پنجاب میں نون لیگ نے سکول اور محکمہ تعلیم کی پوسٹیں ختم کر دیں مریم صاحبہ نے کہا تنخواہ دینے کے پیسے نہی ہیں
مگر افسر شاہی بڑھا دی ہے 101 تحصیلوں کو گریڈ سترہ کے مذید اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوں گے ساتھ ان کے ایک ڈپٹی ہو گا
اسٹنٹ کمیشنر تو ویگو ڈالے اور فورچونر سے نیچے بیٹھتا بھی نہی گن مین وغیرہ الگ
تعلیم کے لیے پیسہ نہی مگر عوام کو کنٹرول کرنے کے لئے ہے
جمعہ والے دن پیٹرول مہنگا کیا جبکہ عالمی منڈی میں پانچ فیصد سستا ہوا تھا اس کے بعد ویک اینڈ پر وہی قیمت رکھی مطلب جمعہ ہفتہ اتوار کو سستا پیٹرول مہنگا بیچ کر کمائی کر لی آج پانچ فیصد اور کم ہوا یہ آج کے دن بھی جمعہ والے ریٹ پر بیچیں گے
اس طرح یہ عوام سے واردات کرتے ہیں
سعودیہ سے اُدھار تیل لے رہے ہیں، امریکہ سے 10 ارب ڈالرز مانگ رہے ہیں، UAE کا قرض چین سے مزید قرض لے کر واپس کرتے ہیں، چین قرض واپس مانگتا ہے تو قرض رول اوور کرواتے ہیں، قومی اثاثے بیچ رہے ہیں یا گروی رکھوا رہے ہیں، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے
نون لیگ کشمیر میں سو الیکٹرک بسیں دے مگر نون لیگ کے پارٹی فنڈ سے یا بطور کشمیری ذاتی جیب سے دیں پنجاب کا سرکاری خزانہ پنجاب کے عوام کا حق ہے
پنجاب کے عوام پر جرمانے کر کے ہزار طرح کے ٹیکس لگا کر اس سے کمائی رقم دوسرے صوبوں پر لگانا جائز نہی ہے
مزے تو 17 سے اوپر افسران کر گئے
فیڈرل میں نا احتجاج کیا نا کوئی مطالبہ اور ایگزیکٹو الاونس موجودہ بنیادی تنخواہ پر کروا لیا
جس سے 70 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ تک ہر افسر کی تنخواہ بڑھ گئی
اتنی کسی چھوٹے ملازم کی پوری تنخواہ نہیں ہوتی جتنی ان افسران کی بڑھ گئی
انٹرنیشل مارکیٹ میں آج خام تیل کی قیمت پوری پانچ فیصد کم ہوئی ہے مگر فرعون اصغر نے آج بھی قیمتیں بڑھا دی ہیں
ثابت ہوا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھانے کا تعلق عالمی مارکیٹ سے نہی شہباز شریف کی لوٹ مار سے ہے
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 7 فیصد بڑھاتے ہوئے معاشی حالات کا رونا رویا جاتا ہے اور بجٹ کے بعد من پسند محکموں کو بجٹ پیش کرنے کی خوشی میں چھ چھ مہینے کی تنخواہ کے برابر بونس دیا جاتا ہے، بیوروکریسی کو ایگزیکٹو الاؤنس، عدلیہ کو مراعات، سیکٹریٹ والوں کو 100 فیصد اضافے
🚨🚨فرعون وقت نے رات ہوتے پیٹرول بم گرا دیا
پاکستان کی تاریخ کے ظالم ترین حکمران شہباز شریف نے آدھی رات ہوتے ہی پیٹرول کی قیمت چار روپے لیٹر اور ڈیزل کی قیمت پانچ روپے لیٹر بڑھا دی ہے اسکےبعد ڈیزل 383 روپے46 پیسے جبکہ پیٹرول 335 روپے 18 پیسے کا ہو گیا ہے
فجر کی نماز کے وقت ان حکمرانوں کی بربادی اور تباہی کے لیے اجتماعی دعا مانگا کریں اب غریب کے پاس یہی آپشن بچا ہے
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کے پورے پنجاب میں فی کمرہ ساڑھے بارہ لاکھ میں بننے والے ہزاروں کمرے جو سکول کونسل کی زیرِ نگرانی تعمیر ہو رہے تھے اُن کی ایک قسط آ چکی تھی اور کمروں کا پچاس فیصد کام مکمل ہے مگر سات آٹھ ماہ سے دوسری اور فائنل قسط نا آنے کی وجہ سے کام رکا ہوا ہے
