مسلمان'پاکستانی'پنجابی
عظیم خوشحال پرامن پاکستان
تعلیم'صحت'انصاف سب کے لیے
میرا یہاں مقصد اپنے علاقے خوشاب کے مسائل کو اجاگر کرنا ھے۔
Retweet not endorsement
میں نے آج اپنے علاقے کے دو ٹرانسفارمرز ٹھیک کرائے، دونوں پیسے دے کر ٹھیک کرائے، ندیم افضل چن
آپ نے؟ ندیم افضل چن نے؟اجمل جامی کا حیرت سے سوال
یقین مانیں، زرعی انتقال کرایا والد کے نام پر، میں نے ابھی بھی رشوت دے کر کرایا ہے، ندیم افضل چن
اخے سی پیک فتنے نے تباہ کر دیا تھا تو اب پاکستان کبھی ماں نہیں بن سکتا تو وہ والی بجلی تو فالتو پڑی ہوئی ہےاسی وجہ سے تو بجلی مہنگی ہے۔
نارمل انسان: پھر شہروں میں دو یار لوگوں کو بجلی؟
اندھ بھگت: اقتصادی ترقی کی رفتار اتنی تیز، گھر گھر اے سی، تاروں میں سے نہیں گزر سکتی اتنی بجلی۔
آئی ایم ایف اسپیکر کی تنخواہ 13 لاکھ کرنے کی اجازت دیتا ہے، پنجاب کابینہ کی تنخواہ 700 % بڑھانے کی اجازت دیتا ہے، بعد از ریٹائرمنٹ 2 ہزار مفت یونٹ، ہزار لیٹر پیٹرول کی اجازت دیتا ہے، اربوں کے گورنمنٹ ہاؤسز بنانے کی اجازت دیتا ہے
بس جہاں عوام کو ریلیف ملے وہاں IMF غصہ کر جاتا ہے
آج ہلکی ہلکی سی بارش اور اس سے بھیگتی ہوئی مٹی کی خوشبو کو انجوائے کرتے ہوئے مجھے اپنے 29 سالہ پھیپھڑے کے کینسر سے متاثر مریض کا خیال آیا جو یہ خوشبو اس لیے انجوائے نہیں کر سکتا کیونکہ وہ ہر سانس کے لیے آکسیجن ماسک کا محتاج ہو چکا ہے۔ یہ نوجوان جس نے سگریٹ سمیت آج تک کسی نشے کو نہیں چھوا، بدقسمتی سے تشخیص کے وقت ہی چوتھی اسٹیج پر تھا۔ ہم نے علاج شروع کیا ہے اور اللہ اسے شفاء کے طلبگار ہیں۔
لیکن پیغام یہ ہے کہ ہمارے یہاں موجود پولوشن (آلودگی) صرف اس نوجوان ہی کی نہیں بلکہ ہماری پوری نسل کی جوانیاں، صحتیں اور زندگیاں کھا رہی ہے۔ ابھی کچھ ہفتوں بعد ہم پھر سے سموگ کے حصار میں پہنچنے والے ہیں جو محض ہوا میں موجود آلودگی کی نظر آنے والی قسم ہے۔ ورنہ پورا سال ہوا کی کوالٹی یہی ہوتی ہے۔ یہ کینسر کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے کے دیگر عارضوں بلکہ شوگر اور دل کے مسائل کو بھی کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ ہمارے ہر سانس کے ساتھ یہ زہر ہمارے اندر اترتا ہے۔
اگر ارباب اختیار اس سے غافل ہیں تو انہیں جگانے کے علاوہ ہم سب اپنے اپنے حصے کی شمع جلائیں۔ سگریٹ سے مکمل پرہیز کے ساتھ ساتھ بجلی و توانائی کا ضیاع کم کریں، پبلک ٹرانسپورٹ سائیکل اور واکنگ کی عادت اپنائیں، ہوا کی کوالٹی کے مطابق (خصوصاً بزرگ) ماسک استعمال کریں، فصلیں جلانے اور زیادہ دھواں پیدا کرنے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے بچے بارش سے گیلی ہونے والی مٹی کی خوشبو آکسیجن یا این ۹۵ ماسک کے بغیر محسوس کر سکیں۔۔
تحریر: ڈاکٹر عزیر
BREAKING:
Israel is burning the olive groves of Yaroun in South Lebanon.
One of the oldest villages on Earth.
A 3,000-year-old village.
This is an act of ecocide.
پنجاب کی تقسیم سے زمین تو وہیں اور وہی رہے گی لیکن متحدہ پنجاب میں جو کسان کی اس مرتبہ درگت بنی ہے، گندم کا جو بحران تجربہ کاری کے سبب پیدا ہوا ہے جس میں گندم کھانے والے بھی بھریں گے اور گندم اگانے والے بھی بھریں گے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال لاہور کے لیے 1988 سے 1994 تک فنڈ ریزنگ کی، 29 دسمبر 1994 کو افتتاح ہوا،
مبشر لقمان صاحب جس Nissan Sunny گاڑی کا ذکر فر رہے ہیں، اُسکا فیول ٹینک 50 لیٹر کا ہوتا تھا، اور 1988 سے 1994 تک پاکستان میں فیس لیٹر پیٹرول کی قیمت 11 سے 14 روپے ہوتی تھی،
اگر متعلقہ گاڑی کا 50 لیٹر کا ٹینک فُل بھی کروایا جاتا تو بھی فی لیٹر پیٹرول کے حساب سے محض 700 روپے بنتا ہوگا، لیکن مبشر لقمان صاحب کے مطابق عمران خان نے فری کا 3000 روپے کا فیول ڈلوا لیا،
یہ ساری کہانی سُن کر مجھے وہ واقعہ یاد آگیا کہ
" منجی دیو نا دیو لیکن ترتیب تے سِدھی رکھو "
1. Pakistan spent Rs14.4 trillion on development over four budgets.
2. Yet schools remain broken.
3. Hospitals overcrowded.
4. Municipal services failing.
5. Faces change.
6. Cabinets change.
7. Ministers change.
8. The incentives do not.
My column in The News:
“A system not designed to deliver”
https://t.co/dtIXSA6999
اس نوجوان کو اپنوں سے ملائیں۔۔۔!!
اس نوجوان کو اپنا نام راشد یاد ہے اور والد کا نام محمد صدیق۔
مادری زبان سرائیکی ہے۔
راشد کا کہنا ہے کہ آج سے بیس بائیس سال قبل مجھے میرے والد نے کسی گھر میں کام پر رکھا تھا۔ میں کام سے بھاگ جایا کرتا تھا۔ ایک دن میں بس میں بیٹھ کر کہیں دور نکل گیا۔ شاید کراچی سے سکھر پہنچ گیا۔ ہم کراچی میں ہی رہتے تھے۔
سکھر میں مجھے ایک شیلٹر میں جمع کیا گیا۔ پھر وہاں سے کراچی شیلٹر منتقل ہوا۔ اور یہیں میں بڑا ہوکر جوان ہوا ۔ اور اب لاوارثی کی زندگی بسر کررہا ہوں۔ لاوارثی کی زندگی بہت اذیت ناک ہے ۔ برائے مہربانی مجھے اپنوں سے ملائیں۔
راشد کو صرف اپنا اور والد کا نام یاد ہے ۔ شیلٹر کی فائل سے بچپن کی فوٹو ملی ہے جو ورثاء تک پہنچنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ فائل میں ایک جگہ ایڈریس بھٹو کالونی نیو کراچی لکھا ہے اور دوسری طرف نارتھ کراچی لکھا ہے۔ شاید بچپن میں ان دو جگہوں کے نام راشد کو یاد ہونگے جو فائل میں لکھے گئے ہیں۔
سرائیکی وسیب کے دوست بالخصوص اور ملک بھر کے تمام دوست بالعموم اس پوسٹ کو دل کھول کر شئیر کریں۔
راشد کو اسکے خاندان سے ملانے میں مدد کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
3 اگست 2026
#waliullahmaroof
میرے خیال میں شریف خاندان کی لاہور مرکز ترقیاتی ترجیحات خود لاہور کو بہت مہنگی پڑ رہی ہیں۔ ترقیاتی بجٹ کا غیر متناسب حصہ خرچ کرنے سے شہر میں چمک دمک تو پیدا ہوئی ہے لیکن پنجاب کے دوسرے شہروں میں روزگار، تعلیم اور شہری سہولتوں کی کمی نے لاہور کی طرف نقل مکانی کو تیز کردیا ہے۔ نسبتاً خوش حال خاندان نئی ہاؤسنگ سکیموں، جبکہ کم آمدنی والے افراد کچی اور کم سہولت یافتہ آبادیوں میں جگہ تلاش کر تے ہیں۔ نتیجتاً لاہور پر آبادی، رہائش، ٹریفک اور بنیادی سہولتوں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہے، اس کے زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے اور برصغیر کا بہترین قابل رہائش شہر ناقابل رہائش ہوتا جارہا ہے۔
وعدہء رزق
سبحان اللہ محض دعوت نماز پر ہی رزق دینے کا وعدہ !!!
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو، اور خود بھی اُس پر ثابت قدم رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم تمہیں دیں گے۔ اور بہتر انجام تقویٰ ہی کا ہے۔
سورۃ طٰہ، 132
ریٹویٹ مایوسی ختم کرنے میں تعاون