سہیل آفریدی نے چرس پی تھی یا کیا کیا تھا
وزیراعلی اپنی تحصیل میں امن تو قائم کر نہیں لاسکتے اور آرمی چیف، وزیراعظم اور چیف جسٹس کے تین عہدے مانگ کر پورے ملک میں امن لانے کے لطیفے سنا رہے ہوتے ہیں
ملک نصیر کوکی خیل
کہا جاتا ہے ایمل ولی خان کیوجہ سے بہت لوگ پارٹی چھوڑ کر گۓ، پارٹی چھوڑنے والے ولی خان بابا کے دور میں بھی تھے، لیکن پھر واپس آۓ۔
ہم وہ نہیں جو دیوار پر بیٹھے ہوں اور دونوں جانب دیکھ رہے ہوں کہ کہاں ہمارا مُفاد ہے۔
بلور خاندان مرنے کے بعد بھی باچا خان، ولی خان کے سپاہی رہیں گے۔
ایمل ولی خان کی آواز ایوانوں میں کمزوروں، مظلوموں اور محکوموں کی ترجمانی کرتی ہے۔
ایسی جرات ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔
وہ نسل جسے خواب دکھائے گئے تھے، آج ایمل ولی خان کی بدولت ان خوابوں کو حقیقت بنتے دیکھ رہی ہے۔
قائد زندہ دل قوم کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
#HBDAimalWaliKhan
بہادری دراصل موت کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ ہے۔
ایک جنگجو موت سے بھاگتا نہیں؛
وہ اسے سمجھتا ہے، قبول کرتا ہے، اور اُس سے معنی کشید کرتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ موت ایک لمحہ ہے، لیکن غلامی ایک صدیوں کا زخم۔
لہٰذا وہ لمحے کو چُنتا ہے، مگر زخم کو نہیں .........!!!
اسلام آباد میں دہشت گردی کی روک تھام، گندم کی تقسیم اور سیلاب کی تباہ کاریوں پر اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوتی ہے، مگر احتجاج کے "چیمپین" صاحب اس میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ انہیں اپنے "خان" سے اجازت نہیں ملی۔ سوال یہ ہے کہ کل جو ون آن ون ملاقات ہوئی، کیا اس کی اجازت بھی لی گئی تھی؟ بند کمروں میں فیصلے نہ کرنے کی بھونگیاں مارنے والے کو کل بند کمرے میں اپنی اصل حیثیت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہوگا۔
یہ صوبہ اب بس ڈرامہ بازوں کے سپرد ہے،ایک جاتا ہے، دوسرا آ جاتا ہے، سٹیج وہی رہتا ہے... اور ہم تماشائی بن کر انجوائے کرتے رہتے ہیں۔
محسن نقوی کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آقاوں کی خاطر آگ کے ساتھ کھیل رہا ہے۔
ہم جیل سے نہیں ڈرتے میں اسی خاندان سے ہوں جو جیل سے ڈرتا نہیں ہم اپنے موقف پر ڈٹے رہیں گے۔ باچا خان اور ولی خان کے خون کو جیل یا خوف سے دبایا نہیں جا سکتا۔
ایمل ولی خان, #ایمل_کے_ڈر_سے_اجلاس_ملتوی