Very aptly put @PravinSawhney India as important component of Global South should recall its role, 70 years ago, when together with Pakistan, Indonesia & China, India was a driver of first Afro-Asian conference at Bandung in April 1955! Such humiliation is unbecoming of India’s dignity: better to be for India to be on Right Side of History as part of emerging ‘Asian Century’, rather than being America’s ‘frontman against China’, which, in any case, is a tried, tested & failed formula!
تمہیں وطن کی فضائیں سلام کہتی ہیں
میجر حمزہ اسرار شہید ،
لانس نائیک ظاہر اقبال شہید ،
نائیک طاہر خان شہید ،
سپاہی محمد ندیم شہید
اپنے ہر خواب کو ملک میں امن کی خاطر قربان کر دینے والوں ان شہیدوں کو ہمارا سلام
ان کی ماؤں ،بہنوں ،بچوں اور خاندانوں کو ہمارا سلام
Major Hamza Israr, 29, from Rawalpindi and Sepoy Muhammad Naeem, 26, from Naseerabad embraced Shahadat in Mir Ali, North Wazirstan whilst conducting an Anti Terrorist operation. May Allah Almighty grant the souls of the Shuhadah the highest place in Jannat ul Firdous and grant the family members the strength to bear this tremendous loss. They have sacrificed their lives for Pakistan's future. @PTIofficial
سابق سربراہ فافن سرور باری نے اسٹیبلشمنٹ کی مکاریوں کا پول کھول دیا🚨
بقول پٹواریوں کے 2018 کا الیکشن عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے جتوایا تھا۔ خان کو سپورٹ کرنے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کی جیتی ہوئی 30 سیٹیں نواز شریف پارٹی کو دے دیں تھیں۔اب جب 2024 میں عمران خان نے کلین سوئپ کیا ہے تو اسٹیبلشمنٹ کو اب تک لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ڈھائی سو کیس، خان کو جیل، میڈیا کو پٹا، سوشل میڈیا دہشتگرد، عدالتیں کھڈے لائن، آئین و قانون کی دھجیاں، حال تو ہے کہ الیکشن کمیشن بے چارہ ابھی تک فارم بدلنے میں لگا ہوا ہے میں۔ کبھی منتیں کہ خان کچھ دن چپ ہوجائے، کبھی بنی گالہ چلا جائے۔ عوام اور خان کے گٹھ جوڑ نے اداروں کو تتے توے پر بٹھایا ہوا ہے۔
#اردلی_حکومت_نامنظور
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو (۲۸ جنوری ۲۰۲۵):
فارم 47 کی حکومت تو صرف ایک کٹھ پتلی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی رضا مندی کے بغیر ناشتہ بھی نہیں کر سکتے- یہ حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے کیونکہ اس کے دل میں چور ہے۔ نو مئی اور 26 نومبر کے سانحات کا حساب لیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمارے لوگوں کو قتل کیا گیا، اغواء کیا گیا، زخمی کیا گیا اور بے جا مقدمات قائم کر کے ملٹری حراست میں دیا گیا۔ دنیا کی تاریخ میں کہیں سیکیورٹی فورسز اپنے ہی شہریوں پر سیدھے فائر نہیں کھولتیں مگر ہمارے کارکنان کے ساتھ یہ ظلم بھی کیا گیا۔ ان واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کا قیام نا گزیر ہے اور کمیشن نہ بنانا حکومت کے جھوٹا ہونے کی نشانی ہے۔ یہ ہمارے خلاف پراپیگنڈا کرتے تھے کہ ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار نہیں مگر حقیقت یہ ہے کے جب ہم ملک کی خاطر مذاکرات کے لیے آئے تو یہ کمیشن کا مطالبہ سنتے ہی دم دبا کر بھاگ گئے کیونکہ انکی نیت میں کھوٹ ہے۔
میرے خلاف جھوٹے مقدمات چلانے کے لیے پراسیکیوشن کو 50 کروڑ کی رقم ادا کی گئی اس کے علاوہ بھی ججز اور وکلاء پر حکومت کا پیسہ لگتا ہے یہ وہ پیسہ ہے جو عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس کی صورت میں بھرتی ہے جسے سیاسی انتقام لینے کے لیے ضائع کیا جا رہا ہے۔ اسی عدم استحکام کی بدولت 2 سالوں میں 18 لاکھ لوگ یہ ملک چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ ہمارا نوجوان بے روزگاری اور لا قانونیت سے مایوس ہو کر باہر جا رہا ہے مگر کسی کو اس کی پرواہ نہیں۔
