ڈیلی پاکستان کے یاسر شامی نے مغوی غیر ملکی ر۔ی۔پ کیس میں ساری گیم پلٹ کر رکھ دی ۔
لاہور پولیس جو کہ رہی تھی کہ ہم نے سی ایم پنجاب کے حکم پر فوری لڑکیاں بازیاب کروای ہیں ۔ سب جھوٹ نکلا ۔
یاسر شامی نے سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا کر موقع پر موجود گواہوں کو سامنے لا کر سارے جھوٹ کو بینقاب کر کے رکھ دیا
اور بھیانک انکشاف کر ڈالے ۔ کیسے اس کیس کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
سنیے ساری کہانی یاسر شامی کی زبانی ۔۔
لاہور پولیس نے مغوی غیر ملکی لڑکیوں کو کسی کارروائی کے ذریعے بازیاب نہیں کروایا بلکہ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج ڈیلی پاکستان ایڈٹوریل نے اپنی مدد آپ کے تحت حاصل کی ہے۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غازی روڈ پر ٹویوٹا شوروم اور فلٹر ہاؤس کے سامنے دو گاڑیاں آپس میں ٹکراتی ہیں۔
اس حادثے کے فوراً بعد پیچھے موجود اغوا کاروں کی گاڑی سے دو غیر ملکی لڑکیاں اچانک باہر چھلانگ لگا دیتی ہیں۔
سڑک پر رش بڑھنے اور شور شرابا ہونے کی وجہ سے فیملی کا ڈرائیور جب گاڑی سے اتر کر پوچھنے لگتا ہے تو اغوا کار لڑکیوں کو وہیں چھوڑ کر اپنی گاڑی کو انتہائی تیز رفتاری اور زگ زیگ انداز میں بھگا کر فرار ہو جاتے ہیں۔
اس دوران وہاں سے گزرنے والا ایک موٹر سائیکل سوار بھی بال بال بچتا ہے۔
اس حادثے کا شکار ہونے والی فیملی میاں بیوی اور ان کی دو سالہ بچی یکم جولائی کی شام پونے آٹھ بجے وہاں موجود تھی۔
گاڑی ٹکرانے سے بچی کا ناک ڈیش بورڈ سے لگا اور اسے چوٹ آئی
گاڑی کا مالک جو اچھا خاصا ٹیکس پیئر ہے جب باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ اغوا کاروں کی وائٹ کلر کی ہنڈائی سانٹا فے گاڑی کے دونوں دروازے کھلے تھے اور لڑکیاں چیخ و پکار کر رہی تھیں۔
وہ سڑک پر لیٹ گئیں اور انگریزی میں بولنے لگیں کہ انہیں کڈنیپ کیا گیا ہے۔
متاثرہ شہری نے فوری طور پر اپنے فون سے ون فائیو پر کال کی جس کا پورا چار منٹ کا ریکارڈ موجود ہے۔
کال کے بعد دفاعی تھانے کا ایس ایچ او اور ایس پی کینٹ کے آپریٹر سفید ڈالے اور آلٹو گاڑی میں وہاں پہنچے ۔پولیس نے فلٹر ہاؤس میں بیٹھی ان لڑکیوں سے تفتیش کی ان کی تصاویر واٹس ایپ پر کسی کو دکھائیں اور پھر انہیں اپنے ڈالے میں بٹھا کر لے گئے۔
لڑکیوں کے ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز کے آفس سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حکم پر لاہور پولیس نے تاریخی اقدام کرتے ہوئے دو گھنٹے کے اندر اندر مغوی لڑکیوں کو بازیاب کروا لیا۔
یہی نہیں بلکہ بی بی سی میڈیا کو بھی یہ کہانی سنائی گئی کہ ہالینڈ میں بیٹھے لڑکیوں کے باپ نے ون فائیو پر کال کی تھی جس کے بعد سی سی ٹی وی کی مدد سے ان کی گاڑی کو شاہدرہ سرگودھا اور اسلام آباد تک ٹریس کر کے بازیاب کیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ پولیس گزشتہ دو دن سے انہیں ڈھونڈنے میں ناکام تھی اور لڑکیاں ایک مقامی فیملی کی گاڑی کے ایکسیڈنٹ اور ان کی ون فائیو کال کی وجہ سے ملیں لیکن پولیس نے سارا کریڈٹ خود لے لیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے فلٹر ہاؤس اور اس کے ارد گرد کی دکانوں سے ڈی وی آر اور سی سی ٹی وی کیمرے اپنے قبضے میں لے لیے تاکہ حقائق کو چھپایا جا سکے۔
متاثرہ فیملی کا بمپر اور ڈگی ٹوٹ چکی تھی لیکن جب انہوں نے اپنے نقصان اور ایف آئی آر کا پوچھا تو پولیس والوں نے درخواست وصول کرنے کے باوجود پرچہ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا
پولیس کا کہنا تھا کہ ابھی معاملہ بہت گرم ہے اسے ٹھنڈا ہونے دیں پھر ایف آئی آر کاٹیں گے ہماری ترجیح آپ کا نقصان نہیں بلکہ لڑکیاں ڈھونڈنا تھی۔
اس سارے معاملے میں پولیس کی غنڈہ گردی اس وقت مزید سامنے آئی جب ڈیفنس تھانے کا ایس ایچ او آدھی رات کو ایک مجسٹریٹ کے گھر جا کر بدماشی اور دھمکیاں دیتا رہا۔
اگلے دن جج صاحب نے اپنے کلیمز کو اکٹھا کر کے ہڑتال کی جس پر ڈی آئی جی کو خود جا کر معافی مانگنی پڑی اور پھر پولیس افسران کے خلاف دفعہ 452 اور 506 کے تحت پرچہ درج ہوا۔
آخر میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ سات سمندر پار سے آنے والی ایک جھوٹی کال پر تو پوری ریاست حرکت میں آ گئی لیکن پاکستان کا پاسپورٹ رکھنے والے ٹیکس پیئر شہری کی سچی کال پر نہ تو اس کی دادرسی ہوئی اور نہ ہی اس کا نقصان پورا کیا گیا وہ آج بھی اپنی گاڑی اپنے پیسوں سے ٹھیک کروانے پر مجبور ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اتنی اہم واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کسی بڑے میڈیا ہاوس کی بجاے کسی بڑے صحافی کی بجاے یاسر شامی کے ہھتے کیسے چڑھی ؟
مریم نواز نے اسحاق ڈار کے نواسے کو بچانے کیلئے پنجاب پولیس کے ذریعے اس روڈ سے سبھی CCTV فوٹیج غائب کروا دی تھی
مریم نواز اور ن لیگ کا بھیانک چہرہ سب کے سامنے آ چکا ھے
(صدیق جان)
ڈی آئی جی فیصل کامران نے صرف حقائق نہیں چھپائے بلکہ کھلے عام جھوٹ بولا، قوم کو گمراہ کیا، میڈیا کو جعلی اور من گھڑت کہانی تھمائی، اور خواتین کی جان کو مزید خطرے میں ڈالنے کے باوجود مریم نواز کی تعریفوں کے قصیدے پڑھتے رہے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ پولیس افسر کم اور سرکاری ترجمانِ خوشامد زیادہ ہوں۔
سوال یہ نہیں کہ فیصل کامران کو معطل کیا جانا چاہیے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اتنا بڑا جھوٹ بولنے، حقائق دبانے اور عوام کو دھوکا دینے کے بعد وہ اب تک عہدے پر کیوں بیٹھے ہیں؟
جو افسر سچ چھپائے، جھوٹ کو سرکاری مؤقف بنا کر بیچے، میڈیا کے ذریعے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکے اور اوپر سے حکمرانوں کی مدح سرائی میں لگا رہے، وہ وردی نہیں، سیاسی وفاداری کا تمغہ پہن رہا ہوتا ہے۔
فیصل کامران نے واقعی جھوٹ بولا، حقائق مسخ کیے، اور اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے مریم نواز کی خوشنودی حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ ایسے افسر کے لیے معطلی بھی کم ہے؛ اسے عہدے سے ہٹانا چاہیے تاکہ کم از کم یہ پیغام تو جائے کہ ریاستی منصب چاپلوسی، جھوٹ اور عوام سے دھوکا دہی کا لائسنس نہیں۔
یاسر شامی سی سی ٹی وی فوٹیج لے آیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے،غیر ملکی خواتین جنکا ریپ ہوا وہ گاڑی سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔
لاہور پولیس نے انہیں بازیاب نہیں کروایا ۔
صرف بجلی گھروں کی مد میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے پاکستان کو کم از کم پچاس بلین ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ ہارون الرشید
@haroon_natamam#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
Will you please inform the people of Pakistan and the European Union, through your next social media post, whether you raised and discussed with your hosts in Pakistan the most serious and concerning issue facing the country—the theft of the February 2024 elections?
Could you also clarify whether the principles that the European Union has long championed—free and fair elections, human rights, an independent judiciary, and a free press—still remain priorities in its engagement with Pakistan?
Finally, would you kindly update the public on the status of the European Union’s assessment or report regarding Pakistan’s February 2024 elections? Many Pakistanis would appreciate transparency and clarity on this important matter.
505 ارب روپے قوم کی جیبوں سے نکال کر نیلم جہلم پاور پلانٹ کے نام پر جھونک دیے گئے۔ منصوبہ شروع ہوا تو ٹنل بیٹھ گئی، اربوں روپے لگا کر مرمت کی گئی مگر پھر تباہ ہو گیا۔ اور تو اور Shehbaz Sharif نے چار انکوائری کمیٹیوں کی رپورٹس بھی دبا لیں اور ذمہ داران کو بچا لیا۔
@SanaullahDawn
بریکنگ نیوز 🚨ظلم کی انتہا محافظ ظالم نکلے 🔥🔥
لاہور میں ٹریفک اہلکاروں نے باپردہ خاتون پر ہاتھ اٹھایا اور خاتون کے ساتھ بدسلوکی کی، یہ نظام اور اس کے اعلٰی کار عوام کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کررہے ہیں
🚨اٹلی کی PM Giorgia Meloni
نے پریس کانفرنس میں واضح الفاظ میں کہا کہ وہ عمران خان کی بڑی فین ہے
انہوں نے دوٹوک انداز میں یہ بھی کہا کہ اگر خان جیسے قابل سنجیدہ تجربہ کار رہنما کو 30 سال پہلے PM بنایا جاتا تو آج پاکستان سپر پاور سے اگے نکل جاتا🔥✌️
ایک آدمی کے پیچھے آپ نے 13 سیاسی جماعتیں، اسٹبلشمنٹ، میڈیا اور 6 سو کروڑ، 3 سو ملین ڈالر جوبائیڈن سے لے کر لگایا،
لیکن پھر بھی عمران خان کو کنٹرول نہیں کر سکے! ظفرہلالی۔
یہ تھپڑ بیٹے کے سامنے باپ کو نہیں مارا گیا بلکہ
کراچی کے ہر بیٹے کو احساس دلایا گیا ہے کہ تمہارے باپ کی یہ اوقات ہے۔ معطلی کوئی انصاف نہیں۔
#تھپڑکابدلہ_تھپڑ
صحافی اسد اللہ خان کا خوفناک انکشاف🔥🔥
گزشتہ دو سال میں 49 کھرب کا استثنیٰ بڑی کمپنیوں کو دیا گیا یہ کمپنیاں بیورو کریٹس، سیاستدانوں اور جرنیلوں سے منسلک ہیں عوام مہنگائی میں پس رہی ہے جبکہ اشرافیہ کو ریلیف دیا جا رہا ہے
عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کی بیرک میں رات گئے مبینہ طور پر قوم لوط والی حرکات ہوتی ہے، دونون رہنماؤں نے جیل سپریڈنٹ کو متعدد بار آگاہ کیا لیکن کوئی ایکشن، نوٹس نہیں لیا گیا، اس سیل میں زیادہ تر خؤاتین منشیات مقدمات میں سزا یافتہ ہیں اور انہیں بیرک میں نشہ بھی مہیا کیا جاتا ہے