ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
وزیراعلٰی سہیل آفریدی 🚨
جو شیلنگ ہم پر ہوتی ہے، ہم نے پکڑ کر واپس ان پر پھینکنا ہے لیکن ہم نے پرامن رہنا ہے۔ 13 اکتوبر کو جو پلان دوں گا ان کا ہوش اڑ جائے گا
ڈرائی فروٹ اور ماسک ساتھ لیکر آئیں
بطور صحافی میں وفاقی حکومت اور کسی صوبے کی لڑائی پہلی دفعہ نہیں دیکھ رہا کچھ سال پہلے شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کو جائز قرار دیتے تھے اسوقت کے ایک وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے کیپیٹل ٹاک میں شہباز شریف کی صوبائی حکومت پر وہی الزامات لگائے جو آج کل وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے خلاف لگاتی ہے ۔ شہباز شریف اپنے دفاع میں وہی کچھ کہہ رہے تھے جو آج سہیل آفریدی کہتے ہیں صرف ک��ادر اور مقامات بدل چکے ہیں لیکن تاریخ وہی ہے جو بار بار اپنے آپ کو دہراتی جا رہی ہے
مزاحمت کا نشان،ضمیر کا قیدی،عوام کے حق حکمرانی کا علمبردار،ہار نہ ماننے والے کپتان کو سالگرہ مبارک ہو۔۔۔
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے۔
"عمران خان کو رہا کرو ، عمران خان سے بہنوں کی ملاقاتیں بحال کرو اسے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں داخل کرو، چورو لٹیرو پہلے تم لوگوں نے ہمارا مینڈیٹ چرایا ہے"۔
لانگ مارچ میں شریک ایک ننھے بچے کی گفتگو
#اکتوبر5_یوم_عمران_خان#سر_بکف_میدان_میں
جنید اکبر کے سومنات والے بیان پر جس کی جنید اکبر نے وضاحت بھی کی کچھ لوگ غصہ ہیں ان کو غصہ اور غیرت اس وقت کیوں نہ آئی جب چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں جب مریدکے میں معصوم نہتے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں،ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آئی جب ماڈل ٹاؤن میں معصوم لوگوں کو شہید کررہے تھے۔تب غیرت نہیں آئی جب کشمیر میں معصوم کشمیریوں پر گولیاں چلا رہے تھے۔
ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آتی جب معصوم پختون معصوم بلوچ شہید ہوتے ہیں۔ ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آتی جب پی ٹی آئی ورکرز کی چادر چاردیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہیں، عمران خان کی غیر سیاسی بہنوں کو جی�� میں بند کرتے ہیں۔
ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آتی جب یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سروائیور کو جیل میں ڈالا جاتاہے، ہماری ماؤں بہنوں کو گھسیٹا جاتا ہے، کسان تباہ ہورہا ہے، معیشت تباہ ہورہی ہے، صنعت تباہ ہورہی ہے، نوجوان ملک کو چھوڑ کر جارہے ہیں۔۔: ان کو غصہ نہیں آتا ان کو تب بھی غیرت آتی نہ غصہ جب پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ کہتی ہے کہ “ہمیں انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں باقی صوبوں سے خطرہ ہے” وزیراعلی @SohailAfridiISF
"ستائیس ستمبر والا لانگ مارچ اب چار اکتوبر کو ہے آپ لوگوں نے نکلنا ہے چار اکتوبر کو پاکستان کی تقدیر اور تاریخ دونوں بدلے گی ان شاء اللہ۔
یہ جو مسخرے،جوکر اور ٹی وی چینلز پر ٹاؤٹ لگے ہوئے ہیں گورنر راج گورنر راج میں لعنت بھیجتا ہوں اس کرسی پر جو مجھے میرے مقصد سے پیچھے ہٹائے
ایک لوٹا جو تحریک انصاف چھوڑ گیا تو اس وقت عمران خان نے کہا تھا کہ " وہ شخص چھوٹا ہوتا ہے جو کرسی اور عہدے کے پیچھے بھاگتا ہے ، اپنا کردار اتنا عظیم کرو کہ وہ کرسی تقاضا کرے کہ مجھے یہ شخص چاہیے " ہمیں نہ عہدہ چاہئے نہ کرسی چاہئے ہمیں بس ملک میں آئین،قانون و انصاف ،جمہوریت اور حقیقی آزادی چاہیے،"۔ وزیراعلی سہیل آفریدی
علامہ صاحب غصہ ہو گئے بس یہی سوال کیا ۔دو مہینے پہلے سہیل افریدی نے لانگ مارچ کی کال دی۔پی ٹی آئی رہنماؤں کو پتہ تھا یہ گرفتاری ہونی ہے ۔پھر کیوں رہنما لاجز اور اسلام آباد میں پڑے رہے ۔وقت سے پہلے اسلام آباد کیوں نہیں چھوڑا ۔ہر احتجاج سے پہلے یہ لوگ گرفتار ہو جاتے ہیں اور کارکن
عظمیٰ بخاری کا2011سے2026تک کاسفر
2011 میں جب پیپلز پارٹی میں تھی تو نواز شریف راء کا ایجنٹ تھا، شہباز شریف پنجاب کوتباہ کررہاتھا
#ستمبر27_فی��لہ_کن_مارچ
جھوٹ کی عمر محدودھوتی ھےسچ خود بولتاھےمزاحمتی م��وراوریمن پرالزامات کوکوئی صاحب بصیرت قبول نھیں کرتا ھےفلسطینی یمنی عراقی لبنانی اور ایرانی مجاھدین کامزاحمتی مشترکہ محاذاسرائیل امریکہ اورانکےھمنواوں کےمقابل کھڑاھےکعبے کے غلاف میں چھپےجھوٹےابلیسوں کو امت کا ھرباشعورفرد پہچانتاھے