نیو کراچی ٹاؤن، ڈسٹرکٹ سینٹرل، کراچی یوسی 10۔
4 اکتوبر کے حوالے سے عوامی آگاہی اور اسٹریٹ موومنٹ مہم جاری، کارکنان کی جانب سے گلی محلوں میں عوام سے رابطے اور پیغام رسانی کا سلسلہ جاری۔
ایڈیشنل جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی کراچی ڈویژن غلام رسول اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئ�� ۔۔
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
پاکستان میں پبلک سروس پروائیڈرز اور موبائل نیٹ ورکس کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت: صارفین کا استحصال کب ختم ہوگا؟ 🇵🇰📱
موجودہ دور میں موبائل نیٹ ورک کمپنیاں، بینک اور دیگر عوامی خدمات کے ادارے ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ان اداروں کا رویہ صارفین کے لیے سہولت کے بجائے ایک مستقل ذہنی اور مالی اذیت کا باعث بنتا جا رہا ہے۔
عوام کو درپیش ان سنگین مسائل پر ایک تعمیری اور تنقیدی نظر ڈالنا وقت کی اہم ضرورت ہے:
1. دن رات اسپیم کالز اور میسجز: پرائیویسی کا فقدان 🚫⏱️
کمپنیوں کی جانب سے دن ہو یا رات، بغیر کسی وقت کی تمیز کے پروموشنل کالز اور میسجز کا طوفان برپا رہتا ہے۔ آرام کے اوقات ہوں یا دفتری مصروفیات، ان کی جانب سے مسلسل دخل اندازی صارفین کی پرائیویسی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو "Do Not Disturb" لسٹ کے قوانین کو مزید سخت بنانا چاہیے۔ کمپنیوں پر لازم کیا جائے کہ وہ صارف کی واضح اجازت کے بغیر کوئی بھی مارکیٹنگ مواد نہ بھیجیں، اور خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں
2. ہیلپ لائنز تک مہنگی رسائی: اپنے ہی پیسوں پر پہرا 📞
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب کسی صارف کو کوئی مسئلہ درپیش ہو اور وہ کمپنی سے رابطہ کرنا چاہے، تو ہیلپ لائن پر بات کرنے کے لیے موبائل میں اچھا خاصا بیلنس ہونا ضروری ہے۔ 200 سے 400 روپے تو صرف انتظار کی لائن میں کٹ جاتے ہیں، جو کہ سراسر ناانصافی اور عام آدمی کی جیب پر ڈاکہ ہے۔
پبلک سروس فراہم کرنے والے تمام اداروں کے لیے صارفین کی شکایات درج کرانے کی کالز (Customer Complaint Helpline) کو مکمل طور پر فری (Toll-Free) کیا جانا چاہیے۔
یہ صارف کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی خریدی گئی سروس میں خرابی کی شکایت بغیر کسی اضافی قیمت کے درج کروا سکے۔
3. غیر اعلانیہ چارجز اور پوشیدہ ٹیکسز 🧾❌
صارفین اکثر شکایت کرتے ��یں کہ ان کے بیلنس سے بغیر بتائے پیسے کٹ جاتے ہیں یا ایسی سروسز خود بخود ایکٹیویٹ کر دی جاتی ہیں جن کا انہوں نے مطالبہ بھی نہیں کی
