بیویاں"
الجھتی ہیں ، ناراض ہوتی ہیں ، بگڑتی ہیں اور پھر آپ کے ہی قدموں میں بکھر جاتی ہیں ، اور سب کچھ آپ کے پاؤں میں ہار دیتی ہیں -
روپیہ روپیہ جوڑتی ہیں ، کبھی آپ کی جیب سے بچا بچا کے اور کبھی اپنی وراثت میں ملا روپیہ - ایسی بھولی گائیں ہوتی ہیں یہ کہ خاوند پر احسان چڑھاتی ہیں ، لیکن کرتی ہمیشہ "گھاٹے کا سودا" ہیں - وہ یوں کہ سینت سینت کر جوڑا روپیہ آپ کی اولاد پر لگا چھوڑتی ہیں - کبھی بہت ہوا تو اپنے دو چار جوڑے بنا لیے ، لیکن اکثر جانتے ہیں کیا کرتی ہیں ؟
جی ہاں بہت شوق سے بازار جا کر گھر کی کوئی شے ، کوئی آرائش کی ، یا استعمال کی چیز لے آتی ہیں - بہت سیانی بنتی ہیں ، ایک جملے کو ، صرف ایک تحسین کے جملے کو اس " جوڑ توڑ " کا حاصل سمجھتی ہیں - آپ کے حصے کا کام کر رہی ہوتی ہیں اور بدلے میں صرف اک نظر ، محبت بھری مسکراہٹ اور تسلیم پر راضی ہو جاتی ہیں -
دیکھئے نا اصول کی بات ہے کہ گھر بنانا اور چلانا مرد کی ذمے داری ہے ، اور اس کو سنبھالنا ، سجانا ، سنوارنا عورت کی -
اب یہ عورت مرد کے حصے کا کام کرتی ہے اور تحسین کے دو بول محض دو بول مانگتی ہے اور جانتے ہیں ؟ انہی پر راضی ہو جاتی ہے -
اگلے روز ہمارے ایک فیس بک کے دوست کا آپریشن تھا - دوست کے دونوں گردے ناکارہ ہو چلے تھے - تبدیلی کا فیصلہ ہوا - ان کی پوسٹ دیکھی دل مضطرب تھا - کیسا خوبصورت ، ہنستا چہرہ ، سچی بات ہے مجھے بہت اندیشے تھے - اللہ نے زندگی دی ، لوٹ آئے - ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ جس نے گردہ عطیہ کیا وہ کیسا ہے ؟
اگلا سوال کسی نے کیا :
"بھائی آپ کو گردہ کس نے دیا ؟"
ان کا جواب تھا :
" میری اہلیہ نے "
میری آنکھیں بھر آئیں - کہ یہ کیسی کمال کی نعمت اللہ نے ہم کو دی ہے - بھلا ایسا بھی ہوتا ہے -
ہم سے محبت کرتی ہیں ، پھر الجھتی ہیں ، اور پھر اپنا سب کچھ ہم پر ہی ہار دیتی ہیں ، اگر وقت آن پڑے تو اپنی جان بھی وار دیتی ہیں -
کبھی تو ہم ایسے بے پرواہ ہو جاتے ہیں کہ کہ تعریف تو کیا تسلیم سے بھی مکر جاتے ہیں ، لیکن یہ ایسی ہوتی ہیں کہ اس بے پرواہی کا علاج بھی مزید محبت سے کرتی ہیں - کہ شائد اب کے شام کا بھولا جلدی لوٹ آئے -
ایسی "جھلی " ہوتی ہیں کہ کھانے کا بہترین حصہ ہمارے لیے بچا کے رکھتی ہیں اور ہم بسا اوقات یہ پوچھنا بھی بھول جاتے ہے کہ اس نے کھانا بھی کھایا یا نہیں -
ہم بھلے تمام دن دوستوں میں بتا کے آئیں ، یہی سمجھتی ہیں کہ سرتاج دن بھر کام کاج کے تھکے آئے ہیں - پاؤں بھی دھیرج رکھتی ہے کہ مزاج کے نازک آبگینوں کو ٹھیس نہ لگ جائے - ہم ایسے بے توفیق ہووے کہ نازک آبگینے خود بن کے رہ گئے - اور اس کو بہت آسانی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ
" آپ تمام دن کرتی کیا ہو "
مجھے اپنے ایک ملنے والے یاد آ گئے کہ جب بھی آتے ایک آٹھ دس برس کا بچہ ہمراہ ہوتا ، اک روز بتانے لگے کہ :
"اس کی ماں نہیں ، کھانا بھی خود بناتا ہوں ، اکٹھے رہتے ہیں ایک کمرہ لیا ہوا ہے ، نوکری لاہور میں ہے - میں ملازمت پر چلا جاتا ہوں اس کو حفظ کے مدرسے میں چھوڑ کے آتا ہوں ، تب کچھ کام کر پاتا ہوں -"
میں سوچ کے رہ گیا کہ ہم کیسے بے فکر ہو کے کام پر چلے آتے ہیں -
ایسی سادہ ہوتی ہیں کہ شادی کی اگلے روز اپنا حق مہر معاف کر کے بیٹھی ہوتی ہیں ، اور اگر کوئی زیادہ مسکین شکل بنا لے یا محبت سے بازوٶں میں بھر لے تو وہی رقم اس کو دے کر کہتی ہیں:
" لیں آپ برت لیجئے گا ، میں نے کیا کرنی ہے ، آپ ہیں نا -"
یار دیکھیے نا ، کیسی اللہ کی نعمت ہوتی ہیں ، زمانے بھر کا دکھ سہتی ہیں کہ ماں باپ کو چھوڑ کے آپ کے پاس آ جاتی ہیں ، پھر آپ کے ماں باپ ، بہن بھائیوں کی خدمت کرتی ہیں - آپ ایک لمحہ جس تکلیف کو نہ سہہ سکیں ، اس کو سہار کر آپ کے بچے پیدا کرتی ہیں - اور سب سے بڑا انعام آپ کو یہ دیتی ہیں کہ ان کی اچھی سے اچھی تربیت کرتی ہیں ، اور پھر آپ بوڑھے ہوتی ہیں تو بھی ان سے آپ کے لیے لڑتی ہیں کہ :
" باپ کا خیال کیا کرو "
اور بتاؤں سب سے بڑی عنایت ان کی تب ہوتی ہے کہ جس سے میں بھی ہر دم نہال ہوتا ہوں ، کہ آپ کی آخرت کی بھی سوچتی ہیں - کیسی مہربان اور شفیق - میری اہلیہ تب تو ایسی تلخ ہو جاتی ہے جب میں نماز میں سستی کرتا ہوں ، کبھی سستی کے مارے گھر میں پڑھنے کو جی چاہتا ہے تو یوں ناراض ہوتی ہے کہ جیسے میں نے اس کے بچاۓ پیسے چرا لیے ہیں - پھر اٹھ کے مسجد جانا ہی پڑتا ہے .... ہیں نا بہت ظالم بیویاں کہ آپ کا ساتھ چھوڑتی ہی نہیں ، آخرت کی فکر میں بھی رہتی ہیں۔
کسی زمیندار کی بھینس نے دودھ دینا بند کر دیا،
زمیندار بڑا پریشان ہوا
اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا،
ڈاکٹر نے ٹیکے لگائے لیکن کوئی فرق نہ پڑا،
تھک ہار کر وہ بھینس کو پیر کے پاس لےگیا،
شاہ جی نے دھونی رمائی، دم کیا، پھونک ماری
لیکن وہ بھی بے سود رہی
بھینس کو کوئی فرق نہ پڑا۔ اس کے بعد وہ بھینس کو کسی سیانے کے پاس لے گیا،
سیانے نے دیسی ٹوٹکے لگائے
لیکن وہ بھی بےکار ثابت ہوئے
آخر میں زمیندار نے سوچا
کہ شاید اس کا کھانا بڑھانے سے مسئلہ ٹھیک ھو جائے! خوب کھل بنولہ کھلایا،
کسی چیز کی کسر نہ چھوڑی
لیکن بھینس نے دودھ دینا شروع نہ کیا۔
لاچار ہوکر
وہ اسے قصائی کے پاس لےکر جانے لگا
کہ یہ اب کسی کام کی نہیں تو
چلو ذبح ہی کروا لوں،
راستے میں اسے ایک سائیں ملا۔
سائیں بولا: پریشان لگتے ھو،
زمیندار نے اپنی پریشانی بیان کی،
سائیں نے کہا
تم کٹا کہاں باندھتے ہو؟ زمیندار بولا
بھینس کی کھُرلی کے پاس۔
سائیں نے پوچھا: کٹے کی رسی کتنی لمبی ھے؟
زمیندار بولا: کافی لمبی ہے!
سائیں نے اونچا قہقہہ لگایا اور بولا: سارا دودھ تو کٹا چُنگ جاتا ھے! تمھیں کیا ملے گا،، کٹے کو بھینس سے دور باندھو!"
قومی اسمبلی اور سینیٹ کی 50 کمیٹیاں ہیں!
اور ہر کمیٹی کا ایک چیئرمین ہے۔
ہر چیئرمین کے ذاتی دفتر کی تیاری پر دو دو کڑور روپے خرچ ہوئے ہیں۔
ہر چیئرمین ایک لاکھ ستر ھزار روپے ماہانہ تنخواہ لیتا ھے،
اسے گریڈ 17 کا ایک سیکرٹری،
گریڈ 15 کا ایک سٹینو،
ایک نائب قاصد، 1500cc گاڑی
600 لیٹر پٹرول ماھانہ،
ایک رہائش
رہائش کے سارے اخراجات بل وغیرہ اس کے علاوہ ملتے ھیں!
اس کے علاوہ اجلاسوں پر لگنے والے پیسے، دوسرے شہروں میں آنے جانے کیلئے فری جہاز کی ٹکٹ۔
ایک اندازے کے مطابق یہ کمیٹیاں اب تک کھربوں روپوں کا دودھ " چُنگ" چُکی ہیں!
اگر ان کٹوں کی رسی کو کم نہ کیا گیا تو یہ اجلاس اسی طرح جاری رہیں گے اور یہ کٹے ایسے ھی، کھربوں روپوں کا دودھ "چُنگتے" رہیں گے!
کیا پیٹ پر پتھر باندھنے اور کفایت شعاری کے لیے اقوال زریں صرف عوام کے لیے ہیں؟
پلیز اس آرٹیکل کو سیاست سے ہٹ کر پڑھیں
بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا شمار برطانیہ کی مشہور یونیورسٹیوں میں ہو تا ہے- یہ دنیا کی 50 بڑی اور برطانیہ کی ٹاپ 10 اچھی یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے- 2005 میں یونیورسٹی کو چانسلر کی ضرورت تھی- پوری دنیا سے 100 سے زیادہ سکالرز اور بزنس مینیجرز کو بلایا گیا –جس میں زیادہ تعداد برطانیہ، امریکا اور جرمن سکالرز کی تھی –اس لسٹ میں پاکستان اور انڈیا میں سے صرف ایک بندے کو بلایا گیا – سلیکشن سے پہلے جرمن سائنٹسٹ کو چانسلر کی سیٹ کے لیے سب سے زیادہ مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا تھا - مگر تمام کہانی اس وقت تبدیل ہوئی جب "ٹیلنٹ " لیڈرشپ " ماڈرن اسٹڈیز " پر بحث میں پاکستان نژاد نے دوسرے تمام امیدوار کو پیچھے چھوڑ دیا- اس ہال میں بریڈفورڈ کے تمام ڈائریکٹرز کھڑے ہو کر تالیاں مارنے اور داد دینے پر مجبور ہو گئے - تب جرمن سائنٹسٹ اس سکالر کے پاس آیا اور کہا اس پوسٹ پر تم مجھ سے زیادہ قابل بندے ہو-
کابینہ کی اکثریت نے اس سکالر کو منتخب کر لیا - اور کہا، "بولو کتنی تنخواہ لو گے؟"
اس نے تاریخی کلمات بولے: "میں یہاں بزنس کے لیے نہیں آیا - اور بولا تعلیم اور پیسے کا ایک دوسرے سے موازانہ نہیں کیا جا سکتا- میں ایک ایسے ملک سے ہوں جہاں لوگوں کو تعلیم کی بنیادی سہولیات نہیں ہیں- ہمارے پیسے والے لوگ دوسرے ممالک میں جا کے تعلیم حاصل کر لیتے ہیں- جب کہ غریب لوگ اپنے دل میں حسرت لے کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں- یہ ہی وہ خاص وجہ ہے جس کی وجہ سے غریب اور امیر کا فرق دن بدن زیادہ ہوتا جا رہا ہے- میری زندگی کی خواہش ہے میرے ملک کے وہ لوگ جو دوسرے ممالک میں نہیں جا سکتے وہ اپنے ملک میں ہی رہ کر اچھی تعلیم حاصل کریں اور بریڈفورڈ جیسی اچھی یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کر سکیں- اس لیے میں بریڈفورڈ یونیورسٹی پھر ہی جوائن کر سکتا ہوں اگر آپ مجھے میرے ملک کے لیے یہ سہولت دیں"۔
کابینہ کے تمام ارکان اس بات سے حیران رہ گئے - کابینہ کی اکثریت اس فیصلہ کے خلاف تھی اور کہا: "ایسا ممکن نہیں کہ ہم پاکستان میں اپنی ڈگری متعارف کروائیں"
سکالر کہنے لگا، "پھر آپ پاکستان کا بندہ بریڈفورڈ کا چانسلر کیوں لگا رہے ہو؟"-
بات یہاں آ کر رک گئی اور وہ سکالر اٹھ کے چلا گیا۔
بعد میں کرس ٹیلر نے اپنی کابینہ کو کہا، "اس بندے کو ایسے مت جانے دو اس میں کچھ کر دکھانے کی صلاحیت موجود ہے- جو بندہ اپنے ملک کا وفادار ہو اور کچھ کرنے کا عزم ہو وہ کام بھی ہمیشہ اچھا کرتا ہے اور پیسے کا لالچ نہیں کرتا۔ آپ اس کی بات مان لیں-"
کابینہ نے اس سکالر کو واپس بلایا اور کہا آپکی تمام باتیں منظور ہیں -آپ پاکستان میں جہاں چاہتے ہیں کیمپس بنا سکتے ہیں- وہ اسکالر 9 سال تک بریڈفورڈ کا چانسلر رہا ہے- 1986 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کے کوئی بندہ اتنے زیادہ عرصے کے لیے چانسلر بنا رہا -اس دوران اس نے پاکستان میں نمل یونیورسٹی بنائی جس میں پڑھنے والے طالب علموں کو وہی ڈگری ملتی ہے جو برطانیہ میں کروڑوں روپے خرچ کر کے بریڈ فورڈ یونیورسٹی میں ڈگری حاصل کرنے والوں کو-
اس کا نام عمران خان ہے اور وہ منافق خان، طالبان خان یہودی ایجنٹ اور غدار سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے- مگر میں اپنی زندگی میں ایسا پہلا منافق بندہ دیکھ رہا ہوں جو پیسے کا لالچ نہیں کرتا اور ایسا پہلا غدار دیکھ رہا ہوں جو ملک کے با ہر جا کے بھی پیسے پر اپنے ملک کو ترجیح دے۔
(ماخوذ)
جن ذہنی غلاموں کو یہ بات جھوٹ لگے، لنک پیش ہے بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا
https://t.co/GtvCmJhWfe
https://t.co/ez7dtRblOv
نمل یونیورسٹی کا بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے الحاق کا لنک- اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوۓ بچوں کو برطانوی ٹاپ کلاس یونیورسٹی کی ڈگری دی جاۓ گی۔
ناسا نے سورج کی تصویر لی تو قرآن کی کون سی آیت سامنے آگئی؟
حال ہی میں ناسا کے"پارکر سولر پروب"مشن نے جلتے سورج کے شعلوں کو تاریخ کے قریب ترین فاصلے سے ریکارڈ کیا،یہ قریب ترین فاصلہ بھی سورج سے 38 لاکھ میل تھا،سورج کا درجہ حرارت بیرونی سطح سے ساڑھے پانچ ہزار،جبکہ اندرونی سطح پر ڈیڑھ کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ تک جاتا ہے،آگ کے اس گولے سے بڑے بڑے شعلے اٹھتے ہیں،حیران کن بات ہے اس بھڑکتے اور دہکتے الاؤ سے اٹھنے والے شعلوں کی ساخت اور شکل قرآن کی سورہ المرسلات میں آگ کا ذکر آتا ہے،جس کے شعلے ایسے ہوتے ہیں جیسے کشتی جہاز کو باندھنے والی رسی لپٹی پڑی ہوتی ہے،شمسی الاؤ کے لپٹ کی جو تصویر ناسا نے جاری کی وہ بالکل ایسی ہی نظر آتی ہےجیسے قرآن میں منظرکشی کی گئی ہے،اللہ کی طاقت اور قدرت مزید دیکھیے کہ ان شعلوں کی لمبائی ایک لاکھ سے دو لاکھ کلومیٹر تک چلی جاتی ہے،جبکہ ہماری زمین کا قطر 13 ہزار کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ یعنی سورج سے اٹھنے والا ایک شعلہ ہماری زمین سے 10 گنا تک زیادہ چوڑا ہوتا ہےمگر پھر بھی آگ کے اتنے بڑے گولے سے ہماری زمین تک بس اتنی ہی حرارت پہنچتی ہے جو زندگی کے لیے ضروری ہے،اگر سورج اور زمین کا درمیانی فاصلہ کم یا زیادہ ہوتا تو اس کرہ ارض پر زندگی کا وجود ممکن ہی نہیں تھا،زیادہ فاصلہ مطلب یہاں سب کچھ منجمد ہو جاتا اور کم فاصلہ مطلب اتنی حرارت ہوتی کہ سب جل کر خاکستر ہو جاتا،اس کا زمین سے کامل ترین فاصلہ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کائنات خود سے وجود میں نہیں آئی، بلکہ اسے بہترین منصوبہ بندی سے تخلیق کرنے والا کوئی ہے،بتاؤ وہ ذات باری کون ہے؟
آپ نے کہیں نہ کہیں پھوٹی کوڑی کا ذکر ضرور سنا ہو گا نہیں سنا ؟
تو آج ہم آپ کو پھوٹی کوڑی کی کہانی سناتے ہیں مجھے بھی ابھی ہی پتہ چلاہے تو سوچا آپ کے ساتھ بھی شئیر کروں بہت مزے کی کہانی ہے
عینک صاف کرتے ہوئے فضل صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا:
"ہمارے زمانے میں موبائل نہیں ہوتے تھے…"
بیوی ہلکے سے مسکرائی اور بولی:
"لیکن ٹھیک 5 بج کر 55 منٹ پر میں پانی کا گلاس لے کر دروازے پر آجاتی… اور آپ بھی اسی وقت آ پہنچتے تھے۔"
شوہر نے ہنستے ہوئے کہا:
"ہاں… میں نے 30 سال نوکری کی، مگر آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ میں اس لیے وقت پر آتا تھا کہ تم پانی لے کر کھڑی ہوتی تھی… یا تم اس لیے آتی تھی کہ میں آنے والا ہوتا تھا!"
بیوی نے یادوں میں کھو کر کہا:
"اور یاد ہے… ریٹائرمنٹ سے پہلے، جب آپ کو شوگر بھی نہیں تھی، میں آپ کی پسندیدہ کھیر بناتی… اور آپ کہتے کہ آج دوپہر میں ہی دل کیا تھا کہ کاش کھیر مل جائے…"
شوہر نے سر ہلاتے ہوئے کہا:
"بالکل… دفتر سے نکلتے وقت جو سوچتا تھا، گھر آ کر دیکھتا وہی بنا ہوتا…"
بیوی نے شرماتے ہوئے کہا:
"اور جب آپ میری آنکھوں میں دیکھ کر غزل کے دو شعر پڑھتے…"
شوہر مسکرایا:
"اور تم پلکیں جھکا لیتی… میں سمجھ جاتا کہ میری غزل کو داد مل گئی…"
بیوی نے ایک اور یاد تازہ کی:
"ایک بار چائے بناتے ہوئے میرا ہاتھ جل گیا تھا… اور اسی شام آپ برنول لے آئے تھے…"
شوہر نے نرمی سے کہا:
"ہاں… ایک دن پہلے ہی دیکھا تھا کہ ختم ہو گئی ہے… سوچا، نہ جانے کب ضرورت پڑ جائے…"
بیوی نے ہنستے ہوئے کہا:
"اور آپ کہتے کہ آج آفس کے بعد وہیں آ جانا… فلم دیکھیں گے اور باہر کھانا کھائیں گے…"
شوہر بولا:
"اور تم ہمیشہ وہی رنگ پہن کر آتی تھی… جو میں نے سوچا ہوتا تھا…"
یہ کہتے ہوئے شوہر نے قریب آ کر بیوی کا ہاتھ تھام لیا اور دھیرے سے کہا:
"ہاں… ہمارے زمانے میں موبائل نہیں تھے… لیکن ہم دونوں تھے…"
بیوی نے گہری سانس لی اور کہا:
"آج بیٹا اور بہو ساتھ ہوتے ہیں… مگر باتیں نہیں، صرف واٹس ایپ ہوتا ہے…
لگاؤ نہیں، صرف ٹیگ ہوتا ہے…
کیمسٹری نہیں، صرف کمنٹ ہوتا ہے…
پیار نہیں، صرف لائک ہوتا ہے…
میٹھی نوک جھونک نہیں، بس اَن فرینڈ ہوتا ہے…
نہ وہ احساس، نہ وہ اپنائیت…"
"انہیں بچے نہیں چاہیے… انہیں پب جی، کینڈی کرش ساگا، ٹیمپل رن اور سب وے سرفرز چاہیے…"
شوہر نے ہلکے سے مسکرا کر کہا:
"چھوڑو ان باتوں کو… اب تو ہم وائبریٹ موڈ پر ہیں… اور ہماری بیٹری کی بھی ایک ہی ڈنڈی باقی ہے…"
پھر اچانک چونک کر بولا:
"ارے… کہاں چلی گئیں؟"
بیوی کی آواز آئی:
"چائے بنانے…"
شوہر مسکرایا:
"میں کہنے ہی والا تھا کہ چائے بنا لو…"
بیوی نے ہنستے ہوئے جواب دیا:
"مجھے پتا ہے… میں آج بھی کوریج میں ہوں… اور آپ کے میسجز اب بھی آ جاتے ہیں…"
دونوں ہنس دیے…
شوہر نے آہستہ سے پھر کہا:
"ہاں… ہمارے زمانے میں موبائل نہیں تھے…"
ظلم کی انتہا دیکھئے
صبح سویرے قریباً 4 ماہ کا بچہ اسپتال کے مین گیٹ پر بنا کسی وارث کے ایک فروٹ کی ٹوکری میں پایا گیا۔
اسپتال میں موجود اسٹاف نے کسی بچی سے کپڑے ادھار لے کر اس بچے کو پہنائے۔
خیر بچہ اس وقت اسپتال انتظامیہ کی تحویل میں ہے ایک ہفتہ کسی وارث کا انتظار کیا جائے گا اور اسکے بعد بچے کو لاہور میں کسی ٹرسٹ فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا جائے گا جہاں اس بچے کیلئے اچھے والدین کی تلاش کی جائے گی۔
بچے کی حرکات بتاتی ہیں کہ ماں کا دودھ بھی پیتا تھا اور ماں کی تلاش میں ہے۔
کافی حد تک امکانات ہیں کہ اغواء یا جائیداد کا معاملہ ہو گا کیونکہ اتنا خوبصورت بچہ کوئی کیسے یوں اسپتال کے دروازے پر چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ میری تو بڑی خواہش ہیں کہ بچے کے والدین مل جائیں۔
اگر اس بچے کی تصویر وائرل ہوتی ہے تو ہو سکتا ہے بچے کے حقیقی والدین مل جائیں۔ (اِن شاء اللّٰه)
اس پوسٹ کا مقصد بچے کی لواحقین کی تلاش ہے۔
سو اس پوسٹ کو دل کھول کر شیئر کریں
شکریہ ۔
ایک بار ضرور پڑھیں!!!
بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے
قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی
آج بھی اسکی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں
کیوں؟
پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں
تباہی 1 دن میں نہیں آ جاتی
صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں:
زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے
وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے
پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں
دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں
انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں
ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے
کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے
بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے
دن کے ایک بجےسر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے
یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ''صبح'' کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے۔
ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے۔
اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا۔
دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا ،،
اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں۔
برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں، برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس ''مرگ آباد'' سے واپس نہیں جاتا۔
لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے
اب 2020 میں آتے ہیں۔
پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں
آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں
بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !
آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے
اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا۔
بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے !
حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی نہیں تھی۔۔(ٹیپو سلطان کی سلطنت )
جس ملک کے ووٹر ذہنی غلام ہوں، پیر غنڈے ہوں مولوی منافق ہوں، ڈاکٹر بے ایمان ہوں، سیاستدان ، اور پولیس ڈاکو ہوں، کچہری بیٹھک ہو ججز بے اعتبار ہوں، لکھاری خوشامدی ہوں، اداکار بھانڈ ہوں، ٹی وی چینل پر مسخرے ہوں، تاجر بے ایمان اور سود خور ہوں، دکاندار چور ہوں، عوام ہے کرام ہوں اور جہاں تین سال کی بچی سے پچاس سال تک کی عورتوں ریپ عام ہو اور مجرموں کو سیاسی دباؤ میں آکر چھوڑ دیا جاۓ۔
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے،، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟
کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اور کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،،
جاری ہے 👇👇
دنیا کی حقیقت
ایک بادشاہ نے اپنے شہزادے کی شادی کی، شہزادے نے جس رات اپنی دلہن کے پاس جانا تھا اس رات اس نے بہت سی شراب پی لی۔ جب مست ہوا تو دلہن کی تلاش میں نکلا ۔خلوت خانے میں جانے کا قصد کیا تو راستہ بھول گیا اور گھر سے باہر نکل آ یا اور چلتا رہا ۔ یہاں تک کہ ایک مقام پر پہنچا ایک گھر نظر آیا وہاں چراغِ جل رہا تھا۔ وہ سمجھا کے دلہن کا گھر ہے جب اندر گیا تو کچھ لوگوں کو سوتے دیکھا ۔ وہاں اس نے بہت آوازیں دیں مگر جواب نہ ملا اس نے سمجھا کہ سب سوتے ہیں۔ ایک شخص کو دیکھا کہ نئی چادر اوڑھے ہوئے ہے اس نے سمجھا کہ یہی دلہن ہے اور اس کے پہلو میں لیٹ گیا اور اس پر سے چادر اتار دی تو دماغ میں خوشبو پہنچی ، اس نے سوچا کہ بس یہی دلہن ہے کہ خوشبو لگانے ہوئے ہےاور اس کے ساتھ جماع کرنے لگا اور اپنی زبان اس کے منہ میں دے دی اسکی نمی اسے پہنچی تو سمجھا کہ رد عمل سے میری خاطر کرتی ہے اور گلاب چھڑکتی ہے ۔ جب صبح ہوئی اور شہزادہ ہوش میں آیا تو دیکھا کہ وہ حجرہ آ تش پرستوں کا مقبرہ ہے ۔ جو لوگ اسے سوتے لگ رہے تھے اصل میں وہ مردے تھے جس کی نئی چادر تھی اور جسے وہ دلہن سمجھ رہا تھا وہ ایک ڈراؤنی صورت بڑھیا تھی اور انہی دو چار دنوں میں مری تھی اور وہ خوشبو کافور کی تھی ۔ اور وہ رطوبت جو شہزادے کو پہنچی تھی وہ بڑھیا کی نجاست اور ناپاکی تھی ۔ شہزادے نے اپنے آپ کو دیکھا تو تمام بدن نجاست سے بھرا ہوا تھا ۔ اور مردہ بڑھیا کے لعاب دہن نے اسکے منہ کا ذائقہ کڑوا کر دیا تھا ، اس نے چاہا کہ اس ندامت، رسوائی اور آلودگی کے مارے مر جائے اور ڈرا کہ ایسا نہ ہو کہ میرا باپ یعنی بادشاہ یا اس کی فوج و سپاہ مجھے اس حالت میں دیکھ لے ، وہ ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ اس کا باپ بادشاہ اپنے آفیسران کے ساتھ تلاش کرتا ہوا وہاں آ پہنچا اور شہزادہ کو اس حالت میں دیکھا، شہزادہ نہایت نادم ہوا اور اس نے سوچا کہ زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں تا کہ ایسی رسوائی سے نجات پاتا
اے مخاطب قیامت کے دن سب دنیا دار دنیا کی حرام لذتوں اور خواہشات کو اسی صفت پر دیکھیں گے دنیاوی خواہشات کے ساتھ ملے رہنے سے انکے دل میں جو اثر رہا ہو گا وہ اسی نجاست اور تلخی جیسا ہو گا جو شہزادہ کے منہ اور بدن پر رہی تھی ، دنیا دار اس سے بھی زیادہ رسوا ہونگے اور انہیں سخت عذاب بھی ہو گا۔
( کیمیائے سعادت ، امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ)
پاکستان کے شہر گجرات سے تعلق رکھنے والی خاتون Naseem Akhtar کے حوالے سے رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے 32 سال کی محنت سے مکمل قرآنِ پاک کو ہاتھ سے کشیدہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ منصوبہ اگست 1987 میں شروع ہوا اور جنوری 2018 میں مکمل ہوا۔ اس کام کے لیے تقریباً 300 میٹر کپڑا اور 25 ہزار میٹر دھاگہ استعمال کیا گیا، جبکہ تیار شدہ نسخہ 10 جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کا وزن 55 سے 60 کلوگرام کے درمیان بتایا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق انہوں نے پہلے قرآنی متن کپڑے پر تحریر کیا اور پھر ہر لفظ کو ہاتھ سے کشیدہ کیا، جس میں سبز دھاگہ آیات کے لیے اور سنہری رنگ آرائش کے لیے استعمال کیا گیا۔
مزید بتایا جاتا ہے کہ اس کام کے دوران انہوں نے طہارت کا خاص خیال رکھا اور اکثر رات کے آخری حصے میں کام کیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ان کا تیار کردہ یہ شاہکار مدینہ منورہ میں قرآن نمائش میں بھی پیش کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مکمل باضابطہ تفصیلات کی تصدیق محدود ہے۔
Disclaimer:
This content is based on reported information. Some details may require further verification. The background image is AI-enhanced and used for reference purposes only.
