پی ٹی آئی ایک دہشت گرد جماعت ہے جو یونیورسٹیاں بناتی ہے۔ صحت کارڈ پر مفت علاج دیتی ہے۔ جس کا بانی تین بڑے کینسر اسپتال بناتا ہے۔ لنگر خانے اور پناہ گاہیں بناتا ہے۔۔
چار دن ہو گئے ایمرجنسی اور گورنر راج کو ، ایک بھی دہشت گرد نہیں پکڑا اب تک! البتہ وزیر اعلی ، اسپیکر، صوبائی صدر پی ٹی آئی سمیت درجنوں عہدیدار اور سینکڑوں کارکن حراست میں لئے گئے ہیں۔ پھر کہتے ہیں سیاسی وجوہات نہیں تھیں اس اقدام بھی ۔۔ جھوٹ بوکو اور بے شرم ہو کر بولو!
خیبر سے ایک وزیر اعلی ملا تھا ۔ لوگ اس کے ساتھ خوش تھے۔ اس کے ساتھ جھومتے تھے ۔ اسے چومتے تھے۔۔ وہ کہہ رہا تھا اس کے پاس امن کا فارمولا ہے۔۔ اس کی سن لینے میں کیا حرج تھا؟
ایک نیا پنگا لے لیا ہے اور اس کا اتنا نقصان ہو گا، کہ یہ دو چار دن بعد سمجھ جائیں گے کہ غلطی کر بیٹھے ہیں، بلکہ میرا خیال یہ ہے کہ پشاور کے حالات دیکھ کر آج ہی طاقت کے ایوانوں میں صفحہ ماتم بچھی ہو گی، عمران خان جیل میں ہے لیکن عمران خان کے بعد اگر کوئی سیاستدان ہیرو بنا ہے تو وہ سہیل آفریدی ہے، جتنی جرات کا مظاہرہ سہیل آفریدی نے کیا ہے وہ قابل تحسین ہے، مولانا قاری زوار بہادر
اگر انصاف نہیں دینا تو بتا دیں، اگر ایمان اور ہادی کو قتل کرنا ہے تو بھی بتا دیں، ہم ان جھوٹی عدالتوں میں آنا چھوڑ دیں۔ دہشت گرد پکڑے نہیں جاتے، انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں پر دہشت گردی کے مقدمات بنا دیے جاتے ہیں، ڈاکٹر شیریں مزاری
وفاق کی منافقت کھل کر سامنے آگئی ، عوام یاد رکھے ان کا مقصد دہشتگردی سے نمٹنا نہیں تھا پی ٹی آئی کی منتخب حکومت گرانا تھا ۔ دہشتگردی کے خلاف پولیس کو کو سامان چاہئے تھا جس کی پیمنٹ مہینوں پہلے ہوچکی تھی وزیراعلی سہیل آفریدی نے بار بار ریکوئسٹ کی کہ ہماری پیمنٹ ہوچکی ہمیں سامان فراہم کیا جائے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور آج گورنر راج لگے ابھی 24 گھنٹے نہیں ہوئے تھے کہ وہ سامان خیبرپختونخوا پہنچا دیا گیا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ مقصد دہشتگردی سے نمٹنا نہیں بلکہ تحریک انصاف کی منتخب حکومت کا خاتمہ کرکے اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل تھا۔
#گورنر_راج_نامنظور
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
Sohail Afridi, the elected Chief Minister of Pakistan’s Khyber Pakhtunkhwa province, has been taken into custody, handcuffed and abducted straight from the CM House
Where is the UN Human Rights Organization now? I think @UNHumanRights is only interested in Indian affairs 😏
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
Governor Rule:This is an attack on democracy wrapped in constitutional cover.We must distinguish between the serious security/terrorism challenges in KP& dispute with federal gov.situation in KP is a serious test of constitutional system & federalism. @skynewsarabia@SkyNews
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
گورنر راج اور ایمر جنسی سے جڑی تلخ تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی بجائے ماضی کی غلطیوں کو دہرایا جا رہا ہے۔ گورنر راج کے نام پر ایک سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ختم نہیں ہو گی۔ شہباز شریف کی حکومت عمران خان فوبیا کی قیدی بن چکی ہے۔ یہ قیدی حکومت پاکستان کو سول آمریت کی طرف دھکیل چکی ہے۔ اس حکومت کو عمران خان فوبیا سے رہا ہونا ہے اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔
https://t.co/eYcct47Z8z
Either you surrender or you fight for your freedom till death.
What will we do? My belief is La Ilaha Illallah there is no God but one, and we will fight!
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔
وفاقی وزرا کی ساری پریس کانفرنس جھوٹ کا پلندہ تھی۔ مہر بخاری صاحبہ نے سہیل آفریدی کے ساتھ جو گفتگو بتائی ہے اس سے بھی تاثر ملتا ئے کہ وہ پر امید تھے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا اور معاملہ حل ہو جاۓ گا۔ اور اب مولانا نے پورا ہی بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔
مبارک ہو۔۔ صدر آصف علی زرداری نے صوبوں میں گورنر راج یا ایمرجنسی) لگانے کی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ فروری 2009 میں پنجاب میں گورنر راج لگایا۔ جنوری 2013 میں بلوچستان میں گورنر راج لگایا۔آج خیبرپختوںخواہ میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔ اس سے پہلے ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو بھی اپنے ادوار میں گورنر راج لگا چکے ہیں۔۔۔
"آج واقعی بھٹو زندہ ہو گیا۔ مگر یہ بھٹو 1973 کے آئین والا بھٹو نہیں ہے، یہ 1970 والا بھٹو ہے جس کے اوپر الزام ہے کہ اس نے بنگلہ دیش کے عوام کا مینڈیٹ مسترد کیا
اور اس کے مینڈیٹ کو چوری کرکے وہاں پہ فوجی آپریشن کی حمایت کی اور اس کے بعد پھر ملک ٹوٹ گیا" سینئر صحافی مطیع اللہ جان
#مینڈتٹ_چور_بیشرم_لوگ
سہیل آفریدی
Arrested but not defeated
گورنر مالک مشرقی پاکستان میں بھی راج کرتا تھا، مگر آخر اُسے اپنی جوتی چھوڑ کر وہاں سے بھاگنا پڑا۔ پھر بھاگتا ہوا پکڑا گیا اور جیل میں اُسے موت آ گئی۔ اُس کے پیچھے جو فوج تھی، اُسے کیسے سرنڈر کرنا پڑا، وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔
ملک کے حالات تو خراب ہیں، مگر اُس سے بھی زیادہ عاصم منیر کے حالات خراب ہیں۔ پاکستان کے ہر شہر کے ہر جنکشن پر پولیس تعینات ہے۔ اتنا ڈرا اور خوف زدہ کسی فاشسٹ ڈکٹیٹر کو نہیں دیکھا۔