I am overwhelmed by the beautiful birthday messages and blessings from all of you. Life got a bit hectic with work and family commitment, so I missed replying to everyone personally my sincere apologies for that. Please know that every single message meant the world to me. Thank you🙏
Under the same law these goons were disrespecting their teacher and a woman. Harassing and threatening her. In an emergency situation should a husband go home change and then come and protect his wife?
Police should have been prompt!!
پارسی، ہندو، سکھ اور عیسائی جس طرح پاکستان سے کم ہوتے جارہے ہیں جو تھوڑے بہت رھ گئے ہیں اگر نکل لئے تو سالو شراب کے لائسنس اور پرمٹ تم اپنے خالو کے نام پر لو گے۔۔۔ھیں؟
وفاقی ناانصافی، تقسیم کی سازشیں اور ستم ظریفی، سندھ کے ریونیو پر پنجاب کی شاہ خرچیاں
ایک بار پھر وہی پرانا، فرسودہ اور استحصالی ڈرامہ دہرایا گیا ہے۔ ایکنک کے حالیہ اجلاس میں 1.15 کھرب روپے کے 16 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن میں لاہور-بہاولنگر موٹروے جیسے فربہ اور پر��عیش منصوبے شامل ہیں۔ اس خبر کو "پنجاب کے لیے خوشخبری" بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ پورے پاکستان، بالخصوص سندھ کے عوام کے لیے وفاقی ناانصافی، معاشی ترجیحات کے نفاذ اور وسائل کی بندر بانٹ کی ایک اور بھیانک داستان ہے۔
وسائل کس کے اور عیاشی کس کی؟
معاشی حقائق کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ پاکستان کا معاشی دل کہلانے والا صوبہ سندھ، اپنے پورٹ، گیس، تیل اور صنعتی پیداوار کی بدولت ملک کے مجموعی ریونیو کا تقریباً 75 فیصد اکٹھا کر کے وفاق کے خزانوں میں جمع کرواتا ہے۔ لیکن اس معاشی خدمات کا صلہ سندھ کو کیا ملتا ہے؟ وفاقی کاک پٹ پر براجمان شریف شاہی اور پنجاب کی اشرافیہ سندھ کے پسینے سے کمائے گئے اسی ریونیو پر اپنے صوبے میں شاہانہ اسکیمیں اور شاہراہوں کا جال بچھا رہی ہے۔
فارم 47 کے ذریعے وفاق پر مسلط کردہ ن لیگ کی حکمرانی کا واحد مقصد پنجاب کو نوازنا اور باقی صوبوں، بالخصوص سندھ کے حقوق پر معاشی ڈاکہ ڈالنا بن چکا ہے۔
سندھ کے ساتھ کھلم کھلا معاشی دہشت گردی
آج سندھ کا کسان، تاجر اور عام شہری سوال پوچھنے پر مجبور ہے،
نیشن�� ہائی وے اور موٹروے کا حشر۔ پنجاب کے ایک شہر سے دوسرے شہر تک موٹرویز کے جال بچھائے جا رہے ہیں، لیکن سندھ کی معاشی شاہ رگ "نیشنل ہائی وے" تباہ و برباد ہو چکی ہے۔ سکھر سے کراچی موٹروے کا منصوبہ دہائیوں سے کاغذوں میں دبایا ہوا ہے اور اسے جان بوجھ کر التوا کا شکار رکھا گیا ہے۔
کے فور (K-4) منصوبے کے ساتھ ناانصافی: کراچی جیسے معاشی مرکز کو پینے کا پانی فراہم کرنے والا "K-4" منصوبہ وفاقی عدم توجہی کا شکار ہے۔ سندھ حکومت نے اپنے حصے کے اربوں روپے وفاق کے حوالے کر دیے، لیکن دہائیاں گزرنے کے باوجود وفاق اپنے حصے کا کام مکمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔
میڈیا کے ذریعے سندھ کی تقسیم کی سازش اور حقیقت
جب بھی سندھ اپنے جائز معاشی حقوق، سڑکوں، پانی اور ریونیو کے حصے کا مطالبہ کرتا ہے، تو وفاق اور پنجاب کی حاکم اشرافیہ اپنے لے پالک میڈیا چینلز، خریے ہوئے اینکرز اور خود ساختہ دانشوروں کو میدان میں اتار دیتی ہے۔ سندھ کی تباہ حال صورتحال کا ازالہ کرنے کے بجائے، ان میڈیا رومز سے "سندھ کی تقسیم" اور اسے مختلف انتظامی حصوں میں بانٹنے کی گہری سازشیں اور بحثیں چھیڑ دی جاتی ہیں تاکہ اصل معاشی استحصال سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔
لیکن پنجاب کی اشرافیہ اور ان کے میڈیا ترجمان ایک سچائی بھول جاتے ہیں:
عوام کا یک زبان فیصلہ: سندھ کا عام شہری، قطع نظر اس کے کہ اس کی سیاسی وابستگی کیا ہے یا وہ کس پارٹی کو ووٹ دیتا ہے، سندھ کی تقسیم کے نظریے کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ سندھ کی وحدت پر تمام سندھ واسی ایک پیج پر ہیں۔