پاکستان کی تمام ایجنسیوں کو تحریک انصاف کو کچلنے کے کام پر لگایا گیا ہے تا کہ 8 فروری کو اس ملک کی عوام کے مینڈیٹ پر جو شب خون مارا گیا وہ سامنے نہ آسکے اگر ایجنسیوں کو سیاست کے بجائے اپنا کام کرنے پر لگایا جاتا تو آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور دوبارہ سر نہ اٹھا رہا ہوتا۔
یحیٰی خان پارٹ 2 اور کٹھ پتلی حکومت مجھ پر جھوٹے مقدمات کا جواز بنا کر مجھے جیل میں رکھے ہوئے ہے۔القادر کا مقدمہ بھی بھونڈا ہے اور توشہ خانہ کا مقدمہ بھی۔
میں موجودہ چئیرمین نیب اور جج ناصر جاوید جس کی کارکردگی سپریم کورٹ کے فیصلے میں سب کے سامنے ہے کے خلاف اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کروں گا۔ نیب کا مقصد پاکستانی عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس نکلوانا ہے نہ کہ سیاسی انتقام کی غرض سے اسٹیبلشمنٹ کا آلہء کار بننا۔
ہائی کورٹ کی نئی تقرری، جج راجہ منہاس کو توشہ خانہ 2 کی اپیل کا کیس تھما دیا گیا جس پر مجھے شدید تحفظات ہیں۔ اس کی وجوہات یہ ہیں کہ سب سے پہلے تو ارشد منہاس کا سگا بھائی نو مئی کے مقدمات اور جی ایچ کیو حملہ کیس میں میرے خلاف وکیل اور پراسیکیوٹر ہے۔ راجہ منہاس ایک ایسی ترمیم ( 26 ویں آئینی ترمیم ) کی بابت جج بنے ہیں جس ترمیم کو ہم سرے سے مانتے ہی نہیں۔ یہ کٹھ پتلی ، نا مکمل اور جعلی پارلیمان کی جانب سے منظور کی گئی ایک غیر آئینی اور غیر قانونی ترمیم ہے، اس ترمیم کو ہم نے سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کر رکھا ہے لہذا ان کو ہمارا کوئی بھی کیس اصول کے مطابق سننا نہیں چاہیے۔ توشہ خانہ کے معاملے پر ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج صاحبان اپنا فیصلہ دے چکے ہیں جس میں 6 ایک دوسرے سے منسلک معاملات تھے۔ ان سینئر جج صاحبان کے فیصلے کے بعد سب سے جونئیر جج کا اس کیس کو سننا نہیں بنتا۔ راجہ منہاس کی تقرری ایڈہاک بنیادوں پر 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ہوئی ہے اور چونکہ ان صاحب کو مستقل نوکری اس حکومت کی مرضی سے ملے گی جسے ہر حال میں مجھے پابند سلاسل رکھنا ہے لہذا یہاں مفادات کے ٹکراؤ کا نقطہ بھی سامنے آ جاتا ہے جس کی بنیاد پر راجہ منہاس کو توشہ خانہ کیس سے اصولاً اور اخلاقاً الگ ہو جانا چاہیے۔
القادر کے معاملے میں لندن کی عدالت کا فیصلہ بھی سامنے آ چکا ہے جس سے واضح ہے کہ یہ رقم حکومت نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں آنی تھی۔ اسی لندن کی عدالت کے فیصلے سے یہ بھی واضح ہوا کہ یہ کوئی منی لانڈرنگ یا کسی جرم کا پیسہ ثابت نہیں ہوا تھا۔ 21 اپریل 2020 کو القادر کے معاملے پر نیب نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جو چئیرمین نیب، ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر نیب اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب پر مشتمل تھی۔ انھوں نے اس انکوائری کی تحقیقات کر کے اس مقدمے کو بند کر دیا کہ اس مقدمے میں کچھ بھی ایسا موجود نہیں کہ اسے چلایا جا سکے۔ القادر کی دوبارہ انکوائری کا آغاز بدنیتی پر کیا گیا۔ اس میں بھی یہ ثابت ہوا کہ مجھے یا میری اہلیہ کو اس رقم یا منصوبے سے ایک ٹکے کا فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے باوجود مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے موجودہ چئیرمین نیب نے اپنے عہدے سے بددیانتی کرتے ہوئے اس کیس کو جاری رکھا-
1/2
Sikandar Sultan Raja betrayed his oath, the Constitution, and the Pakistani voters. He has no moral authority or credibility left and must immediately step down. Accountability under Article 6 of the Constitution is a must!
#Article6onECP
عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا ٹیم اور وکلاء سے گفتگو!!!