ڈیجیٹل سروسز میں شفافیت لائی جائے۔ کسی بھی سروس کو ایکٹیویٹ کرنے کے لیے ��و-فیکٹر کنفرمیشن لازمی ہونی چاہیے تاکہ صارفین کی لاعلمی کا فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔
پاکستان کے عوام پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں سروس پروائیڈرز کی یہ بے حسی عوامی مایوسی میں اضافہ کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ PTA اور دیگر ریگولیٹری ادارے صرف کمپنیوں کے منافع کا تحفظ کرنے کے بجائے عام شہریوں کے حقوق کے لیے ڈھال بنیں اور ان اداروں کو جوابدہ بنائیں۔ ایک ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہی بہترین، سستی اور منصفانہ کسٹمر سروس پر ہوتی ہے۔
@PTAofficialpk
@Ufone
#PakistanTelecom #PublicService #CustomerSupport #StopSpam #FairCharging #VoiceOfPeople
⚠️ ایک آلو آپ کی شوگر اتنی ہی تیزی سے بڑھاتا ہے جتنی کہ 7 چمچ چینی
1 آلو = 7 چمچ چینی
⚠️ اسپیگھٹی یا نوڈلز کی ایک پلیٹ 9 چمچ چینی کے برابر آپ کی شوگر بڑھاتی ہے
1 پلیٹ = 9 چمچ چینی
⚠️ آدھی پلیٹ چاول 6 چمچ چینی کے برابر شوگر بڑھاتے ہیں
1/2 پلیٹ چاول = 6 چمچ چینی
اگر آپ اپنی شوگر کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، شوگر کی تباہی سے اپنے گردے، ٹانگیں،۔ محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ان چینی کے ڈھیر سے پرہیز فرض ہے۔
کتنی پیاری بچی ہے ناں لیکن اس کی والدہ کا رو رو کر برا حال ہے
ہم کہتے ہیں کہ بچیاں گھر سے نکل جاتیں ہیں لیکن 11 سالہ بچی جسے معاشرے کا پتا ہی نہیں نہ اس بچی کے پاس موبائل ہے نہ ہی کچھ
لیکن دو روز قبل گھر سے باہر نکلی اور گھر نہ آئی ماں در در کی ٹھوکریں کھارہی ہے اس کا رو رو کر برا حال ہے
باپ بیچارا تھانہ کے چکر لگا رہا ہے جس سے جو کچھ ہورہا ہے وہ بیچارا اتنی ہی ایفرٹ کر رہا ہے ۔
اب وہ تھک کر بیٹھ گئے ہیں اب ان کی آخری امید سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم ہے
بچی کا نام حرا بھٹو ہے عمر صرف گیارا سال ہے چھٹی کلاس میں پڑھتی ہے
لیکن گھر سے باہر گئی جیسے وقت گزرا ماں پریشان ہوکر باہر دیکھنی لگی
اس کے بعد پورا علاقہ چھان مارا بچی نہ ملی
اگر آپ اس کو پورے سوشل میڈیا پہ پھیلاتے ہیں تو ﷲ کے حکم سے بچی کو اغواء کرنے والے اس کو چھپا نہیں سکیں گے بچی کے والد کا نمبر یہ ہے۔ 0333-7546324
😪😪😪😪
پیپلزپارٹی نے دنیا کی سب سے انوکھی سڑک بنا کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا ن��م درج کرالیا ۔ اس سڑک کو دیکھنے کیلئے سالانہ ایک کروڑ سیاحوں کی آمد متوقع ہے جبکہ ناسا والے غور کررہے ہیں کہ اس سڑک کو مریخ پر منتقل کردیا جائے
