پہلی بار کوئٹہ بریفنگ پر جانا ہوا ہے ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ بلوچستان میں آزادانہ طور پر جانا ممکن ہی نہیں۔ میڈیا کا مکمل بلیک آؤٹ ہے ۔ بلوچ لاپتہ افراد اور ماہ رنگ بلوچ سمیت نوجوانوں سے ڈائیلاگ کے امکانات پر سوال کئے اور حکومتی ریاستی جبر کے بارے بھی گفتگو ہوئی۔ ریاستی اداروں کی “ انکاری کیفیت “جوں کی توں ہے۔بلوچستان کا حل ہارڈ اسٹیٹ میں نہیں اور نہ ہی بات چیت کے دروازے بند کرنے چاہئیں ۔بلوچ قیادت اور راہنماؤں کو آن بورڈ لئے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