اردلی حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام سے مسلسل اس لیے بھاگ رہی ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ نو مئی کا واقعہ خود اسٹیبلشمنٹ نے کروایا تھا، اسٹیبلشمنٹ نے خود آگ لگا کر سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی۔ میرا عدالت سے اغواء کیا ہی اس لیے گیا تھا کیونکہ ان کو ردعمل کا اندازہ تھا اور عوام کے جذبات سے کھیل کر انہوں نے اپنا مقصد پورا کرنا تھا۔ ایک پرامن احتجاج کو اپنے بندے شامل کروا کے فالس فلیگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ نو مئی کی آڑ میں ہماری لیڈر شپ اور کارکنان سمیت ہزاروں لوگوں کو اغواء کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اغواء برائے بیان کی روایت ڈال کر لوگوں سے زبردستی تحریک انصاف چھڑوائی گئی۔ ہمارے 16 افراد شہید اور 4 افراد کو معذور کر دیا گیا۔ سب ظلم ہمارے ساتھ کر کے ہم پر ہی مقدمات بنا دئیے گئے۔نو مئی کا سارا ڈرامہ تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے رچایا گیا تاکہ لوگ ڈر کر تحریک انصاف کو چھوڑ جائیں۔ نو مئی کے بیانیے کا دھڑن تختہ تو 8 فروری کے انتخابات میں ہو گیا تھا جب تمام تر پابندیوں کے باوجود تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا۔ انتخابات ملتوی کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ جھوٹا پروپگینڈا کر کے عوام کو تحریک انصاف سے بد ظن کیا جائے مگر یہ اس میں ناکام رہے۔ 26 نومبر بھی اسی مقصد کے تحت کیا گیا تاکہ نہتے پرامن مظاہرین کو گولیاں مار کر خوف و ہراس پیدا کیا جاسکے اور عوام کو ان کی آواز بلند کرنے سے روکا جا سکے۔ 26 نومبر کو ہماری کال ملک میں جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے تھی مگر اس پر سیدھے فائر کھول کر عوامی خون سے اس حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھ رنگ لیے۔ 26 نومبر تحریک انصاف کو کچلنے کی دوسری کوشش تھی۔
کٹھ پتلی حکومت نے جمہوریت پر کاری ضربیں لگا کر عوام سے بنیادی انسانی حقوق مکمل طور پر چھین لیے ہیں۔ پیکا ترمیمی ایکٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پہلے آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ارشد شریف کا قتل کیا گیا، صحافیوں کو اغواء کیا گیا انکو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ اب فارم 47 اسمبلی نے آزادی اظہارِ رائے پر قدغن کے لیے کالا قانون منظور کر لیا ہے۔ سیاسی اختلافات کو دبانے کے لیے پیکا قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔ آزاد عدلیہ، قانون کی حکمرانی اور آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت پنپ نہیں سکتی۔ اس جعلی اسمبلی نے سوائے جمہوریت پر حملے کے قوانین منظور کرنے کے کچھ نہیں کیا پھر چاہے وہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری ہو یا پیکا ترمیمی ایکٹ۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد چیف آف آرمی سٹاف کی ایکسٹینشن تھا اور ان کو یہ خوف تھا کہ عدلیہ آزاد ہوئی تو الیکشن فراڈ سامنے آ جائے گا۔ اپنے ذاتی فوائد کے لیے عدلیہ کی خودمختاری کو سلب کر دیا گیا ہے۔
آٹھ فروری کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کی تیاری کی جائے۔ اس دن عوامی مینڈیٹ چھین کر 1971 کی یاد تازہ کی گئی۔ صوابی میں خیبرپختونخوا اور شمالی پنجاب کے لوگ اکٹھے ہو کر احتجاج کریں۔ دیگر علاقوں کے افراد اپنے اپنے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کریں۔ پوری دنیا میں اوورسیز پاکستانی بھی اس دن اپنی آواز بلند کریں۔ اوورسیز پاکستانیوں سے ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ ترسیلات زر کا بائیکاٹ جاری رکھیں۔ اس حکومت نے سوائے جمہوری اقدار کی پامالی کے کچھ نہیں کیا ان کو ترسیلات زر بھیجنا ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے جو آپ کی ہی گردن دبوچ رہے ہیں۔
ہم جمہوریت کی بحالی کے لیے پاکستان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں گے۔ اپنی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ دیگر جماعتوں سے اس مقصد کے تحت روابط کو تیز کریں تاکہ جلد از جلد عوام کو جمہوریت کی آڑ میں نافذ اس ڈکٹیٹر شپ سے نجات مل سکے۔
علی امین گنڈاپور پر بطور وزیراعلٰی گورننس کا بہت دباؤ ہے لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جنید اکبر خان جو ہمارے دیرینہ ساتھی اور کارکن ہیں انکو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر منتخب کر دیا جائے اور تنظیمی امور انکے حوالے کر دئیے جائیں
The latest from the source in US about Mohsin Naqvi is too shameful to even share here. This man who respected no law, household or democracy whilst in the service of unprecedented fascism in Pakistan is almost begging and humiliating himself in front of foreign lawmakers.
Representative Rashida Tlaib (D-MI), the most vocal Muslim member of Congress, emphasised her support for the Pakistani people.
“We must call for the release of political prisoners like Imran Khan,” she added.
https://t.co/W6cXBjt5mP
عمران خان نے ملک ریاض سے تمام ججز ، جنرلز ، صحافیوں سمیت تمام کے راز افشاں کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔ ملک ریاض ملک کی خاطر نام بتائیں کہ کس کس نے آپ سے پیسے کھائے ہیں :عمران خان
Pakistan’s interior minister meets with a US Congressman and soon thereafter the Congressman posts a “free Imran Khan” tweet.
That’s an epic fail for the interior minister and his superiors.