پاکستان میں زیادہ تر لوگ موبائل صرف سوشل میڈیا اسکرولنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، حالانکہ پلے اسٹور پر چند ایسی ایپس بالکل فری موجود ہیں جو آپ کے روزمرہ کے گھنٹوں کا کام سیکنڈز میں بدل سکتی ہیں۔
یہ ��ہ 5 بہترین ایپس ہیں جنہیں ہر بندے کو استعمال کرنا چاہیے:
1. Adobe Scan
کئی بار ہمیں کسی سرکاری کام، دکان کے بل، یا شناختی کارڈ کی کاپی کسی کو واٹس ایپ پر بھیجنی ہوتی ہے۔ لوگ عام موبائل کیمرے سے ٹیڑھی میڑھی اور دھندلی تصویر بھیج دیتے ہیں جو پروفیشنل نہیں لگتی۔
یہ کیا کرتی ہے: آپ اس ایپ سے کسی بھی کاغذ یا شناختی کارڈ کی تصویر لیں۔ یہ اس کے فالتو کونے خود بخود کاٹ کر، اس کا رزلٹ بالکل ایک اسکینر مشین جیسا صاف کر کے پی ڈی ایف (PDF) فائل بنا دیتی ہے۔
2. Microsoft Loop / Notion
لوگ اپنے دکان کے حساب کتاب، روزمرہ کے ادھار، گاہکوں کی لسٹ یا گھر کے راشن کا سامان یاد رکھنے کے لیے کاغذ کے ٹکڑوں یا ڈائریوں پر لکھتے ہیں جو اکثر کھو جاتے ہیں۔
یہ کیا کرتی ہے: یہ آپ کی ڈیجیٹل ڈائری ہے۔ آپ اس میں اپنے پورے مہینے کا حساب، دکان کا اسٹاک، اور روزمرہ کے کاموں کی لسٹ بنا سکتے ہیں۔ یہ ڈیٹا لائف ٹائم کے لیے محفوظ رہتا ہے اور آپ اسے کمپیوٹر پر بھی کھول سکتے ہیں۔
3. Truecaller
پاکستان میں نامعلوم نمبروں سے بار بار کالز آنا یا رانگ نمبرز کی طرف سے تنگ کیا جانا ایک عام مسئلہ ہے، جس سے وقت اور سکون دونوں برباد ہوتے ہیں۔
یہ کیا کرتی ہے: جیسے ہی کسی انجان نمبر سے کال آئے گی، یہ سکرین پر اس بندے کا اصل نام دکھا دے گی، چاہے وہ نمبر آپ کے موبائل میں سیو نہ ہو۔ اس کے علاوہ یہ فراڈ اور بینک کے نام پر آنے والی فیک اسپیم (Spam) کالز کو خود بخود بلاک کر دیتی ہے۔
4. Google Keep
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ بائیک چلا رہے ہوتے ہیں یا کسی کام میں مصروف ہوتے ہیں اور اچانک دماغ میں کوئی اچھا بزنس آئیڈیا یا ضروری کام یاد آ جاتا ہے، لیکن لکھنے کا وقت نہیں ہوتا۔
یہ کیا کرتی ہے: یہ گوگل کی آفیشل نوٹ ایپ ہے۔ آپ صرف مائیک کا بٹن دبا کر اردو یا انگلش میں بولیں، یہ آپ کی آواز کو سیکنڈز میں ٹیکسٹ (لکھائی) میں بدل کر سیو کر دے گی۔ آپ اس میں تصویریں اور آڈیو نوٹس بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
5. CapCut (Auto Captions Feature)
اگر آپ آن لائن بزنس کرتے ہیں، دکان کی تشہیر کے لیے ویڈیوز بناتے ہیں، یا سوشل میڈیا پر کوئی چیز بیچتے ہیں تو ویڈیو کے نیچے ٹیکسٹ (Subtitles) لکھنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ گاہک کو بات سمجھ آئے۔ خود ٹائپ کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔
یہ کیا کرتی ہے: ویڈیو ایڈیٹنگ کے علاوہ اس ایپ میں ایک فری بٹن ہے "Auto Captions"۔ آپ ویڈیو اپلوڈ کر کے یہ بٹن دبائیں، ویڈیو میں آپ جو کچھ بول رہے ہوں گے، یہ ایپ سیکنڈز میں وہ سب کچھ خود بخود نیچے ٹائپ کر کے لکھ دے گی۔
ڈھائی لاکھ پودے صرف ایک پاکستانی نے لگاۓ
شاید آپ کو یقین نہیں آرہا ہوگا، لیکن یہ 100 فیصد سچ ہے
یقیناَ آپ اس گمنام ہیرو کو نہیں جانتے ہوں گے۔
*خضر ولی چشتی: جنون کا نام، پاکستان کی امید* 🌳
*خضر ولی چشتی* ایک عام پاکستانی ہیں۔
نہ کوئی وزارت، نہ کروڑوں کا بجٹ۔ بس دو ہاتھ، ایک دل،
اورایک جنون۔ اس جنون نے اڑھائی لاکھ درخت* پاکستان کی مٹی میں اتار دیے۔
جب ہم ائیر کنڈیشن
کے ��یچے گرمی کی شکایت کر رہے ہوتے ہیں، تب خضر صاحب دھوپ میں کدال چلا رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم "کوئی تو کرے گا" سوچ کر چپ ہو جاتے ہیں، تب وہ خاموشی سے "میں کروں گا" کر کے دکھا رہے ہیں۔
*ان کا پیغام سیدھا ہے:* درخت کاٹنا بند کرو۔ درخت لگانا شروع کرو۔ ہر کٹے درخت کے بدلے 10 نئے۔ یہی ہماری نسل کا صدقہ جاریہ ہے، یہی ہمارا احتجاج ہے۔
*پاکستان میں شجرکاری کے بہترین مہینے:*
*جولائی تا ستمبر* - مون سون
*فروری تا مارچ* - بہار
*تیز بڑھنے والے اور سایہ دار درخت:*
نیم، شیشم، سکھ چین، پیپل، برگد، املی، کیکر، دھریک
بس نام یاد رکھو۔ نرسری سے لاؤ۔ مٹی میں لگاؤ۔
خضر ولی چشتی نے ثابت کر دیا: تبدیلی کے لیے کرسی نہیں، کردار چاہیے۔
سر سبز پاکستان
مورخہ 13 جون 2026؛ اشیاء خورونوش کی ریٹ لسٹ جاری کر دی ہے۔ شہری ڈی سی کنٹرول روم نمبر 03070002345 یا سوشل میڈیا پر براہ راست رابطہ کریں۔
#PriceControl#PublicRelief#Lahore
طوائف کے پاس کیا لینے آتا ہے ؟
نوٹ ---بولڈ سین ہے شریف بچے بچیاں نہ پڑھیں
چاندنی مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی مرد اپنی خوبصورت ، نیک اور شریف بیوی کو چھوڑ کر ایک طوائف کے پاس کیا لینے آتا ہے ؟" دیا نے چاندنی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
"سکون." چاندنی نے بہت سکون سے جواب دیا
"سکون؟ کمال ہے ، کیا اسے بیوی سکون نہیں دیتی؟" دیا حیران ہوئی
"نہیں، بیوی جسمانی سکون نہیں دیتی. فطری تسکین نہیں دیتی " چاندنی نے بہت اطمینان سے کہا
"تو بیوی پھر کس لیے ہوتی ہے ؟ بیوی کیا دیتی ہے؟" دیا نے الجھن امیز نظروں سے چاندنی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
"بیوی سکون کے سوا سب کچھ دیتی ہے، اولاد،کھانا ، دھلا کپڑا ، عزت ، بستر سب کچھ دیتی ہے سکون دینا بیوی کے بس میں نہیں ہوتا۔" چاندنی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی
"کیا مطلب؟ سکون دینا بیوی کے بس میں کیوں نہیں ہوتا؟" دیا الجھی
"کیونکہ جو چیز خود بیوی کے پاس نہیں ہوتی وہ کیسے شوہر کو دے سکتی ہے؟" چاندنی نے مسکرا کے کہا
"کیسی عجیب باتیں کررہی ہو تم چاندنی؟ کیا بنا جنسی عمل کے بچے ہوجاتے ہیں؟" دیا نے سوالیہ انداز سے اس کی طرف دیکھا
"میں نے یہ کب کہا کہ جنسی عمل نہیں ہوتا؟
جنسی عمل ہوتا ہے بس یوں سمجھو اس جنسی عمل میں بیوی ربورٹ کی طرح ہوتی ہے " چاندنی نے دیا کو سمجھانے کی کوشش کی
دیکھو دیا ہر بیوی ایسا نہیں کرتی کچھ سمجھدار بھی ہوتی ہیں جو شوہر کی خوشی کا اہتمام کرتی ہیں وہی فائدے میں رہتی ہیں ان کے شوہر تمام عمر ان کے پلو سے بندھے رہتے ہیں
مگر کچھ بیویاں جنسی عمل کو بیزاری سے ادا کرتی ہیں منافقت سے " چاندنی نے مزید سمجھایا
"منافقت سے؟" دیا کے خاک پلے نہ پڑا
"ہاں منافقت سے، دیکھو دیا جنسی عمل ایک اٹل حقیقت ہے اس سے انکار ممکن نہیں ہے جیسے کھانا پینا سونا یہ سب ضرورتیں ہیں ویسے جنسی عمل ضرورت ہے مگر لوگ اسے بہت عام بات سمجھتے ہیں یہاں سے ہی بگاڑ شروع ہوتے ہیں،
کچھ بیویاں جنسی عمل کو صرف مرد کی ضرورت سمجھتی ہیں اور وہ اسے شوہر پہ احسان سمجھ کر ادا کرتی ہیں،
یہاں تک کہ اتنے اہم عمل سے مرد لطف نہیں لے سکتاوہ بیوی کے تاثرات سے یہی سمجھتا ہے کہ عورت پہ ظلم کر رہا ہے
جیسے بندہ باسی اور سڑے ہوئے کھانے سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا بالکل غیر رضامندانہ جنسی عمل سے سکون نہیں پاسکتا،
بیوی کو یہی گمان رہتا ہے کہ وہ یہ حق اداکر تو رہی ہے مگر کیسے کر رہی ہے یہ نہیں جانتی، جب وہی مرد طوائف کے پاس آتا ہے تو طوائف ہنس کر مکمل ناز و انداز سے مکمل اہتمام سے مرد کو تسکین دیتی ہے اسے پتہ ہے کہ یہی اس کا ذریعہ معاش ہے ایمان داری سے ادا کرے گی تو کاروبار چلے گا اور پیٹ کا دوزخ بھرے گا
جبکہ بیوی کو پتہ ہے کہ اسے گھر بچے عزت سب میسر ہے بیوی سمجھتی ہے بچے ہوگئے ہیں بات ختم
جبکہ کچھ لوگ شادی کا مقصد ہی بچے ہونا سمجھتے ہیں
عورت جنسی عمل کو ہر چیزسے آخر میں رکھتی ہے جبکہ مرد جنسی عمل کو ہر چیزسے پہلے رکھتا ہے
اول اور آخر میں بہت فرق ہوتا ہے
جو چیز مرد کے لیے اول ہے وہ عورت کے لیے آخر ہے جب بھی مرد یہ بات کرتا ہے بیوی کہتی ہے فضول باتیں مت کرو
یا کہتی ہے اتنی عمر ہوگئی ہے بچے بڑے ہوگئے ہیں وغیرہ
جبکہ طوائف اپنے پاس آنے والے مرد کو کبھی نہیں کہتی تم بوڑھے ہو تمہارے بچے جوان ہیں وغیرہ
وہ مرد کو پہلی رات کا دلہا سمجھ کر استقبال کرتی ہے اور مرد یہی چاہتا ہے کہ وہ مرتے دم تک دلہا بنا رہے
طوائف ہر رات تین چار گاہک نمٹاتی ہے مگر ہر گاہک کو خندہ پیشانی سے سنبھالتی ��ے
