایم کیو ایم شعبہ خواتین کی رکن ارم الطافی کی پھوپھی حبیبہ بیگم اور لیبر ڈویثرن کے کارکن نسیم الحق کے بھائی نعیم الحق کے انتقال پر بانی وقائد جناب الطاف حسین کا اظہار افسوس
عسکری MQMP کا علاقوں میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ، مگر سندھ اسمبلی میں صوبوں کے مطالبے سے گریز ، سندھ کی تقسیم سے انکار ۔
سیاست ٹھیک ہے لیکن اداکاری نہ کی جائے
خود اپنی قوم کے لوگوں سے مکاری نہ کی جائے
میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کراچی آمد پر حکومت سندھ کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے اور ان کے کارکنوں کی گرفتاریاں کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ سہیل آفریدی سندھ کے دورے کے سلسلے میں گھوٹکی، میرپورخاص، خیبرپور، نوابشاہ، لاڑکانہ اور سندھ کے دیگر شہروں میں گئے تو وہاں ہرجگہ عوام نے بڑی تعداد میں ان کا شانداراستقبال کیا۔ لیکن جب وہ اپنے دورے کے سلسلے میں حیدرآباد اور کراچی آرہے تھے تو ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں، سڑکیں کھود دی گئیں، کئی مقامات پر قافلے کو روکنے کے لئے خندقیں کھود دی گئیں،جگہ جگہ سڑکوں پر کنٹینرکھڑے کردیے گئےاور کراچی میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد میں گرفتاریاں کرلی گئیں۔وہ بلاول زرداری جوسندھ کا دورہ کرنے پرسہیل آفریدی کاخیرمقدم کررہے تھے ان کی حکومت کی جانب سے سہیل آفریدی اور ان کے احباب اور کارکنوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ یہ عمل قابل مذمت ہے، یہ کیا منافقت ہے۔
لعنت اللہ علی المنافقین ۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر466 ویں فکری نشست سے خطاب
6 ستمبر2026ء
نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے جارحانہ ردعمل، سندھ اسمبلی میں اشتعال انگیز اوردھمکی آمیز تقاریر اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کوسندھو دیش کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ دینے سے یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا مستقبل میں ” تیرا دیش میرا دیش…… سندھو دیش سندھودیش“ کے نعرے گونج سکتے ہیں؟ صدرمملکت آصف زرداری جوکہ بمعہ اہل وعیال لندن میں قیام پذیر ہیں، کیا ان حالات میں وہ پاکستان واپس جائیں گے؟ آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب نے لاہور میں قومی پالیسی مکالمے کے عنوان پر ایک تقریب سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ”نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، کوئی نہیں روک سکتا، کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت یا نمائندے نہیں روک سکتے، نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم نہیں ہوگی، اسی طرح سندھ میں نئےانتظامی یونٹس بننے سے سندھی کی شناخت ختم نہیں ہوگی اور کسی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا“۔ محسن نقوی صاحب کے اس بیان پر پیپلزپارٹی کے رہنما نثار کھوڑو، ناصر حسین شاہ، امتیازشیخ اور دیگر رہنماؤں نے ردعمل دیتے ہوئے اس بیان کو سندھ میں مداخلت قراردیا ہے اور وزیراعظم سے اس بیان کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی والوں کے بیانات پر وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے ردعمل دیتےہوئےکہا ہےکہ پیپلز پارٹی پنجاب میں صوبوں کےقیام کی حمایت کررہی ہے مگر سندھ میں مخالفت کررہی ہے یہ اس کا دہرامعیار ہے۔