ایک پل میں ایک صدی کا مزہ ہم سے پوچھئے
دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھئے
بھولے ہیں رفتہ رفتہ انھیں مدتوں میں ہم
قسطوں میں خودکشی کا مزہ ہم سے پوچھئے
#Team_Defenders
اگر آپ کو تین آپشنز دیئے جائیں کہ جنگ بندی کروا دیں
عمران خان کو رہا کریں یا معیشت ٹھیک کر دیں تو آپ کیا کریں گے؟ ثمینہ پاشا کا سوال
میں عمران خان کو رہا کر دوں گا وہ جنگ بھی رکوا دے گا اور اکانومی بھی ٹھیک کر دے گا
اطہر کاظمی کا جواب 🔥
میں بھیکاری بن گیا ہوں ، میں لوگوں سے پیسے مانگتا ہوں تو گزارا ہوتا ہے ، میرا گھر بک گیا آج کرائے کے گھر آ گیا ہوں میں خیرات بانٹنے والا تھا آج خیرات لیتا ہوں میرا بیٹا میرا بازو تھا جس دن سے اسے اٹھایا ہے میں معاشی طور پر صفر ہو گیا ہوں 21 مئی 2023 کو بیٹے کو اٹھایا گیا 27 مئی کو بیٹے کی ٹکٹ تھی بیٹا روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک جا رہا تھا ٹکٹ گیا ویزا گیا لاکھوں گئے لیکن بے گناہ تھا بیٹا خدا کی قسم بیٹے نے کچھ کیا ہے تو اس بیٹے کو زندگی میں نہیں ملوں گا لیکن خدا کے واسطے بیگناہ سزا نا دیں ۔
کارکن منشور بھٹی کے آرمی ملازم والد کی دوہائیاں (گوجرانولہ 51)
لگتا ہے پہلے ملک ریاض کے پیچھے پڑے زبردستی جائیداد ہتھیانے کے لئے اب کانسٹیوشن ون میں بھی ایسا ہی معاملہ لگ رہا ہے۔
مطلب ہر ایسا کام کرنا ہے جس سے کوئی انوسٹ کرنے مت آئے۔ حیران کن صورتحال۔
”پہلے تم نے ڈی چوک میں پی ٹی آئی کارکنان کو گولیاں ماریں، پھر ٹی ایل پی والوں کو اور پھر اہلِ تشیع کو گولیاں ماریں، تاریخ گواہ ہے جب فوج اپنی عوام کے خلاف بندوق اٹھاتی ہے تو فوج ہار جاتی ہے ، آپ سندھ ،بلوچستان، سرائیکی، پنجابی ، پختون، کشمیری کو ان کے وسائل کا پہلے حق دے دیں اس کے بعد بھی اگر وہ بندوق اٹھاتے تو ہم آپ کے ساتھ مل کر ان کے خلاف بندوق اٹھائیں گے“۔ محمود خان اچکزئی
عمران خان صاحب کا پاکستان میں جہاں جلسہ ہوتا یہ اس میں لازمی جاتا تھا۔ تین سال سے قید ہے اس کے باپ کو اس کے روگ میں ٹی بی اور مجھے کالا یرقان ہوچکا ہے۔ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ آج بھی عمران خان کو سپورٹ کررہے ہیں۔ ہم نے اللہ پہ فیصلہ چھوڑ دیا ہے۔ ہمارا انصاف اللہ کرے گا۔
9مئی فالس فلیگ آپریشن: گوجرانوالہ سے بے جرم پابند سلاسل اعجاز احمد کی والدہ کی گفتگو
#Gujranwala51
غلطیاں اور غلط فہمیاں
ماہرنگ بلوچ کو گرفتار کیا گیا تو غلط فہمی ہوگئی کہ عالمی تنظیموں اور حکومتوں کا دباؤ فوج کو انہیں رہا کرنے پر مجبور کردے گا۔ یہی غلط فہمی ایمان مزاری کی گرفتاری کے وقت بھی ہوگئی، کہ ان کے روابط اور ان کا اثر جس سوسائٹی میں ہے وہ ان کے لیے کوئی نا کوئی رستہ نکال لے گی۔ ایسا نہیں ہوسکا۔ اس غلط فہمی پر افسوس ہے۔
