اس ہفتے کی تین خبریں۔
1- خطے میں پاکستان غربت میں سب سے آگے۔
2- بھوک غذائی قلت میں بھی پاکستان بھارت ، بنگلہ دیش سرلنکا سے آگے۔
3۔ پاکستان مقروض ممالک کے گروپ کا سربراہ مقرر۔
تفصیل کلپ میں۔
اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل کمرشل فلائٹ پر پاکستان پہنچے، اپنا سامان بھی خود اٹھایا ہوا تھا، نہ کوئی لمبا چوڑا وفد ساتھ تھا، اس سےپہلے ناروے کی وزیرخارجہ بھی ایسے ہی پاکستان پہنچے تھے، بدقسمتی سے قرضوں میں ڈوبے ہمارے ملک کی حکمران اشرافیہ کفایت شعاری کی بات تو کرتی ہے ،عمل نہیں۔
Former Prime Minister Imran Khan in an interview from 14 years ago, after the 18th constitutional amendment, had highlighted how it is against the very spirit of democracy and an attack on the independence of judiciary if govt/politicians appoint judges.
What he said back then rings true and is very pertinent even today as the same characters are again trying to make the judiciary subservient to the executive.
As he rightly asks:
"Collective wisdom or collective interest? Self interest?”
The nation knows that they have done this draconian 26th amendment for their own political interests, not for Pakistan or democracy.
اگر لندن سے ڈاکٹر بلا کر علاج کروایا گیا تو کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں موجود عمران خان کے ذاتی معالج کو رسائی نہیں دی جا رہی۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ لانگ مارچ شروع ہوچکا، عمران خان کی تینوں بہنیں جیل میں ہیں، اور حکومت مسلسل ایمرجنسی لگانے کا عندیہ دے رہی ہے!
یہ کہنا کہ مذاکرات میں صرف سکیورٹی سےمتعلق معاملات پر بات ہوئی، تھوڑا سمجھ سے بالاتر ہے، سیاسی لوگ تو سیاسی بات ہی کرینگے۔سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانا گیا لیکن یہ دعویٰ کیا جا رہاہےکہ 99 فیصد مطالبات مان لئے گئے تھے! دہشت گردی پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ افتخار احمد صاحب سے گفتگو
پاکستان میں کروڑوں افراد ذہنی امراض سے متاثر، لیکن علاج سے محروم۔ ذہنی امراض کے علاج کی مناسب سہولیات کے ساتھ، آگاہی اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔
A thought-provoking reminder by Dr. Israr Ahmed R.A.: “Who will be my helper?” Reflect on your role in serving Islam and sharing its message.
۱۔ منہج انقلابِ نبوی
PDF LINK : https://t.co/nAuQJWkbyg
۲۔ رسولِ انقلابﷺ کا طریق انقلاب
PDF LINK : https://t.co/W9llZ2wxdF
۳۔ پاکستان کے وجود کا لاحق خطرات وخدشات اور بچاو کی تدابیر
PDF LINK : https://t.co/5tRiOyPmMO
۴۔ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اسلام اور پاکستان کا مستقبل
PDF LINK : https://t.co/Baycllo2jc
۵۔ خطبات خلافت
https://t.co/mU12x3rO52
۶۔ استحکامِ پاکستان
PDF LINK : https://t.co/xhDNcWm2T3
۷۔ فرائض دینی کا جامع تصور
PDF LINK : https://t.co/EjNvuBMwYX
۸۔ اسلامی نظم جماعت میں بیعت کی اہمیت
PDF LINK : https://t.co/8KUqe59VmZ
ایمر جنسی/گورنر راج مستقل حل نہیں،فارورڈ بلاک کے ذریعے سہیل آفریدی کی حکومت گرائی جاسکتی ہے.وہ فارورڈ بلاک کدھر ہے جس کی خبریں دو سال سےTV پرکچھ دوست دے رہے ہیں۔کیا انھیں ثقافتی میلے پر خٹک ڈانس کے لئے رکھا ہوا ہےحقیقت یہ ہےکہ ایمرجنسی/گورنر راج آسان فیصلہ نہیں@SuzainjehanKhan
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
(نوٹ: یہ ٹویٹ یکم جولائی 2025 کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے)
”جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے“