Lets congratulate our proud Koharian Ehsan Achakzai of 25th Entry for his selection in Open Society University Leadership Fellowship 2023-24 scheduled in Colombia. Additionaly, he is selected for Osun Economic Democracy Initiative's 2024 Summer Workshop in New York.
آپ کہاں کھڑے ہیں؟
حشر کا دن ہوگا۔ دو گروہ آمنے سامنے کھڑے کردیے جائیں گے۔ عاصم منیر کیساتھ قمر باجوہ ، فیصل نصیر ، ندیم انجم ، فائز عیسی ، محسن نقوی ، انوار کاکڑ تو اٹھائے جائیں گے۔ ان کیساتھ انکا پورا گروہ بھی اٹھایا جائیگا۔ اس گروہ کو انکے ڈی ایچ اے والے قبرستانوں سے اٹھایا جائیگا۔ انکے تمغوں اور انکی گالف کی چھڑیوں سمیت۔
عاصم منیر اور قمر باجوہ کو اس گروہ کے آگے کھڑا کردیا جائے گا۔سامنے دوسرا گروہ ہوگا جس میں ظل شاہ ہوگا، سامنے ارشد شریف ہوگا۔ سامنے نومئی کے سینتالیس شہداء ہوں گے۔ سامنے ننھا عمار فاروق ہوگا۔ سامنے پچیس مئی کے لانگ مارچ میں شہید ہونے والے ہوں گے۔ سامنے بلوچستان کے شہید ہوں گے۔ سامنے سندھ میں رینجرز کے ہاتھوں شہید ہونے والے بھائی ہوں گے۔ سامنے وہ بیٹیاں ہوں گی جن کے سروں سے دوپٹے کھینچے گئے۔ سامنے وہ مائیں ہوں گی جن کو انکی چوٹیوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا۔ سامنے وہ بچے ہوں گے جن کے والدین کو بلاجواز مہینوں تک جیلوں میں پھینکا گیا ہوگا۔
اس دن تو پورا پورا حساب ہوگا۔ قمر باجوہ اور عاصم منیر کے کھاتے میں ان تمام مظلوموں کیساتھ ہونے والے جرائم ڈال کر جہنم میں جلنے کے کئی ہزار سال لکھ دیے جائیں گے۔ان مظلوموں سے پوچھا جائے گا
کیا اب تمہیں انصاف مل گیا ؟
مظلوموں کا یہ گروہ پہلے خاموش رہے گا۔ پھر دوبارہ پوچھا جائے گا
انصاف ہوا ؟
کوئی ایک مظلوم بول اٹھے گا
نہیں ہوا۔
پھر پورا گروہ کہے گا ابھی انصاف نہیں ہوا۔وہ تو دن ہی انصاف کا ہوگا۔ پوچھا جائیگا
کیسے ہوگا انصاف؟
مظلوم کہیں گے انکے ساتھ انکے جرنیل بھی شامل تھے۔ جو دن رات ہمیں کچوکے دینے میں انکے ساتھ منصوبہ بندی کرتے تھے۔ ان ساتھی جرنیلوں کے کھاتے میں بھی کئی ہزار سال کی جہنم لکھ دی جائیگی۔
پھر سوال ہوگا
اب ہوگیا انصاف ؟
مظلوم کہیں گے ابھی انصاف مکمل نہیں ہوا۔ پوچھا جائے گا کیسے ہوگا انصاف ؟ مظلوم پہلی صرف میں کھڑے جرنیلوں کی قطار کے پیچھے چھپے ہوئے میجروں کرنیلوں اور کپتانوں کی طرف اشارہ کریں گے۔ حوالداروں اور صوبیداروں کی طرف اشارہ کریں گے کہ یہ لوگ ان ظالموں کے احکامات پر عمل کرتے تھے۔ ہمیں گھسیٹنے مارنے اور ظلم پر عمل درآمد کرنے والے تو یہ لوگ تھے۔ ان کے کھاتوں میں بھی ہزاروں سال کی جہنم ڈال دی جائے گی۔
پھر سوال ہوگا
کیا اب انصاف ہوگیا؟