یہ سب غلط فہمیاں بے سبب بھی نہیں ہیں۔ جانے پہچانے وکیل افضال عظیم پاہٹ کی سزا معطل ہوگئی ، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کی سزا معطل نہیں ہوسکی۔ کیونکہ انکی وکلاء برادری نے ان کے لیے کوئی نا کوئی رستہ نکال لیا اور عدالتیں بھی ایک متحرک وکیل رہنما کے لیے ڈھیلی پڑ گئیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ذاتی طور پر اس چیز سے کوئی اختلاف ہے۔ جسے جو گنجائش ملتی ہے لینی چاہیے۔ ہم لوگ جنگجو نہیں ہیں جو ماریں کھاتے رہیں۔
غلط فہمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ غلط فہمی بھی ہم میں سے کئیوں کو ہوگئی تھی کہ جس طرح کی حمایت جوبائیڈن کی جانب سے فوج کو میسر ہے شاید شاید شاید ٹرمپ کے آنے سے وہ میسر نہ رہے گی۔ کیونکہ امریکی الیکشن مہم میں ٹرمپ نے بار بار نہی جنگیں شروع نہ کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ نے خطے میں جنگ نہ لڑنی ہو تو امریکہ کو پاکستانی فوج کی کوئی ضرورت نہیں اور امریکی حمایت نہ ہو تو فوج پاکستان پر آدھا گھنٹہ بھی قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتی۔
غلط فہمیوں کے سلسلے دراز تھے ، دوطرفہ تھے ۔ ابتدائی دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے فوج کو اور عاصم منیر کو خوفزدہ کرنے کے لیے عمران خان کی رہائی کے مطالبوں پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹس بھی کیں۔ یہاں ٹرمپ کو غلط فہمی تھی کہ شاید انہیں ڈرانے کے لیے کوئی بہت زیادہ دباؤ ڈالنا پڑے گا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ وہ دروازہ ہے جہاں کنڈی نا کھڑکا سوہنیا سدھا اندر آ والا حساب ہے۔
اب اسی طرح فوج غلط فہمیوں کا ٹرک لادے عمران خان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ ملک ٹھیک کردیں والی غلط فہمی نکل گئی، سرمایہ کاری لے آئیں گے والی غلط فہمی نکل گئی ، ریڈ لائن والی غلط فہمی اڑ گئی ، عوام ہمارے ساتھ ہیں والی غلط فہمی جاتی رہی ، الیکشن مینج کرنے والی غلط فہمی جاتی رہی۔ ہم مقبول ہیں والی غلط فہمی نکل گئی۔ اب ایک خبط عظمت بچا ہے۔ وہ نہیں جاتا۔ سطحی لوگوں کا تو بالکل بھی نہیں جاتا۔ لیکن ایک دن ایک آخری غلط فہمی ہے وہ ضرور جاتی رہے گی۔
غلط فہمیوں کا یہ سلسلہ صرف ہمارے اور فوج تک محدود نہیں تھا۔ بڑے بڑے سقراط ، بقراط ، دانشور ، تبصرہ پاڑ ایسے ننگے ہوئے کہ ہمیں شرم آنے لگی ، انہیں نہیں آئی۔ جب انہیں مزید برہنہ دیکھا تو گھن آنے لگی۔ جو فوج کے بندے بتائے جاتے رہے وہ جلاوطن ہیں ، وہ اذیتیں بھگت رہے ہیں ، ان پر ہر طرح کی سختیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ جو فوج کے مخالف اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بتائے جاتے رہے وہ فوج کی بغلوں سے چپکی ہوئی میل ثابت ہورہے ہیں۔
تھوڑا سا فرق ہے ، ہماری غلط فہمیاں نکلتی جارہی ہیں لیکن ہم انکی غلط فہمیاں نکالے جارہے ہیں۔
قائد انقلاب نواز شریف کی وراثت۔
بے نظیر بھٹو کی گندی تصویریں جہازوں سے پھینکوانے والا۔ بینظیر بھٹو کو پیلی ٹیکسی کہنے والا۔ بینظیر بھٹو کو انگریزوں کے کتے نہلانے والی عورت کہنے والا۔آڈیوز اور ویڈیوز رکھنے والوں کی اپنی بیٹی کی زبان چیک کریں۔جیسا باپ ویسی بیٹی۔
موجودہ دور میں جب ہر قانون اور عدالت مذاق بن کے رہ گئے ہیں ، سخت ترین قوانین لاگو کر دئیے گئے، ہر عدالت میں ٹاؤٹ بٹھا دئیے گئے ہیں، پھر بھی لوگوں کو اغوا کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری ایجنسیوں میں ذہنی مریض اور مجرمانہ ذہبیت کے لوگ بھرے ہوئے ہیں جو صرف اپنی بدمعاشی دکھانا چاہتے ہیں
'تین سال سے بے گناہ میرا بیٹا جیل میں ہے، اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔ عمران خان سے بہت پیار کرتا تھا'، 'عمران خان سے محبت کے جرم میں آج تین سال سے میرا بھائی بے جُرم قید ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ حق سچ کی راہ میں ہمارا بھائی قربانی دے رہا ہے'۔ 9مئی کیس میں، گوجرانوالہ سے قید پی ٹی آئی ورکر ملک ایاز کے بھائی اور والدہ کی گفتگو
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
باپ کو ٹی بی ہو گئی ماں کو کالا یرقان ہو گیا ہے اور بیٹا ناحق قید میں ہے کوئی بات نہیں ہم عمران خان کے ساتھ ہی رہیں گے ہمیشہ
والدہ ناحق قید کارکن اعجاز احمد ( گوجرانولہ 51)
محسن نقوی اور شریف خاندان کے درمیان جیسے ہی تنازعہ کھڑا ہوا اس بہروپیے کو آئین اور جمہوریت یاد آ گئی
ابصار عالم کو صحافی کہنا صریح دھوکا ہے یہ شخص دراصل شریف خاندان کا باقاعدہ ملازم ہے ایک ایسا بیانہ فروش جو سچ نہیں شریف خاندان کے مفادات کو مدنظر رکھ کر بولتا ہے
اس کا دوغلا پن اس حد تک واضع ہے جب ایک کام شریف خاندان کے حق میں ہو تو اسے ریاست کا مفاد قرار دے دیتا ہے اگر وہی عمل شریف خاندان کے خلاف جاتا ہو تو اسے فوراً جمہوریت آئین قانون یاد آ جاتا ہے یہ اصول نہیں کھلی غلامی ہے
یہ وہی شخص ہے جس نے محسن نقوی اور عاصم منیر کے ہر ظلم، زیادتی اور غیر آئینی عمل کا ڈھٹائی سے دفاع کیا
چاہے وہ اسلام آباد کا قتل عام ہو جس میں اس شخص نے PTI کے کارکنان پر جھوٹا الزام لگایا کہ انہوں عمارتوں سے تین یا چار پولیس والے نیچے پھینک کر قتل کر دیے ہیں یہ اس بدبخت کا ایسا جھوٹا دعوی تھا جو اسلام آباد پولیس نے خود بھی نہیں کیا تھا
جب PTI کے املاک گراۓ گئے، گھروں کو مسمار کیا گیا ریاستی جبر کیا گیا تو یہ شخص ان کا جواز پیش کرتا رہا ہے ایک PTI کے MNA امتیاز کا گھر گرایا جانے پر اس شریف خاندان کے ملازم نے کہا اگر ریاست سے ٹکراؤ گے تو ریاست بھی تمہیں جواب دے گی اس MNA کا قصور پریس کانفرس نہ کرنا تھا
آج اسلام آباد اپارٹمنٹس کا تنازعہ اس کے پسندیدہ سیاسی کیمپ کے خلاف جا رہا ہے تو اس ضمیر فروش کی چیخیں نکل رہی ہیں
ابصار عالم ایک صحافی نہیں شریف خاندان کا گھریلو ملازم ہے، اس شخص کے لیے نہ آئین کی کوئی حثیت ہے، نہ جمہوریت کی نہ سچ کی، اس کے لیے صرف ایک چیز اہم ہے شریف خاندان کی خوشنودی
باقی سب اس کے لیے الفاظ ہیں جسے موقع کے مطابق استعمال کر لیتا ہے
100 days of judicial shame!
