لوگ صرف قبروں میں نہیں بلکہ ارد گردِ حالات میں بھی دفنائے ہوئے ہوتے ہیں کسی ایک کا بھی ہاتھ پکڑ کر نکال سکیں تو ضرور نکالیں ایسا کرنے سے یقین کریں آپکو دو بھرپور زندگیاں جینے کا لطف آئے گا۔
یہ جوتا تھانے میں بیٹھے سائل کے منہ پہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے منہ پہ مارا گیا ہے یہ جوتا اس گندے گلے سڑے بدبودار نظام کے منہ پہ مارا گیا ہے ۔۔۔ کیا یہ نظام کبھی بدل پائے گا ۔۔۔ ؟
گزشتہ ایک ہفتے میں تین عورتیں اپنے ہی سگے بھائی باپ اور شوہر کے ہاتھوں پاکستان میں قتل ہوئیں کیا یورپ میں اس طرح کے واقعات کبھی ہوے عورتوں کا مقام صرف امریکہ اور یورپ میں ہی ہے۔
جب موجودہ حالات میں شیخ الاسلام صاحب بھی ناامید نظر ارہے ہیں ، تو مریدوں اور شاگردوں کوکیا ضرورت ہے کہ جان کھپائے مسجدوں اور خانقاہوں میں آرام سے بیٹھ کر بلکہ لیٹ کر اللہ ہو اللہ ہو کی ورد کرکے امام مہدی کا انتظار فرمائے ۔😏
مفتی تقی عثمانی صاحب ایک دن درس دے کر نکلے کہ پیچھے ایک چھوٹی کلاس کا پٹھان طالب علم دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا، تقی صیب دل چاہتا اے آپ کو چائے پالائے لیکن آپ مصروپ آدمی ہے اور وقت امارے پاس بھی نہیں یہ دس روپے لے لو سات کا چائے تین کا بسکت اماری طرپ سےتقی صاحب فرماتے ہیں۔
اس سے زیادہ پر خلوص تحفہ مجھے کبھی
کسی نے نہیں دیا۔۔۔
اور وہ نوٹ آج بھی ان کے پاس محفوظ ہے۔ ❤️
یہ لوگ راشن کی لائن میں نہیں لگے، بلکہ اس ’’نمونے‘‘ سے صحت یابی لینے آئے ہیں،
جو خود ہڈیوں اور جگر کے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ اور اس کا علاج باقاعدہ ہسپتال میں ڈاکٹروں سے کرتا ہے
کسی نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ “ برصغیر میں اگر کسی چیز کی منصفانہ تقسیم ہوئی ہے تو وہ جہالت ہے
جب غریب روٹی چوری کرتا ہے تو قانون اسے مجرم کہتا ہے،
جب دولت مند کروڑوں کی محنت چوری کرتے ہیں تو قانون اسے ملکیت/مالک کی سرمایہ کاری اور قابل احترام کاروبار کہتا ہے° پنجرہ قانونی ہے کیونکہ جیلر کے پاس اس کی چابیاں ہیں🔑🗝️
(کارل مارکس)