مظلوموں کا گروہ خاموش رہے گا۔ دوبارہ پھر پوچھا جائے گا کیا تمہارے ساتھ انصاف ہوا؟ مظلوم پھر بھی خاموش رہیں گے۔ پھر پورے جلال کیساتھ پوچھا جائے گا آج انصاف کا دن ہے آج پورا انصاف ہوگا بتاو ہوا انصاف ؟ مظلوم کہ اٹھیں گے ابھی تو پورا پورا انصاف نہیں ہوا۔
سوال ہوگا
کون بچا ہے تمہارے مجرموں میں سے؟
مظلوم ظالموں کے گروہ کے بالکل آخر میں کھڑے لوگوں کی طرف اشارے کریں گے۔ وہ لوگ اپنی طرف انگلیاں اٹھتی دیکھ کر چیخنا چلانا شروع کردیں گے۔ یہ لوگ کہیں گے ہم نہ منصوبہ بندی میں تھے ، نہ عمل در آمد کرنے والوں میں تھے۔ ہم تو اپنی یونٹوں بیرکوں اور اپنی چھاونیوں تک محدود تھے۔ ہم تو خاموش تھے۔
مظلوموں سے سوال ہوگا ان کیخلاف چارج شیٹ پیش کی جائے۔ مظلوم پکار اٹھیں گے۔ یہ صاحب اختیار تھے، یہ اسی نظام کا حصہ تھے۔لیکن یہ خاموش تھے۔ یہی ان کا قصور ہے۔
انکا چیخنا چلانا بلند ہوتا چلا جائے گا۔ یہ اپنے سروں کو پیٹیں گے۔ انکے سینے اور گلے چیخ چیخ کر پھٹ جائیں گے ۔ یہ بار بار کہیں گے
ہم کیوں خاموش تھے، ہم کیوں خاموش تھے ، ہم کیوں خاموش تھے۔
انکے کھاتے میں بھی دوزخ لکھ دی جائیگی۔ پھر مظلوموں سے سوال ہوگا۔
اب ہوا مکمل انصاف ؟
“مظلوم پکار اٹھیں گے۔ ہوگیا انصاف یہ انصاف کا دن تھا اور یہی عین انصاف ہے”
الیکشن کمیشن کے باہر پی ٹی آٸی انٹرا پارٹی کیخلاف احتجاج کرنے والے ایک شخص کے مطابق کے مطابق انہیں ن لیگی ایم این اے ڈاکٹر طارق فضل چودھری لاٸیں ہیں ۔۔
کس قانون کے تحت کون سا کورٹ مارشل؟
تب ہی تو ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا ہے ان جرنیلوں نے۔ آئین پاکستان کے تحت فوج تو مجھے ری انسٹیٹ کئے بغیر ٹرائل کر ہی نہیں سکتی، اور میری پینشن اور مراعات ختم کرنے کے بعد فوج مجھے ری انسٹیٹ کرنے کا حق بھی کھوچکی۔
حلوہ سمجھ رکھا ہے کیاعاصم منیر؟
دراصل انہی چ چلاکیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ بنانا ریپبلک کی کینگرو کورٹ لگا کر غیر موجودگی میں بغیر مجھے اطلاع/نوٹس/دفاع کا موقع دیے بغیر مقدمہ چلا کر سزا سنا کر بکاو میڈیا پر چلا کر قوم اور دنیا کو بیوقوف بنانے کی گھٹیا حرکتیں دراصل پاکستانی حکومت بالخصوص اس پر قابض ملٹری جنتا کی جگ ہنسائی کہ وجہ بنتی ہیں۔
مگر ایک چیز اس جعلی کورٹ مارشل سے ثابت ہوتی ہے کہ میری بتائی گئی خبریں سچ ہیں اور یہی جرنیلوں کے پیٹ میں درد کی اصل وجہ ہے۔
میجر عادل راجہ
Need-based scholarships to 8 students
Today, President KAA Dilawar Khan Kudezai along with Cabinet Members and seniors Koharians visited BRC Loralai and awarded 8 students with need-based scholarships amounting Rs.10,000/- as per announcement in Alumni Homecoming 2.