ہزاروں ہاتھوں میں جانے کے باوجود طوائف ہر مرد کو یہ باور کرواتی ہے جیسے وہ ان چھوئی کلی ہو چھوئی موئی ہو اور وہ مرد اس کی زندگی میں آنے والاپہلا مرد ہے اور مرد یہی تو چاہتا ہے کہ اسے ہر رات نئی نویلی دلہن ملے
جبکہ بیوی دوسال بعد ایسے بیزار ہوجاتی ہے جیسے صدیوں سے یہ کام سر انجام دے رہی ہو
اس کام سے تھک چکی ہو
شوہر جب بیوی کے پاس جاتا ہے تو وہ اس فعل میں اکیلا ہوتا ہے اور بیوی مردے کی طرح بے جان ہوتی ہے
وہ ایسے ٹھنڈی ہوجاتی ہے جیسے لاش ہو
بھلا لاش سے کوئی مرد کیسے لظف اندوز ہوسکتا ہے؟؟
جبکہ طوائف سومرد بھگتا کے بھی ہر گاہک کے لیے ایسی پرجوش ہوتی ہے
اپنے وجود کی گرمی سے مرد کو ممتا فراہم کرتی ہے وہ مردکو یقین دلاتی ہے کہ وہ ایک بچے کی طرح ہے مرد خود کو بے فکرا کھلنڈرا بچہ سمجھتا ہے
مرد ہر رات سہاگ رات چاہتا ہے اور یہ چیز اسے طوائف مہیا کرتی ہے اسی لیے وہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر طوائف کے پاس دوڑا آتا ہے" دیا بہت غور سے چاندنی کی باتیں سن رہی تھی
ہر چیز کا اہتمام ہوتا ہے لوگ کھانا کھاتے ہیں تو دسترخوان بچھایا جاتا ہے سلاد ، دہی ، اچار ہر چیز کا اہتمام ہوتا ہے
کسی شادی میں جاؤ تو نہانا اچھا لباس پہننا خوشبو لگانا میک اپ کرنا سب ہوتا ہے
ہر چیز ہم اہتمام سے کرتے ہیں مگر جو دنیا میں سب سے اہم چیز ہے
"ملاپ"
جس سے روحیں تشکیل پاتی ہیں اس کے لیے کوئی اہتمام نہیں ہوتا
اور ہر جگہ بیوی ہی نہیں شوہر بھی قصوروار ہوتا ہے
عام گھروں میں ایسا ہوتا ہے کہ پہلے سے میاں بیوی کی کمٹمنٹ نہیں ہوتی کوئی تیاری نہیں ہوتی ، مرد کمرے میں آتا ہے عورت کو اٹھایا
یہ ��ک نہیں دیکھتا وہ کس حال میں ہے اس کی دلی ذہنی کیفیت کیا ہے؟
بس اپنی ضرورت پوری کرکے بات ختم
ایک مشینی عمل کی طرح اتنا خوبصورت عمل انجام دے دیا جاتا ہے۔
"تمہارا کیا خیال ہے چاندنی ،میاں بیوی میں یہ عمل کیسے ہونا چاہیے؟" دیا نے اچانک سوال داغ دیا"
"دیکھو دیا ،ایک ذہین عورت ہی یہ فعل خوبصورتی کے ساتھ سر انجام دے سکتی ہے اور ہر ذہین عورت کے نصیب میں قابل مرد نہیں ہوتا"چاندنی نے ہنس کے کہا
"کیا مطلب؟" دیا نے الجھ کے پوچھا
"دیکھو دیا تم نے مجھ سے سوال پوچھا ہے کہ میاں بیوی میں یہ عمل کیسے ہونا چاہیے تو کسی جگہ سمجھدار قابل مرد ہوتا ہے بیوی بےوقوف ہوتی ہے کسی جگہ بیوی ذہین ہوتی ہے تو مرد بے کار مل جاتا ہے اور جہاں قسمت سے میاں اور بیوی دونوں سمجھدار ہوتے ہیں وہ جنسی فعل کو مکمل خوبصورتی اور ذمہ داری سے ادا کرتے ہیں"
جہاں تک میرا خیال پوچھا ہے تم نے تو میں تو سیکس سے پہلے مکمل طور پہ خوشبو کی قائل ہوں
کمرے میں خوشبو
بستر پہ پھول
خوشبو
بدن پہ خوشبو
بالوں میں خوشبوئیں
سیکس کو عبادت کی طرح کرو
یہ مندر کی گھنٹیاں ہیں جب وجود ملیں روح میں گھنٹیاں بجیں
ملاپ سے روحیں تشکیل پاتی ہیں
جنسی عمل ہو تو کمرے میں موسیقی کا اہتمام ہو،
دھیمے سر ہوں
خوشبو پھول ��ارش شاعری
انگلیوں کی پوروں سے بدن پہ ساز بجے
بدن پہ ہونٹوں کی سرسراہٹ ہو
لوگ سمجھتے ہیں سیکس دوپل کا کھیل ہے
نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے
یہ لڈو کی گوٹ کی طرح ہے
جیسے لڈو کی گوٹ چھکے پہ گھر سے نکلتی ہے گلیاں گھومتی ہے
ویسے ہی کوئی قابل مرد ذہین عورت کے وجود کی بند قبائیں کھولتا ہے
چولی سے لیکر بلاؤز تک
ہونٹوں سے
ایسے ملاپ ہو کہ فرشتے ناز کریں
آسماں جھوم اٹھے
سر کے بالوں سے پاؤں کی ایڑی تک رگ رگ چومی جائے
یہ روحوں کا ملاپ ہے اس میں روحیں تشکیل پاتی ہیں یہ عمل بے زاری سے نہیں مکمل ذمہ داری سکون سے ادا کیا جائے،
جیسے گوہر نایاب کی تلاش ہو اور گوہر نایاب پالیا جائے مکمل سرشاری ہو
اور یہ سرشاری مرد کو یا تو طوائف دیتی ہے اسے پیسوں کی طلب ہوتی ہے جتنا مرد خوش ہوگا اتناطوائف کا دامن بھرے گا
یا پھر وہ عورت عطا کرتی ہے جسے مرد سے عشق ہو تم جانتی ہو عشق کا نشہ جدا ہے تم نے تو کیا ہے عشق دیا تم جان سکتی ہو"چاندنی پورے جذب سے دیا کو سمجھا رہی تھی دیا بہت عقیدت سے چاندنی کو دیکھ رہی تھی
"مرد کو چاہیے کہ جیسی توقع بیوی سے رکھتا ہے کہ وہ خوشبو میں بسی ہو ایسے ہی خود کو خوشبو سے مہکائے بیوی ہو یا طوائف اس کا حق ہے مرد پہ کہ وہ اس پہ نچھاور کرے جس کی وہ حقدار ہے
عورت مفت کامال نہیں ہے دیا
کان کی لو کو لبوں سے چھونے کے ذائقے کا مول نہیں ہے اور مرد سمجھتا ہے عورت مفت کامال ہے"
مرد سمجھتا ہے اس نے بیوی کو گھر دے دیا بچے ہیں کپڑے ہیں سب کچھ ہے پیسے بھی دے دئیے اب بات ختم ہے
جبکہ عورت چاہتی ہے کہ شوہر اس کے لیے کوئی چیزکوئی تحفہ لازمی لائے
عورت خود سے خریدی لاکھوں کی چیزوں میں وہ خوشی محسوس نہیں کرتی جو مرد کی لائی چند پیسوں کی چیز میں محسوس کرتی ہے
بھلے اس کے پاس سب کچھ ہو مگر جب شوہر بیوی کے لیے کوئی چیز لاتا ہے جو صرف بیوی کے لیے ہوتی ہے جیسے ہی خلوت کے ل��حات میں بیوی کو وہ چیز دیتا ہے بیوی کے چہرے کی خوشی کی چمک لافانی اور الوہی ہوتی ہے مگر مرد بہت کم ایسا کرتا ہے
جیسے بیوی کہتی ہے وہ گھر کی ذمہ داری سے تھک گئی ہے ایسے شوہر سمجھتا ہے کہ وہ آفس سے تھک چکا ہے اب کیسے بیوی کے لیے کچھ لیکر جائے،
بعض دفعہ معاملہ دونوں طرف سے خراب ہوتا ہے
"بہرحال امید ہے تمہیں تمہارے سوال کا جواب مل گیا ہوگا کہ مرد بیوی کو چھوڑ کر طوائف کے پاس کیوں آتا ہے مرد بھلے بوڑھا ہوجائے وہ بچہ رہتا ہے وہ لاڈ چاہتا ہے اسے یہ لاڈ طوائف کی گود میں سر رکھ کے حاصل ہوتا ہے"