ایک طرف پیپلز پارٹی کے رہنمااورارکان اسمبلی کے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیانات آرہے ہیں اوردوسری طرف سے وفاقی وزرا کی جانب سےجواب پر جواب دیاجارہا ہے اور آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے دھمکی آمیز بیانات کا جواب میں آج پھر واضح الفاظ میں کہہ دیا ہےکہ صوبے اور انتظامی یونٹس ہرحال میں بنیں گے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ الطاف حسین اور میری ایم کیوایم نےملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کےقیام کی بات نہیں کہی ہے بلکہ یہ بات وفاقی وزیرداخلہ اور ڈی جی ISPR کی جانب سے کی گئی ہے۔ایسے نازک وقت میں صدرزرداری اور بلاول زرداری شادی کا بہانہ بناکر ملک سے باہر نکل گئے، آسٹریا کی پرنسز گلوریا سے بلاول کے رشتے کی خبریں میڈیا پر آنے لگیں اور تین دن بعد بلاول زرداری نے وی لاگ کے ذریعے اپنی شادی یا منگنی کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہزادی گلوریا کو جانتے تک نہیں ہیں لیکن آسٹریامیں شہزادی گلوریا کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے ان کی وڈیو سامنے آگئی۔ زرداری خاندان کے لندن آنے سے اندازہ ہوا کہ کوئی بہت سیریس مسئلہ ہے اور پھر وفاقی وزیرداخلہ کے دو ٹوک مؤقف سامنے آنے سے ان کے لندن آنے کا راز بھی کھل گیا۔موجودہ صورتحال ہر گزرتے دن کےساتھ خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کے انتہائی دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات سامنے آرہے ہیں اور دوسری طرف بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے، بلوچستان میں علیحدگی کی جو تحریک چل رہی ہے وہ اس مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں بات چیت اور ڈائیلاگ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے بلوچستان کے بارے میں یہ خبرنہیں دی جبکہ سوشل میڈیا کےذریعے اطلاعات ملی ہیں کہ بلوچستان میں حالیہ واقعات میں متعدد فوجی اہلکارجاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ صوبہ KPK میں بھی لاوا اس سطح تک پہنچ گیا ہے کہ وہ کسی بھی لمحے ابل سکتا ہے۔کیا ملک ایک اور سانحہ مشرقی پاکستان کی طرف جارہا ہے ؟ارباب اختیار کو یہ تمام چیزیں سمجھنا چاہیے، اگر ایران کی طرح کسی بھی ملک کے عوام ایک قوم بن جائیں، یا عوام کی اکثریت ایک سوچ رکھتی ہو تو وہ ملک اپنی بساط کے مطابق دشمن کی فوج سے لڑسکتا ہے،آپ دشمن سے لڑ سکتے ہیں لیکن اگر گھرکے اندر مزاحمت چل رہی ہو جیسے کہ بلوچستان، KPK اور کشمیرکی صورتحال ہے، اگر کسی ملک میں اس قسم کی شورش اور مزاحمت پیدا ہوجائے تو اس کو روکنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ایسی صورتحال میں اگر سندھو دیش کا نعرہ لگ جائے تو پھر کیا ہوگا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کرنا سب کی ذمہ داری ہے، سب کو سوچنا چاہیے کہ کیا پاکستان ایک اور سانحہ مشرقی پاکستان کی طرف جارہا ہے؟ آخر ملک کےحالات کس طرف جارہے ہیں۔ میں ایک عام سیاسی کارکن کی حیثیت سے کام کرتا رہاہوں، میں نے گراس روٹ سے جدوجہد کا آغاز کیا اورملک کی تاریخ کے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان سے لیکر سانحہ اوجھڑی تک، سب کچھ دیکھا ہے۔ میں اس کےپس منظرکو بھی اچھی طرح جانتا ہوں جو آج کی نسل نہیں جانتی۔میں اگرچہ 34 سال سے جلاوطن ہوں لیکن مختلف محاذوں پر کڑے سے کڑے حالات کا سامنا کرچکا ہوں۔ اسلئے آج کے حالات میں جتنا تجربہ مجھے ہے اتنا آج کسی سیاستداں کونہیں ہے۔
1/2
7 ستمبر 1974 کو آئین کی دفعہ 260 میں یہ الفاظ شامل کئے گئے “ہر فرد جو حضور صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کے بعد کسی مدعی نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہووہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں” یہ ایک متفقہ آئینی ترمیم تھی مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہ آیا