Armed with law and with force of logic and reason @ImaanZHazir and @AdvHadiali were the beloved royal couple and armed forces of the poor and the suppressed. Their appeals against unjust and illegal convictions ought to be urgently heard by the Islamabad High Court and the Supreme Court of Pakistan. Their illegal, malafide and speedy conviction warranted legal, bonafide and speedy appellate process as well. The judges must act fast to rescue two honourable members of the bar. The least they can do is to fix the appeals and start a hearing.
The 100 days of two lawyers incarceration and judicial in-activism will always haunt the Chief Justices of the Islamabad’s high and supreme courts of Pakistan. It’s about time that the Supreme Court puts a halt to its cheap publicity seeking press releases and starts doing a job which comes with unprecedented perks and privileges.
#HearImaanHadiAppeals
#ReleaseImaanAndHadi
ہمارے ادارے،عدالتیں اور سرکاری لوگ عمران خان کو سمجھ ہی نہیں سکے، وہ سمجھتے بھی کیسے؟؟ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ جب وہ وزیراعظم تھا تو اُس کے بنی گالا والے گھر کا بجلی کا بل دو لاکھ اسی ہزار آگیا تو اُس نے خود فون کرکے ایس ڈی او کو بلا کر کہا کہ ” بل بہت زیادہ آگیا ہے،اس کی قسطیں کردیں“ ایس ڈی او حیران تھا کہ یہ وزیراعظم پاکستان ہے اور ذاتی گھر کے بجلی کے بل کی قسطیں کروا رہا ہے،دراصل سرکاری لوگوں نے ایسا وزیراعظم دیکھا ہی نہیں تھاکیونکہ یہاں تو وزیراعظم ایسی باتیں کرتے ہی نہیں تھے ، یہاں تو حکم ہی کچھ اور ہوتا تھا۔
اس سے بڑا کوئی مذاق ہوسکتا ہے!شاہراہ دستورپر واقع نمبر1عمارت غیر قانونی ہے!!ریاستی مشینری کے بغل میں،سپریم کورٹ،ہائی کورٹ، پارلیمان،وزیراعظم،صدر آفس،سے چند سو گز کے فاصلے پر اتنی بڑی غیرقانونی بلڈنگ کیسے بن گئی!کسی سرکاری اہلکار سے پوچھا؟اندازہ لگائیں باقی ملک میں کیا ہو رہا ہوگا
میرے دماغ پر اثر پڑ گیا ہے tension سے ذہنی اثر ہو گیا ہے میرا شوہر جیل میں بیمار ہو گیا ہے دوائیاں جیل بیجھتی ہوں میرے شوہر نے جیل سے بیٹھ کر دوستوں سے فیکٹری والوں سے قرضے لیے ہیں گھر چل رہا تھا اب تعاون کرنے والا بھی کوئی نہیں زندگی میں جو فرق پڑا ہے وہ کوئی نہیں جان سکتا جج عورت تھی تسلیاں دیں لیکن جا کر 5 سال سزا دی عمران خان سے محبت اتنا جرم۔تو نہیں ہے ۔
اہلیہ آصف اقبال (گوجرانولہ 51)