ناول طوائف ذادی سے اقتباس
مستقبل کی الیکٹرک وہیکل کا آئیڈیا :
فرنٹ سائیڈ پہ لگے پنکھے جو گاڑی کی رفتار کے مطابق چلیں گے اور گاڑی میں لگی بیٹریاں خودکار طریقے سے چارج ہوتی رہیں گی
یہ ٹیکنالوجی انقلاب برپا کر دے گی ��ور پٹرول کی ضرورت آدھی سے بھی کم رہ جائے گی
@BYDCompany
اللہ اکبر🙏
جرمن یونیورسٹی میں، انہوں نے گائے پر ایک ٹیسٹ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اسلامی طریقے سے ذبح کرتے وقت اسے درد محسوس ہوتا ہے یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک عمل کا استعمال کیا جسے ای ای جی (EEG) کہا جاتا ہے۔ وہ اسے گائے کے دماغ کا الیکٹریکل ڈایاگرام دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس کے ذریعے انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اسے کوئی درد محسوس ہوا یا نہیں۔ وہ گائے کو لائے اور اسے ٹیسٹ��گ اور ذبح کرنے کے لیے تیار کیا۔
ذبح کے پہلے 3 سیکنڈز میں، دماغ کی الیکٹریسٹی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہوا۔
اس کے اگلے 3 سیکنڈز میں یہ دیکھا گیا کہ گائے بے ہوش ہو گئی اور شدید خون بہنے، ذبح کی جگہ اور دماغ تک (خون) نہ پہنچنے کی وجہ سے مکمل طور پر سو گئی۔
6 سیکنڈز کے بعد ای ای جی (EEG) کے سگنلز رک گئے اور دماغ سے کوئی الیکٹریکل سگنل نہیں ملا، جس کا مطلب ہے کہ گائے بغیر کسی درد کے مر گئی۔
اسلام کی نعمت پر اللہ کا شکر ہے، اور یہ نعمت ہی ہمارے لیے کافی ہے۔
🌻قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا ۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا "بیت المال کس طرف ہے؟"
میں نے پوچھا بیت المال میں تمہارا کیا کام ؟
بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا ؛ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں ۔
ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں ۔
آج بھی ��ہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا ۔ مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں۔
منقول
واپڈا والوں سے استدعا ہے کہ کم از کم عید کے تین دن پورے ملک میں لوڈ شیڈنگ سے اجتناب کیجئے تاکہ لوگوں کی قربانی کا گوشت خراب نہ ہو۔ مہربانی فرمائیے۔
لوگوں کی دعائیں لیجئے۔
جزاک اللّٰہ خیر
عید کے دن لوڈشیڈنگ کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا ابھی تک جاری ہے حیرانگی ہوتی ہے ان کی نااہلی بھی اس لیول کی ہے کہ عید کے تین دن بھی مینج نہیں کر سکتے آج عید کے پہلے دن چوتھی دفعہ بجلی گل ہوئی ہے