PTIکراچی کے VP نوید عالم صدیقی کا سلمان اکرام راجہ سے سوال !!
تنظیم اور ایم پی اے جو دعوے کرتے تھے کہ ہم ورکر کو خود اپنے ساتھ لے جائنگے آج وہ سب راہ فرار اختیار کرگے ورکر اپنی مدد آپ کے تحت جارے ہیں
شکر ہیں تنظیم میں سے یہ آواز کسے نہ تو اٹھائی
20 لاکھ تو بہت زیادہ پیں اگر 1 لاکھ بندہ بھی صوابی پر اکٹھا ہوگیا تو یہ نظام گھٹنوں پر ہوگا، صدیق جان تہلکہ خیز انٹرویو لنک میں
https://t.co/jkfVyDdmw9
فرعون کی انا کا مثلہ ہے، ورنہ یہ چار بزگ رہنما 41 ماہ ناحق قید نہ کاٹ چکے ہوتے۔
انکا گناہ صرف یہ ہے کہ عمران خان کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف اور آئین کی بحالی کے لیے آواز بلند کی۔
عدالت فرون کی غلام نہ ہو تو یہ ایک دن جیل نہ بھیجے جاتے۔
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
ڈرائی فروٹ، ماسک ساتھ لائیں یہ ہمارے اوپر شیلنگ کریں گے شینلگ سے ڈرو گے تو نہیں؟ جو شیل ہمارے اوپر یہ پھینکیں گے ہم واپس وہ شیل ان پر پھینکیں گے لیکن ہم پرامن رہیں گے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
وزیراعلٰی سہیل آفریدی 🚨
جو شیلنگ ہم پر ہوتی ہے، ہم نے پکڑ کر واپس ان پر پھینکنا ہے لیکن ہم نے پرامن رہنا ہے۔ 13 اکتوبر کو جو پلان دوں گا ان کا ہوش اڑ جائے گا
ڈرائی فروٹ اور ماسک ساتھ لیکر آئیں
آج کا دن ختم۔۔۔۔
سہیل آفریدی واپس پشاور روانہ۔۔۔۔
لگتا ہے کوئی بہت بڑی میٹنگ ہوگی۔۔۔۔
کیونکہ کل بہت اہم اور بڑا دن ہے۔۔۔
ﷲ سے دعا ہے کہ کل خیر خیریت سے صوابی پہنچ جائیں.
تاریخ ہے کہ ایک ڈکٹیٹر ایمرجنسی تب لگاتا ہے جب وہ اپنا اقتدار جاتا دیکھ کر بےبس ہو جاتا ہے اور خوف میں ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ مشرف اور اندرا گاندھی کی ایمرجنسی تمہارے سامنے ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد انہیں اپنا اقتدار کھونا پڑا۔
دہشت گرد تم بناؤ، دہشت گردی تم کرو، ان کے ساتھ فکس میچ کھیل کر پھر ایمرجنسی لگاؤ۔ کیا عوام نہیں جانتی کہ دہشت گرد کون ہے! تم اس اقدام کو چند دن کے لیے بھی ہضم نہیں کر سکو گے!
The countdown has begun
اہم ترین 🚨
سہیل آفریدی پشتو میں کہہ رہا ہے سارا پاکستان صوابی پہنچ جائیں، میں 13 اکتوبر کو صوابی میں اگلا لائحہ عمل دوں گا، گورنر راج اور ایمرجنسی سے بات اب آگے نکل چکی ہے
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
جتنے بھی ہمارے پارلیمنٹیرینز ہیں وہ کم از کم پانچ سو بندے صوابی لے کر آئیں گے۔۔۔
اور جو ہمارے خیبر پختونخوا کے پارلیمنٹیرینز ہیں، وہ ہزار، ہزار بندے لے کر آئیں گے۔۔۔
سہیل آفریدی
گوجرانوالہ کے سیالکوٹی دروازے پر ٹریفک وارڈن نے نوجوان کا مبینہ چالان کیا، اور بعدازاں اسکو بدترین تش دد کا نشانہ بنایا!
مریم نواز ایسے پولیس والوں کے خلاف سخت ایکشن لے تاکہ کسی شہری کی ایسے تذلیل نہ ہوں۔