آئینی و قانونی موقف: سندھ اسمبلی کئی بار دو تہائی سے زائد اکثریت کے ساتھ سندھ کی تقسیم کے خلاف اور اس کی تاریخی وحدت کے حق میں باضابطہ قراردادیں منظور کر چکی ہے۔
اس واضح عوامی اور آئینی فیصلے کے باوجود میڈیا پر تقسیم کا شوشہ چھوڑنا سندھ کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے اور ان کے ساتھ کھلم کھلا تعصب کا ثبوت ہے۔
تعصب کی اصلیت اور انجام
سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جب سندھ کے لوگ اپنے حق کے لیے احتجاج کرتے ہیں، تو ��لٹا ان ہی پر "صوبائیت" اور "تعصب" کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حقیقی تعصب سندھ کے عوام نہیں بلکہ لاہور کی وہ اشرافیہ کر رہی ہے جو سندھ کا ریونیو تو ہضم کرنا چاہتی ہے، مگر سندھ کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینے پر سانپ بن کر بیٹھ جاتی ہے۔
اگر سندھ کے معاشی استحصال، میڈیا کے ذریعے کی جانے والی سازشوں اور وفاق کی اس عدم مساوات کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کی جانے والی یہ شاہ خرچیاں ملک کے اندر مزید معاشی اور سیاسی خلیج پیدا کریں گی۔ سندھ کا ریونیو سندھ کے عوام کی خوشحالی، پانی اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہونا چاہیے—وفاق یہ بات کان کھول کر سن لے کہ سندھ اپنے وسائل پر پنجاب کے پرتعیش منصوبوں کی فنڈنگ مزید برداشت نہیں کرے گا
https://t.co/b8mTz53RzF
آجکل پٹواری ہر اس شخص کو اپنا باپ بنانے کیلئے تیار ہیں جو PPPسے ذرا سی نفرت کا اظہار کرے۔مہاجروں کو گود میں لینے کے بعد اب یہ پی ٹی آئی والوں کے بھی ترلے ڈالیں گے۔
ویسے مہاجر بھی اخیر ہی بے شرم ہیں کل سپیس میں جس سے ماں بہن کی گالیاں کھائیں آج اسکے ساتھ کو ہوسٹ بنے بیٹھے ہیں
کیا وقت کے فرعون جرنل باجوہ کو عمران نیازی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے سے صاف انکار کرنا ڈیل تھی؟
بلاول کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر عدم اعتماد پر ڈٹا رہ�� اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری طریقہ سے وزیر اعظم کو گھر بھیجا گیا۔
اینج نئیں مطیع اللہ جان
گڈ گورنس کا ایک اور ثبوت
حکومتی بے حسی واپڈا اور واسا کی نا اہلی گوجرانوالہ میں ایک نوجوان کی جان لے گئی
یہ ہے وہ پنجاب میں کارکردگی کارکردگی جس کی بنا پر کشمیر والوں سے ووٹ مانگے جا رہے ہیں
Video Courtesy @BasharatAliPPP#Punjab
آزاد جموں و کشمیر کے عوام کا حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار ہمارا منشور بھی ہے اور ہمارا عہد بھی۔
میں مہاجرین کے حقِ نمائندگی پر یقین رکھتا ہوں، مگر یہ بھی واضح کرتا ہوں کہ آزاد جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کسی اور صوبے میں نہیں ہو سکتا۔
کشمیر کا فیصلہ پنجاب نہیں کرے گا۔
کشمیر کا فیصلہ سندھ نہیں کرے گا۔
کشمیر کا فیصلہ صرف و صرف کشمیر کرے گا۔
27 جولائی کو تیر کے نشان پر مہر لگائیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں تاکہ ایک بااختیار، باوقار اور خوشحال آزاد جموں و کشمیر کی بنیاد رکھی جا سکے۔
#MirpurMainTeerChaleyGa
#میرپور_میں_تیرچلےگ��
لیکن نون لیگ تو ایسے لوگوں کو جو سوشل میڈیا پر غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں انہیں سرکا��ی پروٹوکول دیتی ہے، نون لیگ کی اعلی قیادت ان سے بنفس نفیس مُلاقات کرتی ہے اور ایسے بندوں کو نون لیگ اوورسیز کا کوآرڈینیٹر مقرر کرتی ہے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟
نماز کے بعد جب مولانا امریکہ یورپ کی تبای کی دعا مانگتے تو گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے کہ خدایا اگر یہ بھی تباہ ہو گئے تو ہم کیا سیر و تفریح کے لیے افگان ستان جائیں گے۔۔۔۔۔ہیں؟؟