#NaseemAkhtar #Pakistan #Quran #HandEmbroidery #IslamicArt #RNNTV
گندم کی فصل اور ہمارے دلوں کا امتحان
آج ہر طرف گندم کی کٹائی ہو رہی ہے تھریشر چل رہے ہیں ٹرالیاں بھر بھر کر اناج گھروں میں جا رہا ہے…
لیکن ایک منظر ایسا بھی ہے جو دل ہلا دیتا ہے،
وہ غریب، یتیم، مسکین… جو چند مٹھی گندم کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں…
اور ہم میں سے کچھ لوگ… انہیں خالی ہاتھ لوٹا دیتے ہیں…!
ذرا سوچیں‼️
کیا یہ فصل ہماری محنت سے اگتی ہے؟
یا اس رب کے حکم سے…؟ ☝️
📖 قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے جس سے سات بالیاں نکلیں، اور ہر بالی میں سو دانے ہوں..."
(سورۃ البقرہ: 261)
یعنی ایک دانہ… سات سو دانوں تک بڑھ جاتا ہے
یہ ہے رب کی برکت…!
ہم ایک مٹھی زمین میں ڈالتے ہیں
اور رب ہمیں ٹنوں کے حساب سے واپس دیتا ہے…!
پھر بھی اگر ہم دینے میں کنجوسی کریں… تو یہ ناشکری نہیں تو اور کیا ہے؟
یاد رکھیں
وہی رب… اگر چاہے تو:
ایک بجلی سے کھیت راکھ کر دے
ایک بارش سے فصل بہا دے
ایک کیڑا چھوڑ دے تو سب کچھ ختم ہو جائے
(جیسے قرآن میں باغ والوں کا واقعہ بیان ہوا ہے — سورۃ القلم)
تو پھر کیوں نہ…؟
آج دل کھول کر دیا جائے
اللہ کے نام پر دیا جائے
🤲 ان مستحق لوگوں کا حق ادا کیا جائے
کیونکہ…
جو اللہ کی راہ میں دیتا ہے، اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دیتا ہے
آج اگر آپ کے دروازے پر کوئی مانگنے آئے…
تو اسے خالی نہ لوٹائیں…
ہو سکتا ہے وہ آپ کے رزق میں برکت کا سبب بن جائے… ❤️
*اللہ ہمیں دینے والا بنائے، روکنے والا نہیں… آمین
نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے صبح کے وقت دس مرتبہ یہ کلمات کہے
*لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ*
اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے وہ زندہ کرتا ہے اور وہ مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
۔ اللہ تعالیٰ ایک مرتبہ کہنے سے دس نیکیاں لکھے گا، دس برائیاں مٹائے گا اور اللہ تعالیٰ دس درجات بلند کرے گا، اور یہ کلمات اس کے لئے دس گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہونے ے، اور دن کی ابتدا سے لے کر انتہا تک اس کا ہتھیار ہوں گے ۔اور اس دن کوئی شخص ایساعمل نہیں کرے گا جو ان کلمات سے بڑھ کر ہو۔ اگر وہ شام کے وقت یہ کلمات کہے تو بھی اسی طرح ہے
سلسلہ صحیحہ ٢٩٦٧-حسن
تشریح : یہ ثواب ایک مرتبہ کہنے سے ملیگا اور جو ١٠ بار کہیگا اس کا ثواب ١٠ گنا ہو جائےگا یعنی ١٠٠ غلام آزاد کرنے کا ثواب ملیگا