Karachi don't have Safe City System
Karachi don't even have Rescue 1122 System
Int Sindh Literacy Rate less than 50%
Baby Bhutto couldn't fix anything in 20 + years
Bharkain Parliament Main Asisay Martay Jaisey Sher Shah Suri Ki Ulad Hai
سردار باس: اج میرا دل اداس ہے مجھے کوئی لطیفہ سناؤ
ایمپلائی: سر آج نہیں، آج میں بہت مصروف ہوں
سردار باس: ہاہاہاہا مست جوک تھا۔ ایک اور سنا۔
_____
میں چیلینج کرتا ہوں، پورے سندھ میں ایک بھی سڑک خراب نہیں ہے۔
شرجیل میمن
کل ہی 100 روپے لئے ہیں ایٹریم سنیما کے سامنے پارکنگ والے نے مزے کی بات نگرانی پر ٹریفک پولیس کی جدید کار بھی کھڑی تھی۔
کئی سو موٹر سائیکلیں بھی اسی ٹرننگ پر پارکڈ ہوتی ہیں جاکر کل چیک کرلو
جب اپنے ہی حکم پر عملدرآمد نہیں کروا سکتے ہو تو سستے بیانات کیوں دیتے ہو؟
افغانیوں کو نکالنے کی بات کرو تو لوگوں کو ہمدردی کے دورے پڑنے لگتے ہیں ۔۔۔انکی اکثریت جرائم میں ملوث ہے، کراچی میں غنڈہ گردی مچائی ہوئی ہے ۔۔۔یہ نمک حرام ہیں یہاں رہ کر پاکستان کو گالیاں بکتے ہیں۔
حکومت سنجیدگی سے اس فتنے کو روانہ کرے۔
کراچی کا بلدیاتی نظام دنیا کا وہ انوکھا نظام ہے جس میں عوام کی اکثریت بائیکاٹ کرتی ہے اور تلچھٹ کے الیکشن میں جیتتا کوئی اور ہے اور مئیر بنتا کوئی اور ہے۔
@KhSaad_Rafique@AbsarAlamHaider
جو آئل کمپنیز 104 ارب کے نقصان کا رونا رو رہی ہیں۔ جنگ کے آغاز پر کم قیمت میں خریدا ہوئے تیل پر جب 55 روپے فی لیٹر بڑھاکر عوام کی جیبوں سے نوچے گئے اُس وقت کتنے ارب کا فائدہ ہوا تھا اسکا بھی حساب دیں۔حکومت نے اُس وقت بھی آئل کمپنی مالکان کے مفاد کو پیشگی پروٹیکٹ کیا آج بھی عوام کو تکلیف دے کر کمپنی مالکان کو فائدہ پہنچارہی ہے
یہ گدھے کی اولادیں پتہ نہیں کس خمار میں یہ باتیں کرلیتی ہیں۔کراچی کو کوئی دبئی سے کوئی پیرس سےملارہا ہے۔اور اب یہ گدھا۔
یہ کراچی کو جرائم کے لحاظ سے نیو یارک سے بہتر بتارہاہے،
یہ اتنا بتادےکیا نیویارک میں بھی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کرنے والے، رشوت خور سیاسی بھرتی شدہ پولیس والے ہیں؟
کورنگی کراسنگ پر پل کے نیچے یہ گندگی کئی سال سے ہے یہاں چنگچی رکشہ پوائنٹ بھی بن گیا ہے۔ پل کے اوپر سے گزرنے والے اس حرامی پن کو دیکھ نہیں پاتے اسی لیے یہاں کے ٹاؤن چیئرمین کو بھی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔
سگا بیٹا ماں کو سڑک کنارے چھوڑ گیا
یہ ماں جی کافی دنوں سے کراچی گارڈن کے علاقے میں ایک سڑک پر بیٹھی اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی ہے ماں جی کا کہنا ہے بیٹا مجھے سڑک کنارے چھوڑ کر چلا گیا واپس نہیں آیا
کراچی کو سندھ کا قرار دینے والے نسل پرست جاھل ہیں۔
یہ1893کا عثمانی نقشہ ہے جس میں بلوجستان کے2شہر نمایاں ہیں ایک کوراجی جو یقیناً"کراچی"ہے اور دوسرا قلات۔
یہ نقشہ سابق عثمانی فوجی،حافظ علی اشرف نے بنایا انہوں نے1862میں پیرس سے نقشہ نویسی (کارٹوگرافی) کی تربیت حاصل کی تھی
کراچی والوں سے وہ بھی نفرت کرتے ہیں جو خود کو مظلوم ہونے کا ایکسرے دکھا دکھا کر دنیا کو پرچار کرتے ہیں۔
کیا خطرہ بن سکتا تگا یہ دو چھوٹی بچیوں والا خاندان ؟
کوئی مانے نہ مانے یہ کراچی کے خلاف سازش ہے۔ فضول کے انڈرپاس،چھتریاں، گھٹنہ بھر کے بجائے سڑکیں بنائیں، کم ازکم جو سندھ حکومت کے شر سے بچ گیا اسکو تو بخش دے