@Markhor_101 Masha Allah.
Es pr be zara nazar e karam
Pakistan
PPP (Purchasing Power Parity):in world 26th • PPP GDP: ∼$1.69 - $1.76 tr
PPP GDP
• Asia me: 13th number • India 2nd, Indonesia 4th, Turkey 5th, Saudi Arabia 7th, Iran 10th, Vietnam 11th, Bangladesh 12th hain
کوئٹہ میں گزشتہ روز ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ہماری روایات، ہماری اقدار اور بلوچستان کی اجتماعی غیرت پر حملہ ہے۔ یہ اس سرزمین کی روح کے خلاف ہے جہاں عورت کو عزت، وقار اور احترام کا سب سے بلند مقام حاصل رہا ہے۔
آج ہم ایک ایسے دور کے گواہ ہیں جو ہمارے لیے باعثِ شرم ہے۔ ہم خاموش بیٹھے ہیں جبکہ ہماری بیٹیاں ہسپتالوں میں نشانہ بنائی جا رہی ہیں، انہیں اٹھایا جا رہا ہے، قید کیا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یہ سب اُس دھرتی پر ہو رہا ہے جہاں کبھی عورت کی حرمت ہر شے سے بڑھ کر سمجھی جاتی تھی۔ یہ دیکھنا روح کو زخمی کر دیتا ہے کہ ہم بحیثیتِ معاشرہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔
بلوچستان وہ سرزمین ہے جہاں عورت صرف عزت کی علامت نہیں بلکہ قیادت، ہمت اور شعور کی نمائندہ بھی رہی ہے۔ جو لوگ پسماندہ، تنگ نظر اور فرسودہ سوچ کے ذریعے باعزت اور کامیاب خواتین کو بدنام کرنے، دبانے یا ان کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ صرف ایک عورت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
کسی بھی عورت کی عزت، ساکھ اور کامیابی پر حملہ دراصل ہماری اجتماعی اقدار پر حملہ ہے۔ ایسے رویوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ خواتین کا احترام کوئی انتخاب نہیں، بلکہ ایک اصول ہے جسے ہر حال میں برقرار رکھنا ہوگا۔
ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی روایات، اپنی غیرت اور اپنی بیٹیوں کے وقار کے دفاع کے لیے یک آواز ہو جائی!!
جب بھی شہر میں کوئی دھماکہ، حادثہ یا سانحہ پیش آتا ہے، یہی ڈاکٹر سب سے پہلے عوام کی مدد کے لیے پہنچتے ہیں۔ ہم نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب مشتعل ہجوم نے ہسپتالوں اور وارڈز تک کو جلا ڈالا، ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں نے بھی ایمرجنسی وارڈز کو آسان ہدف سمجھ کر بارہا حملے کیے۔
اور آج ایک آن ڈیوٹی خاتون ڈاکٹر پر ہسپتال کے لفٹ آپریٹر نے تیزاب پھینک دیا۔
المیہ یہ ہے کہ جب مایک صحافی ایک اسٹاف ممبر سے پوچھ رہا تھا کہ زخمی ڈاکٹر کو کہاں لے جایا گیا ہے، تو اس نے جواب دیا: "انہیں آریا ہسپتال منتقل کیا گیا ہے کیونکہ یہاں سہولیات موجود نہیں ہیں۔"
جی ہاں، صوبے کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹرز کو بھی بعض اوقات علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنا پڑتا ہے کیونکہ بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہوتیں۔
اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ زخمی ڈاکٹر کے ساتھ ہمدردی کرنے کے بجائے بہت سے لوگ سب سے پہلے یہ سوال پوچھتے ہیں: "آخر وجہ کیا تھی کہ اس شخص نے ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا؟"
آج میری تمام ہمدردی، حمایت اور یکجہتی ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کے ساتھ ہے، خصوصاً ان خواتین ڈاکٹروں کے ساتھ جو اس شدید پدرشاہی، قبائلی اور رجعت پسند معاشرے میں رہتے ہوئے بھی انسانیت کی خدمت کا فریضہ انجام دیتی ہیں، اور بدلے میں اکثر انہی لوگوں کے ظلم، نفرت اور تشدد کا سامنا کرتی ہیں جن کی جانیں بچانے کے لیے وہ دن رات کام کرتی ہیں۔