مریم نواز صاحبہ کو افسر شاہی اور سہیلی گروپ نے بلدیاتی نوعیت کے کاموں کے فوٹو سے بہلایا ہوا ہے جبکہ پنجاب کے عوام پر نون لیگ کی مرکز اور انکی اپنی حکومت نے زندگی عذاب کر دی ہے پیٹرول ، بجلی ، گیس ، آٹا ، فون بل سب مہنگے ترین تو تھے پنجاب میں جو سو طرح کے جرمانے اور ہر طرح کے لوکل ٹیکس میں اضافہ ہوا پھر پیرا جیسی بدمعاش فورس روزانہ جس طرح کاروبار تباہ کر رہی اس کے بعد مریم صاحبہ کی حکومت الٹی بھی لٹک جائے عوام نے ووٹ بھی نہی دینے اور اس وقت جو نفرت نون کے خلاف وہ بے حساب ہے
شہباز شریف حکومت میں انہی چار دنوں میں بیوروکریٹس کو دو ارب اضافی مراعات کا پیکج دیا ہے
نون لیگ کو شہباز شریف صاحب کی حکومت نے اس لیول پر پہنچا دیا کہ اگر فری اینڈ فئیر الیکشن ہوں تو پنجاب تک میں کونسلر تک کا الیکشن ہار جائیں گے
عام آدمی سے لوٹ کر الیٹ کو نوازنے کا نام شہباز سپیڈ ہے
پیٹرول اور بجلی کی قیمت یہ کہہ کر بڑھا دیتے کہ ملک مشکل صورتحال سے گزر رہا عوام قربانی دے
جبکہ اس حکومت نے 43کروڑ تو رمضان پیکج کے اشتہارات کے میڈیا کو دیے ہیں راتب خوروں اور ڈیجیٹل میڈیا کو کیا ملا اس بارے ابھی راوی خاموش ہے
سوال یہ اتنا خرچہ کر کے بھی حکومت مخالف جذبات عروج پر کیوں ہیں ؟
جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا
تین سو یونٹ مفت بجلی کا وعدہ نون لیگ اور پی پی نے الیکشن مہم کے دوران کیا تھا پی ٹی آئی تو نئی جماعت کبھی اقتدار میں نہی رہی تھی اس کے وعدوں پر تو بندہ کہہ سکتا انکو حقائق پتہ نہی تھے مگر نون اور پی پی تو اقتدار کی پرانی جماعتیں وہ مفت بجلی کا وعدہ کچھ سوچ کر کر رہی تھئں اب یہ دونوں جماعتیں اقتدار میں ہیں مفت تو چھوڑ دیں آنہوں نے سو یونٹ تک بل اتنا بڑھا دیا کہ گرمئ میں لوگ بجلی بند کر کے بیٹھے کہ بل دینے کی سکت نہی ہے
اقتدار لیا ہے تو وعدے پورے کرو
گزشتہ سال بڑی دھوم دھام سے اعلانات کیے گئے تھے کے ہم سکول کونسل کی مدد سے ہزاروں نئے کمرے بنوا رہے ہیں۔ ایک قسط جاری ہوئی، آدھے آدھے کمرے بن گئے اور پھر آدھا سال گزرنے کے باجود دوسری قسط جاری نا ہو سکی۔ سونے پہ سہاگا یہ کے بجٹ میں مزید نئے کمرے منظور ہو گئے ہیں جبکہ پچھلے ادھورے
چار سال سے یہ سٹوریاں سنا رہے کہ عمران تباہ کر گیا ہم درست کر رہے اس لئے قیمتیں بڑھانی پڑ رہی ہم مجبور ہیں سخت فیصلے کرنے پڑ رہے
جب یہ چلے جائیں گے تو جو اگلے آئیں گے وہ ان پر الزام دھر کر کھال اتاریں گے
اس طرح پاکستان میں تباہی کا سیاسی سرکل چلتا رہتا ہے تمام اکنامک تباہی میں حکمرانوں کی الیٹ کی سہولیات بڑھتی رہتی ہیں
پنجاب، خصوصاً لاہور میں، آج ہر محفل، ہر گلی اور ہر گھر میں ایک ہی موضوع ہے: ٹیکس، جرمانے، چالان اور نئی نئی فیسیں۔
گٹر ٹیکس، کوڑا ٹیکس، مسلسل تیسرے سال پراپرٹی ٹیکس میں بھاری اضافہ، ٹوکن ٹیکس، ڈرائیونگ لائسنس کی فیسیں، ای چالان، اور نت نئے مالی بوجھ نے عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔
لوگ سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ہر روز کوئی نہ کوئی نیا مالی بوجھ ان پر ڈال دیا جاتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پنجاب میں عوامی حکومت نہیں بلکہ کسی ریکوری مشن پر آئی ہوئی آئی ایم ایف کی ٹیم کام کر رہی ہو، جس کا مقصد ہر ممکن ذریعے سے عوام کی جیب سے مزید رقم نکالنا ہو۔
ریاست کی ذمہ داری صرف محصولات جمع کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو ریلیف، بہتر سہولیات اور باوقار زندگی فراہم کرنا بھی ہے۔ اگر ہر مسئلے کا واحد حل نئے ٹیکس اور فیسیں ہوں، تو اس کا بوجھ آخر کب تک عام آدمی اٹھاتا رہے گا؟