”میری عمر 76 سال ہے۔ 9 مئی کے کیس میں میں نے جیل کاٹی ہے، میرا بیٹا 26 نومبر کے کیسز میں پکڑا گیا ہے۔ میں پھر بھی آیا ہوں۔ میرا بس یہی چلتا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو بھی عمران خان کے لیے قربان کر دوں۔ عمران خان ہمارے سر کا تاج ہے۔“ آج پشاور میں عمران خان کے لیے آنے والے ایک بزرگ پاکستانی۔
#ناحق_قید_کے_3سال
مجھے ڈونلڈ ٹرمپ سے بہت امید تھی کیونکہ ٹرمپ کا میرے والد کے ساتھ اچھے تعلقات تھے
لیکن انہوں نے ٹرمپ کو نوبل انعام، کرپٹو کرنسی ، پاکستان کی قدرتی معدنیات کی رشوت دی اور وہ بھی خاموش ہو گئے۔
قاسم خان نے حقیقت بیان کی 🔥
ان لوگوں کو ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ عوام اب اس ڈرامے کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ لوگ بے وقوف ہیں۔ ان سے مزید اچھے کی توقع مت رکھیں۔
سب فوج کے دلے ہیں ، سب ملے ہوۓ ہیں ، گوہر کیا کوئ بھی نہیں گیا عدالت ، ابھی بھی جو لوگ ان کے چمچے بنے ہوۓ ہیں اور پارٹی پارٹی کر رہے لعنت کے حق دار ہیں ۔۔۔
عمران خان جیسا زمانہ پھر کبھی نہیں آنا
ریئل اسٹیٹ کے بزنس مین کہتے ہیں کہ وہ دور آئیڈیل تھا کنسٹرکشن کے حوالے سے کسان کہتے ہیں کہ اتنی برکت تھی کہ جو فصل کاشت کی بمپر کراپ ہوئی اور ریٹ بھی بہترین ملا ��ور پیسے بھی جلدی ملے اس جیسا دور کبھی آ نہیں سکتا۔ آٹو سیکٹر والے کہتے ہیں جتنی گاڑی خان کے دور میں بک رہی تھی پاکستان کی تاریخ میں اتنا کام کبھی نہ ہوا۔ غریب کہتے ہیں کہ ہمارے جیب میں 10 لاکھ روپے کا چیک تھا جب بھی کسی کو کوئی بیماری ہوئی مفت علاج ہوا دوائیاں تک مفت ملا کرتی تھیں۔۔
واقعی ایک غریب پرور اللہ کا خوف والا حکمران پاکستان میں آیا تھا۔ جب سے گیا یے ملک برباد ایسے ہو رہا ہے جیسے کسی نے تیار فصل میں خنزیر چھوڑ دئیے ہوں
اٹھو لوگو بغاوت سے قیامت اب بپا کر دو
تمہیں خاموش رہنے کی یہ عادت مار ڈالے گی
ریاست گر بچانی ہے سیاست چھین لو ان سے
وگرنہ اس ریاست کو سیاست مار ڈالے گی!
ڈی چوک میں قتل عام ہوا اس کیس میں بیرسٹر گوہر کا بطور گواہ نام ڈالا گیا تھا لیکن وہ گواہی دینے گئے ہی نہیں، اس سے بڑی سہولت کاری اور کیا ہو گی، عمران ریاض خان
@ImranRiazKhan
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
”میرے اور میری اہلیہ بشریٰ بیگم کے تمام انسانی حقوق پامال ہیں۔ہمیں عام قیدی کی والی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے،“- سابق وزیر اعظم عمران خان
#LetTheWorldSeeImranKhan
پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان بجا طور پر سراپا احتجاج ہیں اور وجہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک سال 7 ماہ میں 24 سے زائد عدالتی سماعتوں میں تحریکِ انصاف کے قائم مقام عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اپنا بیان کیوں نہیں ریکارڈ کروا سکے؟ کیا گوہر علی خان اب ہائیکورٹ میں درخواست دائر کریں گے؟ کارکنان کی شہادتیں ہوئی ہیں اتنے اہم کیس میں 17 ماہ میں 24 سماعتوں میں بھی ایک بیان نہ ریکارڈ کروانا موجودہ قیادت اور لیگل ٹیم کی نا اہلی ہے، سماعت میں پیش ہونا اور بیان ریکارڈ نہ کروانا؟ یہ کس قسم کے فیصلے موجودہ قیادت کر رہی ہے؟
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
ایمان مزاری کے خلاف ریاستی ظلم کو جسٹیفائی کرنے والے ٹاؤٹس، بھارتی نوجوانوں کے لیے بے شرمی سے انصاف مانگ رہے ہیں۔ عمران ریاض خان
#pakistan@ImranRiazKhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں